اللہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا ہے

درس نمبر 77- باب المراقبہ، (اشاعتِ اول)، 27 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

1.   اللہ تعالیٰ کی انسان کے ہر عمل پر کڑی نظر

2.    آیتِ کریمہ "إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ" (مرصاد) کی تفسیر و تشریح

3.   آنکھوں کی خیانت (بدنظری) اور مفسرین کے چار اقوال

4.    وساوس سے نمٹنے کا طریقہ اور ان کا علاج

5.   دلوں کے پوشیدہ راز اور وساوس کا علم

6.    وسوسہ آنے اور وسوسہ لانے (یا پالنے) میں شرعی فرق

7.    وساوس کی اقسام: شیطانی اور نفسانی وساوس میں فرق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:

اللہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا ہے

وَقَالَ تَعَالَىٰ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ (الفجر: 14) وَقَالَ تَعَالَىٰ: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ (غافر: 19)

وَالْآيَاتُ فِي الْبَابِ كَثِيرَةٌ مَعْلُومَةٌ.

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

پہلی آیت کا ترجمہ ہے،

”بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے۔“

تشریح: مفسرین فرماتے ہیں کہ مرصاد اور مرصد انتظار گاہ کو کہتے ہیں جو کسی بلند مقام سے دور دراز لوگوں کو دیکھ سکے اور لوگوں کی حرکات و اعمال کو دیکھ سکے۔

رصد گاہ، یہ ہمارے ہاں بھی مشہور ہے۔ رصد گاہ اس کو کہتے ہیں جس میں ستاروں اور اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اونچی جگہ ہوتی ہے۔

تو اس آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ حق تعالیٰ شانہ ہر انسان کے تمام اعمال و حرکات کو دیکھ رہا ہے اور عنقریب قیامت میں ان کے ایک ایک عمل کی جزا اور سزا دینے والا ہے۔

دوسری آیت کا ترجمہ ہے،

”وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو باتیں سینوں میں پوشیدہ ہیں ان کو بھی۔“

اس باب میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔

تشریح: مفسرین کے اس بارے میں چار اقوال ہیں


اس کے بارے میں پہلا قول یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب ہے کہ کوئی آدمی کسی قوم میں سے گزرے اور وہاں پر کسی عورت پر نظر ڈالے اور جب کوئی اس کو دیکھے تو فوراً اپنی آنکھوں کو جھکا لے کہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس نے بدنظری کی ہے،

تو اللہ تعالیٰ اس خیانت کو جانتے ہیں۔

دوسرا قول: مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے کہ اس آیت سے مراد ہر اس جگہ دیکھنا ہے جس کو شریعت نے منع فرمایا ہے۔

تیسرا قول: ضحاک رحمہ اللہ کا ہے وہ فرماتے ہیں اس جگہ پر دیکھنا جس کو اللہ نے پسند نہیں کیا۔

چوتھا قول: علامہ سُدّی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ دیکھنے کے بعد پھر دوبارہ دیکھنا مراد ہے۔

اور یہ بھی فرمایا

وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ“ جو پوشیدہ ہے سینوں میں۔

اس سے مراد وساوس ہیں جو انسان کے دلوں میں آتے ہیں۔ اللہ کی قدرت یہ ہے کہ وہ اس وسوسہ کو بھی جانتا ہے کہ اس آدمی کے دل میں ابھی کیا وسوسہ آ رہا ہے۔

وسوسہ آنا جو ہے نا وہ تو برا نہیں لیکن وسوسے کا لانا برا ہے یا وسوسے کو پالنا برا ہے۔ مثلاً کوئی غلط چیز کا وسوسہ آئے تو اگر اس کی طرف کوئی توجہ نہ کرے تو اس پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اگر اس کی طرف متوجہ ہو جائے یا اس سے مزہ لینے لگے یا اس کے بارے میں کوئی سوچنا شروع کر لے، تو یہ چیز غلط ہے۔ اس وجہ سے وسوسے کے بارے میں عمل یہ ہونا چاہیے کہ انسان اس کی پرواہ نہ کرے۔ بس، جیسے کہ شور ہوتا ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، راستے پہ لوگ مختلف جو چلتے ہیں اس کے لوگ پرواہ نہیں کرتے، بس اپنے کام سے سروکار رکھتے ہیں۔

تو اس طرح ہمارا معاملہ بھی وسوسے کے ساتھ ہو۔ وسوسہ دو قسم کا ہوتا ہے، ایک شیطانی وسوسہ ہوتا ہے ایک نفسانی وسوسہ ہوتا ہے۔ شیطانی وسوسہ یہ ہے کہ شیطان دل میں کوئی خیال ڈالے، ظاہر ہے وہ بھی نفس ہی کو استعمال کرتا ہے لیکن اس کی Strategy یہ ہے کہ وہ ایک چیز پہ ٹھہرتا نہیں ہے، وہ صرف گناہ میں Interested ہے، لہذا اگر ایک چیز کے بارے میں کسی کو زیادہ دلچسپی نہ ہو تو دوسرا ڈال لیتا ہے، دوسرے کے ساتھ نہ ہو تو وہ تیسرا ڈال لیتا ہے۔ اس کو غرض گناہ سے ہے۔ لیکن جو نفسانی وسوسہ ہوتا ہے وہ کسی ایک چیز کے بارے میں، وہ جس چیز کے بارے میں ہے جب تک وہ نفسانی خواہش موجود ہے، اس وقت تک وہ وسوسہ آتا رہے گا۔ اس وجہ سے دونوں قسم کے جو وساوس ہیں، اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور نفسانی وسوسے کا علاج یہ ہے کہ نفس کا علاج کر لیں تو ان شاء اللہ وہ چیز دور ہو جائے گی، تو اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہمارے ہر کام کو اپنی رضا کے لیے کر دے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِکَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔


اللہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا ہے - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور