اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق "مکتوبات شریف" کا درس ہوتا ہے۔ یہ چونکہ علوم کا ایک خزانہ ہے، لہذا اس کی طرف جتنی توجہ کی جائے گی اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بزرگوں کے فیوض و برکات عطا فرمائے جائیں گے۔
اللہ جل شانہ ہمیں توفیق عطا فرما دے کہ ان کو اچھی طرح سنیں، اچھی طرح سمجھیں اور پھر اس کے مطابق صحیح عمل بھی کر لیں۔
یہ اصل میں اس وقت جو مکتوبِ شریف چل رہا ہے، یہ بھی لمبا مکتوب ہے، مکتوب نمبر 266۔ یہ حضرت پیرزادگان خواجہ عبداللہ، خواجہ عبیداللہ کی طرف صادر فرمایا تھا جو حضرت کے شیخ، ان کے صاحبزادگان ہیں، خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے۔ تو چونکہ اس میں اب بہت اہم باتیں آ رہی ہیں عقائد کے لحاظ سے، لہذا ہمیں اس کو بہت توجہ کے ساتھ سننا چاہیے۔
عقیدہ (3) اور حق تعالیٰ کسی چیز کے ساتھ متحد نہیں ہے اور اسی طرح کوئی چیز بھی اس سبحانہ کے ساتھ متحد نہیں ہو سکتی۔ اور بعض صوفیہ کی عبارات سے جو کچھ اتحاد کا مفہوم لیا جاتا ہے وہ ان کی مراد کے خلاف ہے کیونکہ ان کی مراد اس کلام سے جس سے اتحاد کا وہم ہوتا ہے اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ سے یہ ہے کہ جب فقر تمام ہو جائے اور نیستی محض (فنائیت) حاصل ہو جائے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا، نہ یہ کہ وہ فقیر خدائے تعالیٰ کے ساتھ متحد ہو جاتا ہے اور خدا بن جاتا ہے کیونکہ یہ کفر اور زندقہ ہے تعالیٰ اللّٰہُ سُبْحَانَہ عَمَّا یَتَوَھّمُ الظَّالِمُونَ عُلُواَ کَبِیراَ
اصل میں یہی والی بات ہے کہ جب اپنے آپ کو فنا کر دیا، تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ اب تم اپنی طرف نسبت کر ہی نہیں سکتے، تو اللہ کی طرف ہی نسبت کرو گے۔ تو یہ جو نسبت ہے تمہاری، وہ تو ٹھیک ہے اللہ کی طرف۔ لیکن یہ بات ہے کہ یہ نہیں کہ تمہاری طرف اللہ کی نسبت کی جائے گی بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ جو بھی چیز ہو گی اس کی اللہ کی طرف نسبت ہو گی کہ اللہ نے کیا۔ میں آپ کو کیا بتاؤں؟ فنائیت۔ فنائیت کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان غائب ہو جائے گا، وہ ہو گا نہیں ادھر۔ نہیں! انسان ادھر ہے لیکن وہ اپنی نظروں میں نہیں ہے۔ ایک ہوتا ہے اپنی نظروں میں گر جانا، ایک ہوتا ہے اپنی نظروں میں غائب ہو جانا۔ تو اپنی نظروں میں غائب ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی چیز کے اندر فاعل نہیں پاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے، فاعلِ حقیقی وہی ہوتا ہے۔ وہ فاعلِ حقیقی کا concept اتنا clear ہو جاتا ہے کہ فعلِ مجازی اس میں گم ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ فعلِ مجازی اس میں گم ہو جاتا ہے۔
میں آپ کو کیا کہوں؟ اصل میں واقعتاً یہی سب سے بڑا دھوکہ ہے انسان جو خود اپنے آپ کو دیتا ہے کہ انسان جتنی چیزوں کو جانتا ہے اتنے کا اقرار کر لیتا ہے، پھر جب آگے اس کو سمجھ نہیں آتی تو کہتا ہے باقی سارا کچھ خود بخود ہوتا ہے۔ خود تو سمجھ لیتا ہے، خدا کو سمجھتے نہیں ہیں۔ یعنی خود تک آ جاتے ہیں لیکن خدا تک نہیں جاتے۔ حالانکہ بھئی جو تمہاری سمجھ سے باہر ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں خود بخود ہو رہا ہے۔ بہت ساری چیزیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں لیکن خود تو نہیں ہوتیں، کوئی کر رہا ہے۔ کوئی کر رہا ہوتا ہے، خود بخود تو نہیں ہوتا۔ تو یہ جو کرنے والا ہے اس کا جو سلسلہ ہے کرنے کا ہوتے ہوتے ہوتے کہاں تک جاتا ہے؟ اللہ تک جاتا ہے۔ تو جس کے تمام واسطے درمیان سے غائب ہو گئے اور آخری واسطے کے جس پر بات کھل گئی تو کہے گا اللہ ہی کرتا ہے۔ اللہ ہی کرتا ہے، تو بات تو صحیح ہوتی ہے۔ تو ایسا شخص جو ہوتا ہے یہ اپنے آپ کو بھی گم کر لیتا ہے باقی تمام چیزوں کو گم کر لیتا ہے، اسی کو فنائیت کہتے ہیں۔ اور یہ یہاں پر یہ والی بات ہے "إِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَهُوَ اللَّهُ" جس وقت فقر تمام ہو گیا یعنی نیستی محض حاصل ہو جائے تو پھر اس کا مطلب ہے اللہ جل شانہ کا ادراک حاصل ہو گیا۔ اللہ کیسے ہے اِس کا نہیں، اللہ پاک کی فاعلیت کا۔ اللہ کی ذات کا تو نہیں ہو سکتا ادراک۔ وہ تو وہ تو وراءالوراء ہے۔ البتہ اللہ پاک کی فاعلیت کا کہ اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے۔
