اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کے دن ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہمعات کا درس ہے ان شاء اللہ۔ سب سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بیانات کیوں اہم ہیں اور کیوں یہ شروع کیے گئے ہیں، اور اس کے اختتامی بیان پر ہم لوگ اہتمام اس کا اتنا کیوں کرتے ہیں؟
اصل میں اللہ جل شانہٗ کے ہاں ہر چیز کی قدر ہوتی ہے جو اس کے لیے کی جاتی ہے، ہر چیز کی۔ چاہے کوئی پتھر راستے سے ہٹا دے کسی کو تکلیف سے بچانے کے لیے، اس کی بھی قدر ہوتی ہے۔ پھر جن لوگوں نے جتنے اخلاص کے ساتھ کام کیا ہوتا ہے یقیناً اس کی قدر زیادہ ہوگی، جن کا تقویٰ ساتھ زیادہ ہوتا ہے تو یقیناً ان کا مقام اور بھی بڑا ہوگا، اور جس کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے اس پر جو بات کررہا ہوگا تو اس کا مقام یقیناً بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔
اب اللہ جل شانہٗ نے اس امت کی ہدایت کے لیے جو انتظام شروع کیا پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعے سے، تو ظاہر ہے پیغمبروں کا سلسلہ جب پورا ہوگیا تو اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے علماء سے علم کی حفاظت کا کام لیا، اور مشائخ سے معرفت اور طریقت، اس کے فروغ کا کام لیا۔ تو ہر دو گروہوں میں جو اس قسم کی کوششیں ہوا کرتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتے ہیں۔ جیسے مدارس کے اندر ختمِ بخاری ہوتی ہے، تو بخاری شریف تو ایک ہے اور وہی بخاری شریف ہی پڑھائی جاتی ہے ہر سال، لیکن چونکہ اس کا تعلق آپ ﷺ کی سیرت پاک کے ساتھ ہے اور علم کے ساتھ ہے، اس وجہ سے اس وقت دعائیں بڑی قبول ہوتی ہیں اور لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔ قرآن پاک جب ختم ہوتا ہے تراویح میں، آپ حضرات جانتے ہیں، تو لوگ اس کی دعاؤں میں شریک ہوتے ہیں۔ کوئی اجتماع دینی جب ختم ہوتا ہے، جیسے رائیونڈ کا اجتماع ہے یا کوئی اور کسی دینی سلسلے کا اجتماع ہوتا ہے، تو اس میں بھی لوگ شامل ہوتے ہیں، دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔
اب جیسا میں نے عرض کیا کہ جس چیز کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے تو پھر اس کا زیادہ اکرام ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے انبیاء کے بعد ایک سلسلہ چلایا ہے کہ سو سال کے بعد ایک مجدد تشریف لاتے ہیں، جو دین کے اندر جو باتیں نئی شامل ہوچکی ہوتی ہیں جو دین میں نہیں ہوتیں، ان کو دور فرماتے ہیں، دین کے جو بنیادی مفاہیم کے اندر گڑبڑ ہوچکی ہوتی ہے ان کی درستگی فرماتے ہیں، اور اس وقت جو ضرورت ہوتی ہے یعنی امت کی، اس پر کام کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے بعد یہ ایک سلسلہ ایسا چلا آرہا ہے جو کہ باقی تمام کاموں سے آگے ہوتا ہے۔
تو ظاہر ہے مجددین چودہ صدیاں گزر گئیں تو چودہ مجددین بھی گزر گئے۔ تو ان میں یہ ہے کہ آخری جو ہزار سال کے بعد جو مجددین شروع ہیں، یہ اہلِ ہند کی خوش قسمتی ہے، ہند و پاک کی، کہ یہ مجددین یہاں پر تشریف لارہے ہیں، جن میں سب سے پہلے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس کے بعد پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس کے بعد پھر سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس کے بعد پھر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ تو یہ سلسلہ اس طرح چلا آرہا ہے۔
اب ان حضرات نے جو کام کیے وہ کام بہت ہی ظاہر ہے اونچے کام ہیں۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس دور کے اندر جب بہت ہی زیادہ پرفتن دور تھا اور دین کا تقریباً بس یعنی تقریباً خاتمے کا انتظام کیا جارہا تھا یعنی ہندوستان سے، اُس وقت حضرت کی کوششوں سے اللہ تعالیٰ نے دوبارہ دین کا احیاء فرمایا۔ اور جو اشکالات تھے، جو مشکلات تھیں ان کو تمام کو حل کردیا، اور ایک نئے سرے سے ایک علمِ کلام وجود میں آیا، جس سے لوگوں کی جو مشکلات اور اشکالات تھے اس سے وہ آسانی کے ساتھ حل ہورہے تھے، اور بہت بڑا کام اللہ تعالیٰ نے حضرت سے لے لیا۔
