سفرِ حج: مقاصد، فقہی مسائل کی اہمیت، آداب اور زادِ راہِ تقویٰ

(اشاعتِ اول) 26 اپریل، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

Key Topics (اہم موضوعات):

  • تقویٰ کی حفاظت: رمضان المبارک میں حاصل ہونے والے تقویٰ کی شوال اور آئندہ زندگی میں حفاظت کی ضرورت اور گناہوں کے ماحول سے اجتناب۔
    • دورِ حاضر میں حج کا بدلتا تصور: ماضی کی تکالیف کے مقابلے میں آج کے دور کی سہولیات، اور لوگوں کا حج کو عبادت کے بجائے محض 'پکنک' (Picnic) اور سیر و تفریح سمجھنا۔
      • حج کے مسائل سیکھنے کی اہمیت: بغیر علم کے حج پر جانے کے نقصانات، سنی سنائی باتوں پر عمل، اور غلطیوں پر واجب ہونے والے 'دم' (قربانی) کی ادائیگی سے گریز کرنا۔
        • فقہی مسائل میں تساہل پسندی: حج کے دوران چند پیسوں یا بالوں کو بچانے کے لیے اپنے مسلک (حنفی) کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے دوسرے مسلک (شافعی) کی رخصتوں پر عمل کرنے کی مذمت۔
          • وقت بمقابلہ پیسہ: دورانِ حج معمولی رقم بچانے کے لیے اپنا انتہائی قیمتی وقت ضائع کرنے کی (Discouragement) اور ایک حاجی کے لیے وقت کی قدر و قیمت۔
            • قرآنی احکامات (رفث، فسوق، جدال): سورۃ البقرہ کی آیت کی روشنی میں دورانِ حج فحش باتوں، گناہوں اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کی سخت تاکید اور اس کو نفس کا 'مجاہدہ' قرار دینا۔
              • زادِ راہ اور اشرافِ نفس: حج کے لیے حلال مال ساتھ لے جانے کی تلقین، مفت ملنے والی چیزوں (سبیلوں) پر حریص نہ ہونے اور 'اشرافِ نفس' (دل میں دوسروں کے مال کی طمع) سے بچنے کی نصیحت۔
                • توکل اور طلب صرف اللہ سے: ہر چھوٹی بڑی ضرورت (جیسے گمشدہ عینک کا واقعہ) کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ" کی عملی تصویر بننے کا درس۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

                  وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

                  أَمَّا بَعْدُ!

                  فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

                  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

                  اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُؕ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰیۖ وَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِo

                  صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِیْمُ۔

                  معزز خواتین و حضرات! اللہ کا شکر ہے، الحمدللہ اللہ پاک نے ہمیں انتہائی مبارک مہینہ رمضان شریف کا عطا فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ سارے مسلمانوں کے روزے قبول فرمائے، تراویح میں قیام قبول فرمائے، اور اس کے ذریعے سے جو اللہ پاک نے مسلمانوں کو تقویٰ نصیب فرمایا اس کی حفاظت کی توفیق نصیب فرمائے۔

                  کیونکہ کمانا اور ہے اور اس کو باقی رکھنا اور ہے۔ ایک شخص بعض دفعہ بہت کماتا ہے لیکن اس کا خرچ اس سے زیادہ ہوتا ہے تو ہمیشہ قرض دار رہتا ہے، پریشان رہتا ہے۔ اور دوسرا آدمی بے شک کماتا کم ہو لیکن خرچ بھی کم کرتا ہے تو وہ فائدے میں رہتا ہے۔ اس وجہ سے اب یہ جو دور ہمارا ہے، اس وقت شوال کے مہینے میں، اب اس کی حفاظت کا ہے کہ ہم لوگ اپنے روزوں کی جو تقویٰ ہے اس کی حفاظت کریں اور تقویٰ کی حفاظت کا مطلب کیا ہے؟ گناہوں سے بچیں، گناہوں کے ماحول سے بچیں، صحبتِ ناجنس سے بچیں، ایسے لوگوں سے بچیں، ایسے لوگوں کی صحبت سے بچیں جن کے ساتھ بیٹھ کر جن سے بات کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے، ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے۔ بعض دفعہ صرف لوگوں کی دیکھا دیکھی انسان گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، شرما شرمی میں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ بھئی اس کو سوچنا چاہیے کہ اللہ کیا کہے گا؟ لوگ بے شک جو بھی کہیں وہ ان کی اپنی بات ہے، لیکن اللہ پاک کیا کہے گا اس کے ساتھ ہمارا معاملہ ہے، ہمارا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔

                  قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                  بیشک کہہ دو کہ بیشک میری جو نماز ہے، قربانی ہے، میری زندگی ہے، میرا موت ہے وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

                  تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا معاملہ صرف چونکہ اللہ کے ساتھ ہے لہٰذا اب ہم لوگوں کو اس کی فکر کرنی چاہیے کہ کہیں اللہ پاک ہم سے ناراض نہ ہو جائے، جو اللہ پاک نے ہمیں نصیب فرمایا رمضان شریف میں اس کی ہم حفاظت کریں۔

                  اب ایک اور بہت بڑا عمل آنے والا ہے، بہت بڑا عمل۔ آپ دیکھتے ہیں نا ایک عید الفطر گزر گیا جو رمضان شریف کے بعد نصیب ہوا، خوشی تھی، تو یہ خوشی اللہ پاک نے رمضان شریف کی برکت سے نصیب فرمائی عید الفطر۔ لیکن ابھی ایک دوسرا عید آ رہا ہے جس کو بڑا عید کہتے ہیں، بڑا عید۔ بڑا عید بہت ساری وجہ سے ہے لیکن آپ دیکھ لیں کہ اس میں صرف عید الفطر میں صرف ایک دن روزہ رکھنا منع ہے، اس خوشی کو ایک دن لازمی کرنا ہے، اس دن کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا حرام ہے۔ لیکن عید الاضحیٰ میں تین دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ تو یہ مہمانی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس وجہ سے بڑا عید کہلاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بہت بڑا عمل ہے موجود اور وہ کیا ہے؟ حج ہے، سبحان اللہ!

