اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دئیے جاتے ہیں اور احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال1: السلام علیکم بھائی،
How are you? Is the highest form of Ma'rifah through witnessing Jamma and Farq?
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب:
You asked me about the highest. I think no one can know the highest because it's a continuous process and the Ma'rifat is increasing day by day because of Abdiya. Hazrat Mujaddid Alf Sani (R.A) says that because of Ma'rifat, Abdiya is increasing and because of Abdiya, Ma'rifat is increasing. And it's a continuous cycle which ends at the death of the Arif when he meets Allah (SWT), in that Ma'rifat form he reaches at the time of death and his Ibadat is completed. So therefore we cannot say that the highest rank is this, but it's increasing day by day.
سوال2: السلام علیکم شیخ محترم! میرا دعائے ثنا جو نماز میں پڑھی جاتی ہے اس کا مراقبہ مکمل ہو چکا ہے۔ شیخ محترم میرے ساتھ اس تیسری بار ہوا کہ مراقبہ کے ساتھ جو عملی کام آپ مجھے بتاتے ہیں اس کے مطابق میرے حالات چلنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اس بار آپ نے مجھے مصیبت کی تشکیل پر صبر کی تلقین کی تھی تو میرے حالات اس ماہ ایسی مشکلات والے بن گئے تھے کہ جہاں میں نے صبر کیا، تکلیف دینے والوں سے بدلہ لینے کی بجائے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کی مدد کا انتظار کیا اور صبر کے ساتھ ہی آپ نے عافیت کی دعا مانگنے کی بھی تلقین کی تھی تو جب یاد آتا تھا یہ دعا مانگ لیتی تھی۔ شیخ محترم مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے شیخ ایڈوانس میں وہی نصیحت کر دیتے ہیں جو معاملات میرے ساتھ ہونے والے ہوتے ہیں۔ پھر پورا مہینہ مجھے صبر کی آیات اور اقوال لگاتار میرے سامنے آتے رہے جس کی نصیحت آپ نے اس ماہ مراقبہ کے ساتھ کی تھی۔ شیخ محترم آگے؟
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: ماشاء اللہ! یہ مراقبہ جو ثنا والا ہے وہ تو الحمدللہ مکمل ہو گیا، اب سورہ فاتحہ والا مراقبہ کر لیں، اس کا مفہوم ذہن میں رکھ کر اس کو شروع فرما لیں اور دوسری بات یہ ہے کہ شیخ کچھ بھی نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، شیخ تو صرف ایک ذریعہ ہے جو استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال3: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مجھے رات کو نیند نہیں آتی ہے۔ اچھی نیند کے لیے جو ضرورت ہے جیسے نیند کی ٹائمنگ، چائے کافی سے پرہیز، سب پر عمل کر رہا ہوں پھر بھی نیند صحیح نہیں آتی۔ میں چونکہ PhD کر رہا ہوں اور اس میں زیادہ اچھی progress نہیں ہو رہی تو اس کی بھی ٹینشن لگی رہتی ہے۔ ایک دفعہ آنکھ لگ جائے تو دو تین گھنٹے کے بعد کھل جاتی ہے۔ پھر PhD کے کام کے بارے میں خیالات آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ نہیں کیا تو وہ نہیں ہوا، سپروائزر کیا کہے گا وغیرہ وغیرہ۔ اب جب کہ نیند پوری نہیں ہوتی تو اگلے دن کام بھی صحیح نہیں ہوتا، ٹینشن اور آگے بڑھ جاتی ہے، اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔ [سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: بھائی صاحب! اسی کے لیے تو "تفویض" ہے۔ اگر تفویض آپ میں آ جائے تو پھر آپ کو ٹینشن نہیں رہے گی، ٹھیک ہے نا؟ جو کام ہونا ہو گا وہ ہو گا، آپ نے اپنی محنت نہیں چھوڑنی، ہمت نہیں چھوڑنی، لیکن نتیجہ خدا پر چھوڑنا ہے۔ تو اگر ایسا ہو جائے گا تو پھر آپ کی ٹینشن ختم ہو جائے گی ورنہ یہ ٹینشن بڑھتی جائے گی۔ تو آپ اللہ پر بھروسہ کر کے ان چیزوں کا جو ٹائم ہوتا ہے اس میں تو اس کے بارے میں سوچیں اور جس وقت وہ ٹائم گزر جائے مثلاً کچھ اور کام ہو جائے جیسے نماز کا وقت ہے، کھانے کا وقت ہے، سونے کا وقت ہے اس میں بس "وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللهِ ۚ إِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ" پڑھ کر سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیا کریں۔
سوال4: السلام علیکم حضرت جی! میں جب خانقاہ آتی ہوں تو کچھ دنوں تک اپنے اندر نور محسوس کرتی ہوں، کسی دنیاوی چیز میں دل نہیں لگتا۔ دل چاہتا ہے کہ خانقاہ چلی جاؤں اور بس آپ کا بیان سنتی رہوں لیکن پھر کچھ دن گزرنے کے بعد وہ چیز ختم ہو جاتی ہے اور وہی دنیاوی باتیں، دنیاوی کاموں میں لگ جاتی ہوں۔ پھر کوشش کی خانقاہ چلی جاؤں اور آج کا بیان سنوں لیکن بچی بھی میری بیمار ہے تو نہیں جا سکی۔ ایسے حالات میں جب جانا مشکل ہو اور یہ بھی پتہ ہے کہ میرا علاج ہی اس سے ہو گا کہ خانقاہ چلی جاؤں لیکن حالات کی وجہ سے نہیں جا پاتی تو کیا کریں تاکہ وہ نور جو خانقاہ جا کے دل میں محسوس ہوتا ہے اس سے محروم نہ ہو جاؤں؟ [سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: اللہ اکبر! یہ تو اصل میں ہوتا ہے۔ یہ فیض ایک ہوتا ہے "انعکاسی" اور دوسرا ہوتا ہے "القائی"۔ تو آپ القائی فیض لینے کے لیے معمولات اچھی طرح پورے کر لیا کریں۔ جو آپ کو بتایا جائے تو آپ وہ کر لیا کریں اور جو بیانات آن لائن ہوتے ہیں ان کو سن لیا کریں لیکن جہاں جب انعکاسی فیض کی ضرورت ہو جو خانقاہ میں ملتا ہے تو اس کے لیے پھر خانقاہ آ جایا کریں، کوشش کر لیا کریں کہ آپ خانقاہ آ سکیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تو اللہ پاک نے جو اس میں رکھا ہے جیسے پانی میں اللہ پاک نے صفت رکھی ہے، آگ میں صفت رکھی ہے، اس طرح خانقاہ میں بھی صفت اللہ پاک نے رکھی ہے۔ بلکہ اس کے بارے میں تو ہمارے ایک ساتھی تھے وہ بتا رہے ہیں کہ ہمارا ایک دوست آئے تھے تو پہلے ہماری خانقاہ تھی اس میں ایک کمرے میں لوگ سوتے تھے جو خانقاہ میں وقت گزارنے والے، ایک میں ذکر ہوتا تھا۔ تو اس نے دونوں کمروں میں ان کو دونوں کمروں کا پتہ نہیں تھا۔ دونوں کمروں میں اس کو لے جا کے کہا کہ آپ کو کیا محسوس ہو رہا ہے دونوں کمروں میں؟ تو انہوں نے جو ذکر والا کمرہ تھا اس سے بتایا کہ وہاں زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے اور دل لگتا ہے اور جو دوسرا ہے جو کمرہ اس میں اتنا نہیں۔ انہوں نے کہا بس آپ نے ٹھیک سوچا ہے، مطلب ٹھیک کہا ہے۔ تو یہ اثرات ہیں اس کے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ ذکر کے اثرات، معمولات کے اثرات خانقاہ لے لیتی ہے اور پھر خانقاہ میں جو باقی بعد میں لوگ آ جاتے ہیں تو ان کو وہ فیض ادھر سے ملتا ہے جیسے کہ کنکریٹ دن کو گرم ہوتا ہے تو رات کو گرمی چھوڑتا ہے۔ تو اس طرح سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن بہرحال آپ کے لیے یہ بات ہے کہ القائی فیض آپ کو جو ملتا ہے وہ معمولات سے ملتا ہے اور جو آپ دور بیان سنتے ہیں وہ، لیکن انعکاسی فیض کے لیے تو پھر یہی کرنا ہوتا ہے۔
سوال5: السلام علیکم حضرت! میں لاہور سے فلاں عرض کر رہا ہوں، آپ نے میرا ذکرِ جہری لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ 200، لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو 400، حَق 600 کے ساتھ اَللہ اَللہ 11000 تک بڑھایا تھا جس کو الحمدللہ ایک مہینہ ہو گیا۔ اس ماہ بیٹے کی بیماری اور دنیاوی مصروفیات کی زیادتی میں احوال بہت منتشر ہو رہے ہیں۔ ذکر کی گنتی اکثر رات سوتے جاگتے میں پوری کی یا چھٹی کے دنوں میں اکثر اگلی صبح اٹھ کر مکمل کیا، اکثر فجر بغیر جماعت گھر میں پڑھی اور دو دفعہ قضا بھی ہوئی۔ اس دفعہ ذکر کے علاوہ آن لائن بیان سنتے وقت بھی دھیان بھٹکا رہتا تھا، اس کے علاوہ محفلوں میں خود نمائی کا شدید خیال رہتا ہے۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: اللہ جل شانہٗ آپ کے بیٹے کو صحت عطا فرمائے اور یہ جو بیماریاں ہوتی ہیں جو اس طرح، یہ اضطراری مطلب ہوتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ بہت ترقی دیتے ہیں لیکن اپنے معمولات نہیں چھوڑنے چاہئیں تاکہ وہ متاثر نہ ہوں، البتہ اس کے اپنے فوائد ہیں ان کو حاصل کرنا چاہئیے۔
سوال6: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضور کل میرے اس ذکر کا ایک ماہ مکمل ہو گیا تھا 200، 400، 600 اور 1500۔
ابھی قطر میں اپنے پوتے کی پیدائش پر آیا ہوں، دعا فرما دیں اللہ پاک اس زکریا کو نیک دراز صحت و عمر عطا فرمائے۔ میرے لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ حضور تمام مریضوں سمیت میرے لیے صحت یابی اور دنیا سے باایمان رخصتی کی دعا کی درخواست ہے۔ اللہ پاک میرے لیے ذکر میں آسانی عطا فرمائے، آپ کی دعاؤں کا طالب۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: ابھی ماشاء اللہ 200، 400، 600، 2000 مرتبہ یہ آپ کر لیا کریں، اللہ تعالیٰ آپ کے پوتے کو ماشاء اللہ صحت بھی عطا فرمائے اور عمر اور علم اور عمل یہ سب عطا فرمائے اور اس کو آپ کے لیے ماشاء اللہ ایک زبردست نیکیوں کا ذریعہ بنا دے اور دوسری طرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے مریضوں کو صحت عطا فرمائے، آپ کے ساتھ، ہمارے ساتھ اور دنیا سے سب باایمان ہم سب کو رخصتی کے لیے اللہ پاک قبول فرمائے، اصل میں ہم سب کی ضرورت ہے آپ میرے لیے دعا کیا کریں میں آپ کے لیے دعا کروں گا ۔
سوال7: السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضرت جی! میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی میں نے کچھ دن پہلے آپ کو بتایا تھا کہ موت کا خوف رہتا ہے ہر وقت، میں نے اس کو کافی دن تک نوٹ کیا، اس کی وجہ سے کافی سارے گناہوں سے بچت ہو رہی ہے۔ جب گناہ کا خیال آئے تو طبیعت بہت بھاری ہو جاتی ہے لیکن ایک گناہ ایسا ہے جس کی وجہ سے بہت پریشان ہوں جو جوانی میں ہو تو بار بار ہو جاتا ہے، جب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں اور وعدے کرتا ہوں آئندہ نہ کرنے کے لیکن دوبارہ توبہ ٹوٹ جاتی ہے، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اس کو کیسے چھوڑوں؟
جواب: خانقاہ تشریف لے آئیں۔
سوال8:
200، 400، 600، 4000 والا ذکر مکمل ہو گیا، اگلا ذکر ارشاد فرمائیں۔ [سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب:
Last will be 4500
سوال9: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! نام فلاں، حضرت جنوری 2022 میں آپ سے بیعت کی اور سبق 2، 4، 6، 1000 تک چلا گیا تھا، اس دوران لطیفہ قلب بھی کچھ دفعہ محسوس کیا تھا، تہجد میں بھی دل لگتا تھا، اور تہجد بلا ناغہ پڑ رہا تھا لیکن پھر تہجد کی توفیق ٹوٹی، اس کے بعد ذکر میں بھی ناغے شروع ہو گئے، آخر ذکر 2، 4، 6، 1000 ہے، اس کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سال ناغے چل رہے ہیں، درمیان میں کوشش کی تھی ذکر دوبارہ شروع کروں لیکن دوبارہ ناغے شروع ہو گئے، ہفتہ جوڑ میں عام طور پر آتا ہوں، اب تقریباً دو مہینے سے تہجد پڑھ رہا ہوں، کبھی کبھی تہجد میں ناغہ بھی ہوا ہے، اب سنجیدگی سے ذکر دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ہے، کیا ذکر 2، 4، 6، 1000 سے شروع کر دوں؟ رہنمائی فرما دیں۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: اللہ تعالیٰ استقامت دے دے اور اب 2، 4، 6، 1000 سے آپ شروع کر لیں اور یہ بات تو آپ کو بہت پہلے بتانا چاہئیے تھا تو خیر بہرحال ابھی آپ کو تجربہ ہو گیا کہ نہ بتانے سے نقصان ہوتا ہے، تو آپ 2، 4، 6، 1000 شروع کر لیں اور تہجد باقاعدگی کے ساتھ پڑھا کریں، یہ ہمارے لیے مجاہدہ بھی ہے اور ذکر بھی ہے ماشاء اللہ۔
سوال11: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! نام فلاں بنت فلاں، والد فلاں، شہر فلاں، تعلیم فلاں۔ شیخ محترم! میں آپ کی سالکہ ہوں، روزانہ کی تسبیحات اذکار کے ساتھ تیسرا مراقبہ تجلیاتِ صفاتِ شئوناتِ ذاتیہ کا سبق ہے، میرا سبق ابھی continue ہے، آج میں نے درخواست کی ہے میسج کیا تھا، درخواست میری بہن فلاں کہ اس کو یہ ہو گیا ہے، رپورٹ 14 فروری کو آئے گی، شیخ محترم دعا فرمائیں میرے بہن کی ساری رپورٹ اچھی آئے، اس کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ یا بیماری نہ ہو، پلیز دعا کریں میرا دل بہت ڈرا ہوا ہے، پریشان ہوں۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: اللہ جل شانہٗ آپ کی بہن کو صحتِ کاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرما دے اور یہ بات ہے کہ آپ کا جو مراقبہ ہے وہ تجلیاتِ صفاتِ شئوناتِ ذاتیہ نہیں ہے بلکہ اصل میں آپ دو مراقبوں کو مکس کر رہی ہیں۔ ایک ہے "تجلیاتِ افعالیہ" دوسرا ہے "صفاتِ ثبوتیہ" تیسرا ہے "شیوناتِ ذاتیہ"۔ تو شیوناتِ ذاتیہ کا سبق آپ کا ہے تو شیوناتِ ذاتیہ اصل میں "شان" سے صفت نکلتی ہے۔ صفات کا مراقبہ آپ نے کیا اب شان کا مراقبہ آپ کر رہی ہیں تو آپ اس کا جو فیض ہے اس کا تصور کریں کہ اس کا فیض اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہا ہے آپ ﷺ کی طرف، آپ ﷺ کی طرف سے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے آپ کے لطیفہ "سِر" کے اوپر آ رہا ہے۔ بس یہ آپ کا سبق ہے اس کو پکا کریں۔
سوال12: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
I pray that you are in the best health. Alhamdulillah I have completed my first 40 days of 300 and 200 times 3rd kalima. Please tell me what to do next and keep me in your duas.
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب:
Now ماشاء اللہ you have completed it, congratulations for this and now you should do 3rd kalima, complete 3rd kalima 100 times, Salat an-Nabi ﷺ Durud Sharif 100 times and Istighfar 100 times. This will be once in a day and everyday you have to perform it. And all the Zikr which is after Salat given to you, you have to do it. Besides this,
100 times لا الہ الا اللہ
100 times لا الہ الا ھو this is Zikr-e-Jahr
and 100 times حق
and 100 times اللہ
These all is Zikr-e-Jahri and this you should do as we are doing and you have done with us. So this you should do daily in the form of sitting and concentration upon this for one month InshaAllah.
سوال13: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
I pray you are well dear Sheikh. I just wanted to ask the question: when we have guests, how should we balance our Mamulaat and doing their Ikram. I have heard of a Sheikh who would decrease all his Mamulaat when a guest would come, but then there is the story of Hazrat Sheikh Zakaria (RA) spent visiting in Ramadan and so I was confused.
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: وہ جو حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ والی بات ہے وہ رمضان شریف کی ہے۔ تو رمضان شریف کے ظاہر ہے معمولات تو کسی کے لیے نہیں چھوڑے جا سکتے اور وہ حضرت چونکہ مقتدیٰ تھے تو سب کے لیے ایک سبق تھا اور آج ہم اس سبق سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لہٰذا حضرت نے ایسا کیا۔ مہمان کا اکرام یقیناً ہے البتہ اس کے لیے معمولات نہیں چھوڑنے چاہئیں، اس طرح کام کرنا چاہئیے کہ معمولات بھی ہوں اور اکرام بھی ہو کیونکہ اکرام مسلسل بیٹھنے کو نہیں کہتے، اکرام اس کو کہتے ہیں کہ اس کے جو ضروریات ہیں ان کا خیال رکھا جائے اور ان کی خدمت کا پورا انتظام ہو۔ تو وہ تو کر کے انسان فارغ بھی ہو جاتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بھی مہمان آتے تھے لیکن سارے کچھ کام کرتے تھے۔ بلکہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے جو ان کے استاد تھے۔ تو اپنے استاد کی تو بہت خدمت ہوتی ہے مطلب علمائے کرام کرتے ہیں۔ تو جب وقت آ گیا وہ جس میں حضرت کچھ لکھتے تھے، فرمایا حضرت اس وقت میرا کچھ لکھنے کا معمول ہے تو کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں اس کو پورا کر لوں؟ حضرت نے بھی فوراً فرمایا نہیں نہیں بالکل جاؤ آپ اپنا معمول پورا کر لیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ تو انسان ادب کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ سارے کام ماشاء اللہ ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کہ اس کے لیے ترتیب بنا دی جائے، balance اسی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ساتھ ساتھ ان کاموں کو کرنے کا جیسا حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کرتے تھے، سارے کام جو ہے نا ماشاء اللہ اپنی اپنی جگہ پہ کرتے تھے۔ معمولات کے لیے اگر مختلف اعذار کو دیکھا جائے گا تو آہستہ آہستہ معمولات سارے چھوٹ جائیں گے کیونکہ شیطان کا سب سے پہلا وار اسی پہ ہوتا ہے کہ معمولات چھڑواتے ہیں اور پھر معمولات سے تعلق چھڑواتے ہیں اور پھر تعلق سے تعلق مع اللہ چھڑواتے ہیں۔ تو اس طریقے سے وہ اس کے پیچھے لگا ہوتا ہے۔ تو اگر آپ نے اس کے لیے معمولات چھوڑنے شروع کیے تو اس سے پھر معاملہ آہستہ آہستہ خراب ہوتا جائے گا، لہٰذا معمولات نہ چھوڑیں لیکن مہمان کا اکرام بھی ساتھ کر لیا کریں وہ اپنے طور پر لازم ہے۔
سوال14: السلام علیکم حضرت جی! میری بجلی کا میٹر بند ہے، میں نے اپنے میاں سے کہا اب براہِ کرم میرے بچے بھی بیمار رہتے ہیں تو اس نے کہا میں اگر بھائی سے کہوں بھائیوں سے کہوں گا تو کوئی تو جھگڑا کرے گا تو حضرت آپ مجھے اس بارے میں بتا دیں اور الگ بھی نہیں رہ سکتے اس کی امی کی وجہ سے۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: یہ آپ ٹیلیفون کر لیں یہ بات اس طرح مختصر یہ معاملات کی بات ہے اور پھر خاندانی بات ہے، یہ دو تین سطروں سے سمجھ میں نہیں آتی۔ اس میں cross questioning ہوتا ہے تو ٹیلیفون پر ہی جب پوچھیں تو پھر میں کچھ عرض کر سکوں گا۔
سوال15: السلام علیکم حضرت جی! میں لاہور سے فلاں آپ سے مخاطب ہوں، حضرت جی میں کچھ سال پہلے مولانا فلاں صاحب سے ایک دعائیہ مجمع میں بیعت ہوئی تھی، چونکہ وہ مصروف شخصیت ہیں اس لیے اصلاح کے لیے ان سے مستقل رابطہ اور سلسلہ قائم نہیں ہو سکا۔ حضرت جی میری دلی خواہش ہے کہ میں سنتِ رسول ﷺ پر چلتے ہوئے اپنے دل و نفس کی اصلاح کروں اور اس سلسلے میں آپ سے بیعت ہونا چاہتی ہوں، میرے اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں کیا میں آپ سے بیعت ہو سکتی ہوں اور کیسے ہو سکتی ہوں؟
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: جی ہاں! اصل میں بات یہ ہے کہ بیعت جو ہوتی ہے یہ اصلاح کے لیے ہوتی ہے تو جہاں سے اصلاح ممکن ہو وہاں سے بیعت کی جا سکتی ہے۔ مقصد بڑا نام نہیں ہوتا اصل میں کام ہوتا ہے۔ اب بڑے نام کے پیچھے کام ہی چھوٹ جائے تو کیا فائدہ ہو گا اس کا؟ تو بہرحال اگر آپ کا شرحِ صدر ہے آپ بیعت کرنا چاہتی ہیں تو تین بجے ہمارے اس کا ٹائم ہوتا ہے یعنی تین بجے جو ہمارے ٹیلیفون کا ٹائم ہوتا ہے بالکل اس کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے تو آپ بالکل exact تین بجے فون کر لیں وضو پہلے آپ کر چکی ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ نے نہیں کیا تو درمیان میں کسی اور کا ٹیلیفون آ جائے گا چونکہ ٹائم آپ کو دیا ہو گا تو اس کے بعد ممکن ہے پانچ منٹ کے بعد میں نے کسی اور کو ٹائم دیا ہو تو اگر آپ نے لیٹ کیا تو اس کے ٹائم میں چلی جائیں گی، لہٰذا exact تین بجے فون کر لیں پھر ان شاء اللہ ہو جائے گی بات۔
سوال16: السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
