اول الخلق: نورِ مصطفیٰ ﷺ اور روزِ ازل سے ثبوتِ نبوت

نشر الطیب فی ذکر الحبیب ﷺ، فصل اول، نور محمدی کا بیان، حصہ دوم، (اشاعت اول 7 اگست، 2015)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نبی کریم ﷺ: وجہِ تخلیقِ کائنات

تخلیقِ آدم علیہ السلام سے قبل ثبوتِ نبوت و ختمِ نبوت

مقصدِ تخلیقِ کائنات اور ظہورِ جمالِ الٰہی

اول الخلق: نورِ محمدی ﷺ کی تخلیق (حدیثِ جابرؓ)

      نُوْرٌ مِّنْ نُّوْرِ اللّٰهِ کا صحیح شرعی مفہوم

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.



اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.



نورِ محمدی ﷺ کے بیان میں


یومِ میثاق:

چوتھی روایت: شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کب نبی بنائے گئے؟ آپ نے فرمایا کہ آدم اس وقت روح اور جسد کے درمیان میں تھے جب کہ مجھ سے میثاق (نبوة کا) لیا گیا۔ روایت کیا اس کو ابن سعد نے جابر جعفی کی روایت سے ابن رجب کے ذکر کے موافق۔


پہنچ سکا تیرے رتبے تلک نہ کوئی نبی

ہوئے ہیں معجزے والے بھی اس جگہ ناچار

جو انبیاء ہیں وہ آگے تیرے نبوت کے

کرے ہیں امتی ہونے کا یا نبی اقرار

آدم عليہ السلام سے چودہ ہزار سال پہلے

اللہ تعالیٰ کے حضور میں

پانچویں روایت: حضرت علی بن الحسین (یعنی امام زین العابدین) سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ حضرت امام حسینؓ اور وہ ان کے جدِ امجد یعنی حضرت علیؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے پروردگار کے حضور میں ایک نور تھا۔

ف: اس عدد میں کم کی نفی ہے زیادتی کی نہیں، پس اگر زیادتی کی روایت نظر پڑے تو شبہ نہ کیا جائے۔ رہ گئی تخصیص اس کے ذکر میں سو ممکن ہے کہ کوئی خصوصیتِ مقامیہ اس کو مقتضی ہو

سب انبیاء عليہ السلام پر تقدم کی وجہ

چھٹی روایت: حضرت سہل بن سعد نے امام باقر رضی الله عنہ سے پوچھا کہ رسولِ کریم ﷺ کو سب انبیاء سے تقدم کیسے ہو گیا حالانکہ آپ سب سے آخر میں مبعوث ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد عالمِ میثاق میں نکالا اور ان سب سے ان کی ذات پر ایک یہ اقرار لیا، کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے اول جواب میں بَلٰى یعنی کیوں نہیں محمد ﷺ نے کہا۔ اور اس لیے آپ کو سب انبیاء سے تقدم ہے گو آپ سب سے آخر میں مبعوث ہوئے ہیں۔ اگر میثاق لینے کے وقت ارواح کو بدن سے تلبس بھی ہو گیا ہو تا ہم احکام روحی کے غالب ہیں۔ اس لیے اس روایت کو کیفیاتِ نور میں لانا مناسب سمجھا، اور اوپر شعبی کی روایت میں آپ سے قبل از آدم میثاق لیا جانا مذکور ہے۔ اور یہ میثاقِ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ظاہر روایت سے بعض خلقِ آدم کو معلوم ہوتا ہے۔ سو ممکن ہے کہ یہ میثاقِ نبوت قابلِ اشتراکِ غیرے ہو جیسے کہ حدیث کے ذیل میں اس طرف اشارہ ہے۔

اصل میں اس وقت ہم کچھ اختلافی باتیں چھیڑنا نہیں چاہتے۔ ہمارا مقصود یہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کو بہت مشکل مسئلہ بنایا ہوتا ہے۔ حالانکہ مشکل ہم لوگ خود اس کو بناتے ہیں۔ مثلاً مشکل سب سے یہ بات ہے کہ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نور ہیں اس طرح کہ اللہ جس طرح نور ہے، اس طریقے سے اس کا ایک حصہ ہے۔ یہ غلط ہے۔ کیونکہ اللہ اللہ ہے اور مخلوق مخلوق ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ کبھی بھی مخلوق خالق کی طرح نہیں ہو سکتا۔ یہ ناممکن ہے۔

لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا، اس کا مطلب یہ ہے جیسے میں کہتا ہوں یہ میری زمین ہے، اس سے الگ کر کے اس میں گھر بنا دو۔ تو یہ اضافت کی بات ہے۔ یعنی میری زمین... تو نُوْرٌ مِّنْ نُّوْرِ اللّٰهِ سے مطلب کیا ہے کہ جو نور اللہ نے بنایا ہے، اس نور سے آپ ﷺ کو بھی تخلیق کیا۔ اور ظاہر ہے یہ بہت بڑی بات تھی۔

تو آپ ﷺ نور ہیں، کس طرح؟ یہ میں آپ کو ایک... جو ہے نا میرا خیال میں ہم لوگ مناجاتِ مقبول میں ایک دعا پڑھتے ہیں۔ میں آپ کو ان کے الفاظ سنا دیتا ہوں، یہ دیکھیں میرے سامنے آ گیا۔ یہ دعا ہے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِيْ قَلْبِيْ نُوْرًا، وَفِيْ بَصَرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ سَمْعِيْ نُوْرًا، وَعَنْ يَمِيْنِيْ نُوْرًا، وَعَنْ يَسَارِيْ نُوْرًا، وَخَلْفِيْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ لِيْ نُوْرًا، وَفِيْ عَصَبِيْ نُوْرًا، وَفِيْ لَحْمِيْ نُوْرًا، وَفِيْ دَمِيْ نُوْرًا، وَفِيْ شَعْرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ بَشَرِيْ نُوْرًا، وَفِيْ لِسَانِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ فِيْ نَفْسِيْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِيْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِيْ نُوْرًا، اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِيْ نُوْرًا۔

یہ بخاری، مسلم میں روایت ہے متفق علیہ۔ حدیث شریف سے ہے، ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے۔ اب میں اس کا ترجمہ سناتا ہوں۔

ترجمہ یہ ہے: یا اللہ! نور کر دے میرے دل میں، اور نور کر دے میری بینائی میں، اور نور کر دے میری شنوائی میں، اور نور کر دے میرے داہنی طرف، اور نور کر دے میرے بائیں طرف، اور نور کر دے میرے پیچھے، اور نور کر دے میرے سامنے، اور میرے لیے ایک خاص نور کر دے۔ اور نور کر دے میرے پٹھوں میں، اور نور کر دے میرے گوشت میں، اور نور کر دے میرے خون میں، اور نور کر دے میرے بالوں میں، اور نور کر دے میری جلد میں، اور نور کر دے میری زبان میں، اور نور کر دے میری جان میں، اور مجھے نورِ عظیم دے، اور میرے اوپر نور کر دے۔

اب دیکھیں، اس میں آپ ﷺ نے ہر طرح کا نور اپنے لیے مانگا ہے۔ وَاجْعَلْنِيْ نُوْرًا... یعنی مجھے نور کر دے، مجھے نور بنا دے۔ اب جس چیز کو آپ ﷺ مانگ رہے ہیں تو اس کو غلط کہا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے خود مانگا ہے۔ تو اس کو کیسے غلط کہیں گے؟ البتہ یہ جو میں نے عرض کیا جو سب سے بڑی غلطی کہ لوگ کہتے ہیں کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کا نور جس طرح ہے یعنی ذات، اس سے کاٹ کے نور بنایا ہے وہ غلط ہے۔ آپ یقین کیجیے گجرات میں ایک صاحب نے مجھے ایک عجیب بات پوچھی بلکہ مجھ سے۔ مجھ سے کہتے ہیں کہ اللہ اور رسول یہ دو ہیں یا ایک ہیں؟ میں نے کہا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! یہ کونسی بات کر رہے ہو تم؟ ایک اور دو کی بات کہاں سے آ گئی؟ اللہ اللہ ہے اللہ کا رسول اللہ کا رسول ہے۔ ان دونوں کو آپ ایک کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہاں تک غلطیاں پہنچ جاتی ہیں۔ تو یہ ظاہر ہے وہ تو زیادتی ہے اپنے ساتھ۔

اللہ اللہ ہے اور اللہ کا رسول اللہ کا رسول ہے۔ مخلوقات میں سب سے زیادہ اونچا مقام آپ ﷺ کا ہے۔ مخلوقات میں سب سے اونچا مقام آپ ﷺ کا ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!

تو مخلوقات میں سب سے اونچا مقام، اور آپ ﷺ کا مخلوق ہونے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ مخلوق ہیں ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ، آپ ﷺ نے خود اپنے لیے اس کا اقرار کیا۔

تو جب یہ والی بات ہے تو آپ ﷺ مخلوق ہیں اور مخلوقات کے سردار ہیں، مخلوقات میں سب سے زیادہ افضل مقام، سب سے اونچا مقام وہ آپ ﷺ کا ہے۔ کسی طریقے سے بھی کوئی اونچے سے اونچا مقام اگر ہوگا تو وہ آپ ﷺ کا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل سے جائے گا۔ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی، لیکن مجھ پر اللہ پاک فضل فرما دیں گے۔ یہ صرف آپ ﷺ ہی کہہ سکتے تھے۔ کوئی اور اس طرح نہیں کہہ سکتا تھا۔ اسی طریقے سے تو بات ہے، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوثَرَ۔ ہم نے تمہیں حوضِ کوثر عطا فرما دیا۔ یہ جو Specialities ہیں، یہ تو آپ ﷺ کے لیے ہیں۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا۔


جاری ہے ان شاءاللہ



اول الخلق: نورِ مصطفیٰ ﷺ اور روزِ ازل سے ثبوتِ نبوت - نشر الطیب فی ذکر الحبیب ﷺ - دوسرا دور