اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!فَأَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِوَقَالَ تَعَالَى : ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَىْءٌ فِى الْاَرْضِ وَ لَا فِى السَّمَآءِ﴾
فرمایا اللہ جل شانہ نے ”خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔“
سارے جہان کی تمام اشیاء اللہ کے سامنے بالکل ظاہر ہیں اس سے کوئی ذرہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔
"مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِىْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِىْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ"
کوئی زمین پر پتہ نہیں گرتا مگر وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کے تاریک حصہ میں گرتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز گرتی ہے مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے۔
اس میں سوال کرتے ہیں کہ۔۔۔
صرف زمین و آسمان کی چیزیں اللہ سے مخفی نہیں، کیا اور جگہ کی چیزیں مخفی ہیں؟
جواب: آسمان کے اعتبار سے کلام ہے یہ زمین و آسمان ہی کو جانتا ہے مگر اس سے تمام جہان کی ہر جگہ مراد ہے۔
اصل میں سماوات اور زمین کا جب بات آجائے نا، تو اس میں پوری کائنات مراد ہوتی ہے۔
سوال: زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیوں کیا؟
جواب: آیت کریمہ میں بندوں کے اعمال کی جزا وسزا دینے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ بندوں کے اعمال کی جگہ زمین ہے اس لئے اس کو پہلے بیان فرمایا اور ساتھ ہی آسمان کا تذکرہ بھی کردیا گیا۔
اصل میں یہ چیز اگر کسی کو گویا کہ مستحضر رہے، کہ اللہ پاک ساری چیزوں کو دیکھتا ہے، تو وہ کسی حالت میں گناہ نہ کرے۔ ہمارا علم ہے، یعنی سب مسلمانوں کا، کہ اللہ پاک دیکھتے ہیں، ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہیں، کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ پاک سنتے ہیں، ہر وہ چیز، جو کسی قسم کی بھی آواز ہے، چاہے کیسی ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ پاک کلام فرماتے ہیں، لیکن اس کا کلام ہمارے کلام کی طرح نہیں ہے۔ اور اللہ جل شانہٗ ارادہ فرماتے ہیں، اسی ارادے سے سب کچھ ہوتا ہے۔ اللہ پاک نے ان ساری چیزوں کو پیدا فرمایا ہے، اس طرح اللہ پاک کو قدرت ہے تمام چیزوں پر۔
اب یہ جو آٹھ خصوصی جو صفات ہیں، تو ان صفات کو اگر ذہن میں رکھا جائے تو اللہ جل شانہٗ کے سامنے ہر وقت انسان اپنے آپ کو پائے اور کوئی گناہ نہ کرے۔ اس وجہ سے ہر کوشش کو انسان شریعت کے مطابق کر لے، کہ اللہ جل شانہٗ اس سے ناراض نہ ہو۔ اگر یہ بات ہمیں حاصل ہو جائے، تو الحمد للہ اس زندگی میں ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی کامیابی نصیب فرما دے، اور افراط تفریط سے اور ہر قسم کے نقصان سے، چاہے دینی ہے چاہے دنیاوی، اس قسم کے نقصان سے اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