نمبر 1: کم کھانے کا مجاہدہ جاری ہے، میں 16 گھنٹے fasting اور 8 گھنٹوں میں دو دفعہ کھانا کھاتی ہوں، ایک دفعہ کھاتی تھی لیکن میرے ساتھ کمزوری بڑھ گئی تھی اس لیے اب دو دفعہ کھاتی ہوں، صرف جمعرات کے دن دو دفعہ کھانا کھایا تھا اور تین دفعہ چائے پی تھی لیکن اگلے دن پھر ایک وقت ہی کھانا کھایا تھا، ہر وقت دو وقت کھانے ہی کا تھا۔
جواب: بالکل آپ دو وقت کھانا کھا لیا کریں جو 8 گھنٹے اور 16 گھنٹے ہیں تو اس کا بالکل صحیح وہ کر لیا کریں جو بتایا گیا ہے۔ اپنی طرف سے اس کو تبدیل نہ کیا کریں، مجاہدہ سے مراد، یہ مجاہدہ ہے نا، بذاتِ خود مجاہدہ ہے کہ آپ 8 گھنٹے کھاتی ہیں 16 گھنٹے نہیں کھاتیں، تو یہ آپ کے لیے کافی ہے، البتہ یہ ہے کہ ایک وقت میں زیادہ نہ کھائیں تاکہ بوجھ بن جائے، اتنا ہے کہ بس آپ کو فائدہ ہو، طاقت اس سے مل جائے۔
نمبر 2: لطیفہ قلب 20 منٹ تقریباً چھٹا مہینہ ہے اس ذکر کا لیکن اب بھی محسوس نہیں ہوتا
جواب: ان سے کہہ دیں کہ ایک ہزار مرتبہ اللہ اللہ زبانی کیا کیا کریں پھر اس کے بعد 20 منٹ لطیفہ قلب کا ذکر کریں۔
نمبر 3: لطیفہ قلب 10 منٹ محسوس نہیں ہوتا۔
جواب: اس کو 15 منٹ کا بتا دیں۔
نمبر 4: ابتدائی وظیفہ بلا ناغہ 40 دن پورا کر لیا۔
جواب: ماشاء اللہ اب ان کو بتا دیں جو ہے نا ابتدائی 10 منٹ والا لطیفہ قلب کا۔
نمبر 5: لطیفہ قلب 10 منٹ محسوس ہوتا ہے۔
جواب: ماشاء اللہ اس کو 10 منٹ دل کا 15 منٹ لطیفہ روح کا۔
نمبر 6: تمام لطائف پر 10 منٹ ذکر اور مراقبہ تجلیاتِ افعالیہ 15 منٹ، اس بات کا ادراک نصیب ہوا کہ انسان تمام نیک کام اللہ کی توفیق سے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان کے ساتھ جو کچھ برا ہوتا ہے وہ اس کے اعمالِ بد کا نتیجہ ہوتا ہے، میں جب بھی کوئی نیک کام کرتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کیا اور ہر روز تمام گناہوں سے توبہ کرتی ہوں اور گناہ نہ کرنے کا ارادہ کرتی ہوں اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرتی ہوں۔
جواب: ماشاء اللہ بڑا اچھا ہے اب ان کو مراقبہ صفاتِ ثبوتیہ بتا دیں۔
نمبر 7: تمام لطائف پر 5 منٹ ذکر و مراقبہ صفاتِ سلبیہ 15 منٹ، اس بات کا ادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام صفاتِ سلبیہ سے پاک ہے۔
جواب: ماشاء اللہ اب ان کو شانِ جامع کا مراقبہ دے دیں۔
نمبر 8: لطیفہ قلب 15 منٹ محسوس ہوتا ہے۔
جواب: اب ان کو 10 منٹ قلب کا، 15 منٹ لطیفہ روح کا دیں۔
نمبر 9: تمام لطائف پر 5 منٹ ذکر و مراقبہ آیۃ الکرسی کا مفہوم۔
جواب: ماشاء اللہ ماشاء اللہ بہت اچھی بات ہے اب ان کو تمام لطائف پر 5 منٹ کا ذکر اور جو نماز میں ثنا پڑھتے ہیں، اس کا مفہوم اور اس کے فیض کا مراقبہ
حال: جب یہ مراقبہ تو خود کو مصائب سے محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
جواب: ماشاء اللہ بہت اچھی بات ہے یہ دونوں بہت اچھے ہیں آپ جو ہے نا آیۃ الکرسی کا بھی وہ ساتھ کر لیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی جو میں نے ابھی بتایا ہے۔
سوال17: السلام علیکم حضرت جی! اللہ پاک آپ کا سایہ سالکین پر قائم رکھے بالخصوص مجھ سے ناکارہ بے ذوق جیسوں پر۔ احوال میں تسلسل کے لیے کافی زور اور عرصہ لگتا ہے مگر اس کے زوال میں دیر نہیں لگتی چاہے غفلت ہو یا معصیت یہی روش رہتی ہے۔ بندے کا ذکر 200، 400، 600 اور 2000 ہے، دلجمعی کم ہے فجر میں دیر سویر ہوتی ہے، وقت کی کمی یا بے برکتی کا شکار رہتا ہوں، بس ایک روٹین اور آخرت کی فکر بتکلف نہیں ہے رہنمائی کی درخواست ہے۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: اس میں جو آپ کے اختیار میں ہے اس میں سستی نہ کریں اور جو اختیار میں نہیں ہے اس کی پرواہ نہ کریں، وساوس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جو عمل ہے اس میں سستی نہیں کرنا چاہئیے۔ باقی جو ذکر ہے وہ آپ فی الحال یہی کریں کیونکہ اس میں دلجمعی پہلے پیدا کر لیں پھر آگے بڑھیں گے ان شاء اللہ، تو نماز میں کوئی سستی نہ کریں ان شاء اللہ العزیز آگے ترقی ہو گی پھر۔
سوال18: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! اللہ پاک سے آپ کی صحت تندرستی بلند درجات کی دعاگو ہوں۔ حضرت جی الحمدللہ ذکر میرا ذکر مکمل ہو گیا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ 200 مرتبہ، اِلَّا اللہ 400 مرتبہ، اَللہُ اَللہ 600 مرتبہ اور اللہ 3000، ذکر کے دوران کیفیات تو کچھ خاص نہیں البتہ کچھ عرصہ پہلے جب میرا ذکر زیادہ تھا تو اس وقت کے بارے میں سوچتا ہوں اور اپنے اوپر افسوس شرمندگی کہ اپنے حالات شیخ کے علاوہ کسی اور کو بتائے، اپنی غلطی پر دکھ ہوتا ہے اور بہت ندامت محسوس کرتا ہوں اس لیے آپ سے معافی کا طلبگار ہوں، اس کے علاوہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرے اندر خود پسندی کی عادت بڑھ رہی ہے، جن لوگوں کے ساتھ بے تکلف ہوں ان کے سامنے اپنے ماضی کے کام اور اپنی اشیاء کی تعریفیں کرتا رہتا ہوں ان پر اتراتا بھی ہوں، یہ خیال بھی آتا ہے کہ غلط کر رہا ہوں لیکن اکثر اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہوں، برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں، آپ کو اور آپ کے جملہ متعلقین کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے آمین۔
[سوال جواب مجلس نمبر 660، 12 فروری 2024]
جواب: سبحان اللہ! اصل میں ذکر تو آپ 3500 مرتبہ اللہ کر لیں باقی وہی رکھیں، البتہ یہ جو اس میں اختیار میں ہے مطلب جو اختیاری چیز ہے اس میں آپ خود اپنی مرضی سے سستی نہ کریں تو جس چیز سے آپ کو خطرہ ہو کہ اس سے نقصان ہو رہا ہے تو نہ کریں، ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ میں ڈاکٹر کے پاس گیا تھا throat infection تھا تو اس نے مجھے دوائی دی اور ساتھ میں نے پوچھا کہ حضرت پرہیز کیا کروں؟ فرمایا intelligent پرہیز کریں۔ میں نے کہا intelligent پرہیز کیا ہوتا ہے؟ کہا کہ جو چیز آپ کو نقصان دے وہ نہ کھائیں۔ تو میں بھی آپ کو intelligent پرہیز کا بتاتا ہوں کہ آپ کو جو چیز نقصان دے اور آپ کو پتہ ہے کہ نقصان دے رہا ہے اس کو نہ کریں۔
جاری ہے ان شاءاللہ