سچائی کی حقیقت اور صادقین کی پہچان

درس نمبر 68- باب الصدق (اشاعتِ اول)، 14 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآنی آیت "کونو مع الصادقین" کی تفسیر۔

صادقین سے مراد (صحابہ کرام، ابوبکر و عمرؓ، مہاجرین اور تائب صحابہ)۔

عالم اور صالح کی اصل پہچان: ظاہر و باطن کی یکسانیت۔

قول کی سچائی بمقابلہ عمل کی سچائی۔

قرآن میں عورتوں کے لیے مخصوص اسلوبِ خطاب اور اس کی حکمت (پردہ و اعزاز)۔

قیامت تک حق پر رہنے والی جماعت اور امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ۔


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم النبيين أما بعد!

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (توبة: 119)

صدق الله العلي العظيم۔

ارشادِ خداوندی ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔

یہاں سے ریاض الصالحین کی جلد اول کا چوتھا باب شروع ہو رہا ہے، جو "باب الصدق" ہے۔

ایمان والوں کو خطاب کرکے کہا جا رہا ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ اس آیت کا مصداق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مراد محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے کو کہا جا رہا ہے کیونکہ ان کی نیتیں خالص ہیں، دل بے لوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے کہ یہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سچے ارادے سے تبوک کی طرف نکلے اور منافقوں کی طرح مت ہو جاؤ کہ جنہوں نے آپ ﷺ کا ساتھ نہیں دیا۔

علامہ ضحاک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ہے کہ ان کے ساتھ ہو جاؤ۔

"اَلصَّادِقِیْنَ" بقول ابن جریر کے مراد مہاجرین صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں یا مراد وہ تین صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں جو غزوہٴ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے کہ انہوں نے دل سے گناہ کا اعتراف کیا اور (منافقوں کی طرح) جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔

بعض مفسرین رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت میں صادقین کہا گیا ہے علماء و صلحاء نہیں فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ ہو جاؤ کیونکہ صادقین کا لفظ فرما کر عالم و صالح کی پہچان بتادی کہ صالح و عالم وہی شخص ہو سکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو اور عمل کا بھی سچا ہو۔

اس آیت میں سب مسلمانوں کو خطاب ہے اور قیامت تک کے لئے خطاب ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں کم از کم ایک جماعت تو سچی موجود ہوگی۔

وَقَالَ اللہ تَعَالٰی: ﴿وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ﴾ (الاحزاب: 35)

"اور سچے مرد اور سچی عورتیں۔"

تشریح: اس آیتِ کریمہ میں مرد اور عورت دونوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اس سچے ہونے میں صادق القول ہونا بھی داخل ہے اور صادق العمل ہونا بھی اور ایمان اور نیت میں بھی سچا ہونا داخل ہے یعنی مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایسے ہوتے ہیں کہ نہ ان کے کلام میں کوئی جھوٹ ہوتا ہے نہ عمل میں کم ہمتی اور سستی اور نہ ہی ریاکاری (نفاق) وغیرہ۔

ایک ضروری تنبیہ

اس آیتِ شریفہ میں مرد اور عورت دونوں کو اللہ جل شانہ نے خطاب فرمایا حالانکہ عموماً قرآنِ مجید کا اسلوب تو یہی ہے کہ خطاب مردوں کو کیا جاتا ہے عورتیں خود ضمناً ان میں شامل ہوتی ہیں، اس میں اشارہ ہوتا ہے کہ عورتوں کے تمام معاملات ستر اور پردہ پوشی کے ساتھ ہونے چاہئیں، اسی میں ان کا اکرام و اعزاز ہے۔ قرآنِ مجید میں عموماً اس قانون پر عمل کیا جاتا ہے مثلاً امرأۃ فرعون، امرأۃ نوح، امرأۃ لوط وغیرہ إلا حضرت مریم علیہا السلام کے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب کسی باپ کی طرف نہیں ہو سکتا تھا اس لئے ان کو ان کی ماں حضرت مریم علیہا السلام کی طرف مجبوراً منسوب کیا جاتا ہے۔

تو سچا ہونا یہ بہت بڑی بات ہے، لیکن سچے ہونے میں ایک ہوتا ہے قول کی سچائی، ایک ہوتا ہے عمل کی سچائی۔ قول کی سچائی تو یہ ہے کہ جو کہہ رہا ہے وہ ٹھیک ہو، درست ہو، اس میں جھوٹ نہ ہو۔ اور عمل کی سچائی یہ ہے کہ انسان ٹھیک ٹھیک عمل کرے، اس میں خیانت نہ کرے، جس طریقے سے کہا گیا ہے اسی طریقے سے عمل کر لے۔ تو یہ عمل کی سچائی ہوگی اور اس میں ریاکاری وغیرہ نہ ہو۔

بہرحال یہ ہے کہ ہمیں حکم ہے قیامت تک کہ سچوں کے ساتھ رہیں۔ تو سچوں کے ساتھ رہنے کا مطلب ہے کہ اس وقت موجودہ حالت میں جو سچے ہیں ان کے ساتھ ہمیں رہنا چاہیے۔ اور یہ چونکہ اس کی پہلے سے بشارت ہے کہ اس امت میں اخیر وقت تک سچے لوگ رہیں گے، وہ حق پر جمے رہیں گے۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان کی تلاش کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔

اب ظاہر ہے بالآخر جب آخری وقت آئے گا تو امام مہدی علیہ السلام سچے ہوں گے، ان کے ساتھ جو لوگ ہوں گے وہ سچے ہوں گے۔ لہٰذا سب کو حکم ہوگا کہ ان کے ساتھ ہو جاؤ۔ اور دجال جھوٹا ہوگا، مکار ہوگا، اس سے دور ہونے کی طرف مطلب ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں ہر حال میں خود بھی سچا ہونا چاہیے اور سچوں کے ساتھ رہنا بھی چاہیے۔

سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين برحمتك يا أرحم الراحمين۔


سچائی کی حقیقت اور صادقین کی پہچان - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور