حدیثِ جبریل: دین کے بنیادی ارکان اور علاماتِ قیامت

درس نمبر 78- باب المراقبہ، حدیث نمبر 60، (اشاعتِ اول)، 28 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ مشہور "حدیثِ جبریل"۔

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا تذکرہ۔

ایمان کے چھ بنیادی اجزاء کی وضاحت۔

مقامِ احسان (عبادت میں حضوریِ قلب) کی تعریف۔

قیامت کے وقت کا علم اور اس کی چند اہم علامات۔

دین سیکھنے اور سکھانے کا ایک خاص طریقہ (سوال و جواب)۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

جبرائیل علیہ السلام کا امتِ محمدیہ کو تعلیم دینا:

(60) ﴿وَ اَمَّا الْاَحَادِيْثُ فَالْاَوَّلُ: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ اَثَرُ السَّفَرِ وَ لَا يَعْرِفُهُ مِنَّا اَحَدٌ، حَتّٰى جَلَسَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَاَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ اِلٰى رُكْبَتَيْهِ، وَ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلٰی فَخِذَيْهِ وَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ (ﷺ) اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ، وَ تُقِيْمَ الصَّلٰوةَ وَ تُؤْتِيَ الزَّكٰوةَ، وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَ تَحُجَّ الْبَيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَ يُصَدِّقُهُ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ؟ قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَ مَلَائِكَتِهِ، وَ كُتُبِهِ، وَ رُسُلِهِ، وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَ شَرِّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِحْسَانِ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهُ يَرَاكَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنْ اَمَارَاتِهَا قَالَ: اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا، وَ اَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُوْنَ فِي الْبُنْيَانِ. ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ اَتَدْرِيْ مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللهُ وَ رَسُوْلُهُ اَعْلَمُ. قَالَ: فَاِنَّهُ جِبْرِيْلُ اَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ اَمْرَ دِيْنِكُمْ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)﴾

وَ مَعْنٰى: تَلِدُ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا: اَیْ سَيِّدَتَهَا، وَ مَعْنَاهُ اَنْ تَكْثُرَ السَّرَارِيُّ حَتّٰى تَلِدَ الْاَمَةُ السِّرِّيَّةُ بِنْتًا لِّسَيِّدِهَا وَ بِنْتُ السَّيِّدِ فِيْ مَعْنَى السَّيِّدِ وَ قِيْلَ غَيْرُ ذٰلِكَ. وَالْعَالَةُ: الْفُقَرَاءُ وَ قَوْلُهُ مَلِيًّا اَیْ زَمَانًا طَوِيْلًا وَ كَانَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا.

صفحہ 213

’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، اچانک ایک آدمی جس کا لباس نہایت سفید اور بال نہایت سیاہ تھے آیا، نہ اس پر بظاہر سفر کا کوئی اثر دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی اس کو ہم میں سے کوئی پہچانتا تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے زانو سے زانو ملا کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھ گیا، عرض کیا اے محمد ﷺ اسلام کیا چیز ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی پیش کرے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز ادا کرے، زکوٰۃ دے، رمضان کے روزے رکھے اگر بیت اللہ جانے کی استطاعت ہو تو حج کرے۔ اس نے عرض کیا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا کہ آپ ﷺ سے سوالات بھی کر رہا ہے اور پھر آپ ﷺ کے جوابات کی تصدیق بھی کر رہا ہے،

یعنی پہلے سے جوابات معلوم ہیں

پھر اس نے دریافت کیا ایمان کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں کو مانے، قیامت، تقدیر اچھی بری پر ایمان رکھتا ہو۔ اس نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا، پھر اس نے احسان کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو اللہ کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرے گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ تصور پختہ نہ ہو سکے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے، پھر اس نے قیامت کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا میں سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا قیامت کی علامت بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور ننگے پاؤں ننگے بدن مفلس بکریاں چرانے والوں کو عمارتوں کی تعمیر میں فخر کرتے ہوئے پاؤ گے۔ پھر وہ سائل چل دیا، میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر! تجھے پتہ ہے کہ وہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جبریل علیہ السلام تھے تمہیں دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔

لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لونڈیوں کی کثرت ہو جائیگی یہاں تک کہ ہم خوابی کے لئے مخصوص لونڈی اپنے آقا کے لئے بیٹی جنے گی اور یہ آقا کی بیٹی آقا ہی کے معنی میں ہے اور اس کے علاوہ کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ عالة بمعنی فقراء، ملیا کا مطلب ہے زمانہ طویل، حدیث میں اس سے مراد تین دن ہیں۔‘‘ ان شاء اللہ اس کی تفصیل پھر کل بیان کی جائے گی کیونکہ حدیث شریف لمبی ہے۔ تو آج تو اس کا ترجمہ بیان کیا گیا، ان شاء اللہ کل اس کی مزید تفصیلات سے آگاہی حاصل کریں گے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: حدیثِ جبریل: دین کے بنیادی ارکان اور علاماتِ قیامت

متبادل عنوان: تعلیمِ دین کا نبوی اسلوب اور حقیقتِ اسلام، ایمان و احسان

اہم موضوعات:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ مشہور "حدیثِ جبریل"۔

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا تذکرہ۔

ایمان کے چھ بنیادی اجزاء کی وضاحت۔

مقامِ احسان (عبادت میں حضوریِ قلب) کی تعریف۔

قیامت کے وقت کا علم اور اس کی چند اہم علامات۔

دین سیکھنے اور سکھانے کا ایک خاص طریقہ (سوال و جواب)۔



حدیثِ جبریل: دین کے بنیادی ارکان اور علاماتِ قیامت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور