اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ؕ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿257﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَأْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ﴿258﴾
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے؛ وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں۔ وہ سب آگ کے باسی ہیں؛ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ﴿257﴾
یہاں پر ولی کا لفظ آیا ہے کہ اللہ مومنین کا ولی ہے۔ تو یہاں رکھوالا سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور دوسری جگہ پر:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ۖ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ؕ
آگاہ ہو جاؤ اللہ مومنوں کا ولی ہے، جن کو نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے، اور وہ ایمان لا چکے ہوں گے اور تقویٰ اختیار کیا ہو گا۔
یہاں پر ولی جو آیا ہے رکھوالا، تو اس کا نتیجہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ پاک ظلمات سے، اندھیریوں سے روشنی کی طرف ان کو لے جاتا ہے۔ چونکہ یہاں تقویٰ کا ذکر نہیں ہے، خالص ایمان کا ذکر ہے۔ تو ایمان کے ساتھ انسان کے اعمال ثابت ہوتے ہیں۔ تو اب جو لوگ ایمان لائے تو اللہ جل شانہ نے ان کی رہنمائی فرمائی ہے قرآن کے ذریعے سے اور پیغمبروں کے ذریعے سے۔ تو اس کے ذریعے سے اللہ جل شانہ ان کو کفر کے اندھیریوں سے، گناہوں کے ظلمات سے نکال کر نیکی کی طرف، ایمان کی طرف اور نیکی کی طرف لاتے ہیں۔
تو وہاں پر رکھوالے کی تعریف یہ ہو گئی کہ جو لوگ بھی ایمان لائے ہیں ان کو اللہ پاک اچھے اعمال کی طرف لاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو چھڑاتے ہیں، بد دینی سے ان کو بچاتے ہیں، دین کی طرف ان کو لاتے ہیں قرآن اور سنت کے ذریعے سے اور اللہ جل شانہ اپنے جو نظام ہے اس کے ذریعے سے۔ جبکہ جہاں پر اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ، وہاں پر جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ صرف یہ نہیں بات ہے کہ وہ اندھیروں سے ان کو نکالتے ہیں، وہ تو عام ایمان میں شامل ہے۔ لیکن ان کو مزید یہ بات ہے کہ ان کو نہ خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے،
in best position میں ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو کہ تقویٰ اختیار کر چکے ہوں گے، یعنی ایمان کے ساتھ تقویٰ بھی ہو گا۔ پس اگر صرف ایمان ہے تو اس لحاظ سے بھی بہت بڑی بات ہے کہ کفر کے اندھیریوں سے تو بچا ہوا ہے، کفر کے اندھیریوں سے تو بچا ہوا ہے، لہٰذا ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہیں رہے گا۔ لیکن اگر ساتھ تقویٰ بھی اختیار کر لے پھر اللہ جل شانہ ان کو خوف اور حزن سے بھی بچا لیں گے۔
تو یہاں پر اب ہمارے لیے چونکہ آگے بات آتی ہے نا، اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ، یعنی جن کے پاس ایمان نہیں ہو گا ان کا نتیجہ تو یہ ہے کہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ تو ایمان کی وجہ سے وہ کفر کے اندھیریوں سے اور یہ ہمیشہ کے دوزخ سے بچ جاتے ہیں۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۤجَّ اِبْرٰهِيْمَ فِيْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ ۙ قَالَ اَنَا۠ اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ؕ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ؕ
کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا؟ جب ابراہیم نے کہا کہ: ”میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی“ تو وہ کہنے لگا کہ: ”میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتار دوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کرکے آزاد کردوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں۔ ظاہر ہے کہ اس کا یہ جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہورہی تھی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اتر آیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مگر لاجواب ہوکر حق کو قبول کرنے کے بجائے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے قید کیا، پھر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا جس کا ذکر قرآن کریم نے سورۂ انبیاء (21:68 تا 71) سورۂ عنکبوت میں آیا ہے۔
تو ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھا، یعنی اس وقت جب اس نے کہا کہ موت میں بھی دیتا ہوں تو ابراہیم نے کہا: ”اچھا! اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ۔“
اب یہ چیز چونکہ بلکل سامنے کی بات تھی
اس پر وہ کافر مبہوت ہوکر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ﴿258﴾، تو اس کو ہدایت نہیں ہوئی، مانا نہیں۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ہدایت کی دولت سے نوازے اور مستقل ہدایت پر قائم رکھے اور ایمان کے ساتھ ہماری مدد فرمائے اور ایمان و تقویٰ کے ساتھ۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