یہ ہندوستان میں گویا کہ دین کو فروغ جو حاصل ہوا وہ بھی صوفیاء کے ذریعے سے حاصل ہوا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر تقریباً نوے لاکھ لوگ مسلمان ہوئے۔ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں سب سے بڑا contribution ان کا ہے، نوے لاکھ لوگ! اور اس دور میں، کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے جو ہند کے اندر اسلام کو پھیلایا تو اس میں بھی صوفیاء کو ذریعہ بنایا۔ اور پھر جب مشکل وقت آگیا تو اس وقت بھی ایک صوفی کھڑا ہوگیا یعنی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اور انہوں نے تمام چیزوں کے جوابات دے دیئے اور مشکلات کو حل کردیا، ایک نئے سرے سے مسلمانوں کو منظم کردیا، بدعات کا قلع قمع کردیا۔
حضرت نے تو چونکہ انتہائی فتنوں کے دور میں کام کیا ہے اور جوابات دیئے ہیں۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا کام چونکہ زیادہ علمی تھا۔ قرآن پاک کا پہلا ترجمہ بھی حضرت نے کیا ہے، اور تفسیر کا کام اللہ تعالیٰ نے حضرت کی اولاد سے لیا ہے، شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ، اور اس طرح اور حضرات۔ اور پھر یہ ہے کہ حدیث شریف کا کام بھی اس خاندان سے اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، یعنی حدیث شریف کا صحیح معنوں میں گویا کہ ہندوستان میں جو داخلہ ہوا ہے وہ اسی خاندان کی برکت سے ہوا ہے۔ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ جس مدرسے میں بھی، جس جگہ پر بھی کوئی حدیث شریف پڑھانے والا ہوگا تو ان کی سند میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ہوگا۔ یعنی گویا کہ حدیث شریف کی خدمت اللہ تعالیٰ نے ان سے اتنی لے لی۔
فقہ پہ ان کی بڑی نظر تھی اور تصوف پر بھی۔ تو انہوں نے علمی انداز میں تصوف کی مشکلات کا جواب دیا، بنیادی چیزوں کا۔ جس میں حضرت کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ بہت ہی زیادہ مشہور کتاب ہے، اور دوسری طرف حضرت نے ’’الطاف القدس‘‘ نامی کتاب میں ما شاء اللہ تصوف کے بہت باریک نکات کی تشریح فرمائی، جس کی الحمد للہ یہاں پر تعلیم اس جگہ ہوچکی ہے۔ یہ ’’ہمعات‘‘ کتاب جو ہے، یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اب ان کی کتابوں کا ایک نچوڑ ہے، اور حضرت نے اپنی طرف سے انتہائی سادہ زبان میں اس کو بیان فرمایا، اور بڑی نکتے کی باتیں ہیں ان میں۔
ابھی الحمد للہ ہمارے مطالعہ میں رہا ہے نسبتوں کی تشریح۔ مثلاً ایک مثال میں بتاتا ہوں، آپ حضرات نے سنا ہوگا ناں سلسلہ اویسیہ۔ تو یہاں حضرت نے فرمایا نسبتِ اویسیہ۔ سلسلہ اویسیہ نہیں ہے، نسبتِ اویسیہ۔ اب اگر کسی کو یہ چیزیں، باریکات معلوم نہ ہوں تو کسی بھی فتنے میں پڑ سکتا ہے، کیونکہ اویسی سلسلہ جو ہے، نہیں ہے، اویسی نسبت ہے۔ اویسی نسبت اس کو کہتے ہیں کسی بھی شخص کو اگر کسی روح کے ساتھ مناسبت ہوجائے اور اس سے براہ راست فیض حاصل کرلے تو اس کو اویسی نسبت کہتے ہیں۔ اس کو اویسی نسبت کہتے ہیں۔
تو جب براہِ راست حاصل ہوتا ہے پھر سلسلہ کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ سمجھ میں آگئی ناں بات؟ کیونکہ حرارت کی بھی انتقال کی تین قسمیں ہیں۔ radiation جس کو ہم کہتے ہیں اشعاعِ حرارت، اور conduction ایصالِ حرارت، اور جو کیا ہوتا ہے تیسری قسم convection، حملِ حرارت۔ اب یہ جو حرارت کی جو قسمیں ہیں، اب جو radiation ہے وہ تو direct ہوتا ہے، اس میں درمیان میں medium کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور conduction میں ضرورت ہے ذرہ بہ ذرہ ہے۔ اور جو convection ہے اس میں وہ خود چیزیں اُدھر پہنچتی ہیں یعنی medium جگہ بدلتی ہے۔
تو اب یہ تین قسم کے مطلب اس میں ہیں۔ تو اسی طریقے سے جو سلسلہ ہے وہ دل سے دل کو، یعنی ایک نے اس کی اصلاح کی، دوسرے نے اس کی، تیسرے نے اس کی۔ اس طرح سلسلہ چل رہا ہوتا ہے باقاعدہ۔ اور یہ بہت ضروری ہے، جیسے حدیث شریف کا سلسلہ ضروری ہے۔ دیکھیں حدیث شریف بالکل صحیح کیوں نہ ہو یعنی الفاظ تو آپ ﷺ کے ہوں، لیکن اگر درمیان میں کوئی راوی مجہول ہوگیا یعنی اس کا پتا نہیں چلا کہ وہ کون تھا، تو اس کو پھر صحیح حدیث نہیں کہتے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے ناں؟ اس کو پھر صحیح حدیث نہیں کہتے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ وہ سند برابر نہیں ہوا۔
