اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
أَمَّا بَعْدُ.
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! کل حدیثِ جبریل جس میں جبریل علیہ السلام کا امتِ محمدیہ کو تعلیم دینا بتایا گیا ہے، وہ تلاوت کی گئی تھی، اس کا ترجمہ بھی عرض کیا گیا تھا۔
اس میں آپ ﷺ سے جبریل علیہ السلام نے سوالات کیے تھے تین۔ پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی پیش کرے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز ادا کرے، زکوٰۃ دے، رمضان کے روزے رکھے، اور اگر بیت اللہ جانے کی استطاعت ہو تو حج کرے۔ جواب میں جبریل علیہ السلام نے کہا تو نے سچ کہا۔
پھر جبریل علیہ السلام نے پوچھا ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں کو مانے، قیامت، تقدیر اچھی بری بات پر ایمان رکھے۔ تو جبریل علیہ السلام نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔
پھر آپ ﷺ سے انہوں نے احسان کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرے گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر یہ تصور پختہ نہ ہو سکے، تو وہ تجھے دیکھ ہی رہا ہے۔
پھر انہوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا جس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ سائل سے میں زیادہ نہیں جانتا۔
قیامت کی علامات کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس بکریاں چرانے والوں کو عمارتوں کی تعمیر پر فخر کرتے ہوئے پاؤ گے۔
تو یہ سوالات جبریل علیہ السلام نے انسانی صورت میں آ کر کیے تھے۔ اور صحابہ کو اس وقت پتہ نہیں چلا تھا پر آپ ﷺ نے اس کے بارے میں فرما دیا تھا کہ یہ جبریل علیہ السلام تھے، تمہیں دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔
اس حدیث شریف کا جو ورود کا سبب ہے، یہ بتایا گیا ہے کہ حدیث کا سببِ ورود
مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پوچھو لیکن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ ﷺ کے غلبہ ہیبت کی وجہ سے سوال نہیں کرتے تھے تو جبرائیل امین علیہ السلام کو اللہ نے بھیجا تاکہ وہ دین کی بنیادی باتوں کا سوال کریں جس سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فائدہ ہو۔
بعض علمائے کرام نے اس حدیث کی جامعیت کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جس طرح قرآنِ مجید کے تفصیلی علوم و معارف کا خلاصہ سورتِ فاتحہ میں مذکور ہے جس کی وجہ سے سورتِ فاتحہ کو اُم القرآن کہا جاتا ہے تو اسی طرح سے یہ حدیثِ جبرائیل علیہ السلام اپنی جامعیت میں اس قابل ہے کہ اس کو اُم السنہ کہا جائے۔ جیسے علامہ ابن حجر نے علامہ قرطبی سے نقل کیا ہے۔
هَذَا الْحَدِيْثُ يَصْلُحُ اَنْ يُقَالَ لَهٗ اُمُّ السُّنةِ لِمَا تَضَمَّنَهٗ مِنْ حُمَلِ عِلْمِ السُّنةِ.
ترجمہ: یہ حدیث اس قابل ہے کہ اس کو اُم السنہ کا نام دیا جائے اس لئے کہ اس میں پورے علم کا احوال اور نچوڑ موجود ہے۔
مولانا ادریس نے حافظ تورپشتی سے نقل کیا ہے کہ حدیثِ جبرئیل علیہ السلام کا زمانہ 10ھ حجۃ الوداع کے بعد ہے۔ اس حدیثِ جبرائیل علیہ السلام میں پوری شریعت کا احوال آگیا تاکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی کے تفصیلی احکامات کا آخری وقت میں خلاصہ ہو جائے۔
یہی بات تقریباً مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمائی ہے:
يَحْتَمِلُ اَنْ يَكُوْنَ بَعْدَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِأَنَّهٗ وَرَدَ لَفْظُ آخِرِ عُمْرِهٖ.
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ کہاں رکھا؟
اس (کے بارے) میں دو اقوال ہیں:
یہ بھی آنے والے شخص ہی کی طرف راجع ہے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنی دونوں رانوں پر رکھیں۔
دوسرا قول: اس کا مرجع جناب رسول اللہ ﷺ ہیں تو ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں آپ ﷺ کی رانوں پر رکھیں۔اس سے ان کا مقصد آپ ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔ اس دوسرے قول کی تائید ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے:
حَتّٰى وَضَعَ يَدَهٗ عَلٰی رُكْبَتَیْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ.
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یا محمد ﷺ کیوں کہا؟
وَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ ﷺ کہا: اے محمد ﷺ بظاہر یہ جملہ قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:
’’لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘
ترجمہ: تم آپس میں جس طرح ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اس طرح سے رسول ﷺ کو آواز نہ دو۔
اس کا جواب محدثین نے یہ بھی دیا ہے کہ آیتِ قرآنیہ میں خطاب بنی آدم علیہ السلام کو ہے فرشتے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
دوسرا جواب: یہ دیا جاتا ہے کہ محمد کا لغوی معنی مراد ہے (یعنی وہ ذات جو قابلِ تعریف ہے)
تیسرا جواب: یہ دیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہے۔
اسلام کیا ہے؟ اور ایمان کیا ہے؟ اور احسان کیا ہے؟ اور قیامت کب آئے گی؟ یہ چاروں سوالات چونکہ اس میں ہو چکے ہیں تو اس کے بارے میں مزید کچھ تفصیل ان شاءاللہ کل عرض کی جائے گی۔ کل تو نہیں پرسوں، کل تو جمعہ ہے، پرسوں عرض کی جائے گی ان شاءاللہ۔ اللہ پاک ہم سب کو اس پورے دین کے خلاصے کو اپنے دل میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بالخصوص ہمارے ایمان کو قائم اور مضبوط بنا دے۔ اس کو کبھی نقصان نہ ہو۔ اور اسلام کے ہر ہر کام پر جو بتایا گیا ہے کرنے کا اس پہ عمل کریں، اور جس سے روکا گیا ہے اس سے رک جائیں۔ اور اللہ جل شانہٗ ان تمام اسلامی کاموں کو کیفیتِ احسان کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: حدیثِ جبریل علیہ السلام: ام السنۃ اور پورے دین کا خلاصہ
متبادل عنوان: اسلام، ایمان اور احسان کا مفہوم: حدیثِ جبریل کی روشنی میں
اہم موضوعات:
حدیثِ جبریل علیہ السلام کا پس منظر اور صحابہ کرام کا ادب۔
اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی علامات کے بارے میں حضرت جبریل علیہ السلام کے سوالات۔
حدیثِ جبریل کو سورۃ الفاتحہ کی طرح پورے دین کا نچوڑ ہونے کی بنا پر "ام السنۃ" قرار دینا۔
حضرت جبریل علیہ السلام کے نشست کے انداز اور آپ ﷺ کو "یا محمد" کہہ کر مخاطب کرنے پر محدثین کی علمی تشریح۔
شریعت کے تمام احکامات پر کیفیتِ احسان کے ساتھ عمل کرنے کی دعا۔