عقائد، اعمال اور تزکیۂ نفس: مکتوباتِ امام ربانیؒ کی روشنی میں اور نفس و عقل کی کشمکش

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک صالحہ خاتون مریدنی کے نام مکتوب - مکتوب نمبر 17 دفتر سوم - اشاعت اول: اتوار، 14 جون 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات (Key Topics):

  • عقائد اور اعمال کی ترتیب: حدیثِ جبریل کی روشنی میں ایمان (عقائد)، اسلام (فقہ/اعمال) اور احسان (تصوف/باطن) کی اہمیت اور عقائد کے درست ہونے کے بعد سب سے پہلا اور اہم فریضہ "نماز" کی ادائیگی۔
    • نمازِ تہجد اور ذکرِ الٰہی: ولایت کے راستے کی کنجی کے طور پر تہجد کی اہمیت، استغفار کی کثرت، اور بلا وضو بھی درود و ذکر کی عادت ڈالنے کی ترغیب تاکہ انسان "دائم الذکر" بن سکے۔
      • فرائض کی نوافل پر برتری: فرائض اور واجبات (جیسے حرام سے بچنا، زکوٰۃ دینا، قربانی کرنا) کی اہمیت کا بیان اور نوافل (جیسے عام صدقہ و خیرات) کو فرائض پر ترجیح دینے کے مغالطے کی اصلاح۔
        • سلسلۂ نقشبندیہ اور باطنی اصلاح: نقشبندی سلسلے کی خصوصیت "اندراجِ نہایت در بدایت" (انتہا کا ابتدا میں مندرج ہونا) کی تشریح۔ مقناطیس اور سورج و چاند کی کشش کی سائنسی اور عام فہم مثالوں سے "جذبِ وہبی" (اللہ کی طرف سے کھنچاؤ) اور "جذبِ کسبی" کو سمجھانا۔
          • عادت کو عبادت بنانا: نیت کی درستگی کے ذریعے کھانا کھانے، لباس پہننے اور سونے (نیند) جیسے مباح اور روزمرہ کے کاموں کو عین عبادت بنانے کا طریقہ۔
            • نفس اور عقل کی کشمکش: نفسانی خواہشات کے مقابلے میں عقل کے استعمال کی تلقین۔ ذیابیطس کے مریض کی میٹھا کھانے کی خواہش اور غصے کے وقت عقل سے کام لے کر وقتی اور مستقل بچاؤ کی بہترین نفسیاتی و عملی مثالیں۔
              • روحانیت میں ذاتی محنت کی شرط: پیر و مرشد کے کردار کی وضاحت (کہ وہ صرف راستہ دکھاتے ہیں، جیسے ڈرائیونگ سکھانے والا استاد) اور اس بات کی تاکید کہ انسان کو عملی کوشش (ہمت) خود کرنی پڑتی ہے، برائی خود بخود نہیں چھوٹتی۔
                • آخرت کی جوابدہی: وقت، مال، علم اور جسمانی اعضاء کے درست استعمال اور موت سے قبل اپنے اعمال کے احتساب (مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا) کی فکر انگیز یاد دہانی۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

                  معزز خواتین و حضرات! حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مکتوب شریف جو ایک صالحہ عورت جو حضرت کی تربیت میں تھی، ان کی طرف لکھا تھا، اس میں عقائد پر بات ہوئی ہے۔ تو ابھی الحمد للہ حضرت فرما رہے ہیں کہ

                   اعتقاد درست کرنے کے بعد اعمال کا بجالانا بھی ضروری ہے کیونکہ حضرت پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوہ و السلام نے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اوّل (کلمہ طیب) لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہ (یعنی) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں) اور ان تمام باتوں پر ایمان و اعتقاد رکھنا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کی تبلیغ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔۔۔ دوسرے پانچوں وقت کی نمازوں کا ادا کرنا جو کہ دین کا ستون ہے۔۔۔ تیسرے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا۔۔۔ چوتھے ماہ رمضانِ المبارک کے روزے رکھنا۔۔۔ پانچویں بیت اللہ شریف کا حج کرنا۔۔۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد عبادتوں میں بہترین عبادت ’’ نماز‘‘ ہے اور اس میں ایمان کی طرح حُسن لذاتہ ہے بخلاف تمام عبادات کے کہ ان میں ذاتی حُسن نہیں ہے۔ طہارتِ کاملہ کے بعد جیسا کہ شرعِ مبین کی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے بغیر کسی سُستی و کاہلی کے نماز ادا کرنی چاہئے، اور قرأ ت، رکوع، سجود، قومہ، جلسہ اور باقی تمام ارکان میں احتیاط کرنی چاہئے تاکہ کامل درجہ احتیاط کے ساتھ ادا ہوں۔ اور رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں سکون و طمانیت کو لازم جاننا چاہئے۔ اور سستی و لاپروائی سے نماز ادا نہ کریں۔ اور نماز کو اوّل وقت میں ادا نہ کریں اور سستی اور جہالت کی وجہ سے تاخیر نہ کرنی چاہئے۔۔۔

                  عقائد کے بارے میں حضرت نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے۔ اصل میں اس کی جو اصل ہے وہ جو حدیث شریف ہے بخاری شریف کی، حدیثِ جبریل جس کو کہتے ہیں، جو آپ ﷺ سے جبریل علیہ السلام نے سوالات کیے تھے صحابہ کرام کے سامنے، جن میں یہ سوال تھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے جو جواب دیا وہ عقائد کی بنیاد ہے۔ پھر یہ پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے جو جواب دیا وہ اصل میں فقہ کی بنیاد ہے، یعنی اعمال کی درستگی کی بنیاد ہے۔ اور تیسرا سوال جو تھا احسان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے جو جواب دیا وہ اصل میں تصوف کی بنیاد ہے۔

                  تو اب چونکہ ایمان کی بنیادوں والی بات پوری ہو گئی ہے، تو اس کے بعد اب جو دوسرا سوال ہے اس کا جواب یعنی اعمال، اس کے بارے میں ابھی حضرت نے بات شروع کر لی۔ تو اس کے لیے جو حدیث شریف کو بنیاد بنایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ۔ تو پہلا جو ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے، کلمہ طیبہ۔ دوسرا نماز ہے اور تیسرا جو ہے نہ وہ زکوٰۃ ہے اور چوتھا روزہ ہے اور پانچواں بیت اللہ شریف کا حج کرنا ہے۔

                  پھر حضرت نے یہ ارشاد فرمایا کہ نماز جو ہے یہ اصل میں عقائد کے بعد سب سے اہم عبادت ہے، یعنی عقائد جب صحیح ہوں تو اس کے بعد سب سے پہلے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ سال میں ایک دفعہ ادا ہوتی ہے، رمضان شریف کے روزے بھی رمضان شریف میں ہی آتے ہیں سال میں ایک دفعہ، حج بھی سال میں ایک دفعہ ہی ہوتا ہے، نماز روزانہ پانچوں دفعہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی نیا مسلمان ہو جائے اور عقیدہ اس کا صحیح ہو جائے تو اس کو پہلا کام کون سا کرنا پڑے گا؟ پہلا کام اس کو یہ کرنا پڑے گا کہ اگلے جو نماز کا وقت آ رہا ہے اس سے وہ نماز شروع کر لے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت اس نے نماز ابھی سیکھی نہیں ہو گی، لہٰذا جتنی اس نے سیکھی ہے اس کے مطابق ادا کرے گا اور مردوں کے لیے تو آسان بات یہی ہے کہ وہ نماز جماعت کے ساتھ شروع کر لے، تو جماعت کے ساتھ نماز شروع کرنے میں صرف نیت ہے وہ بھی دل کی ہے، الفاظ تو اس میں ہے نہیں ضروری۔ تو نیت اس نے کر لی، پھر اس کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر امام کے ساتھ کہتے جائے اور آخر میں السلام علیکم و رحمۃ اللہ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ یہ کہہ دے تو نماز اس کی ہو جائے گی، درمیان میں اگر اس نے کچھ بھی نہیں کہا تب بھی اس کی نماز امام کی متابعت میں ہو جائے گی۔

                  تو عورتوں کے لیے البتہ یہ والی بات ہے کہ ان کے لیے بھی یہ بات ہے کہ کوئی محرم مرد اگر ہو تو جماعت کے ساتھ وہ نماز پڑھ سکتی ہے اور یہ کہ محرم مرد نہ بھی ہو تو محرم مردوں کی جماعت یا مردوں کی ہو تو اس کے پیچھے پردے میں کھڑی ہو کر اپنی جماعت اس طریقے سے پڑھ سکتی ہے بہت آسانی کے ساتھ۔ بہرحال جلد سے جلد نماز اس کو سیکھنی پڑے گی کیونکہ نماز کا سب سے پہلا حکم ہو گا۔

