اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ﴿266﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ ؕ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ ﴿267﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور) اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں، اور بڑھاپے نے اسے آ پکڑا ہو، اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں؛ اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے؟ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو ﴿266﴾ اے ایمان والو! جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو؛ اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ ایسا بے نیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کی طرف لوٹتی ہے ﴿267﴾
یہ اصل میں اللہ جل شانہٗ نے صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکا یک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریا کاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
اصل میں صدقہ یہ بہت اونچی چیز ہے، بلاؤں کو روکتا ہے۔ اور اللہ کا قرب اس سے حاصل ہوتا ہے۔ اور دو چیزوں کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ ایک نماز کی اور ایک انفاق فی سبیل اللہ کی۔ دو چیزوں کی۔ سورہ بقرہ کے بالکل ابتداء میں بھی اس کا ذکر ہے۔ یعنی جانی اور مالی عبادات میں یہ دو بڑی چیزیں ہیں۔ تو اب اتنا بڑا ثواب اگر آپ کو ملنے والا ہے۔ تو اس کو ایسی چیز سے ضائع کرنا جس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں، صرف ایک خیالی چیز ہے۔ تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟
تو اللہ تعالیٰ نے پہلے بھی اس کی مثال دی اس سے پہلے کہ وہ چکنی چٹان کے اوپر مٹی ہو۔ اور اس کے اوپر فصل کوئی بو لے۔ تو فصل اگر اس کے اوپر آئے گا تو بس بارش اب ہو جائے گی تو بارش اس کو ختم کر دے گی۔
دوسری طرف ایک باغ کی مثال دی تھی کہ وہ کسی پہاڑی پر ہے اور اس میں flat جگہ ہے۔ تو اگر اس کے اوپر بارش ہو جائے تو وہ دہرا فصل دے۔ اور اگر نہ ہو تو وہ پھوار بھی کافی ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کے لیے گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اگر اللہ کے لیے وہ کام کیا گیا ہو تو بارش اس کو ختم نہیں کرتی بلکہ بارش تو اس کو اور بڑھا دیتی ہے۔ لیکن اگر اللہ کے لیے نہ ہو تو وہی بارش جو دوسری چیزوں کے لیے رحمت ہوتی ہے اس کے لیے تباہ کن بن جاتی ہے۔
تو وہ تو بارش کی مثال دی تھی۔ یہاں آگ کی مثال دی کہ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر سکتا ہے اس طرح ریاکاری یا صدقہ جو ہے وہ کر کے احسان جتلانا یہ اسی طریقے سے وہ صدقے کا جو عظیم ثواب ہے اس کو خراب کر دے گا۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے جس میں ہمارا دونوں جہاں کا نقصان ہو۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