اللہ جل شانہٗ نے اس نظام کو transparent رکھا ہے تاکہ کوئی کسی کو دھوکہ نہ دے سکے۔ ورنہ کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ مجھے خواب آگیا اور میں نے یہ دیکھا، میں نے یہ دیکھا۔ تو اس کی کوئی حیثیت حدیث میں نہیں ہوتی۔ سمجھ میں آگئی ناں بات؟ مثلاً ایک شخص نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ ﷺ نے اس سے کچھ فرمایا، اس کا انکار نہیں کیا جائے گا کیونکہ آپ ﷺ کا خواب میں نظر آنا ثابت ہے اور ما شاء اللہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ میں ہی ہوتا ہوں۔ لیکن وہ الفاظ جو اس نے سنے، وہ کسی اور پر حجت نہیں ہیں، اس کو حدیث نہیں کہیں گے۔ نہ وہ شخص صحابی بنتا ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے ناں؟ نہ وہ شخص صحابی بنتا ہے، نہ اس کو حدیث کہتے ہیں۔ یہ دین کی transparency ہے، کیونکہ دین بڑی ہی مضبوط بنیادوں پہ قائم ہے تاکہ کوئی اس کو ہلا نہ سکے۔
ورنہ کل غلام احمد قادیانی جیسے وہ کہتا تھا کہ وہ ’’اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کہ میں خاتم النبین ہوں، ’’لَا‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تو کہتا تھا جو ’’لَا‘‘ ہے ناں وہ میں ہوں۔ یعنی لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ" یعنی میرے بعد ’’لَا‘‘ نبی ہوگا، تو ’’لَا‘‘ جو ہے ناں وہ میں ہوں، میرا نام ’’لَا‘‘ ہے۔ اب اس قسم کے لوگ جب ہوں گے تو پتا نہیں دین کا کیا بنائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو بہت transparent رکھا ہے۔ لہٰذا اویسی نسبت موجود ہے، اویسی سلسلہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اویسی نسبت جو ہے یہ مخفی ہے، یہ جو ہے ناں راز ہوتا ہے۔ یہ راز ہوتا ہے کہ یہاں تک بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایسے اللہ والے جو اویسی نسبت رکھتے ہیں، ان کو جس وقت آخری وقت ہوتا ہے تو ان کے ساتھ کچے لوگوں کو نہیں بیٹھنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی زبان سے کوئی راز نکل جائے اور وہ لوگوں کو بتا دیں، باقی لوگوں کو پتا چل جائے۔ وہ راز ہوتا ہے تو وہ حضرات اس کو چھپاتے ہیں اویسی نسبت کو۔ ہاں! اس کی وجہ یہ ہے، اس کی نسبت کو تقویت ہوجاتی ہے، نسبت کو یقیناً تقویت ہوجاتی ہے، لیکن اس نسبت کو آپ متعدی نہیں کرسکتے۔ وہ متعدی نہیں ہوسکتی۔ جیسے میں نے کہا آپ ﷺ کا خواب میں نظر آنا بہت بڑی برکت کی بات ہے، اور اس کی نسبت کو تقویت ہوجاتی ہے، اس کے علم میں اضافہ ہوجاتا ہے، یہ سارا کچھ ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ حدیث نہیں ہوگی، اس کو متعدی نہیں کیا جاسکتا۔ اس طریقے سے یہ نسبت بھی متعدی نہیں کی جاسکتی۔ اب یہ ایسے حضرات نے سمجھایا ہے۔ سمجھ میں آگئی ناں بات؟ تو یہ ان حضرات نے بڑی ہی ما شاء اللہ، بہت عالمانہ انداز میں وہ باتیں کی ہیں۔
پھر ان حضرات کو علم کی کئی قسمیں حاصل تھیں کیونکہ علم کی ایک قسم تو وحی کی ہے ناں کہ وحی کے ذریعے سے علم آتا ہے، یعنی قرآن سے آتا ہے یا سنت سے آتا ہے۔ ایک علم عقل سے آتا ہے، یعنی عقل کے ذریعے سے، عقل کے ذریعے سے فکر کے ذریعے سے کچھ چیزیں ناکافی چیزوں سے بہت سارے علوم اخذ کیے جاتے ہیں۔ تو عقل کے ذریعے سے انسان وہ اخذ کرتا ہے۔ اور تیسری قسم کشف ہے، کشفی، تو یہ تینوں قسم ان حضرات کو حاصل تھیں۔
مثلاً شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن و سنت کا تو میں نے آپ کو بتا دیا کہ کیا مقام تھا اس کا، کشفی طور پر ایسے عجیب احوال ہیں حضرت کے کہ حج پہ گئے تو فرمایا کہ میں نے اندھوں کی طرح حج نہیں کیا۔ میں نے اندھوں کی طرح حج نہیں کیا، مطلب ساری چیزیں اللہ تعالیٰ دکھا رہے تھے، وہ نظر آرہا تھا، اس طریقے سے یہاں پر بار بار ’’فقیر کو بتایا گیا ہے‘‘، یہ جو chapter شروع ہورہا ہے ’’فقیر کو بتایا گیا ہے‘‘، یہ کشف ہے۔ تو کشفی علوم بھی حضرت کے پاس ہیں، نقلی علوم بھی حضرت کے پاس ہیں، عقلی علوم بھی حضرت کے پاس ہیں۔ تو یہ خزانہ ہے علوم کا۔
اب انہوں نے جو کتاب لکھی ہوگی وہ کتنی قیمتی ہوگی، وہ زندگی بھر کا نچوڑ جو ہوگا وہ اس کا کیا حال ہوگا۔
تو اِن علوم کی ناقدری پاکستان میں کم از کم بہت زیادہ ہے، ہندوستان میں شاید کم ہے۔ کیونکہ ہمیں جب ان کتابوں کی ضرورت پڑی تو ہمیں انڈیا سے منگوانی پڑیں، بذریعہ انگلینڈ، بذریعہ دبئی، ان سے کتابیں ہمیں منگوانی پڑیں، یہاں پر وہ کتابیں ملتی نہیں تھیں، یہاں پر لوگ اس کے بارے میں شوق ہی نہیں رکھتے، ذوق ہی نہیں رکھتے، تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ یہاں پر۔۔۔
تو اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ، اپنے بزرگوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خزانے عطا فرما دیئے۔ تو ہم نے باقاعدہ اس کے جو درس کے سلسلہ شروع کرائے تو اس میں ایک عجیب نکتے کی بات کرتا ہوں۔ یہ ولی اللّٰہی علوم شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے جو علوم تھے، دیوبند میں جو ان کے بڑے تھے حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ تھے، ولی اللّٰہی علوم کے ماہر جو تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ وہ ہر ایک کو نہیں پڑھاتے تھے، ہر عالم کو بھی نہیں پڑھاتے تھے۔ بلکہ انہوں نے قانون یہ بنایا تھا کہ جنہوں نے فلاں فلاں، (کچھ کتابوں کا سیٹ بنایا ہوا تھا) جنہوں نے یہ یہ کتابیں پڑھی ہوں گی اپنے طور پر کسی سے، وہ پھر ہماری شاگردی میں آسکتا ہے۔ ہر ایک نہیں آسکتا۔
ہمارے ایک رشتہ دار، دور کے رشتہ دار تھے، سید تقویم الحق کاکاخیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دیوبند کے مایۂ ناز علماء میں تھے۔ انہوں نے ان میں شمولیت اختیار کرنے کی کوشش کی تو ان کو بھی نہیں لیا گیا۔ کہتے ہیں نہیں آپ نے وہ کتابیں نہیں پڑھیں۔ پھر ان کے استادوں نے ان کی سفارش کی کہ بہت ذہین طالب علم رہا ہے، اور ہمارا اس پر اعتماد ہے کہ وہ آپ کی بات سمجھ جائیں گے۔ تو سفارش کی بنیاد پر ان کو داخلہ مل گیا، ورنہ نہیں دیتے تھے۔
اب ہمارا دور ایسا ناقدری کا دور آگیا۔ اس ناقدری کے دور میں اگر ہم یہ شرط لگا دیں تو کون آئے گا اور کون آسکے گا۔ ہمارا دور تو ایسا تھا۔ اس وجہ سے اللہ پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ ہم نے کہا سارے اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اور ارادہ یہ تھا کہ خود ہی چھانٹی ہوجائے گی، جو نہیں چل سکیں گے وہ نہیں چل سکیں گے، جو چل سکیں گے وہ چل سکیں گے، خود ہی چھانٹی ہوجائے گی۔ تو اس طریقے سے جو ہے ہم نے سلسلہ شروع کیا، اور واقعتاً اللہ کا شکر ہے کہ اس میں groups بن گئے ہیں۔ یعنی کچھ حضرات کو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت تھی، تو ان کا الگ گروپ بنا دیا۔ کچھ کو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کے ساتھ، ان کا الگ گروپ بنا دیا۔ کچھ کو حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے جد امجد تھے، تو ان کا الگ بن گیا۔ کچھ کا حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی شریف، ان کے ساتھ تھا، ان کا الگ گروپ بن گیا۔ الغرض یہ ہے کہ کچھ کا عبقات شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی، ان کا پھر الگ گروپ بن گیا۔ تو اس طرح گروپ بن گئے کہ جن کو جن جن کے ساتھ مناسبت تھی، ان کی اس طرف تشکیل ایک قسم کی ہوگئی۔ الحمد للہ! اس سے بڑے ہی مفید نتائج ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، خود ہی چلاتا ہے، اسی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ تو بہرحال اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہوا۔
تو یہ کتاب جو ہے ’’ہمعات‘‘، بہت ہی قیمتی کتاب، بہت ہی قیمتی کتاب۔ اس کے میں آپ کو صرف chapters کے بارے میں بتاتا ہوں کیونکہ اب تو ظاہر ہے صرف آخری chapter ہی ہے۔ وہ ذرا تھوڑا سا میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
دین اسلام کی دو حیثیتیں، ظاہری اور باطنی۔ دونوں حضرت نے بیان فرمائی ہیں۔ پہلے chapter میں۔ تصوف کے چار دور۔ چار دور کیسے تھے، اس میں کیا کیا تھا؟ پھر سلوک کی پہلی منزل طاعت، ذکر و اذکار اور اوراد و وظائف۔ آدابِ سلوک، ذکر کے آداب، مراقبہ اور اس کے احکام، راہِ سلوک کی رکاوٹیں۔ توحیدِ افعالی، صفاتی، ذاتی، نسبتِ سکینہ، نسبتِ اویسیہ، نسبتِ یاد داشت، نسبتِ توحید، نسبتِ عشق، نسبتِ وجد۔ صوفیاء کرام کے طبقات اور ان کی نسبتیں، انسانیت کے چار بنیادی اخلاق، بنی نوعِ انسان کی اصناف اور ان کی استعدادیں، بنی نوعِ انسان کے لطائف، اصحاب الیمین، کرامات و خوارق، اور آخری جو ہے بخت، جو آج ان شاء اللہ پڑھا جائے گا۔
اب دیکھ لیں اس میں کیا کیا کچھ آگیا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم رہ گئے ہیں، تو ایسی کوئی بات نہیں۔ اللہ کا شکر ہے یہاں ساری چیزیں محفوظ ہوتی ہیں، جو بھی لفظ یہاں کہا جاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ضائع نہ ہو، ضائع نہ ہو۔ اور اس میں ایک عجیب بات میں آپ سے عرض کروں، کہ جس وقت یہ سلسلہ شروع ہوا تو اللہ پاک نے اس کے لیے ابتدا ہی سے ایسا انتظام کیا کہ recorder، پہلے Tape recorder میں وہ ہوتے تھے جو tape چلتی تھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ انتظام فرماتے تھے۔ پھر بعد میں mp3 player آگئے، تو اس کے ہوگئے۔ مطلب advance, advance recorder ہمارے پاس آتے رہے، اور اس کے ذریعے سے یہ ریکارڈ ہوئے۔ اور پھر ہمارے کمپیوٹر کی Hard disks پر وہ چیزیں چڑھتی رہیں۔ اس وجہ سے الحمد للہ اُس وقت سے یہ تمام چیزیں اللہ کا شکر ہے محفوظ ہیں۔
لہٰذا اگر کوئی اس کتاب کے بارے میں مثلاً کوئی پڑھنا چاہے، جیسے میں نے chapters، تو کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ ہماری ویب سائٹ tazkia.org پر ما شاء اللہ اس کتاب کے موجود ہیں، ہمعات کے تمام دروس موجود ہیں۔ ان کو download کرکے ان کو سنا جاسکتا ہے۔ ذوق آپ لوگ پیدا کرلیں، چیز الحمد للہ اللہ پاک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ اللہ پاک کا ایسا نظام ہے، جو کوشش کرتا ہے اس کے لیے رستے بن جاتے ہیں۔
﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ﴾1 جو لوگ مجھ تک پہنچنے کے لیے کوشش و محنت کرتے ہیں، اللہ پاک فرماتے ہیں: میں ان کو ضرور بضرور ہدایت کے راستے سجھاؤں گا۔
تو الحمد للہ یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔ اگر کوئی اس کو سننا چاہے، پڑھنا چاہے تو کتاب بھی موجود ہے، مطلب نیٹ پر موجود ہے۔ اور ساتھ یہ ہے کہ ما شاء اللہ اس کے بارے میں تشریح بھی موجود ہے، تو انسان اس کو کرسکتا ہے۔
اب ان شاء اللہ شروع کرتے ہیں:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بخت کا بیان:
فقیر کو بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو حوادث رونما ہوتے ہیں ان کے منجملہ اور اسباب میں سے ایک سبب بخت بھی ہے اور بعض لوگ جو بخت کا سرے سے انکار کرتے ہیں وہ دراصل بخت کی حقیقت نہیں جانتے ہوتے۔
اور نیز مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض دفعہ اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد سے جو عجیب عجیب آثار و کرامات صادر ہوتے ہیں ان کا حقیقی سبب دراصل یہی بخت ہی ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ ظاہر بین ہوتے ہیں وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے اور وہ ان آثار کو اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد کی کرامات قرار دے لیتے ہیں۔ بے شک اس سلسلہ میں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اہل عرفان اور اصحاب ارشاد کے یہ آثار نتیجہ ہوتے ہیں بخت کا اور اس کے ساتھ ان بزرگوں کی خصوصی نسبت بھی مخلوط ہوتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں ان آثار کو ان اہلِ عرفان اور اصحابِ ارشاد کے خوارق کرامات کہنا ایک حد تک جائز ہوسکتا ہے۔
اس سلسلے میں مجھے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقناطیس کی اصل فطرت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ لوہے کے اجزاء کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسی طرح کہربا (یہ جو بجلی ہوتی ہے) گھاس کو اپنی طرف جذب کرتی ہے (Static charge ہوتا ہے) اور پانی کی یہ فطرت ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے۔ یہ سب خاصیتیں ان چیزوں کے فطری تقاضے ہیں کہ ان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔
حضرت نے اصل میں خوارق کا جو chapter پہلے بیان ہوا ہے، اس میں یہ چیز بہت تفصیل کے ساتھ بتائی ہے کہ لوگ خوارق کو سمجھتے ہیں کہ شاید یہ natural نہیں ہیں، یعنی مطلب یہ ہے کہ یہ جو عمومی قوانین ہیں، اس کے مطابق نہیں۔ فرمایا، نہیں ایسا نہیں ہے، یہ بھی قوانین کے مطابق ہی ہوتے ہیں، البتہ وہ قوانین ہم لوگ نہیں جانتے، عام لوگ نہیں جانتے، لہٰذا ہم لوگ اس کو سمجھتے ہیں کہ یہ خرقِ عادت ہے۔ تو اس طریقے سے یہ بخت کی بھی بات ہوگئی۔
ہاں اس ضمن میں بعض خارجی اسباب ایسے پیش آجاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ان چیزوں کے یہ فطری تقاضے مختلف اثرات قبول کرلیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقناطیس کو لیجئے اس میں لوہے کو اپنی طرف کھینچنے کی فطری قوت تو موجود ہے، لیکن فرض کیا جس لوہے کو وہ کھینچ رہا ہے اس کا وزن بہت زیادہ ہے اور پھر وہ مقناطیس سے دور بھی پڑا ہوا ہے۔
Gravitational law، مطلب وہ جو ہے ناں وہ کیا ہے، تو۔
لیکن فرض کیا کہ جس لوہے کو وہ کھینچ رہا ہے اس کا وزن بہت زیادہ ہے اور پھر وہ مقناطیس سے دور پڑا ہے۔ ظاہر ہے لوہے کے وزن اور مقناطیس سے اس کے دور ہونے کا اثر مقناطیس کی قوت جذب پر لازمی طور پر پڑے گا یا مثلاً پانی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہتا ہے لیکن فرض کیا پانی کے بہاؤ کے خلاف ہوا چل رہی ہے یا کوئی اور سبب ہے جو پانی کی روانی کو روک رہا ہے، یقینی بات ہے کہ اسی کا اثر پانی کی اس فطری استعداد پر پڑے گا۔
یہ جو ہمارے سورج گرہن اور چاند گرہن ہوتا ہے، وہ اس کا اپنا نظام ہے، مطلب یہ ہے کہ درمیان میں آجاتا ہے۔ پہلے لوگ نہیں جانتے تھے اس کو، تو اس کے ساتھ توہمات قائم کیے تھے کہ یہ تو اس وجہ سے ہوتا ہے، اس وجہ سے ہوتا ہے۔ اُس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ان چیزوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کی نفی کردی۔ ٹھیک ہے ناں؟ لیکن بعد میں سائنسدانوں نے جو اس کی وجہ بتا دی کہ یہ تو اس وجہ سے ہوتا ہے، تو اس کی سائنس کھل گیا، پتا چل گیا۔ اب ہم لوگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ابھی کل چاند گرہن ہوگا، اس کی تفصیلات پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں، بڑی تفصیل کے ساتھ یہ ساری چیزیں آرہی ہیں۔ سورج گرہن جو ہوا تھا اس کی ساری باتیں پہلے سے معلوم تھیں کہ کہاں پر کتنا ہوگا اور کیا ہوگا، ساری چیزیں وہ بتا دی گئیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے یہ چیزیں مخفی تھیں، اب مخفی نہیں ہیں، اب وہ ظاہر ہوگئی ہیں۔ اس طریقے سے جو مد و جزر ہوتا ہے، یہ مد و جزر بھی پہلے پتا نہیں لوگوں نے اس کے ساتھ کیا کیا چیزیں لگائی ہوئی تھیں۔ بعد میں سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ سورج بھی پانی کو کھینچتا ہے، زمین کے پانی کو۔ اصل بات یہ ہے کہ زمین کو ہی کھینچتا ہے، لیکن زمین چونکہ بھاری ہے، لہٰذا اس کے اوپر اس کا اثر کم ہوتا ہے، یعنی اس کو ہٹا کم سکتے ہیں۔ اور پانی اس کے اوپر ہے بالکل علیحدہ ہے، یعنی پانی چونکہ یعنی وہ تو نہیں ہوتا، وہ تو surface کے اوپر موجود ہوتا ہے ناں، تو اس کی وجہ سے چونکہ اس کا وزن کم ہے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ علیحدہ بھی ہے، تو اس وجہ سے اس کو کھینچتا ہے تو یہ اوپر کی طرف آجاتا ہے۔ سورج بھی کرتا ہے اور چاند بھی یہ کرتا ہے۔ چاند چھوٹا ہے، اس کی قوتِ جاذبہ کم ہے سورج کے مقابلے میں بہت زیادہ کم، کیونکہ سورج تو 17 لاکھ زمینوں کو جذب کرسکتا ہے، تو اس کا تو بہت ہے، لیکن چونکہ اس کا فاصلہ زیادہ ہے تو اس کا اثر کم ہے، اور چاند چونکہ اس کا فاصلہ کم ہے، لہٰذا اس کا اثر زیادہ ہے۔ اب یہ سائنس ہے، یہ سائنس ہے اور اب ہم اس کو کہتے ہیں کہ بھئی یہ تو جس وقت یہ چیزیں معلوم نہیں تھیں سائنس میں، تو ہم کہتے پتا نہیں یہ کس کس چیز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ توہمات لوگوں نے مشہور کیے تھے۔
اس طرح یہ جو اللہ پاک نے فرمایا: ﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ﴾2 ہرگز نہیں، بلکہ تم قریب والی جو چیز ہے ان کو پسند کرتے ہو، جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ اب اس میں کیا ہے کہ ہماری جو نفسانی خواہشات ہیں وہ ہمارے بہت قریب ہیں، ہماری نفسانی خواہشات، چونکہ ہمارے اندر ہے ناں نفس، تو نفسانی خواہشات ہمارے بہت قریب ہیں، لہٰذا ان کا اثر ہم پر بہت زیادہ ہے، جبکہ آخرت میں جو نعمتیں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اس کے مقابلے میں، آخرت کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اِس کا اُس کے ساتھ کوئی ذرہ بھر بھی نسبت نہیں ہے، لیکن چونکہ وہ دور ہے، دور سے مراد یہ ہے کہ ابھی ہمارے سامنے نہیں ہے، لہٰذا ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کسی کو کہتا ہے، ایک پیاسا آدمی ہے، اس کو کہتے ہیں جنت لیتے ہو یا پانی؟ تو وہ کیا لے گا؟ بات سمجھ میں آرہی ہے ناں؟ مطلب یہ عام چیز ہے کہ لوگ اس کے لیے چھوڑ نہیں دیتے ہیں دین کی بات کو؟ تو یہ جنت کو گویا کہ چھوڑنے والی بات ہے ناں؟ تو اس کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: ﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ﴾3 ہرگز نہیں، بلکہ تم جو قریب والی چیز ہے اس کو پسند کرتے ہو، جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ تو یہ بھی ہمارے اندر قانون ہے اور اس کے مطابق۔ تو یہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو فطری ہوتی ہیں، لیکن یہ ہوتا ہے کہ اس کی فطرت والی بات ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔
اور دوسری بات یہ فرمائی حضرت نے کہ جو فطری چیزیں ہیں وہ کسی اور فطرتی قانون کے مطابق متاثر ہوسکتی ہیں، جیسے ہوا کے چلنے سے پانی کے بہاؤ میں فرق پڑنا۔ تو پانی کا بہاؤ یہ ایک فطری ہے، لیکن کیا ہوا کا اس کو روکنا فطری نہیں ہے؟ وہ بھی فطری ہے۔ تو اسی طریقے سے حضرت نے فرمایا کہ کچھ تبدیلیاں آجاتی ہیں۔
الغرض جب کبھی اس طرح کی کوئی صورت پیش آجائے تو اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک تو نظر اس چیز کی اصل فطرت کی طرف ہو کہ وہ کیا تقاضا کرتی ہے اور پھر ان خارجی اسباب کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اس چیز کی اصل فطرت کے اظہار میں کس حد تک مانع ہیں۔
(حضرت نے یہ ایک عام طریقے سے سمجھایا)
یہ جو کچھ "عالم آفاق" (یعنی پوری کائنات میں) کی چیزوں کی خصوصیات کے متعلق بیان ہوا، بعینہٖ یہی کیفیت "عالمِ انفس" کی بھی ہے۔ (عالم انفس جو ہمارے اندر ہے) چنانچہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوہے، گھاس اور پانی میں فطری خصوصیات رکھی ہیں اسی طرح انسانوں کے نفسِ ناطقہ میں بھی (یہ ہمارا نفس ناطقہ کیا ہے، یہ حضرت نے اس پر پورا chapter باندھا ہے ’’الطاف القدس‘‘ میں کہ روح کے تین اجزاء ہیں، ایک ہے روحِ ہوائی، دوسرا نفسِ ناطقہ اور تیسرا روحِ ملکوتی۔ تو یہ نفسِ ناطقہ، انسانوں کے نفسِ ناطقہ میں بھی) اس نے ایک نقطہ ودیعت کیا ہے۔ اور اس میں اس نے ایک قوت رکھی ہے۔ (فطری بات، قوت رکھی ہے) نفس ناطقہ کے اس نقطے اور اس کی قوت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
دل سے دل کو راہ ہوتی ہے، کہتے ہیں ناں؟ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ تو یہ حضرت نے فرمایا کہ یہ باقاعدہ یعنی مطلب اپنی طرف کھینچتا ہے۔
چنانچہ اس نقطے کی وجہ سے اکثر اوقات لوگوں کے دلوں میں بذریعۂ الہام یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ وہ اس نقطے والے کے آرام اور اس کی آسائش کے لیے کوشش کریں۔
مطلب دیکھیں، بعض لوگوں کے ساتھ قدرتی محبت ہوتی ہے، کوئی اس کا reason معلوم نہیں ہوتا، لوگ ان کی قدر کرتے ہیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ وہ ان کے نفسِ ناطقہ میں کوئی ایسی چیز رکھی ہوتی ہے کہ اس سے لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ میں ذرا عام الفاظ میں کہوں: بھئی کہتے ہیں فلاں کے بچے بڑے میٹھے بچے ہیں۔ بھئی بچوں میں کیا میٹھا اور کڑوا ہوگا؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں، لیکن ہوگی بات، اللہ تعالیٰ نے بعض میں رکھی ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے ان کا مطلب جو ہے ناں وہ، یعنی ان کی طرف دھیان ہوتا ہے۔ اچھا۔
مثلاً اس کے لیے کسی کے دل میں رحم پیدا کردیا جاتا ہے یا اس شخص کو کسی خزانے کی خبر دی جاتی ہے یا ایسا ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنے راستے پر جا رہا ہوتا ہے اور اچانک اسے ٹھوکر لگتی ہے اور اس کا پاؤں کسی دفن شدہ مال پر پڑ جاتا ہے۔
فلاں کی قسمت بڑی اچھی ہے۔ سمجھ میں آگئی ناں؟ تو یہ مطلب اس کی بات ہوتی ہے۔
اس ضمن میں بارہا یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ ایک سعادت مند شخص اور اس کے نفس ناطقہ میں یہ نقطہ ہے جو چمکتے ہوئے ستارے کی طرح درخشاں ہے اور اس سے ہر جانب کو شعاعیں نکل رہی ہیں۔ اب اس نقطے کی ان شعاعوں کا اثر ایک موقع پہ تو بعض آدمیوں پر ہوتا ہے، لیکن دوسرے موقع پر یہی شعاعیں ان آدمیوں پر بے اثر رہتی ہیں۔ اور نیز ان شعاعوں کا اثر بعض نفوس پر تو بڑی قوت اور شدت سے پڑتا ہے اور بعض پر ان کا اثر محبت و جذب کی راہ سے ہوتا ہے۔
الغرض اس شخص کے نفسِ ناطقہ کے نقطے کا اثر دوسروں پر خواہ قوت و شدت کے ذریعے ہو یا محبت و جذب کی راہ سے، ہر دو حالت میں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس شخص پر یہ اثر پڑتا ہے اس کے دل میں یہ الہام ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ اثر ڈالنے والے شخص کا معتقد اور محب بن جاتا ہے۔
یعنی اس کے ساتھ اس کو محبت ہوجاتی ہے۔
چنانچہ ہر طرح سے کوشش کرتا ہے کہ اس شخص کی کوئی خدمت بجا لائے۔ اثر ڈالنے والے شخص کے مقابلے میں اس اثر لینے والے کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے کہ ایک شعاع حرارت پیدا کرنے کا واسطہ بنتی ہے اور بعض دفعہ نفس کا یہ نقطہ اس کائنات میں جو غیبی تدابیر کام کررہی ہیں، ان پر بھی اپنا ڈالتا ہے اور اس کی وجہ سے یہ غیبی تدابیر نقطے والے کی بہتری کے کوشاں ہوجاتی ہیں لیکن اس طرح کے امور اکثر کلی مصلحتوں ہی کے ذیل میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، تھوڑا سا اس سے متعلق ہے۔ ایک بادشاہ تھا جو بہت بدصورت تھا، تاریخ میں، مجھے اس کا نام اس وقت بھول گیا ہے۔ تو ایک ناچنے والی تھی، وہ بہت خوبصورت تھی، وہ ناچ رہی تھی۔ چونکہ وہ ناچنے والی بڑی سر چڑھی ہوئی تھی یعنی اس کے لیے۔ اس نے اسے کہا کہ جب خوبصورتی تقسیم ہورہی تھی تو آپ کدھر تھے؟ یعنی اس بادشاہ سے کہا، کوئی اور نہیں کہہ سکتا تھا لیکن ظاہر ہے وہ کہہ سکتی تھی۔ اس نے جواب دیا کہ جہاں قسمت تقسیم ہورہا تھا، وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ جہاں قسمت تقسیم ہورہا تھا، وہاں بیٹھا ہوا تھا، لہٰذا تم میرے سامنے ناچ رہی ہو۔ بے شک تم بڑی خوبصورت ہو، میں خوبصورت نہیں ہوں، لیکن دیکھو میری قسمت میں یہ ہے، تمہاری قسمت میں ایسا نہیں ہے۔ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دے دیا۔ تو اس طرح مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے اردگرد اسباب بنتے جاتے ہیں، مخفی اسباب کے ذریعے سے کچھ ظاہری اسباب بنتے جاتے ہیں۔
جاری ہے ان شاءاللہ
۔ (العنکبوت: 69) ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے۔‘‘
۔ (القیامۃ: 20-21) ترجمہ: ’’خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔ اور آخرت کو نظر انداز کیے ہوئے ہو۔‘‘
۔ (القیامۃ: 20-21)