                  روزِ محشر کہ جاں گداز بود

                  اولی پرسشِ نماز بود

                  روزِ محشر جو بہت ہی مشکل وہ دن ہے، اس میں پہلی پوچھ ہی نماز کے بارے میں ہو گی۔ اور الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ نماز مؤمن کا معراج ہے۔ الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ نماز دین کا ستون ہے۔ اس لیے نماز کی جو بات ہے وہ سب سے پہلے آئے گی۔ 

                  مقبول بندہ وہی ہے جو اپنے مولیٰ کا حکم ملتے ہی اس کی تعمیل میں لگ جائے کیونکہ حکم کی بجا آوری میں دیر کرنا سرکشی اور سوء ادب ہے۔ اور فقہ کی کتابیں جو فارسی میں لکھی گئی ہیں جیسے ترغیب الصلوۃ اور تیسیرالاحکام اور ان جیسی کتابیں چاہئے کہ ہر وقت اپنے پاس رکھیں 


                   یہ حضرت نے اپنے دور کی بات لکھی ہے۔ ہمارے دور میں اور ہمارے علاقے میں تو اردو کی کتابیں بہت ساری موجود ہیں ماشاء اللہ۔ چھوٹی سی کتاب ہے 'نمازیں سنت کے مطابق پڑھیے'، وہ ماشاء اللہ اس کو لیا جا سکتا ہے اور باقی 'بہشتی زیور' اور 'تعلیم الاسلام' یہ بنیادی کتابیں ہیں، اگر یہ کسی کے پاس ہوں تو ماشاء اللہ ابتدا ہی سے وہ ساری چیزیں اس میں سیکھ سکتے ہیں، کیونکہ اس میں جو فرائض ہیں، واجبات ہیں، سنن ہیں، مستحبات ہیں وہ سارے موجود ہیں۔ مطلب وضو کرنے کا جو طریقہ ہے اور پھر جو شرائطِ نماز ہے، پھر اس کے بعد جو فرائضِ نماز ہے، پھر اس کے بعد جو واجباتِ نماز ہے، ان کو آدمی سیکھ لے تو ساری نماز تو اس کی ہو گئی، ہاں البتہ سنتوں کے ساتھ اور مستحبات کے ساتھ جب کیا جائے گا تو پھر اس میں اور زیادہ حسن آئے گا۔

                   دین میں جس چیز کی ضرورت ہے اس کو لازم جاننا چاہئے اور اس کے علاوہ کسی اور کی طرف التفات نہیں کرنی چاہئے۔ نمازِ تہجد بھی اس راہ کی ضروریات میں سے ہے۔ کوشش کریں کہ بغیر عذر ترک نہ ہو۔

                   یہ نمازِ تہجد ہے اصل میں یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ پاک نے ہمیں ایک بہترین ذریعہ دیا ہے اپنے ساتھ تعلق کا۔ دیکھیں تعلق کا بہترین ذریعہ وہ ہو گا جس میں موانع کم سے کم ہوں، مشکلات کم سے کم ہوں، موانع کم سے کم ہوں، یعنی جس میں جیسے مثال کے طور پر میں کسی کو آواز دوں تو آواز میری اس تک پہنچ جائے، کوئی رکاوٹ درمیان میں نہ ہو، تو ظاہر ہے یہی وقت مناسب ہوتا ہے۔ تو اب تہجد کے وقت میں تخلیہ ہوتا ہے، نمبر ایک۔ فریش آدمی ہوتا ہے، نفس کی رکاوٹ کم ہوتی ہے اور اس لیے نماز میں یکسوئی زیادہ ہوتی ہے اور یہ نماز چھپ کر پڑھنے کی ہے، لہٰذا اس میں اخلاص بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تو یہ تمام چیزیں مل کر تہجد کو بہترین نماز بنا لیتی ہیں نوافل میں۔ تو اگر کوئی ولایت کے راستے پہ قدم رکھنا چاہے تو اس کے لیے کنجی ہے جو تہجد کی نماز ہے۔ لہٰذا تہجد کی نماز باقاعدگی کے ساتھ پڑھنے کی عادت بنانی چاہیے، کیونکہ اس سے ماشاء اللہ ولایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔

                   کوشش کریں کہ بغیر عذر ترک نہ ہو۔ اگر شروع میں (نمازِ تہجد) دشوار ہو اور اس وقت میں جاگنا میسر نہ ہو تو کسی خدمت گار کو اس کام کے لئے مقرر کر دیں کہ وہ اس وقت میں بیدار کر دے خواہ آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کو نیند میں نہ رہنے دے چند روز کے بعد بیداری کی عادت ہو جائے گی اور اس تکلف و تعمل کی ضرورت نہ رہے گی۔۔۔ 

                   حضرت چونکہ شیخ المشائخ ہیں، تجربہ ہے، طریقے سارے آتے ہیں، لہٰذا بڑے آسان آسان طریقے بتاتے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی اصول کو بہت تفصیل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ جب بھی کوئی کام آپ کرنا چاہیں تو پہلے مشکل ہو گا۔ پھر اس کے بعد جب آپ اس پر تکلف کے ساتھ عمل کریں گے، تکلف سے مراد یہ ہے کہ تکلیف اٹھاتے ہوئے، مشکل میں رہتے ہوئے جب آپ اس پر عمل کریں گے تو مشکل مشکل نہیں رہے گی، مطلب یہ ہے کہ ابتدا میں بہت مشکل، پھر تھوڑی سی کمی ہو جائے گی مشکل میں، پھر اور کمی ہو جائے گی، پھر اور کمی ہو جائے گی، پھر اور کمی ہو جائے گی، ہوتے ہوتے ہوتے آسانی کے دائرے میں داخل ہو جائے گی اور آسانی کے دائرے میں داخل ہونے کے بعد پھر عادت کے دائرے میں داخل ہو جائے گی اور عادت کے دائرے میں پھر ماشاء اللہ اصل عبادت کے دائرے میں داخل ہو جائے گی۔

                  یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ چونکہ یہ بنیادی بات ہے اور بہت اہم اور اصولی بات ہے کہ دین کا جو کام ہوتا ہے ابتدا میں مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر آپ اس کو کرتے رہیں گے تو آسان ہوتا جائے گا، آسان ہوتا جائے گا۔ اسی طرح برائی سے بچنا مشکل ہوتا ہے ابتدا میں کیونکہ نفس غالب ہے، لیکن جب آپ نفس کا مقابلہ کریں گے کریں گے کریں گے تو آسان ہو جائے گا اس سے بچنا، یہ مطلب ہے کہ یہ اصول ہے۔ اب لوگ کیا کرتے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں جب آسان ہو جائے گا پھر کریں گے، بھئی جب آسان ہو جائے گا تو آسان کب ہو گا؟ جب کرو گے نہیں تو آسان کب ہو گا؟ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ مطلب یہ کہ نہ تم عمل کرو گے، نہ تمہارے لیے آسان ہو گا، نہ آسان ہو گا نہ تم عمل کرو گے، لہٰذا یہ معاملہ تمہارا موت تک جاری رہے گا اور اسی طرح محروم ہوتے رہو گے۔ اس وجہ سے بتکلف عمل کرنا چاہیے، یہی ایک راستہ ہے۔ حضرت تھانوی صاحب تو اس مسئلے میں بہت Straight forward ہیں، فرمایا یہ بات اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔

                  جو شخص چاہتا ہے کہ آخر شب میں جلد بیدار ہو جائے اس کو چاہئے کہ اوّل شب میں عشا کی نماز کے بعد جلد سو جائے اور بیکار مشاغل میں جاگتا نہ رہے اور سوتے وقت استغفار و توبہ، التجا و تضرع کرے اور اپنے عیوب و نقائص میں غور کرے اور عذابِ اُخروی کے خوف اور دائمی رنج و الم سے ڈرے اور اس وقت کو غنیمت جانے، اور حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ سے عفوو مغفرت کی درخواست کرے اور 100 مرتبہ و کلمۂ استغفار دل کی پوری توجہ کے ساتھ زبان سے ادا کرے: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِی لاَ إِلہَ إِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ (ترمذی وغیرہ) ( میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ اور قائم رہے گا اور اسی سبحانہ کی طرف توبہ کرتا ہوں)۔ اور دیگر (عصر) کی نماز ادا کرنے کے بعد بھی اس کلمۂ استغفار کو سو مرتبہ پڑھے، خواہ وضو ہو یا نہ ہو، وضو نہ ہونے کے باوجود بھی اس کلمۂ استغفار کا ورد ترک نہ کریں۔ 

                  ایک فاضل دیوبند عالم تھے، ان کے ساتھ اکثر میں سفر کیا کرتا تھا، ایک دفعہ میں سفر میں حضرت کے ساتھ تھا تانگے میں بیٹھے ہوئے تھے، حضرت اگلی سیٹ پر تھے میں پچھلی سیٹ پہ تھا، تو میری طرف رخ کر کے حضرت نے فرمایا شبیر سنو! درود شریف بغیر وضو کے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ فرمایا شیطان پہلے وضو نہیں رہنے دیتا اور جب وضو نہیں ہوتا کہتا ہے تم درود شریف نہیں پڑھ سکتے ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ درود شریف نہ پڑھو۔ تو اللہ تعالیٰ نے جو گنجائش دی ہے اس گنجائش سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ ٹھیک ہے اس کا ثواب وضو والے درود شریف کے تو برابر نہیں ہو گا، وہ اسپیشل کیس ہے، مزید، لیکن جو آپ کو حاصل ہو سکتا ہے اس کو تو نہ چھوڑو نا۔

                   One in the hand is better than two in the bush 

                  مطلب یہ کہ جو ایک ہاتھ میں ہے وہ ان دو سے اچھی ہے جو ابھی جھاڑی میں ہیں، ابھی گھونسلے میں ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں فوری چیز کو لینا چاہیے جو ہمارے پاس ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے۔ اللہ پاک نے اپنے نام لینے کی اجازت جنابت کی حالت میں بھی دی ہے، اب اندازہ کر لیں جب یہ اتنا کرم اور عفو ہے تو اس کے بعد بھی انسان رک جائے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو انسان ذکر کرتا ہے وہی زندہ ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں، اور جو نہیں کرتا وہ مردہ ہے۔ اب کون سا وقت ہے جس میں انسان مرنا پسند کرتا ہو؟ کوئی وقت ایسا ہے؟ ہر وقت زندہ رہنا چاہیے اس لیے دائم الذکر ہونا چاہیے، ہر وقت ذکر کرنا چاہیے۔ ہر وقت ذکر انسان تب کر سکتے ہیں جب کم سے کم پابندیاں ہوں، کیونکہ ایسا تو ہمیں ہمیشہ تو ہر وقت تو انسان باوضو نہیں رہ سکتا۔ تو اس وجہ سے اس کی پابندی نہیں لگائی گئی کیونکہ اس کی ضرورت ہمیں ہوا جیسی ہے، ہوا کی ہمیں چونکہ ہر وقت ضرورت ہے تو اللہ پاک نے اس کو ایسا لازمی کر دیا، Compulsory کر دیا کہ ہم ہوا کو نکالنے بھی چاہیں نہیں نکال سکتے، ہوا کو نکالنا ہی سب سے مشکل کام ہے۔ تو اسی طریقے سے ذکر جو ہے چونکہ ہمارے لیے روحانی ضرورت ہے تو اس کو بھی اللہ پاک نے بہت ہی زیادہ لازم کر دیا ہے۔


                  حدیث شریف میں وارد ہے: طُوْبی لِمَنْ وَّجَدِ فِی صَحِیْفَتِہٖ اسْتِغْفَارٌ کَثِیْرٌ (ابن ماجہ) (وہ شخص بڑا ہی خوش نصیب ہے جس کے نامۂ اعمال میں کثرت سے استغفار ہو) ۔۔۔ اور اگر نمازِ چاشت بھی ادا کی جائے تو یہ بہت بڑی دولت ہے۔ کوشش کریں کہ کم از کم دو رکعت چاشت کی دائمی طور پر ادا کریں۔ نمازِ چاشت کی زیادہ سے زیادہ رکعتیں نمازِ تہجد کی طرح بارہ رکعات ہیں۔ وقت اور حال کے مطابق جس قدر ادا ہوجائیں غنیمت ہے۔۔۔اور کوشش کریں کہ ہر نمازِ فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے اس کو بہشت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔۔۔ پنجگانہ نمازوں میں سے ہر نماز کے بعد کلمۂ تنزیہ سُبْحَانَ اللّٰهِ تینتیس 33 بار، کلمہ تحمید اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ تینتیس 33 بار ، اور کلمۂ تکبیر اللّٰه اکبر تینتیس 33  بار، اور ایک بار یہ کلمہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (رواہ مسلم) تاکہ سو 100کی تعداد پوری ہو جائے۔۔۔ اور یہ بھی کہ ہر روز اور ہر شب میں سبحان للہ وبحمدہ سو 100  مرتبہ پڑھیں کہ اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔۔۔ اور نیز صبح کے وقت ایک بار پڑھیں: اللّٰهُم مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوّْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ (یا اللہ ! آج صبح جو نعمت بھی مجھ کو ملی ہے یا تیری مخلوق کو ملی ہے وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے اور تو ایک ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور تیرا ہی شکر ہے)۔ اور شام کے وقت اللّٰهُم مَا أَصْبَحَ کی بجائے اللّٰهُم مَا اَمْسی کہیں اور پوری دعا پڑھیں۔۔۔ اور حدیثِ نبوی علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام میں وارد ہے کہ جو کوئی اس دعا کو دن میں پڑھتا ہے وہ اس دن کا شکر بجا لاتا ہے اور جو کوئی رات کو پڑھے وہ گویا رات کا شکر بجا لاتا ہے۔ اس ورد کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وضو کے ساتھ ہی پڑھا جائے بلکہ تمام اوقات میں اس ورد کو کسی وقت دن میں اور رات میں پڑھ لیا جائے۔

                  اور مال کی زکوٰۃ ادا کرنا بھی ضروریاتِ دین میں سے ہے اس کو رغبت اور منّت کے ساتھ مصارفِ زکوٰۃ میں ادا کرنا چاہئے۔ جبکہ منعمِ حقیقی جل سلطانہ نے اپنے عطیہ اور انعام کے بارے میں خود فرمایا ہے کہ اس کے چالیس حصوں میں سے ایک حصہ فقراء و مساکین کو دیں اور میں اس کے عوض تم کو اجرجزیل اور جزائے جمیل عطا کروں گا۔ تو پھر وہ شخص بہت ہی بے انصاف بلکہ سرکش ہوگا جو اس حقیر رقم کی ادائیگی میں توقف کرے اور اس کے دینے میں بخل اختیار کرے۔۔۔ اور اس قسم کا توقف جو شرعی احکام کی بجاآوری میں ظاہر ہوتا ہے اس کی وجہ یا تو دل کی بیماری ہے یا آسمان سے نازل شدہ احکام پر یقین نہ کرنا ہے۔ صرف کلمۂ شہادت پڑھ لینا کافی نہیں ہے، یہ کلمہ تو منافق بھی پڑھتے تھے(اصل کام) قلب کے یقین کی علامت اوامر شرعیہ کی بجاآوری ہے۔ اور رضا و رغبت کے ساتھ ایک چیتل (دمڑی) کسی فقیر کو زکوٰۃ کی نیت سے دنیا لاکھوں روپے خرچ کرنے سے بہتر ہے جو اس نیت کے بغیر دیئے جائیں، کیونکہ وہ فرض کی ادائیگی ہے اور یہ نفل کو بجا لانا ہے اور ادائے نفل کی نسبت کا فرض کی ادائیگی کے مقابلہ میں کوئی شمار و اعتبار نہیں ہے۔ کاش کہ اس کو دریائے محیط کے مقابلے میں ایک قطرہ کی نسبت ہوتی۔ یہ شیطان ملعون کی رنگینی ہے کہ لوگوں کو فرائض سے باز رکھ کر نوافل کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور زکوٰۃ سے باز رکھتا ہے۔ 

                  اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر! 

                  یہ بات اتنی زیادہ اتنی زیادہ اتنی زیادہ ماحول کے اندر پھیلی ہے کہ جو اس کو دور کرنے کی کوشش کر لے تو اس کے سامنے ایک مہیب پہاڑ جیسا نظر آتا ہے کہ اس کو کیسے دور کرے گا، اتنا زیادہ یہ چھایا ہوا ہے، فرائض کا استخفاف نوافل کے مقابلے میں بہت زیادہ۔ مثلاً ایک شخص ہے رشوت لیتا ہے، سود کھاتا ہے، تو یہ حرام ہے اور حرام سے بچنا فرض ہے، حرام سے بچنا فرض ہے۔ تو یہ سود بھی لے گا اور رشوت بھی کھائے گا لیکن خیرات کرے گا، بیواؤں کو اور اس طرح یتیموں کو دے گا اور سمجھے گا کہ میں بہت اچھا کام کر رہا ہوں۔ یتیموں اور بیواؤں کو دینا اچھا کام ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس سے کوئی اختلاف نہیں، لیکن یہ مستحب ہے اور حرام سے بچنا فرض ہے۔ تو اس لحاظ سے اگر کوئی شخص حرام سے بچتا ہے اور وہ نفل کوئی بھی نہیں کرتا وہ خسارے میں نہیں ہے اور نوافل وہ بے انتہا کرتا ہے لیکن فرائض و واجبات پورے نہیں کرتا وہ خسارے میں ہے۔ مثلاً ایک شخص وہ عیدِ قربان کے دن دو کروڑ روپے غریبوں کو دیتا ہے لیکن قربانی نہیں کرتا، وہ خسارے میں ہے۔ دوسرا شخص ہے جو قربانی کر لیتا ہے اور کسی کو ایک پیسہ نہیں دیتا بلکہ قربانی کا گوشت بھی سارا خود کھا جاتا ہے، یہ خسارے میں نہیں ہے، اس کو خسارہ نہیں ہوا، اس کی وجہ کہ اس نے اللہ کا حکم پورا کیا ہے اور اس نے مزید نوافل نہیں ادا کیے ٹھیک ہے، تو نوافل کا جو اجر تھا وہ اس سے محروم ہو گا، وہ تو اس کو نہیں مل سکے گا لیکن یہ اللہ کا جو حکم ہے وہ تو پورا کیا نا، تو لہٰذا اس کے اوپر قرض تو نہیں ہے، اس نے کوئی جرم تو نہیں کیا، ٹھیک ہے اس نے کوئی، مثلاً ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے اور اس نے کچھ کمایا نہیں، تو بس ٹھیک ہے اس کو وہ پیسے نہیں مل رہے جو اس نے کمانے تھے، لیکن اس پہ قرض بھی تو نہیں ہے نا کیونکہ ظاہر ہے کہ اس نے قرض تو کسی سے لیا نہیں۔ اپنے گھر میں بیٹھا ہے، تو اس کے مقابلے میں ایک شخص ہے اس کے اوپر قرض ہے اور وہ خیرات کر رہا ہو۔ اب اس کو کیا کہیں گے؟ اے ہوشیار آدمی کیا کر رہے ہو؟ پہلے قرض ادا کرو پھر اس کے بعد آپ خیرات کرو۔ تو یہ اصل میں یوں سمجھ لیجیے معرفت ہے، معرفت کے بغیر ان چیزوں کا سمجھ میں آنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

                  اور رمضان المبارک کے روزے بھی واجباتِ اسلام اور ضروریاتِ دین میں سے ہیں ان کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرنا چاہئے اور شرعی عذر کے بغیر روزہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا کہ ’’ روزہ دوزخ کی آگ سے ڈھال ہے۔‘‘اور اگر ضروری موانع کی وجہ سے جیسے مرض وغیرہ میں روزہ قضا ہو جائے تو بلا توقف اس کی قضا کو ادا کرنا چاہئے اور سستی کاہلی کی وجہ سے نہ چھوڑنا چاہئے۔ انسان (اپنے مولیٰ کا) بندہ و غلام ہے خودمختار نہیں ہے۔ اس کو اپنے مولا حق جل و علا کے اوامرونواہی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تاکہ نجات کی امید متصور ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کریگا تو وہ سرکش بندہ ہے اور اس کی سزا مختلف قسم کے عذابات ہیں۔

                  اور اسلام کا پانچواں رکن حج بیت الحرام ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں جو فقہ کی کتابوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان شرائط کے پورا ہونے کے بعد اس کا ادا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ حضرت پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ہے کہ ’’ حج سابقہ گناہوں کو زائل کر دیتا ہے‘‘۔۔۔ غرض حلال و حرامِ شرعی میں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے اور جس چیز سے صاحبِ شریعت علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام و التحیہ نے منع فرمایا ہے اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے اور حدودِ شرعی کی حفاظت کرنی چاہئے اگر سلامتی اور نجات مطلوب ہے۔

                  آخر خوابِ خرگوش کب تک اور غفلت کی روئی کان میں کب تک پڑی رہے گی۔ جب (قضا و قدر کے کارکنان) اس نیند سے بیدار کر دیں گے اور غفلت کی روئی نکال پھینکیں گے، اس وقت سوائے ندامت و حسرت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا اور سوائے شرمندگی اور نقصان کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ موت قریب ہے اور آخرت کے طرح طرح عذات تیار و آرادہ ہیں: من مات فقد قامت قیامتہ (جو شخص مر گیا اس کی قیامت قائم ہو گئی) او اس سے پہلے کہ بیدار کریں اور فائدہ نہ ہو خود بیدار ہو جائیں۔ اور شرعی اوامرونواہی کے مطابق کام کریں اور اپنے آپ کو آخرت کے طرح طرح عذابوں سے ڈرائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

                   قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ

                  (تحریم66 آیت6)

                  (اپنے نفسوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر  ہیں)۔

                  عقائد کی تصحیح اور شریعتِ حقہ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام و التحیتہ کے مطابق اعمالِ صالحہ کی بجا آوری کے بعد اپنے اوقات کو ذکرِ الٰہی جل شانہ سے آباد رکھنا چاہئے اور اس تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہنا چاہئے۔ ظاہر میں اگر مخلوق کے ساتھ مشغول رہیں تو بھی باطن کو حق جل سلطانہ کے ساتھ رکھنا چاہئے اور اس تعالیٰ کی یاد سے لذت حاصل کرنی چاہئے۔۔۔ یہ دولت ہمارے حضرات خواجگان قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم کے طریقے میں مبتدی کو پہلے ہی قدم میں شیخِ کامل و مکمل کی صحبت میں اللہ سبحانہ کی عنایت سے میسر ہو جاتی ہے۔ شاید آپ کو بھی اس کا یقین حاصل ہوگیا ہو گا یا کچھ نہ کچھ حصہ ملا ہو گا اگرچہ قلیل ہی ہو۔ غرض جو کچھ حاصل ہو چکا ہے اس کی حفاظت کریں اور اس کا شکر ادا کریں اور زیادہ کے امیدوار رہیں۔ اور چونکہ حضراتِ نقشبندیہ قدس اللہ تعالےٰ اسرارہم کے طریقے میں ’’ اندراجِ نہایت دربدایت‘‘ (ابتدا میں انتہا درج) ہے، اس لئے اس طریقے تھوڑا حصہ بھی بہت ہے کیونکہ وہ ابتدا ہی میں انتہا سے خبردار کر دیتا ہے، لیکن مبتدی کو چاہئے کہ جس قدر زیادہ سے زیادہ حاصل ہو اس کی نظر میں تھوڑا معلوم ہو، لیکن اس کے شکر سے غافل نہ رہے، اس کا شکر بھی ادا کرے اور زیادہ کا طلبگار بھی رہے۔۔۔ ذکرِ قلبی سے اصل مقصود حق سبحانہ کے سوا کی گرفتاری سے آزاد ہونا ہے کیونکہ قلبی مرض سے یہی مراد ہے، اور جب تک اس گرفتاری کازوال حاصل نہ ہو جائے ایمان کی حقیقت نصیب نہیں ہوتی، اور شرعی اوامرونواہی کی ادائیگی میں آسانی و سہولت میسر نہیں ہوتی۔ 

                  یہاں حضرت نے چند باتیں فرمائی ہیں۔ دیکھیں میں نے جیسے عرض کیا تھا پہلے اس حدیث شریف حدیثِ جبریل کے مطابق عقائد کا مسئلہ ہے، پھر اس کے بعد اعمال کا مسئلہ ہے، پھر اس کے بعد باطن کی درستگی ہے۔ تو یہاں بھی حضرت نے اسی ترتیب سے بات چلائی ہے۔ تو اب اخیر میں حضرت نے فرمایا کہ 

                  عقائد کی درستگی اور اعمال کی بجا آوری کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنا رابطہ باطنی طور پر درست کرنا چاہیے جس کا پہلا قدم ذکر ہے۔

                  اور ذکر چونکہ دل کی اصلاح کے لیے ہے، لہٰذا دل کی اصلاح کے لیے ذکر کو کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ پھر اس میں حضرت نے اپنے نقشبندی سلسلے کے بارے میں یہ بات فرمائی ہے کہ اس میں ابتدا میں انتہا کو مندرج کیا گیا ہے۔ ابتدا میں انتہا کو کیسے مندرج کیا گیا ہے؟ یہ حضرت نے اپنے ایک اور مکتوب میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنے نفس کے موانع کو دور کرتا ہے اور اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے، یا نفس کو نفسِ مطمئنہ بناتا ہے تو اس کو اللہ جل شانہٗ کا تعلق حاصل ہو جاتا ہے اور اللہ پاک اس کو اپنے بندوں میں شمار کر لیتا ہے اور پھر اس کے لیے اپنی بندگی کا راستہ کھول دیتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ پاک اس کو جنت پہنچا دیتا ہے۔ یہ قرآن پاک کی ایک آیت سے ثابت ہے يٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝۲۷ۖ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً ۝۲۸ۚ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِی ۝۲۹ۙ وَادْخُلِیْ جَنَّتِی ۝۳۰ اب اس میں جو اخیر میں جو ارشاد فرمایا گیا ہے فَادْخُلِيْ فِیْ عِبَادِيْ میرے بندوں میں داخل ہو جا، وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ میرے جنت میں داخل ہو جا۔ یہ فضل سے ہے۔ اور فضل وہبی ہوتا ہے۔ تو اس کو جذبِ وہبی کہتے ہیں۔ یہ جو جذبِ وہبی ہے یہ تمام سالکین کو اخیر میں حاصل ہوتا ہے، تمام سالکین کو حاصل ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سلسلے سے ہو، جو اپنے نفس کی اصلاح کر لے، سیر الی اللہ مکمل کر لے تو اس کو جذبِ وہبی حاصل ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کھینچ لیتا ہے اپنی طرف کیونکہ موانع دور ہو گئے نا، دور ہو گئے نا۔

                  میں مثال دیتا ہوں، بہت آسان مثال ہے۔ ایک بہت بڑا مقناطیس ہے، مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے، اب لوہے کی کوئی چیز ہے اس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے مقناطیس ہیں جس نے اس کو پکڑا ہوا ہے، چھوٹے چھوٹے مقناطیسوں نے اس کو پکڑا ہوا ہے، اس بڑے مقناطیس کی طرف نہیں جانے دیتا۔ چونکہ چھوٹے مقناطیس قریب ہیں، لہٰذا اگرچہ یہ چھوٹے چھوٹے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹوں نے بھی بڑوں سے اس کو علیحدہ رکھا ہوا ہے۔ اس کی بہت آسان مثال میں آپ کو دے سکتا ہوں قدرتی مثال کہ سورج بہت بڑا ہے اس کے اندر 21 لاکھ زمینیں سما جاتی ہیں، سورج بہت بڑا ہے۔ اور چاند جو ہے یہ زمین کا چھٹا حصہ ہے، 1/6حصہ ہے۔ لیکن چاند قریب ہے اور سورج دور ہے، تو جو مد و جزر ہوتا ہے یعنی پانی کا جو ابھار ہوتا ہے مخصوص ایام میں، مخصوص اوقات میں سمندروں کا، یہ مد و جزر یہ اصل میں چاند کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے اور سورج کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے۔ سورج بھی کھینچتا ہے چونکہ سورج زمین کو کھینچتا ہے لیکن زمین تو بھاری ہے وہ اتنی نہیں کھنچتی، تھوڑی کھنچتی ہے، لیکن پانی چونکہ ہلکا ہے اور علیحدہ ہے اس سے تو وہ وہ زیادہ کھنچ جاتی ہے لہٰذا اس سے مد و جزر پیدا ہوتا ہے۔ تو سائنسدان بتاتے ہیں کہ چاند کا مد زیادہ ہوتا ہے سورج کے مد سے، بظاہر سورج کا زیادہ ہونا چاہیے، بظاہر سورج کا زیادہ ہونا چاہیے، لیکن بتا رہے ہیں کہ چاند کا جو مد ہے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ چاند قریب ہے۔ جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اسی طرح چھوٹے چھوٹے مقناطیس جو ہمارے خواہشاتِ نفس ہیں، یہ ہمیں اپنی طرف کھینچتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ جو ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے اس کے لیے رکاوٹیں ہیں، اس کے لیے رکاوٹیں ہیں، ٹھیک ہے نا۔ تو اس رکاوٹ کو دور کرنا ہوتا ہے۔ جب یہ رکاوٹیں دور ہو جائیں اور یہ مقناطیسی وہ ختم ہو جائے، مطلب جو ان کی مقناطیسیت ختم ہو جائے جو مخالف ہیں، تو بس پھر تو وہ چیز تو موجود ہے پہلے سے لہٰذا اس کو کھینچ لیتی ہے، یہ جذبِ وہبی ہے۔ یہ جذبِ وہبی ہے اور یہ ہر ایک کو حاصل ہوتا ہے، لیکن نقشبندی سلسلہ میں یہ کام کیا گیا ہے کہ ذکر کے ذریعے سے وقتی طور پر ان کی مقناطیسیت کو کالعدم کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ جو وہبی جذب ہے اس کی طرح ایک جذب حاصل ہو جاتا ہے لیکن یہ وہبی نہیں ہوتا کسبی ہوتا ہے کیونکہ باقاعدہ محنت سے حاصل کی گئی ہے۔ اور یہ مستقل نہیں ہے، یہ درمیان میں ختم ہو گا پھر۔ اس کو حضرت تھانوی صاحب نے صبحِ کاذب کہا ہے، یہ ختم ہو گا بعد میں۔ اصل صبحِ صادق جب آئے گا تو پھر بات بنے گی۔ تو اس لحاظ سے یہ جو حضرت نے فرمایا کہ نہایت جو جذب ہے اس کو بدایت میں مندرج کر دیا یعنی ابتدا میں اس کو حاصل ہو گیا۔ یہ وقتی طور پر جو حاصل ہوتا ہے اس کی طرح ہوتا ہے، جب اس کی طرح ہوتا ہے لہٰذا آپ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور فائدہ کیا؟ جیسے اوامر و نواہی میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے جذبِ وہبی سے اور شریعت پر انسان آسانی سے چلتا ہے، اسی طریقے سے جو سلوک کا راستہ طے کرنا ہے اس میں بھی آسانی سے چلے گا۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اگر لوہے سے کوئی چیز بنوانی ہو تو اس کے لیے پہلے یہ کرتے ہیں کہ اس کو گرم کرتے ہیں خوب، جب گرم ہو جاتا ہے پھر اس کو موڑتے توڑتے ہیں تو اس سے وہ ہم چیز بنا لیتے ہیں ورنہ پھر یہ ہے کہ وہ نہیں بنتا اس سے، لیکن اگر آپ نے صرف گرم کر دیا ادھر ہی چھوڑ دیا تو کیا فائدہ؟ کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا، پھر ٹھنڈا ہو جائے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جذبِ کسبی جو ہے یا جذبِ مبتدی ہے، یہ جذبِ وہبی کی طرح ہوتا ہے لیکن وہ بالکل مستقل نہیں ہوتا۔ یہ مستقل تب ہو گا جب سلوک طے ہو جائے گا۔ تو نقشبندی سلسلے میں چونکہ اس کو ابتدا سے حاصل کیا جاتا ہے ضرورتاً، تو فرمایا اس پہ شکر کرو اور اس سے کام لو۔

                  اور چاہئے کہ کھانا کھانے میں نفس کی لذّت مطلوب نہ ہو بلکہ عبادت کے لئے قوت و استطاعت حاصل کرنے کی نیت سے کھانا کھائیں، اور اگر ابتدا میں یہ نیت حاصل نہ ہو سکے تو تکلف کے ساتھ اپنے آپ کو اس نیت پر لائیں اور التجا و زاری کرتے رہیں تاکہ اس نیت کی حقیقت میسر ہو جائے۔۔۔ اور اسی طرح لباس پہننے میں بھی چاہئے کہ عبادت کی اور نماز ادا کرنے کے لئے زینت کی نیت ہونی چاہئے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (اعراف7 آیت31) (مسجد میں جانے کے لئے زینت اختیار کرو) ۔ زیب و زینت کا لباس پہننے کا مقصد لوگوں کو دِکھاوا نہیں ہونا چاہئے جو ممنوع ہے۔۔۔ اور ایسی کوشش کرنی چاہئے کہ تمام افعال و حرکات اور سکنات میں اپنے مولیٰ جل سلطانہ کی رضامندی منظور ہو اور اس کی شریعتِ حقہ کے مطابق عمل کیا جائے تو اس وقت ظاہر و باطن دونوں حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے اور حق جل و علا کی یاد میں مشغول رہیں گے۔۔۔ مثلاً سونا (نیند) جو سراسر غفلت ہے جب اطاعت کی ادائیگی اور تھکاوٹ دور کرنے کی نیت سے اختیار کی جائے تو وہ نیند بھی اس نیت کی وجہ سے عین عبادت بن جاتی ہے۔ جبتک آدمی اس نیند میں رہے گا گویا وہ عبادت میں کیونکہ طاعت کی ادائیگی کی نیت ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے: نَوْمُ الْعُلَمَاءِ عِبَادَۃٌ (احیاء العلوم) (علماء کی نیند بھی عبادت ہے)۔

