اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿261﴾
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًى ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿262﴾ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَاۤ اَذًى ؕ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَلِيْمٌ ﴿263﴾
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿264﴾ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَتَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ﴿265﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اُگائے (اور) ہر بال میں سو دانے ہوں۔
یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سو گنا ثواب ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ”اللہ کے راستے میں خرچ“ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے، اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ اس میں زکوٰۃ، صدقات، خیرات سب داخل ہیں۔
اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔ اللہ بہت وسعت والا (اور) بڑے علم والا ہے ﴿261﴾ جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے؛ نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿262﴾ بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے، مگر بعد میں احسان جتلا کر یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔
مطلب انسانیت کا احترام ہر حال میں چاہیے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی کمزور مدد کو پکارے یا کوئی غریب مدد چاہے۔ اور اس پر کوئی قادر نہ ہو۔ مثلاً ایک آدمی ہے وہ کسی ایسے آدمی سے مدد کو پکارے جو کمزور ہے، کہ وہ خود اس میں بھی طاقت نہیں ہے۔ تو وہ معذرت کر لے۔ کہ میں خود مجبور ہوں۔ اور یا مالدار نہ ہو، اس سے اس سے کوئی غریب آدمی مانگے تو اگر اس کے پاس نہیں ہے، تو نرم الفاظ میں معذرت کر لے۔ بجائے اس کے کہ اس کو ڈانٹ لے، ٹوک دے یہ والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر دے تو اس پہ کوئی احسان نہ جتلاے اور اس کو طعنے نہ دے کہ تم تو ہمارے پیسوں پہ پلے ہو، یہ ہو، وہ ہو۔ اس قسم کی چیز نہیں ہونی چاہیے۔ تو اگر ایسا ہو تو پھر اس سے بہتر ہے کہ نرم الفاظ میں وہ کر لے۔ یعنی معذرت کر لے بجائے اس کے کہ بعد میں اس کو دے کر بعد میں اس کو جتلاے اور اس کو تکلیف پہنچائے۔
اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اُس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس (مٹی کو بہا کر چٹان) کو (دوبارہ) چکنی بنا چھوڑے۔
چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ اُمید ہو سکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے، لیکن اگر بارش مٹی کو بہا لے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے۔ اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی اُمید ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہا لے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی اُمید نہیں رہتی۔
یہ انسان کی کمزوریاں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی۔ اور اللہ (ایسے) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ﴿264﴾ اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے لئے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ کسی ٹیلے پر واقع ہو؛ اس پر زور کی بارش برسے تو وہ دگنا پھل لے کر آئے۔ اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی برسے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب اچھی طرح دیکھتا ہے ﴿265﴾
یعنی اگر کوئی شخص کسی کو کچھ دے اور پھر بعد میں احسان جتلاے۔ تو اس کا جو خیرات ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اور اس کی مثال اللہ پاک دے رہے ہیں۔ کہ جیسے ایک چکنی چٹان ہو۔ جس پر مٹی جمی ہو۔ تو اس پر اگر کوئی کاشت کرنا چاہے تو امید ہو سکتی ہے کہ وہ ہو جائے، کیونکہ جیسے پہاڑیوں کے اوپر جو پودے اگتے ہیں۔ لیکن اگر بارش ہو جائے اس کے اوپر، تو وہ چونکہ چٹان کے اوپر مٹی تو جذب ہو سکتی ہے لیکن اس کا وزن برداشت نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ جو پودے وغیرہ ہیں۔ تو وہ سب کچھ کو لے جاتا ہے۔ اور وہ چیز خالی رہ جاتی ہے۔ تو اسی طریقے سے اگر کوئی کسی کو کچھ دے اور جتلاے تو اس سے اس کا سارا ثواب جو ہے نا وہ ضائع ہو جاتا ہے۔
دوسرے مقابلے میں ایسے لوگ ہیں جو اپنا مال اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ خوشنودی کا مطلب ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ اور اپنے آپ میں پختگی کا مطلب ہے کہ میں مجھ سے بخل دور ہو جائے۔ یعنی انسان میں جو کمزوری ہے بخل، تو اس کے لیے بھی خرچ کرنا فائدہ دیتا ہے۔ واللہ اعلم۔
تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ کسی ٹیلے پر واقع ہو۔ ہاں جیسے میں نے مثال دی پہاڑی وغیرہ ہو۔ اور اس پر زور کی بارش برسے تو پھر وہ دگنا پھل دے۔ اور اگر اتنا نہ ہو تو وہ ہلکی پھوار بھی اس کے لیے کافی ہے، اس پر بھی پھل آ جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک، جو بھی عمل ہم کرتے ہیں وہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے، خوب دیکھتا ہے۔ اس وجہ سے صرف اللہ کی رضا کے لیے وہ کام کرنا چاہیے۔ اور اپنے اخلاق کو پختگی کی طرف لے جانا چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