احیائے موتیٰ اور اللہ کی قدرتِ کاملہ: سورۃ البقرہ کے دو حیرت انگیز واقعات کی روشنی میں

درس نمبر 111، سورۃ البقرہ: آیت: 259، 260- (اشاعتِ اول) 13 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      انبیاء کرام کو غیبی حقائق دکھانے کی حکمت

·      معجزات کی تاویل اور معذرت خواہانہ رویے کا رد

·      پہلی بار پیدا کرنے کی نسبت دوبارہ پیدا کرنے کی عقلی و سائنسی دلیل

·      ویران بستی اور سو سالہ موت کا واقعہ

·      کھانے پینے کی چیزوں اور گدھے کی ہڈیوں کا معجزہ

·      سائنس، مادی اسباب اور اللہ کی قدرت کا فرق

·      حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال اور اطمینانِ قلب

·       

·       

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔


أَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّھِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِھَا ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ ھٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۚ وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿259﴾ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِيْ ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿260﴾


معزز خواتین و حضرات! آج ہم ان شاء اللہ سورہ بقرہ کی ان آیات مبارکہ کو پڑھ رہے ہیں جس میں اللہ پاک کی قدرت کا بہت بڑا مظاہرہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:

یا تم نے اس جیسے شخص کے واقعے پر غور کیا جس کا ایک بستی پر سے گزر ہوا جب وہ چھتوں کے بل گری پڑی تھی۔


یہ اصل میں آیت نمبر 259 اور 260 میں اللہ تعالیٰ نے دو ایسے واقعے ذکر فرمائے ہیں جن میں اس نے اپنے دو خاص بندوں کو اسی دنیا میں مردوں کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرایا۔ پہلے واقعے میں ایک ایسی بستی کا ذکر ہے جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی، اس کے تمام باشندے مر کھپ چکے تھے اور مکانات چھتوں سمیت گر کر مٹی میں مل گئے تھے۔ ایک صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس ساری بستی کو کس طرح زندہ کرے گا؟ بظاہر سوچ کا منشا خدانخواستہ کوئی شک کرنا نہیں تھا بلکہ حیرت کا اظہار تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں قدرت کا مشاہدہ اس طرح کرایا جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔

یہ صاحب کون تھے اور بستی کونسی تھی؟ یہ بات قرآن کریم نے نہیں بتائی اور کوئی مستند روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کے ذریعے یقینی طور پر ان باتوں کا تعین کیا جا سکے۔ بعض حضرات نے کہا کہ بستی بیت المقدس تھی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بخت نصر نے اس پر حملہ کر کے اسے تباہ کر ڈالا تھا اور یہ صاحب حضرت عزیر علیہ السلام یا حضرت ارمیا علیہ السلام تھے، لیکن نہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے نہ اس کھوج میں پڑنے کی ضرورت ہے، قرآن پاک کا مقصد اس کے بغیر بھی واضح ہے۔ البتہ یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ یہ صاحب کوئی نبی تھے کیونکہ اول تو اس آیت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوئے، نیز اس طرح کے واقعات انبیاء کرام ہی کے ساتھ پیش آتے ہیں، آگے اس کی تفصیل آئے گی۔


پھر اس نے کہا: اللہ اس بستی کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ پھر اللہ نے اس شخص کو سو سال تک کے لیے موت دے دی اور اس کے بعد زندہ کر دیا اور پوچھا کہ تم کتنے عرصے تک اس حالت میں رہے ہو؟ اس نے کہا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔

جیسے انسان سوتا ہے تو سونے کے بعد جب اٹھتا ہے تو ظاہر ہے دن یا دن کا کچھ حصہ ہوتا ہے۔

اللہ پاک نے کہا نہیں بلکہ تم سو سال اسی طرح رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ ذرا نہیں سڑیں۔

اور دوسری طرف اپنے گدھے کو دیکھو، گل سڑ کر اس کا کیا حال ہو گیا ہے۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا ایک نشان بنا دیں، اب اپنے گدھے کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے ہیں، پھر ان کو گوشت کا لباس پہناتے ہیں۔ چنانچہ جب حقیقت کھل کر اس کے سامنے آ گئی تو وہ بول اٹھا کہ مجھے یقین ہے اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔


اصل میں بہت سارے کام ہم Science کے دیکھتے ہیں پھر اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کیسا ہوا ہو گا؟ حالانکہ ہم اس پہ شک نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ Science کو تو ہم مانتے ہیں کہ اس طرح چیزیں ہو سکتی ہیں لیکن اس پر حیرت کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہوا ہو گا؟ تو جب اس کو کر کے بتایا جاتا ہے تو اس کو پھر سمجھتے ہیں اچھا یہ تو واقعی مطلب اس طرح ہوا ہے۔ تو Science تو ایک Natural Process ہے، اسباب کی ایک پوری دنیا ہے اور اس میں غور کرتے ہیں اور چیزیں سامنے آتی ہیں۔ دوسری طرف اللہ پاک کی قدرت ہے جس کو اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ قدرت تو ایک الگ چیز ہے۔ Science کے اندر جو Properties ہیں وہ بھی قدرت ہی نے رکھی ہیں۔ یعنی قدرت اللہ پاک نے اپنی قدرت سے رکھی ہیں۔ یہ Atoms سے جو Molecules بنتے ہیں اور پھر ان سے جو مختلف مرکبات تیار ہوتے ہیں، یہ اللہ پاک نے اپنی قدرت سے یہ چیز بنائی ہوئی ہے، ظاہر ہے خود بخود تو اس میں نہیں تھی۔ یہ Atoms کا اور Electrons کا اور Neutrons کا یہ جو سلسلہ ہے، یہ سارا اللہ پاک نے اپنی قدرت سے اس کو رکھا ہے۔ ہم لوگ صرف Explore کرتے ہیں، اللہ پاک نے رکھا ہے۔


مثلاً میں اگر آپ سے پوچھوں کہ یہ ساری چیزیں کس سے بنی ہیں؟ تو آپ کیا کہیں گے، وہ کیا چیز ہے؟ مادہ ہے تو مادہ کس چیز سے بنا ہے؟ Science نہیں بتا سکتی کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے پیچھے ایک اور چیز ہے۔ تو یہ بات کہ اس نبی نے اس سے انکار نہیں کیا لیکن حیرت کا اظہار کیا۔ اور حیرت کا اظہار تو ہوتا ہے ایسی چیز جو انسان کے تصور میں نہ آ سکے اس پر حیرت کا اظہار تو ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ اس سے انکار کر رہا ہو۔ تو یہاں پر بھی اسی قسم کی بات ہے۔


اللہ پاک نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا، اس طریقے سے کہ اس کو سلا دیا یعنی مطلب ایک موت دے دی اور پھر اس کو زندہ کیا۔ تو پھر پوچھا کہ کتنی دیر رہے اس طرح؟ تو اس نے کہا کہ شاید ایک دن یا اس سے کم۔ اللہ پاک نے فرمایا سو سال۔ اور پھر فرمایا کہ دیکھو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو، وہ نہیں سڑی تھیں، لیکن گدھے کو دیکھو تو بالکل سب کچھ ختم ہو گیا تھا، کچھ ہڈیاں رہ گئی تھیں اس کی۔ تو اس کے بعد پھر اللہ پاک نے اس سے فرمایا کہ اب دیکھو کہ اس کو میں کیسے ٹھیک کرتا ہوں۔ تو کیسے وہ ہڈیاں سامنے آ گئیں، پھر اس کے بعد گوشت چڑھ گیا، پھر اس کے بعد Skin چڑھ گئی، پھر وہ مکمل گدھا اٹھ گیا۔ تو اللہ پاک نے اس کو دکھا دیا کہ اس طریقے سے میں زندہ کرتا ہوں، مطلب یہ اللہ پاک کے حکم سے۔

اور اس وقت کا تذکرہ جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ اے میرے پروردگار مجھے دکھائیے کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں؟ اللہ پاک نے کہا کیا تمہیں یقین نہیں؟ کہنے لگے یقین کیوں نہیں ہوتا مگر یہ خواہش اس لیے کی تھی تاکہ میرے دل کو پورا اطمینان حاصل ہو جائے۔

تو یہاں پر بھی وہی اطمینان والی بات ہے کہ اس سوال کے جواب کے ذریعے اللہ پاک نے یہ بات صاف کر دی کہ ابراہیم علیہ السلام کی فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر پورا یقین تھا لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے کہہ سکتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ کر کہہ رہا ہوں۔

دیکھو آپ ﷺ کو اللہ جل شانہ نے معراج شریف پہ بڑی چیزیں دکھائیں، تو آپ ﷺ کے لیے وہ دیکھی ہوئی چیزیں تھیں، جنت اور دوزخ اور یہ ساری چیزیں دیکھی ہوئی تھیں۔ تو آپ ﷺ جب فرماتے تھے کہ ایسا ہے اور ایسا ہے، تو آپ ﷺ نے تو دیکھا تھا اس کو، تو دیکھ کر فرما رہے تھے۔ تو یہ بات الگ ہوتی ہے کہ دیکھ کر جو فرمایا جاتا ہے وہ الگ، لیکن سب کو ایسا نہیں کروایا جاتا بلکہ نظام ایسا اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے کہ اس میں اپنے برگزیدہ جو ہستیاں ہوتی ہیں، انبیاء کرام، ان کو یہ چیزیں دکھا کے یا مطلب بتا کے یا سمجھا کے، وہ پھر یوں کرتے ہیں کہ باقیوں کو ان کا مکلف کر لیتے ہیں کہ ان کی بات مانو۔ تو جو بات مانتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں، جو نہیں مانتے تو... ہاں البتہ یہ بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا Character اور طرزِ زندگی ایسا ہوتا ہے کہ اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، یہ جھوٹ کا کوئی اس میں مطلب انسان نہیں کچھ کر سکتا۔ تو اللہ پاک نے یہ اس طرح بنایا ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی بڑی پاک ہوتی ہے، اس کے دشمن بھی گواہی دیتے ہیں، پھر اس کے بعد اللہ پاک ان سے یہ چیزیں کہلواتے ہیں۔

اللہ نے کہا کہ اچھا تو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے سے مانوس کر لو، پھر ان کو ذبح کر کے ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ اور وہ چاروں تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔

یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ ہر وقت مردے کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرا سکتی ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ ہر ایک کو یہ مشاہدہ نہ کرایا جائے اور یہ بات دراصل یہ ہے کہ یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لیے یہاں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے۔ انسان سے مطلوب یہ ہے کہ ان حقائق پر آنکھوں سے دیکھے بغیر دلائل کی بنیاد پر ایمان لائے۔ البتہ انبیاء کرام کا معاملہ عام لوگوں سے مختلف ہے، وہ جب غیب کے حقائق پر غیر متزلزل ایمان لا کر یہ ثابت کر چکے ہوتے ہیں کہ ان کے ایمان میں نہ کسی شک کی گنجائش ہے نہ وہ آنکھ کے کسی مشاہدے پر موقوف ہے، تو ان کے ایمان بالغیب کا امتحان اس دنیا میں پورا ہو جاتا ہے، پھر انہیں حکمتِ خداوندی کے تحت بعض غیبی حقائق آنکھوں سے بھی دکھائے جاتے ہیں تاکہ ان کے علمی اطمینان کا معیار عام لوگوں سے زیادہ ہو اور وہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ سکیں کہ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں، اس کی حقانیت تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھی ہے۔


یہ اصل میں حضرت نے بہت زبردست طریقے سے بات ماشاء اللہ واضح فرما دی کہ امتحان تو انبیاء کرام کا بھی ہو چکا ہے، ابتدا میں مطلب وہ تو دلائل سے اور اس سے عقل سے اس چیز کو مان لیتے ہیں، البتہ یہ بات ہے کہ مزید بتانے کے لیے چونکہ ان کی Duty بتانا ہوتا ہے صرف اپنے لیے نہیں ہوتا، تو ان کو اللہ پاک ان چیزوں کا مظاہرہ کرواتے ہیں جیسے آپ ﷺ کو معراج شریف پہ لے گئے۔

بعض وہ لوگ جو خلافِ عادت باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، انہیں اس آیت میں بھی ایسی کھینچا تانی رکھی ہے جس سے یہ نہ ماننا پڑے کہ پرندے واقعتاً مر کر زندہ ہو گئے تھے، لیکن قرآن کریم کا پورا سیاق اور جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کا اسلوب ایسی تاویلات کی تردید کرتا ہے، جو شخص عربی زبان کے محاورات اور اسالیب سے واقف ہو وہ ان آیات کا ایسا کوئی مطلب نہیں نکالے گا جو ترجمے میں بیان کیا گیا ہے۔

اصل میں واقعتاً بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو Apologizing انداز میں بات کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں کسی سے گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ ہم بالکل حق بات پر ہیں، لہٰذا کسی سے ڈرنے کی بھی بات نہیں ہے، صحیح بات کہ اللہ پاک کو جب ہم نے قدرت مان لیا، مثال کے طور پر وہی والی بات کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ اگر کسی چیز کو پیدا کیا ہے تو بعد میں کیوں نہیں پیدا کر سکتا؟ بعد میں پیدا کرنا تو اس سے زیادہ آسان ہے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے۔ بھئی مجھے بتاؤ پہلے یعنی سائنسی یا دنیاوی بنیاد کی بات کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو مختلف ہے، R&d زیادہ مشکل ہوتی ہے یا Restructuring مشکل ہوتی ہے؟ ساری محنت تو R&D پہ چلتی ہے، اس پہ برسوں لگتے ہیں لیکن جب ایک دفعہ وہ چیز ٹھیک ثابت ہو جاتی ہے اور کام کر جاتی ہے، پھر اس کے بعد اس کا Design Available ہوتا ہے، اب اسے تو Manufacture کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد میں تو کچھ کرنا نہیں ہوتا بس وہی چیز Repeat ہوتی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے جو پیدا کیا ہے "بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" یعنی بغیر کسی پہلے سے موجودگی کے اللہ پاک نے ان چیزوں کو پیدا کیا، تو جب پیدا کیا تو دوبارہ بنانا اس کے لیے کیا مشکل ہے؟ یہی بات ہے۔

تو ہمیں کسی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم خواہ مخواہ ان سے کہیں کہ نہیں وہ مرے نہیں تھے، یہ تو ویسے ہی بس ان پہ بے ہوشی طاری ہو گئی تھی اور یہ اور وہ... یہ صرف اور صرف اپنے آپ کی خفت دور کرنے والی بات ہے کہ بات تو اب کریں جی بس تو کچھ کہنا پڑے گا، یہ والی بات نہیں ہماری۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پہ کہتے ہیں اللہ پاک نے اگر پیدا فرمایا پہلی دفعہ، تو بعد میں بھی پیدا کر سکتا ہے۔

اور جان رکھو کہ اللہ پاک پوری طرح صاحبِ اقتدار بھی ہے اور اعلیٰ درجے کے حکمت والا بھی ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایمان بالغیب کامل ہمیشہ کے لیے نصیب فرما دے اور اس کا داعی بھی بنا دے۔ اللہ پاک اس پر ہم سے راضی ہو جائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




احیائے موتیٰ اور اللہ کی قدرتِ کاملہ: سورۃ البقرہ کے دو حیرت انگیز واقعات کی روشنی میں - درسِ قرآن - دوسرا دور