                  اگرچہ فقیر جانتا ہے کہ آج اس معنی کا حصول آپ کے لئے مشکل ہے کیونکہ موانعات کا ہجوم ہے اور رسوم و عادات کا التزام غالب ہے جو ننگ و ناموس کے لئے ضروری ہیں اور یہ سب چیزیں روشن شریعت کی ضد ہیں کیونکہ شریعت تو رسوم و عادات کے دُور کرنے کے لئے آئی ہے اور ننگ و ناموس کو دفع کرنے کے لئے ، جو کہ نفس امارہ کی خواہشوں کی پیداوار ہیں لیکن اگر اللہ سبحانہ کی توفیق سے ذکرِ قلبی پر دوام (ہمیشگی) حاصل ہو جائے اور پنج وقتہ نماز سستی کے بغیر پوری شرائط کے ساتھ ادا کریں اور شرعی حرام و حلال میں حتی الامکان احتیاط رکھیں تو امید ہے کہ اس معنی کا جمال ظاہر ہو جائے اور خودبخود راغب ہو جائیں۔۔۔ اور دوسری وجہ اس قسم کی نصیحتیں لکھنے کی یہ ہے اگرچہ ان نصائح کے مطابق عمل میسر نہ ہو سکے لیکن اپنے قصور و نقص کا اعترا ف تو حاصل ہو جائے اور یہ بھی ایک بڑی دولت ہے؂

                  ہر کس کو بیافت دولتے یافت عظیم

                  و آنکس کہ نہ یافت دردِ نایافت بس است

                  سبحان اللہ!

                  (ترجمہ) جس کو ملے یہ دولت بے شک بڑی بہت ہے

                  جس کو نہیں تو اس پر بس صبر بھی بہت ہے

                  مطلب یہ کہ یعنی اس کے بارے میں اگر آدمی کو احساس ہو کہ مجھے یہ نہیں ملا اور اس پر یہ کڑھتا رہے تو یہ بھی ایک ماشاء اللہ حصول ہے۔

                   اس بات سے اللہ سبحانہ کی پناہ کہ جو (اس دولت کو) نہ پائے اور نہ پانے کی وجہ سے رنجیدہ بھی نہ ہو، اور(اس کے حصول کے لئے کوشش بھی) کچھ نہ کرے اور اپنے نہ کرنے کی وجہ سے پشیمان بھی نہ ہو، ایسا شخص بڑا جاہل و سرکش ہے کہ جس نے بندگی کی رسی کے حلقہ سے اپنے سر کو اور غلامی کی قید سے اپنے پاؤں کو باہر نکال لیا: رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (کہف۱۸ آیت۱۰) (اے ہمارے رب ہم کو اپنی جانب سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں بہتری فرما)

                  اگرچہ وقت و حال اور زمان و مکان اس کا تقاضا نہیں کرتے تھے کہ کچھ تحریر کیا جائے لیکن چونکہ آپ کا شوق اور کمال درجہ رغبت دیکھی اس لئے تکلف کے ساتھ اپنے آپ کو اس کام کیلئے تیار کیا اور چند سطریں تحریر کر کے کمال الدین حسین کے سپرد کر دیں ۔ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدىٰ۔

                  تو یہ ماشاء اللہ حضرت کے ارشاداتِ مبارکہ اپنی مریدنی صالحہ عورت کی طرف تھے۔ یہ ہمارے لیے بھی بہت بڑا سرمایہ ہے۔ بہرحال بہت آسان بات ہے کوئی زیادہ مشکل بات اس میں نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ جو زندگی ہے یہ چند روزہ ہے اور آخرت کی زندگی یہ ہمیشگی کے ساتھ ہے ہمیشہ کے لیے ہو گا۔ دنیا کی جو نعمتیں ہیں وہ فوری ہیں موجود ہیں، اور آخرت کی جو نعمتیں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں لیکن ان کا وعدہ ہے فوراً موجود نہیں ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص ڈاکٹری کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے، اب رات ہو گئی طالب علم پڑھنے بیٹھ گیا اس کو نیند آ رہی ہے۔ اب نیند جو ہے یہ فوری ہے اور میڈیکل کالج میں پاس ہونا، پھر ڈاکٹر بننا، پھر اس ڈاکٹری کے جو فوائد ہیں وہ بعد میں آئیں گے۔ اب اگر کسی پر یہ تصور غالب نہ ہو کہ بعد میں جو نعمتیں ملیں گی ان کی وجہ سے ان کو میں حاصل کروں تو اس کو اپنے فوری تقاضے کو دبانا بڑا مشکل ہو گا، وہ نہیں کر سکے گا کیونکہ فوری تقاضہ نفس کا، وہی چھوٹا مقناطیس وہ قریب ہے کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْآخِرَةَ۔ تو یہ ہمارے عمر بھر کی بات ہے، ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ہمیں فوری تقاضوں کو دبانا پڑے گا آئندہ کے بہتری کے لیے، یہ ہمارے لیے بنیادی اصول ہے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّأَبْقٰی بلکہ تم اس زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے، لہٰذا اگر مجھ میں عقل کی کمی ہو یا نفس مجھ پر غالب ہو تو میں بعد کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کر سکوں گا اور نقصان اٹھاؤں گا۔

                  اکثر میں کہا کرتا ہوں، بہت زیادہ میں نے ماشاء اللہ یہ بات کی ہے کہ جن پہ عقل غالب ہوتا ہے وہ پرہیز کر سکتا ہے بیماری میں، اور جن پہ عقل غالب نہیں ہوتا نفس غالب ہوتا ہے پرہیز نہیں کر سکتا، کیوں؟ کر سکتا ہے؟ وہ پرہیز نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر کہے گا اس کو لیکن وہ پرہیز نہیں کر سکے گا کیونکہ اس پہ نفس غالب ہے اور جس پہ عقل غالب ہوتا ہے تو وہ اپنے عقل کو سمجھا دے گا کہ بھئی میرے لیے بعد والی مصیبتیں برداشت کرنا مشکل ہے، میں نہیں کر سکتا لہٰذا مجھے کیا کرنا ہے؟ مجھے اپنے نفس کی بات نہیں ماننی چاہیے اور پرہیز کرنا چاہیے۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے، اس وجہ سے عقل کو استعمال کرنا چاہیے ایسے مواقع پر، دو اور دو چار کی طرح اندازہ لگانا چاہیے۔ مثلاً مجھے ایک صاحب نے جو بڑے افسر تھے میٹنگ میں ہم بیٹھے تھے ساتھ، تو مجھے کہا کہ شاہ صاحب یہ دو بسکٹ میٹھے مجھے دیے کہ اس کو دم کر لیں مجھے شوگر ہے۔ اب بڑے افسر ہیں اور بڑے زبردست طریقے سے حساب کتاب کے ماہر تھے کیونکہ اکاؤنٹ سیکشن سے تعلق تھا۔ تو میں نے کہا کہ مجھ سے کل اپنے لیے زہر دم کروا دینا، تو اس نے کہا کیا کہا شاہ صاحب آپ نے؟ میں نے کہا صحیح کہا نا، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہ میٹھا آپ کے لیے زہر ہے، شوگر ہے نا آپ کو خود ہی بتا رہے ہیں آپ؟ کہتے ہاں، تو میں نے کہا پانی دم کروا دو، نمک دم کروا دو اگر آپ کو وہ بلڈ پریشر نہیں ہے، یہ کیا بات ہے کہ آپ نے مجھ سے میٹھے بسکٹ ہی دم کروانے ہیں۔

                  یہ نفس کا کمال ہے۔ نفس کو راستہ چاہیے، کبھی وہ تقدس کے رنگ سے آتا ہے، او جی بسم اللہ پڑھ لو تو بس ٹھیک ہے بسم اللہ پڑھ لو پھر کچھ نہیں ہوتا۔ بھئی بسم اللہ اس کے لیے؟ حرام چیز پہ پڑھو؟ وہ ہمارے دفتر میں جو میس مینیجر تھے ایک صاحب، تو ایک دفعہ مرغیاں خراب ہو گئیں، گرمیوں کے دن تھے، فریج شاید بیٹھ گیا ہو گا یا کوئی مسئلہ ہو گیا ہو گا، گرمی میں مرغیاں خراب ہو گئیں۔ تو اس نے کہا اس کو بہت گرم پانی کے اندر جوش دلوا دو تاکہ اس کے جراثیم مر جائیں۔ تو کک وہ تو پرواہ نہیں کرتے، انہوں نے ایسا ہی کیا تو لوگ بیمار ہو گئے، معلوم ہوگیا کہ یہ بات ہو گئی تھی، تو پھر ان کو کہا گیا کہ خدا کے بندے ہر چیز گرم پانی سے نہیں ختم ہو جایا کرتا۔ جراثیم نے تو اپنا کام کر دیا ہے، مرغیاں خراب ہو گئی ہیں، اب مرغیوں کے اندر وہ چیز چلی گئی، اب آپ گرم پانی سے اس کو نہیں نکال سکتے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے آج کل Corona ہے۔ اب Corona کہتا ہے اگر گلے میں ہے تو آپ گرم پانی پی لیں تو معدے میں چلا جائے گا تو کچھ نہیں کہے گا کیونکہ ظاہر ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایک دفعہ cell کے اندر چلا گیا اور cell نے اس کو accept کر لیا، اس کے بعد پھر آپ بیشک گرم پانی کے اندر اس کو ڈبو دیں پھر بھی نہیں ختم ہو گا۔ وہ پھر اب نظام ہی بدل گیا، چیز ہی بدل گئی۔

                  تو ہر چیز کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے، تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ جو عقل ہے اس کو استعمال کرنا چاہیے اپنے نفس کو قابو کرنے کے لیے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں، غصہ کسی کو آ گیا۔ غصہ آنا اور بات ہے، غصہ کرنا دوسری بات ہے۔ غصہ تو کسی کو بھی آ سکتا ہے، depend کرتا ہے کہ کس چیز پہ آیا ہے، نفس کے لیے آیا، خدا کے لیے آیا، خدا کے لیے ہے تو اس پر ثواب ہے، نفس کے لیے آیا تو مصیبت ہے۔ تو ایک تو اس کے آنے کی وجہ سے ہے، پھر غصہ کرنا، نفس کے لیے کرو گے تو گناہ ہے اور اللہ کے لیے کرو گے تو پھر ثواب ہے، لیکن اللہ کے لیے جب کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرو گے نا اپنی مرضی سے تو نہیں کرو گے۔ مثلاً بچے نے نماز نہیں پڑھی اور آپ اس کو مارنا چاہتے ہیں تو اللہ کے لیے مارنا ہے، لیکن آپ اس کو اتنا ماریں کہ مر جائے وہ، تو اللہ پاک یہ چاہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ یہ تو نہیں چاہتا مارنا تو نہیں چاہتا۔ تو اب یہ ہر چیز کا اپنا اپنا درجہ ہے۔ تو اب غصہ جو ہے یہ تو ہے، غصہ ایک نفس کی چیز ہے جو وقتی طور پر عقل کو مغلوب کر لیتا ہے، جو وقتی طور پر عقل کو مغلوب کر لیتا ہے، جوش ہے، ہیجان ہے۔ تو اس کے دو طریقے ہیں، ایک وقتی دفع یعنی دفعِ وقتی جس کو ہم کہتے ہیں، فوری طور پر دفع کرنے والی بات ہے، کیونکہ اس وقت آپ کسی بزرگ کے پاس تو جا کر اپنی تربیت تو نہیں کروا سکتے نا اتنی دیر میں۔ وہ تو اصل علاج تو وہی ہے کہ آپ کسی بزرگ سے اپنی تربیت کروا دیں اور یہ نفس کا جو ہیجان ہے دنیا کے لیے نہ رہے۔ بلکہ اللہ کے لیے ہو جائے، تو یہ تو تربیت سے آئے گا لیکن اس میں ٹائم لگتا ہے۔ لیکن غصہ آپ کو آ گیا وقتی طور پر آپ کیا کریں؟ بعد میں آپ کی تربیت ہو بھی جائے کسی کو مار دے تو کیا؟ اس کا تو ذمے گناہ پڑ گیا نا۔ اس وقت بھی اپنے آپ کو بچانا تو ہو گا نا، تو اس وقت کس طرح بچاؤ گے اپنے آپ کو؟ اس وقت بچاؤ گے اس طریقے سے کہ جتنی عقل بھی بچی ہوئی ہے، کہ بہت سارا تو اس کو cover کر لیتا ہے نا، اس کو استعمال کر لو کہ یہاں سے بھاگو، یہاں تم خراب ہو گے، نکل جاؤ یہاں سے۔ جس پہ غصہ ہے سامنا نہ ہو اس کا۔ چھوٹا ہے اس کو اپنے سے ہٹا دو، بڑا ہے اس سے ہٹ جاؤ، کھڑا ہے تو بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ تو لیٹ جاؤ، پانی پیو، اپنے آپ کو مصروف کر دو۔ اگر موبائل ہے پاس تو چلو موبائل پہ دیکھو کہ آج کون سی خبریں ہیں چلو، دیکھ لو کم از کم اپنے آپ کہ Corona کے کتنے لوگ فوت ہو گئے۔ اگرچہ ضرورت نہیں ہے میں صرف کہتا ہوں diversion، اپنے وہ جو ہے نا رخ کو دوسری طرف موڑ دو۔ تو اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ وقتی ہیجان جو ہو گا وہ دب جائے گا، اور وہ تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے، پتا نہیں کتنے منٹ کا وہ ہے میرا خیال ہے کسی اس پہ ڈیٹا آیا تھا، اتنی دیر کے لیے ہوتا ہے اس کے بعد ختم۔ پھر phase change ہو جاتا ہے، تو اپنے آپ کو اس وقت میں اپنے آپ کو بچانا ہے کہ کوئی بڑا ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے۔ تو یہ وقتی بچاؤ کا یہ ذریعہ ہے، تو جب تک آپ کی تربیت مکمل نہیں، وقتی طور پر ان مرہم پٹیوں سے گزارا کرنا پڑے گا، گزارا تھوڑا تھوڑا کرنا پڑے گا۔

                  اسی طرح اور برائیاں بھی لے لو، تو ایک بات تو یاد رکھنی چاہیے، دنیا میں کوئی کام بھی بغیر ہمت کے نہیں ہو سکتا، وہ تو لازم ہے۔ کوئی آدمی کہے گا کہ خود بخود ہو جائے گا تو یہ خود بخود ہونے والی بات یہاں پر نہیں ہے۔ خود بخود برائی ہو سکتی ہے، خود بخود اچھائی نہیں ہوا کرتی۔ اچھائی کے لیے محنت ہے، برائی کے لیے محنت نہ ہونا ہے، مطلب محنت نہیں ہو گی تو برائی ہو ہی جائے گی۔ جو آدمی سمجھتا ہے کہ میں چھوڑ دوں گا خود بخود اچھا ہو جائے گا، تو نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک شخص تھا جس نے کافی چوریاں کی تھیں اور پتا نہیں کیا کیا جرم کیے تھے، اخیر میں اس کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ تو اس نے اخیر میں جو پھانسی ہوتی ہے تو اس کی خواہش پوری کی جاتی ہے، اس نے کہا کوئی خواہش ہے کہتے والدہ کے ساتھ مجھے کوئی خفیہ بات کرنی ہے۔ تو والدہ روتی ہوئی آئی تو اس نے اس کے کان پہ خوب چک مارا اس کی چیخیں نکل گئیں، تو کہا ظالم آخری وقت میں بھی یہ کام کر لیا، بجائے والدہ کی دعائیں لینے کے اپنی بد دعائیں لے لیں۔ اس نے کہا کہ یہ مجھے اس وقت روکتی جب میں نے پہلی چوری کی تھی، تو آج میری یہ حالت نہ ہوتی، آج میری یہ حالت نہ ہوتی، یہ ان کی غفلت کی وجہ سے میں آج پھانسی پہ چڑھ رہا ہوں۔ اب دیکھیں اس کو عقل آئی لیکن پھانسی کے تختے پر، عقل آئی لیکن پھانسی کے تختے پر۔ تو اگر دیکھا جائے تو یہ جو نفس ہے اس کو اگر کھلا چھوڑو گے تو یہ خیر کی طرف تو جائے گا نہیں شر کی طرف جائے گا نا، کوئی کہتا ہے کہ نہیں خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، خود نہیں ٹھیک ہوتا۔ آپ اسٹیرنگ چھوڑ دیں نا گاڑی کا، خود ہی مڑ جائے گی گاڑی، مڑ جائے گی نا؟ لیکن اس طرف مڑ جائے گی جس طرف آپ نہیں موڑنا چاہیں گے۔ یہ کیچڑ جب ہو جائے نا کیچڑ بارش وغیرہ میں تو پھر یہ ٹائروں کا جو contact ہے نا زمین کے ساتھ stable نہیں ہوتا، تو آپ گاڑی دائیں طرف کو موڑیں گاڑی بائیں طرف جائے گی۔ آپ کو کچھ پتا نہیں ہو گا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور وہ گاڑی کیا کر رہی ہے۔ تو اسی طرح نفس بھی انسان کے کنٹرول میں جب نہیں ہوتا، تو آپ کچھ کر رہے ہوتے وہ کچھ کر رہا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہیں گے کہ بھئی نفس کے اوپر محنت ضروری ہے۔ نفس کے اوپر محنت ضروری ہے، نفس میں یہ کنفرم بات ہے کہ بغیر ہمت کے تو کچھ نہیں ہو سکتا، بغیر ہمت کے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور اکثریت اس وقت اس مسئلے میں پریشان ہے یا سرگرداں ہے یا پتا نہیں کس طریقے سے ان کو یہ بات ایسی گھسی ہوئی ہے ان کے دل میں، کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہی پیر ہے بس، جن کے پاس جا کے ہمارا سارا کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے، نمازیں بھی خود بخود شروع ہو جائیں، روزے بھی خود بخود رکھے جانے لگیں، زکوٰۃ بھی خود بخود ادا ہونے لگے، حج بھی خود بخود ہو جانے لگے، گناہوں سے بھی خود بخود بچ جائے، ایسا نہیں ہوا کرتا ہمت کرنی پڑتی ہے۔ گاڑی چلانے کے لیے اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے لیکن کوئی آپ کو سکھائے گا نا، تو پیر کا کام صرف سکھانا ہے، پیر کا کام یہ نہیں کہ پھر وہ آپ کے ساتھ بیٹھے گا آپ کے لیے گاڑی چلائے گا۔ گاڑی تو آپ نے خود ہی چلانی ہے، مطلب اس کے لیے تو سارے کام خود ہی کرنے پڑیں گے۔ یہ اصل میں آج کل مسئلہ ہے۔

                  تو ہم لوگوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اگر ہم لوگوں نے اپنے آپ کو پہچانا نہیں تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہم اپنے آپ کو پہچان لیں گے لیکن وہ کام نہیں آئے گا، پھر کام نہیں آئے گا۔ موت کے وقت پتا چل جاتا ہے، نعوذ باللہ من ذلک کہ میں کس کھاتے میں ہوں، لیکن اس وقت پھر آدمی کیا کر سکے گا؟ سوائے افسوس کے کچھ نہیں کر سکتا جیسا حضرت نے بھی فرمایا۔ اس وقت سوائے افسوس کے کچھ نہیں ہو گا، تو جو کچھ کرنا ہے ابھی کرنا ہے، جو کچھ کرنا ہے ابھی کر لو۔ ورنہ یہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں دی ہیں امانتاً اور اس کا حساب لے گا۔ 

                  پہلی بات وقت دیا ہے، حساب لے گا، کیا کیا ان اوقات میں۔ 

                  دوسری بات ہمیں اللہ پاک نے مال دیا ہے، مال کیسے کمایا، مال کیسے خرچ کیا؟ پوچھا جائے گا۔ 

                  اللہ پاک نے علم دیا ہے، علم کا کیسے استعمال کیا؟

                  اللہ پاک نے جسم دیا ہے، جسم کو کیسے استعمال کیا؟ آنکھیں کیسے استعمال کی؟ کان کیسے استعمال کیے؟ زبان کیسے استعمال کی؟ دماغ کیسے استعمال کیا؟ ہاتھ پاؤں کیسے استعمال کیے؟ ہر چیز میں اس کے ساتھ اعمال ہے، اس کا حساب ہے۔ 

                  تو لہٰذا ہمیں یہ احتساب خود اپنے ساتھ کرنا پڑے گا۔ مُوتُوا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا جو فرمایا گیا ہے وہ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ موت سے پہلے موت کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنے آپ کو جانچ لو کہ موت کے بعد میرا کیا حال ہو گا، بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَةٌ ۝۱۴ۙ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِيْرَہٗ ۝۱۵۠ بلکہ انسان جو ہے وہ اپنے نفس کو جانتا ہے اچھی طرح، بیشک وہ بہانے بناتا رہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو جانتا ہے۔ تو یہ پہلے سے انسان اپنے آپ کو دیکھ لے کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ اس کے لیے اللہ پاک نے ہمیں ایک مراقبہ عطا فرمایا ہے اور وہ یہ ہے:

                   یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

                   اے ایمان والو اللہ سے ڈرو، چاہیے کہ ہر شخص یہ دیکھ بھال لے کل کے لیے وہ کیا بھیج رہا ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔

                  اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک تو یہ والی بات ہے کہ پہلے جو اللہ سے ڈرو اس لیے آیا ہے تاکہ تمہیں پتا چل جائے کہ کیا کرنا ہے؟ تو کرنا کیا ہے؟ اعمال کرنے ہیں۔ اعمال کیا کرنے ہیں؟ وہ اعمال جو اللہ چاہتے ہیں ہم سے، ان اعمال سے جن سے بچنا چاہیے اس سے بچنا۔ یہ اعمال ہیں، پہلا ڈرنا تو اس کے لیے فرمایا گیا۔ دوسرا ڈرنا اس لیے فرمایا گیا ہے کہ تم غافل ہو کر کام نہ کرو، کیونکہ اللہ پاک غافل نہیں ہے اللہ پاک تو تمہیں اچھی طرح جانتا ہے، جو بھی تم کرتے ہو اللہ پاک کو ایک ایک چیز کا پتا ہے لہٰذا حساب جو ہو گا وہ کھرا کھرا حساب ہو گا۔ اس میں یہ والی بات نہیں ہو گی کہ کوئی چیز رہ جائے گی، بلکہ قرآن پاک میں تو باقاعدہ نقشہ کھینچا گیا ہے کہ لوگ اپنے اعمال نامہ کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑی گئی، بڑی چیز بھی نہیں چھوڑی گئی۔ ہر چیز اس کے اندر موجود ہے، بلکہ وہ ایسے ہو گا جیسے اب آج کل ہمارے سافٹ ویئر کے اوپر بڑی آسانیاں آ گئی ہیں نا، وہ آپ جب کلک کر لیں تو فوراً اس کی definition آ جاتی ہے کہ یہ چیز ہے۔ پتا نہیں کہاں پڑا ہو گا لیکن وہ ادھر آ جائے گا، سامنے آ جائے گا۔ تو وہ تو ایسا اعمال نامہ ہو گا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہوں گے تو ایسا ہو گا جیسے عمل ہو رہے ہیں، جیسے اعمال ہو رہے ہیں، بالکل ایسے۔ ایسا محسوس ہو گا۔ دیکھیں نا میں اس وقت بیٹھا ہوں نا تو مجھے بہت ساری چیزیں نظر آ رہی ہیں، سب چیزیں یہ بھی نظر آ رہی ہے، یہ بھی، یہ بھی، یہ بھی، یہ بھی، اوپر یہ سب چیزیں ہی نظر آ رہی ہیں۔ ایک آن میں مجھے سب نظر آ رہا ہے کیا کیا ہو رہا ہے۔ تو یہاں پر مکان کے لحاظ سے بات ہے، تو وہاں زمان کے لحاظ سے بھی بات ہو جائے گی کہ جو جو جس وقت جو ہو رہا ہے وہ سارا نظر آ رہا ہو گا سامنے ایک ہی وقت میں، پتا چل رہا ہو گا۔ ایسی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے۔

                   تو اس وجہ سے ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔ 

                  وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۔ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

                  عقائد، اعمال اور تزکیۂ نفس: مکتوباتِ امام ربانیؒ کی روشنی میں اور نفس و عقل کی کشمکش - خواتین کیلئے اصلاحی بیان