                  تو حج کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ پہلے وقتوں میں حج پر جانا کسی کسی کو نصیب ہوتا تھا، لیکن جو چلے جاتے تھے ان کی پوری زندگی بدل جاتی تھی۔ اس کی وجہ ہے کہ حج ایک بہت بڑی قربانی کی بات ہوتی تھی، معمولی بات نہیں ہوتی تھی، ایک تو ظاہر ہے کہ سفر لمبا ہوتا تھا یعنی جہازوں مطلب Ships کے ذریعے سے جانا ہوتا تھا تو آٹھ دن تو کم از کم درمیان میں لگتے تھے پاکستان سے، تو کافی لمبا ٹائم اور پھر وہاں بھی زیادہ لمبا ٹائم مل جاتا تھا، واپسی بھی ظاہر ہے دیر ہوتی تھی لہٰذا تقریباً دو مہینے، ڈھائی مہینے لگ جاتے تھے۔   اور اس وقت راستوں کے امن بھی اتنے زیادہ نہیں تھے، یعنی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانا کوئی آسان بات نہیں ہوتی تھی، اونٹوں پہ جانا ہوتا تھا تو راستے میں ڈاکو وغیرہ بھی لوٹ سکتے تھے، اور بھی بہت سارے مسائل ہوتے تھے، تو اب وہ چیزیں نہیں ہیں۔

                  لیکن اب جو بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے وہ اژدھام کا ہوتا ہے کیونکہ بہت آسان ہو گیا لہٰذا بہت سارے لوگ حج پہ جاتے ہیں۔ اچھا ایک تو اژدھام کی وجہ سے، رش کی وجہ سے کام ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، ہر قسم کے لوگ جن کا ذہن بنا ہے جن کا ذہن نہیں بنا۔ پہلے وقت میں صرف جن کا ذہن بنا ہوتا تھا وہ حج پہ جاتے تھے یعنی جن کا ارادہ ہوتا تھا کہ میں نے حج کرنا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس کے پاس چند پیسے آ جائیں تو چلے جاتے ہیں لیکن وہ پکنک (Picnic) سمجھتے ہیں اس کو، وہ جو ہے نا وہ حج والے اعمال نہیں سمجھتے، یعنی اس کے بارے میں اتنا Serious نہیں ہوتے اور اکثر لوگ جو ہیں نا وہ حج کے مسائل بھی نہیں سیکھتے اور اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے، افسوس کی بات ہے، یعنی اب دیکھیں ایک اتنے اہم کام پہ آپ جا رہے ہیں، پتا نہیں دوبارہ موقع ملتا ہے نہیں ملتا، اب کم از کم اس کے لیے کچھ کتاب پڑھ لیں، کسی سے پوچھیں، معلوم کر لیں کہ آخر میں نے حج کرنا ہے تو کیسے کرنا ہے؟   تو یہ سارے مسائل جاننے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے اور جو لوگ بغیر سیکھے چلے جاتے ہیں، پھر سنی سنائی باتوں پہ چلتے ہیں، سنی سنائی باتوں پہ، وہ جو ہے نا کتاب والی بات نہیں ہوتی بس فلاں سے سنا فلاں سے سنا فلاں سے سنا۔ اب سب ایک جیسے لوگ اگر ہوں تو کسی کو بتائیں گے تو کیا بتائیں گے؟ ظاہر ہے ہر شخص عالم تو نہیں ہوتا، تو اس وجہ سے بڑے مسائل ہو جاتے ہیں۔ پھر دم آ جاتے ہیں، کیونکہ حج ایک نازک عبادت ہے کوئی اس طرح نہیں ہے، ہاں مطلب یہ کہ اس میں دیکھو نا ہماری نماز میں سجدہ سہو ہے، تو اس میں آپ سجدہ سہو کر لیں آپ کی نماز ہو جائے گی۔ لیکن وہاں سجدہ سہو والی بات نہیں وہاں پر دم ہے۔ دم کا مطلب کیا ہے؟ یعنی ایک بکری ذبح کرنی پڑے گی، اگر آپ نے کوئی غلطی کی تو اس کی وہ واجب کی غلطی اگر ہو تو وہ پھر کیا ہے؟ اس کے اوپر دم آ جاتا ہے۔ اب چونکہ دل اللہ کے ساتھ لگا نہیں ہوتا وہ سیر سپاٹے کے لیے آیا ہوتا ہے تو دم نہیں دیتے۔ اس کے لیے پھر ادھر ادھر سے پتا نہیں وہ جی فلاں یہ کہتا ہے فلاں یہ کہتا ہے بس اسی سے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں اور بغیر دم دیے چلے آتے ہیں اور اپنے آپ کو قرض دار لے آتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اس کو فائدہ ہوتا، فائدے کی جگہ اپنا نقصان کر کے آ جاتے ہیں۔   مثلاً نماز میں کوئی پڑھ لے سجدہ سہو آ گیا اور سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز تو پھر نہیں ہوئی، دوبارہ پڑھنا پڑے گا اور دوبارہ نہیں پڑھا تو وہ نماز کدھر گئی؟ وہ نماز تو اوپر رہ گئی نا؟ تو اسی طریقے سے اگر کسی نے دم نہیں دی تو وہ معاملہ ناقص رہ گیا،   وہ بات تو نہیں ہوئی۔

                  اچھا پھر میں عجیب بات آپ کو بتاؤں، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر خون آ جائے، یہ مسئلہ میں اس لیے مجبوراً بتاتا ہوں کہ آج کل لوگ اس طرف دھیان نہیں دیتے، اگر خون آ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ مسئلہ میرے خیال میں ہر حنفی کو معلوم ہے اور لہٰذا اگر خون آ جائے تو وہ دوبارہ وضو کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے، کوئی بہت ہی زیادہ بے پروا آدمی ہو گا جو کہ خون آ جائے اور پھر وہ وضو نہ کرے، ایک شخص کے بارے میں میں تصور نہیں کر سکتا۔ لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اب یہاں آکر میرے ساتھ کوئی شافعی کھڑا ہو، اس کا خون آ جائے اکثر آپ نے دیکھا ہو گا ادھر کہ وہ مسواک کرتے ہیں،   عین نماز کے کھڑے ہوتے وقت بھی مسواک کرتے ہیں، کیونکہ ان کو یہ پروا نہیں ہوتی ان کے نزدیک مسئلہ ہی ایسا ہے، تو ان کا وضو نہیں ٹوٹتا لہٰذا ان کا کوئی مسئلہ نہیں، میں اگر اس کی طرح کر لوں تو میرا تو وضو ٹوٹ جاتا ہے تو پھر تو مجھے وضو دوبارہ کرنا پڑے گا۔ اچھا یہ میں نے اس لیے بتایا کہ مسئلوں کا اختلاف ہوتا ہے، مسئلوں کا اختلاف ہوتا ہے۔ اچھا اب دیکھیں وہاں پر جا کر اچھے خاصے حنفی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہوئے کوئی شرماتے نہیں اچھے خاصے حنفی ہوتے ہیں لیکن صرف اپنے بالوں کو بچانے کے لیے چند کٹ لگا لیتے ہیں شافعیوں کی طرح وہ کہتے ہیں ہمارا قصر ہو گیا، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی؟ وہی مسئلہ ہے نا شافعی اور حنفی کا مسئلہ ہے جیسے خون کا میں نے بتا دیا، اگر وہاں پر تم مانتے ہو تو یہاں کیوں نہیں مانتے ہو؟ یہ مسئلہ تو ہے نا؟ تو اس طرح مطلب وہ کر لیتے ہیں۔

                  مجھے ایک دفعہ حرم شریف میں میں جا رہا تھا تو ایک شخص بوڑھا آدمی تھا وہ نماز پڑھ رہے تھے، اس کے سامنے سے ایک عورت گزری، اس نے نماز توڑی، کہتے ہیں: المرأۃ امامي وانا شافعي! کہ بھئی عورت میرے سامنے سے گزر گئی میں شافعی ہوں، ان کی نماز ٹوٹ جاتی ہے، ان کے سامنے کوئی عورت گزر جائے تو ان کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنے مسلک پر عمل کرنے والا تھا نا؟ غصہ بھی ہو گیا کہ یہ کیسے میرے سامنے عورت گزری مطلب میری نماز توڑ دی؟ تو اسی طریقے سے مطلب یہ کہ ہمیں بھی خیال رکھنا چاہیے نا، اپنے اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں میرا حج خراب نہ ہو، کہیں میری نماز خراب نہ ہو، ان تمام چیزوں کا خیال رکھنا پڑے گا، تو اب یہ جو لوگ اپنے بالوں کو بچانے کے لیے، میں حیران ہوتا ہوں خدا کے بندے اتنا سارا خرچ کر کے تم وہاں چلے گئے، صرف چند بالوں کو بچانے کے لیے اپنا سارا حج خراب کر رہے ہو، یہ کون سی محبت ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ؟ یہ تو بالوں کی محبت اللہ کی محبت پہ غالب آ گئی! تو کس لیے تم وہاں پر گئے تھے؟ ہاں! تو یہ باتیں مطلب سیکھنی چاہئیں نا، مطلب انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ میں جو عمل کر رہا ہوں اس کی قیمت مجھے کیا دینی پڑ رہی ہے؟

                  مجھے ایک صاحب کی بات بڑی اچھی لگی ہے ہمارے ساتھی ہیں بڑے ذہین بچے ہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے calculate کیا کہ حج پر کتنا خرچ ہوتا ہے؟ اور اس خرچ کو پھر میں نے گھنٹوں پہ تقسیم کیا، کہ کتنے گھنٹے مجھے یہاں مل رہے ہیں پورے حج میں، اس کو گھنٹوں پہ تقسیم کیا وہ اتنے روپے بن جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں میں چند پیسوں کو بچانے کے لیے یعنی میں بازار کا چکر لگاؤں اور دو ریال میں بچاؤں اس سے زیادہ تو میں خرچ کر چکا ہوں، میں کما رہا ہوں یا گنوا رہا ہوں؟ یہ سوچ، صحیح سوچ ہے نا؟ مطلب آپ نے جتنا خرچ کیا ہے آپ اگر اس کو معمولی سی چیز کے لیے اس کو ضائع کر لیتے ہو تو کیا مسئلہ ہے؟ یہ تو عقلمندی نہیں ہے نا؟ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ بہت سارے لوگ حج کر لیتے ہیں لیکن اصل میں انہوں نے حج نہیں کیا ہوتا، سیر کیا ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں یہ آتا ہے، ایک وقت ایسا آئے گا کہ مالدار لوگ سیر کے لیے حج پہ جائیں گے، مالدار لوگ سیر کے لیے حج پہ جائیں گے، غریب لوگ بھیک مانگنے کے لیے جائیں گے اور علماء شیخی جتانے کے لیے جائیں گے کہ میں نے اتنے حج کیے ہوئے ہیں۔ اب بتائیں ذرا ہمیں آئینہ نظر آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ بالکل آئینہ نظر آ رہا ہے بالکل ہی ایسی بات ہے آج کل۔ تو اس کا مطلب ہے ہم لوگوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، حج اتنا بڑا عمل ہے ایک حج کر لو عمر بھر میں آپ کا کام پورا ہو گیا، لیکن صحیح طریقے سے کرو۔ بجائے اس کے کہ دس حج کر لو اور کوئی بھی حج قبول نہ ہو، ہاں! تو کیا فائدہ؟ تو ایک حج سیکھو جب بھی جاؤ تو اچھی طرح سیکھو، اور یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے الحمدللہ چھوٹی بڑی کتابیں موجود ہیں۔ ایک تو یہ کرو۔ دوسرا یہ کہ اس کے لیے باقاعدہ حکومت کی طرف سے بھی انتظام ہوتا ہے، حاجی کیمپ میں باقاعدہ سکھایا جاتا ہے تو جن کو حج کرنا ہوتا ہے وہ اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور جو گروپوں میں جاتے ہیں وہ گروپوں والے بھی انتظام کرتے ہیں، اس وقت ٹائم نہیں ہوتا ہمارے ساتھ۔ نہیں بھئی! یہ اللہ پاک نے ایک موقع دیا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سارے کا سارا حج کو سیکھو اور اگر سمجھ نہیں آئے تو پوچھ سکتے ہو۔ اور ماشاءاللہ جن علماء کرام نے حج کیا ہے ان سے آپ سیکھ سکتے ہیں، ان سے آپ معلوم کر سکتے ہیں کتابیں بھی موجود ہیں۔ بہرحال یہ تو بات لمبی ہو گئی میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ اب ایامِ حج آ گئے، تو ایامِ حج کے بارے میں کیا بات ہے وہ بتاتا ہوں سبحان اللہ!

                  اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ 

                  سبحان اللہ! کیا پیارے الفاظ ہیں۔ 

                  اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ؕ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ۖ وَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِo 

                  سبحان اللہ! 

                  قرآن بہت ہی بلاغت والی کتاب ہے، الفاظ ایسے چنے جاتے ہیں نا کہ بالکل موتیوں کی طرح ہوتے ہیں آدمی اگر اس پر غور کرے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں حج کے چند متعین مہینے ہیں، یہ مہینے شروع ہو گئے ہیں۔ شوال کے بعد یہ مہینے شروع ہو گئے۔ یہ حج کے مہینے ہیں۔

                  اللہ اکبر! 

                  بہت معاملہ گڑبڑ ہو گیا ہے بہت معاملہ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسائل بڑھ رہے ہیں۔ پہلے سعودیہ قانون یہ تھا کہ ان ایام میں، میں خود اس میں تھا، ان ایام میں اگر کوئی عمرہ کے لیے جائے، اگر کوئی عمرہ کے لیے جائے تو اس کو حج لازمی کرنا ہوتا اور ائرپورٹ پر ہی اس کا پاسپورٹ لیا جاتا اور اس پہ حج کا ویزا (Visa) لگوایا جاتا پھر واپس کر لیتا، ایک دن کا کام ہوتا تھا وہ ان دنوں میں اگر کوئی عمرہ کے لیے جاتا وہ بغیر حج کے واپس نہیں آ سکتا تھا، یہ قانون ہے 

                  اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ۔

                  اب معاملہ یہ ہے کہ ابھی دیکھو نا عمرہ کے لیے لوگ گئے ہیں واپس آ جائیں گے بغیر حج کیے، سارا معاملہ گڑبڑ ہو رہا ہے ہر طرف سے مسائل ہی مسائل ہیں لوگ مسائل کی پروا ہی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ میرے اوپر خود گزرا ہے، میں امریکہ سے آ رہا تھا اور مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ قانون یہ بن گیا ہے، تو ایسا ہوا کہ پاسپورٹ میں نے دے دیا اب سب کے ٹکا ٹک لگ رہے تھے میرا پاسپورٹ ایک طرف رکھ دیا، میں نے کہا یا اللہ خیر پتا نہیں کیا بات ہو گئی اس میں کوئی گڑبڑ ہے یا کیا بات ہے؟ ایک تو Language کا مسئلہ بھی ہوتا ہے نا؟ خیر وہ ایسا ہوا کہ ایک اور آدمی کا پاسپورٹ بھی رکھ لیا اور باقی سب ان کو جانے دے رہے۔ پھر پولیس والے آ گئے پولیس والوں نے پاسپورٹ لے لیے اور ایک طرف چل دیے، میں نے کہا یہ تو اس کا مطلب ہے پکی بات ہے کوئی مسئلہ ہو چکا ہے۔ اب میں دوڑ کے پولیس والوں کے پیچھے چلا گیا میں نے کہا پاسپورٹ کدھر لے جا رہے ہو؟ کہتے ہیں آپ مطار قدیم سے صبح لے لینا۔ میں نے کہا اب میں کیا کروں؟ کہتے ہیں آپ عمرہ کریں۔ اب پاسپورٹ کے بغیر عمرہ کرنا کوئی آسان بات ہے؟ لیکن اللہ کا شکر ہے کر تو لیا۔ اگلے دن گیا میں حیران ہوں کہ پاسپورٹ لیا کیوں ہے؟ اب وہ بتائے بھی نہیں کہتے ہیں 535 ریال دے دو، میں نے کہا کیوں دے دوں آخر وجہ کیا ہے؟ بس دے دو۔ اچھا خیر جب میں مجبور ہو گیا میں نے 535 ریال دے دیے تو اس نے پاسپورٹ واپس کیا تو اس پہ حج کا ویزا لگا ہوا تھا۔ سبحان اللہ! حالانکہ میرا خیال تھا کہ میں اس پہ request کروں گا کہ مجھے حج کا ویزا دے دو، میرا خیال تو یہ تھا وہ بغیر request کے حج کا ویزا مجھے دلوا دیا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، لیکن بہرحال قانون یہ تھا اس وقت، اس وقت یہ قانون تھا۔

                  حج کے چند متعین مہینے ہیں چنانچہ جو شخص ان مہینوں میں احرام باندھ کر اپنے اوپر حج لازم کر لے، تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے، نہ کوئی گناہ، نہ کوئی جھگڑا۔ 

                  تین باتیں منع ہیں بہت سخت،   تین باتیں منع ہیں کیا ہے؟ 

                  فحش بات نہ کرے، کوئی گناہ نہ کرے اور جھگڑا نہ کرے.

                   کمال کی بات ہے کہ تینوں چیزوں کا امکان اس میں بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ آنکھوں کی حفاظت مسئلہ: وہاں پر عورتیں بھی تو حج کریں گی نا؟ حج انہوں نے بھی تو ادھر ہی کرنا ہے نا، خانہ کعبہ کے گرد طواف بھی کرنے ہیں، سعی بھی کرنی ہے، آپ نے بھی ادھر سعی کرنی، آپ نے بھی ادھر طواف کرنا ہے، تو اب یہ بات ہے کہ اچھا پھر مسئلہ ہے کہ نقاب چہرے کے ساتھ نہیں لگنا چاہیے اب اس سے ان لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا کہ بالکل کھلا رہنا چاہیے حالانکہ ایسی بات نہیں ہے، اس کے لیے ایک چھجا سا بناؤ اس کے اوپر نقاب ڈالو تاکہ چہرے کے ساتھ نہ لگے لیکن نقاب ہو جائے، لیکن وہ پروا نہیں کرتے تو بہرحال یہ ہے کہ وہ ساتھ ہی جا رہی ہوں گی آپ کی، تو نظر کی حفاظت تو بہت مشکل ہو جائے گی تو رفث سے بچنا آسان تو نہیں ہے۔ اس طرح گناہ، مطلب یہ کہ آپس میں لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اتار چڑھاؤ ہو جاتا ہے غیبت شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی مطلب یہ کہ آپ کے جوتے پڑے ہوئے ہیں دوسرے نے بغیر اجازت کے وہ لے گیا، تو اس کو بھی گناہ ہو گیا کیونکہ بغیر اجازت کے لے گئے اور بہت ساری چیزیں ہیں، فریج میں چیزیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں بغیر پوچھے اس کو استعمال کرنا شروع کر لیتے ہیں، یہ چیزیں عام ہیں مطلب اس طرح ہوتی ہیں، تو یہ گناہ کی چیزیں ہیں تو گناہ کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، جھگڑے کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ بعض دفعہ جگہ محدود ہوتی ہے اس میں سارے لوگوں کو آنا ہوتا ہے تو اس میں پھر لڑائی جھگڑے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ تو ان تین چیزوں سے خصوصی طور پر رکنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں مجاہدہ۔ انسان کے نفس کی طرف سے جو ابال آتا ہے کہ میں یہ کروں اور شریعت کہتا ہے تو نے نہیں کرنا، یہاں مجاہدہ شروع ہو جاتا ہے، یہ مجاہدہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو حج کے اندر یہ مجاہدہ سب کو کروایا جاتا ہے اور مجاہدے سے انسان کی تربیت ہوتی ہے۔ اگر کسی نے اس کو بطورِ مجاہدہ لیا اور برداشت کر لیا ان شاءاللہ حج سے واپس آئے گا تو بالکل بدلا ہوا آئے گا، بالکل بدلا ہوا آئے گا۔ لیکن اگر برداشت نہیں کیا اور لڑائی میں مبتلا ہو گیا یا گناہ میں مبتلا ہو گیا یا رفث میں مبتلا ہو گیا تو پہلے جتنا بگڑا ہوا تھا اس سے زیادہ بگڑ کے آئے گا، اس سے زیادہ بگڑ کے آئے گا۔ کیونکہ علماء کرام لکھتے ہیں کہ حج جو ہے یہ کسوٹی ہے بالخصوص حجرِ اسود، اس کے سامنے جس پوزیشن میں جس کیفیت میں آپ گزر رہے ہیں وہ سٹیمپ (stamp) ہو جاتا ہے پھر وہ change اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک آپ دوبارہ اس کے سامنے نہ گزریں۔ اب اگر آخری مرتبہ اگر آپ سے کچھ گڑبڑ ہوئی ہے اور اب دوبارہ گزرنے کا چانس ہی نہیں ملا توبہ کا چانس ہی نہیں ملا اور ادھر آ گئے پاکستان میں وہ تو پھر عمر بھر لگا رہے گا، وہ تو پھر بڑا مشکل ہے دور کرنا، اس وجہ سے بہت محتاط رہنا پڑے گا، بالخصوص طواف کے دوران بہت محتاط رہنا پڑے گا، کہیں میری کوئی کیفیت ایسی گڑبڑ کی نہ ہو جس کی وجہ سے بعد میں مجھے بھگتنا پڑے۔

                  تو یہاں پر یہ فرمایا 

                  اور تم میں جو کوئی نیک کام کرو گے اللہ اسے جان لے گا

                   مطلب یہ اللہ پاک کو پوری طرح علم ہے اس کا۔ 

                  اور حج کے سفر میں زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو۔

                  یہ دیکھو قرآن چونکہ بلاغت اس میں بے انتہا ہے تو میں اس پر بات کروں گا ان شاءاللہ۔

                   کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو! میری نافرمانی سے ڈرتے رہو۔

                  اب یہ کیا چیز ہے زادِ راہ؟ 

                  اللہ اکبر! 

                  دیکھیں میں آپ سے بات کروں حج پہ انسان کا اچھا خاصا خرچ ہوتا ہے اس وجہ سے حج کون سے لوگ کرتے ہیں؟ مالدار کرتے ہیں یا غریب کرتے ہیں؟ مالدار پر ہی فرض ہے غریب پر تو فرض ہی نہیں ہے، ٹھیک ہے؟ اب آپ کو الحمدللہ اپنے ہوٹل پر کھانا میسر ہے کیونکہ اس میں شامل ہوتا ہے، پیسے آپ کے جیب میں ہیں آپ کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں، آپ فضول خرچی نہ کریں بس اپنے ضروری کھانا پینا کر لیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہاں لگتی ہیں سبیلیں، نیک لوگ وہاں پر بہت سارے وہ لاتے ہیں سبیلیں لگتی ہیں کوئی پانی تقسیم کر رہا ہے کوئی جوس (Juice) تقسیم کر رہا ہے کوئی دودھ سے تقسیم کر رہا ہے کوئی روٹی تقسیم کر رہا ہے ان کو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے نیت کی کہ کسی کو دبا کے کسی کو دھکا دے کر میں زیادہ لے لوں تو کہاں پر آپ کر رہے ہیں یہ؟ کہاں پر کر رہے ہیں؟ یہ بڑی بات ہے۔ اور ضرورت بھی نہیں ہے آپ کو، ایک تو ہو کہ آپ غریب ہوں تو چلو پھر کچھ معافی کی گنجائش نکل سکتی ہے لیکن آپ مالدار ہیں تب آپ کے اوپر حج فرض ہے، آپ کس لیے چھتری کو الٹا کر کے وہ اچھل اچھل کے اس کو لے رہے ہو؟ یہ کیا بات ہے؟ یہ چیز ریکارڈ نہیں ہو رہی؟ یہ چیز ریکارڈ ہو رہی ہے، اور پھر وہی بات ہے کہ جب ادھر آتے ہیں تو اس سے زیادہ حریص بن جاتے ہیں۔

                  اس وجہ سے میں اپنے اکثر ساتھیوں سے عرض کرتا رہتا ہوں آپ ہمارے ساتھیوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کو کہتا ہوں خدا کے بندو اپنا لائن (Line) بھی change نہ کرو اس کے لیے، اگر اس لائن میں تقسیم ہو رہا ہے اور آپ اس لائن میں جا رہے ہیں تو اس کی طرف دیکھو بھی نہیں۔ وہ آپ کے لیے نہیں ان کے لیے ہے بس آپ چھوڑو، پھر اللہ تعالیٰ کا ایک عجیب نظام ہے۔ یا اللہ! اگر آپ نے اس کی طرف نہیں دیکھا اور ان لوگوں نے آپ کو دیکھا، اصل میں تو اللہ نے آپ کو دیکھا، اصل میں تو اللہ نے آپ کو دیکھا۔ ان لوگوں کو نظر آیا کہ بھئی یہ آدمی نہیں لے رہا وہ خود آپ کے پاس لائیں گے، وہ خود آپ کے پاس لائیں گے، جو عزت کے ساتھ دے رہا ہے ضرور لے لو ہدیہ ہے، جو عزت کے ساتھ دے رہا ہے وہ ضرور لے لو وہ ہدیہ ہے، اس کی انکار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن تم جو اچھل اچھل کے لے رہے ہو یہ چیز ٹھیک نہیں ہے حاجی کے لیے، حاجی کے لیے یہ چیز ٹھیک نہیں ہے۔

                  اسی طرح ہم جا رہے تھے،یہ جو ہوتا ہے جمرات، اس پہ ہم جا رہے تھے، تو میں نے سب ساتھیوں سے کہا میں نے کہا بالکل آپ نے ان کی طرف دیکھنا نہیں ہے اگر آپ کی لائن میں نہیں تو پروا نہ کرو بس جاتے جاؤ۔ ہاں کوئی خود اگر اپنے ہاتھ میں آپ کو دے دیتا ہے عزت کے ساتھ وقار کے ساتھ آپ کو دے رہا ہے تو پھر لے لو کیونکہ ظاہر ہے ہدیہ ہے، اچھا ہم جا رہے ہیں آنکھیں نیچے کیے ہوئے جا رہے ہیں، پولیس والوں نے روک دیا۔ حیران ہو گئے بھئی پولیس والے نے ہمیں کیوں روکا مسئلہ کیا ہے؟ پوچھا کیا بات ہے؟ پیچھے اشارہ کیا، کارٹن (Carton) پڑے ہوئے تھے یہ لے لو، پولیس والے دے رہے ہیں یعنی زبردستی دیا جا رہا ہے، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اب لے لو، اب لینا ضروری ہے کیونکہ یہ کفرانِ نعمت ہے، اگر ہم نہیں لیتے تو یہ کفرانِ نعمت ہے لیکن اس کی طرف جانا نہیں ہے۔ لہٰذا دیکھیں نا یہاں پر کیا فرمایا

                  اپنے ساتھ زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو

                  یعنی آپ کے پاس اتنے پیسے ہونے چاہئیں کہ آپ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں۔ خود اپنا خرچ کرو۔ مجھے حضرت تسنیم الحق صاحب رحمتہ اللہ جو فاضلِ دیوبند تھے انہوں نے نصیحت کی تھی جب حج پہ جا رہا تھا، فرمایا پیسے نہ بچاؤ وہاں پر وقت بچاؤ، پیسے نہ بچاؤ وہاں وقت قیمتی ہے پیسے تو مل جائیں گے بعد میں وہ وقت پھر نہیں ملے گا۔ تو پیسے نہ بچاؤ وقت بچاؤ، اگر آپ حرم شریف کے لیے ایک گھنٹہ بچا سکیں تو یہ آپ کی کمائی ہے اور ایک گھنٹہ آپ نے پیدل جانے پر دو ریال بچانے کے لیے لگائے تو وہ آپ کا ایک گھنٹہ ضائع ہو گیا۔ لہٰذا آپ وقت بچاؤ پیسے نہ بچاؤ، یہ بات۔

                  تو بہرحال یہ عرض کرتا ہوں۔ پھر فرمایا

                  کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔

                  اب تقویٰ کیا چیز ہے؟ یہی بات ہے کہ آپ کی ایک تو سوال نہ کرو، ایک تو سوال نہ کرو دوسرا یہ کہ دل کا سوال بھی نہ کرو، دل کا سوال کیا ہے؟ اشرافِ نفس۔ یعنی آپ کے دل میں ہے کہ مجھے یہ دے دے۔ ایک دفعہ ایک بہت بڑے بزرگ تھے فاقے سے تھے تو ان کے شاگرد کو پتا چل گیا کہ یہ تو فاقے سے ہیں تو ظاہر ہے وہ خوان پورا تیار کر کے لائے حضرت کے سامنے رکھ دیا بڑی محبت کے ساتھ، اس نے کہہ دیا بیٹا آپ نے بڑی محبت کی اللہ آپ کو اجر دے لیکن میں کھانے سے معذور ہوں۔ وہ حیران ہو گئے حضرت میرا مال تو حلال ہے مجھ میں حرام تو نہیں ہے تو آپ کیوں انکار فرما رہے ہیں؟ میں تو آپ کے لیے لایا ہوں۔ انہوں نے کہا نہیں بیٹا آپ کا مال حرام نہیں ہے لیکن جب آپ جا رہے تھے تو میرے دل میں آیا تھا کہ آپ میرے لیے کچھ لا رہے ہیں، تو یہ چونکہ اشرافِ نفس ہے اور یہ حرام ہے تو میں آپ سے نہیں لے سکتا۔ وہ شاگرد بھی آخر اسی کا شاگرد تھا نا معمولی آدمی نہیں تھا، اس نے کہا حضرت میں آپ کو حرام کھلاؤں گا؟ بالکل نہیں۔ اٹھا کے باہر چلا گیا اور تھوڑی دیر پھر واپس آ گیا حضرت اب تو آپ کے دل میں خیال نہیں آتا نا؟ کہتے ہیں ہاں، کہتے ہیں اب کھا لیں۔ کہتا ہے ٹھیک ہے بالکل اب میں کھاتا ہوں۔ تو اب دیکھو شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے، جو حلال کھاتا ہے اس کو حلال کھلایا جاتا ہے، لیکن جو ذرا تھوڑا سا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک بڑی عجیب نصیحت فرمائی: ایک دفعہ گھوڑا ان کے ساتھ تھا زین اس کے اوپر تھی، کسی صاحب سے کہا میں نماز پڑھتا ہوں ذرا آپ تھوڑے سے گھوڑے کا خیال رکھیں۔ اندر چلا گیا نماز پڑھی باہر واپس آ گیا تو گھوڑا موجود ہے زین موجود نہیں ہے اور آدمی بھی موجود نہیں، انہوں نے کہا "اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ" اس کا مطلب وہ لے گیا، پاس ہی کباڑی کا بازار تھا وہاں تشریف لے گئے وہی زین پڑی ہوئی تھی، اس کا مطلب اس نے بیچ دی تھی، تو انہوں نے کہا جی زین کتنے کا دو گے؟ کہتے ہیں ابھی کوئی دو درہم کا دے چکا ہے۔ تو اس نے اس سے خرید لیا کہتے ہیں افسوس یہی دو درہم تو میں نے ان کو دینے کی نیت کی تھی بطورِ اجرت، کیونکہ وہ میرے گھوڑے کی حفاظت کر رہا تھا، لیکن اس نے اپنے حلال کمائی کو حرام بنا دیا، حلال کمائی کو حرام بنا دیا! اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ بچتے ہیں حرام سے اللہ ان کو حلال کھلاتا ہے پھر، ان کے لیے حلال کا بندوبست ہو جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ ذرا جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں بس ہمیں جلدی مل جائے تو پھر ٹھیک ہے جی بس جو اس نے کر لیا اس نے کر لیا۔ تو لہٰذا وہاں پر بھی بات ہے کہ بہترین زادِ راہ کیا ہے؟ تقویٰ ہے، نہ زبان سے سوال کرو نہ دل سے سوال کرو، اللہ سے سوال کرو نا، اللہ سے سوال کرو اللہ سے سوال کرنا منع نہیں ہے، اللہ کے سامنے رو بھی، اللہ کے سامنے گڑگڑاؤ یا اللہ مجھے بھوک لگی ہے میرے پاس پیسے نہیں یا اللہ مجھے کھلا دیں۔ بالکل اجر بھی ملے گا اور کھانا بھی ملے گا، کھانا بھی ملے گا بالکل ملے گا۔ وہاں ایسی باتیں ہم نے دیکھی ہیں۔ میری عینک گم ہو گئی اور عینک بھی نظر کی اور ایک ہی عینک تھی میرے پاس اس وقت، اور نظر کی عینک بنانا کوئی آسان بات تو نہیں ہوتی دوسری جگہ پہ، بڑا پریشان ہو گیا حرم شریف تھا حرم شریف کے صحن میں تھا مطاف میں، میں نے دعا کیا یا اللہ میری عینک گم ہو گئی ہے یہ عینک مجھے مل جائے، بس یہی میں کر سکتا تھا اور کیا کر سکتا تھا؟ اچھا اب میں واپس جا رہا ہوں ڈھونڈ تو لیا تھا نہیں ملا، اب میں واپس جا رہا ہوں ایک عینک پڑی ہوئی تھی مڑی تڑی، میں نے کہا یہ کسی اور کی عینک ہے تو چلو میں نے اٹھا کے وہ جو گمشدہ چیزیں ہوتی ہیں نا ان کے پاس لے گئے کہ یہ عینک مجھے ملی ہے اس کو رکھ لو اگر کسی کی ہو تو دے دینا، میری بھی عینک گم ہو گئی ہے وہ اگر آپ کے پاس آئی ہو تو بتا دینا، کہتے ہیں میرے پاس تو ابھی کوئی نہیں آئی۔ اچھا اچانک میری اس عینک پہ نظر پڑی اس میں ایک نشانی تھی وہ نشانی مجھے نظر آئی میں نے کہا یہ تو عینک میری ہے، وہ اصل میں Foldable تھی وہ نہیں ہوتے جو ٹوٹتی نہیں ہے نا مطلب اگر موڑ توڑ دیں اس قسم کی بات وہ کسی نے پتا نہیں کیوں کیا تھا لیکن وہ عینک اس طرح تھی، تو پھر میں نے دیکھا میں نے کہا یہ تو میری۔ میں نے کہا او ہو معافی چاہتا ہوں یہ تو میری عینک ہے مل گئی، کہتے ہیں بڑی بڑی اچھی بات ہے، اب دیکھو کیا بات ہوئی پہلے بھی تو میں دیکھ رہا تھا نا لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ سے مانگ لیا تو مل گیا۔ تو اسی طریقے سے وہاں پر کیا طریقہ ہے؟ کوئی مشکل ہو تو اللہ کے سامنے حاضر ہو جاؤ، اللہ کے سامنے حاضر ہو جاؤ، اللہ پاک سے مانگو "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ" کی تفسیر آپ کو ملے گی وہاں، عبادت بھی اللہ کی کرنی ہے طواف بھی اللہ کے لیے کرنا ہے نماز بھی اللہ کے لیے پڑھنا ہے حج بھی اللہ کے لیے کرنا ہے اور مانگنا بھی اللہ تعالیٰ سے ہے، وہاں آپ کو یہ دونوں چیزیں اللہ پاک دکھائے گا ادھر لیکن ذرا اپنا حوصلہ رکھو، جلدی نہ مچاؤ، جلدی نہ مچاؤ، جو جلدی مچاتا ہے اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ جل شانہ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے آپ کو بھی۔ باتیں تو بہت اہم اہم باتیں رہ گئیں لیکن کیا کریں ٹائم کی بات ہے وقت کم ہوتا ہے، اللہ جل شانہ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے عمل کی اور آپ کو بھی۔

                  وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔


                  سفرِ حج: مقاصد، فقہی مسائل کی اہمیت، آداب اور زادِ راہِ تقویٰ - جمعہ بیان