دیکھو، انبیاء کرام سے ایک فقرہ بار بار قرآن پاک میں منقول ہے اور وہ کیا ہے؟
إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللهِ
اس سے پہلے کیا ہے؟ میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا۔
لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللهِ
میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا، إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللهِ، بے شک میرا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اچھا اب یہ دیکھیں نا، یہ ساری چیزیں پھر اس سے نکلی ہیں نا۔ میرے پاس آیا ایک ٹیکسٹ میسج۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے ایک پیراگراف ہے کہ میں نے اخلاص ایک حجام سے سیکھا۔ کہتے ہیں کہ میرے بال بڑھ گئے تھے تو میرے شیخ نے مجھے کہا جاؤ بال ٹھیک کرواؤ۔ کہتے ہیں میں حجام کے پاس گیا، پیسے تو تھے نہیں، تو میں نے اس سے کہا کہ کیا خدا تعالیٰ کے لیے میرے بال درست کر دو گے؟ اس نے کہا اچھا خدا کے لیے؟ اس جو سامنے بیٹھا ہوا تھا اس کو ہٹا دیا، اور اس کو کہتے ہیں تم بیٹھ جاؤ۔ اس کے بال درست کر دیے۔ تو کہتے ہیں میں نے اسی وقت ارادہ کیا کہ اگر مجھے کچھ پیسے مل گئے نا تو میں ان کو دوں گا اس کا معاوضہ۔ کہتے ہیں بعد میں اللہ پاک نے پیسے دے دیے، بزرگ بھی بن گئے۔ کہتے ہیں میں اس حجام کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچ گیا، میں نے کہا یہ آپ کے وہ پیسے ہیں جو میں نے آپ سے بال بنوائے تھے۔ کہتے ہیں اس نے مجھے دیکھا، کہتے ہیں جنید بزرگ تو بن گئے لیکن اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جاتا ہے اس کا معاوضہ مخلوق سے نہیں لیا جاتا۔ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا معاوضہ مخلوق سے نہیں لیا جاتا۔ اب یہی والی بات ہے نا کہ یہ ساری باتیں اسی سے نکلی ہیں۔ جتنا جتنا اللہ جل شانہ کی فاعلیت کا ادراک ہو، اللہ کی محبت کا ادراک ہو، اللہ کے علم کا ادراک ہو، اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک ہو، تو مخلوق نکلتا جائے گا درمیان سے، مخلوق درمیان سے نکلتا جائے گا۔ تو یہی فنائیت ہے۔ تو جو مخلوق کا درمیان سے نکلنا ہے، سب سے اخیر میں انسان خود نکلتا ہے۔ اخیر میں انسان خود بھی نکل جاتا ہے۔ تو یہ جو چیز ہے، یہ اُس end پر فنائیت ہے، اِس end پر انانیت ہے۔ From Ananiyat to Fanaiyat، بہت لمبا سفر ہے۔
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
بڑا لمبا سفر ہے۔ جس وقت انسان انانیت پر ہوتا ہے تو جو کام اللہ کرتا ہے وہ بھی اپنے پر، میں نے کیا ہے۔ کیا کہتا ہے؟ میں نے کیا، میں نے یہ کیا، میں نے یہ کیا، میں نے یہ کیا۔ اور جس وقت فنائیت آ جاتی ہے تو خود اپنا ختم، اللہ نے کیا، اللہ نے کیا، اللہ نے کیا، اللہ نے کیا، ہر چیز میں۔ اس کو نظر آ رہا ہوتا ہے یہ نہیں کہ وہ ویسے غلو کر رہے ہوتے ہیں یا ویسے احسان جتلا رہے ہوتے ہیں نعوذ باللہ من ذالک، وہ اس کا حال ہوتا ہے، وہ سمجھتا ہے اس کو۔ اس کو سمجھتا ہے کہ اللہ پاک کر رہے ہیں۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے، اللہ اکبر اللہ اکبر۔
اور ہمارے حضرت خواجہ (باقی باللہؒ) قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ انا الحق سے یہ مراد نہیں ہے کہ "میں حق ہوں" بلکہ مطلب یہ ہے کہ "میں نہیں ہوں حق سبحانہ موجود ہے"۔
یعنی اپنے آپ کو فنا کر کے۔ تو حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے غالباً ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ فرعون نے اللہ کے وجود کو اپنے ذہن سے محو کر کے کہا تھا "أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلىٰ" اور منصور نے اپنے آپ کو فنا کر کے "انا الحق" کہا تھا۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو میں نظر آ رہا ہوں وہ بھی میں نہیں ہوں۔ سمجھ میں آ رہی بات؟ یعنی بظاہر جو میں کر رہا ہوں وہ میں نہیں کر رہا اللہ کر رہا ہے۔
وہ جو میں ہوں وہ بھی تو ہے
یہ میرے خیال میں مکتوباتِ رشیدیہ ذرا نکالیں۔ وہ جو میں ہوں وہ بھی تو ہے، یہ حال بہت سارے بزرگوں پہ آتا ہے۔ تو حضرت پر بھی حال آیا تھا۔
عرض داشت از حضرت قطب العالم مولانا گنگوہیؒ قدس سرہ بخدمت مرشد برحق قدوۃ الواصلین اعلیٰ حضرت حاجی صاحب قدس سرہ
مکتوب 13
حضور نے جو بندۂ نالائق کے حالات سے استفسار فرمایا ہے۔ میرے ماوائے دارین اس ناکس کے کیا حالات اور کس درجہ کی کوئی خوبی ہے جو آفتابِ کمالات کے روبرو عرض کروں۔ بخدا سخت شرمندہ ہوں کچھ نہیں ہوں مگر جو ارشاد حضرت ہے تو کیا کروں بنا چارے کچھ لکھنا پڑتا ہے۔
حضرت مرشد من علم ظاہری کا تو یہ حال ہے کہ آپ کی خدمت سے دور ہوئے غالباً عرصہ سات سال سے کچھ زیادہ ہوا ہے اس سال تک دوسو سے چند عدد زیادہ آدمی سندِ حدیث حاصل کر کے گئے اور اکثر ان میں وہ ہیں کہ انہوں نے درس جاری کیا اور سنت کے احیاء میں سرگرم ہوئے اور اشاعتِ دین ان سے ہوئی اور اس شرف سے زیادہ کوئی شرف نہیں اگر قبول ہو جاوے۔ اور حضرت کے اقدامِ نعلین کی حاضری کے ثمرہ کا یہ خلاصہ ہے کہ جذرِ قلب میں غیر حق تعالیٰ سے نفع و ضرر کا التفات نہیں۔ واللہ بعض اوقات اپنے مشائخ کی طرف سے علیحدگی ہو جاتی ہے لہٰذا کسی کے مدح و ذم کی پرواہ نہیں رہی۔ اور ذام و مادح کو دور جانتا ہوں اور معصیت کی طبعاً نفرت اور اطاعت کی طبعاً رغبت پیدا ہو گئی ہے اور یہ اثر اسی نسبت یادداشتِ بیرنگ کا ہے جو مشکوٰۃِ انوارِ حضرت سے پہنچا ہے۔ پس زیادہ عرض کرنا گستاخی اور شوخ چشمی ہے۔ یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے۔ جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل ہے، تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں۔ اور وہ جو میں ہے وہ تُو ہے اور میں اور تُو خود شرک در شرک ہے۔
أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔ اب عرض سے معذور فرما کر قبول فرمائیں۔ والسلام 1306 ہجری
تو یہ اصل میں یہ احوال ہیں، انسان کے اوپر آتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو فنا جانتا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ۔
عقیدہ (4) اور تغیر و تبدل کو اس تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی راہ نہیں ہے فَسُبْحَانَ مَنْ لاَّ یَتَغَیَّرُ بِذَاتِہٖ وَلَا بِصِفَاتِہٖ وَ لَا فِیْ اَفْعَالِہٖ بِحُدُوْثِ الْاَکْوَانِ (پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی ذات و صفات اور افعال میں کائنات (موجودات) کے حدوث (حوادث) سے متغیر نہیں ہوتی)،
اور جو کچھ صوفیہ وجودیہ نے تنزلاتِ خمسہ کے بارے میں اثبات کیا ہے وہ مرتبہ وجوب میں تغیر و تبدل کی قسم سے نہیں ہے کیونکہ وہ کفر و گمراہی ہے بلکہ ان تنزلات کو حق تعالیٰ کے کمال کے ظہورات کے مراتب میں اعتبار کیا ہے بغیر اس بات کے کہ حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی تغیر و تبدل راہ پائے۔
عقیدہ (5): اور حق تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور افعال میں غنی مطلق ہے اور کسی امر (کام) میں بھی کسی چیز کا محتاج نہیں ہے اور جس طرح وجود میں محتاج نہیں ہے اسی طرح ظہور میں بھی محتاج نہیں ہے ـــ اور یہ جو بعض صوفیہ کی عبارات سے مفہوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے اسمائی و صفاتی کمالات کے ظہور میں ہمارا محتاج ہے۔ یہ بات فقیر پر بہت گراں ہے بلکہ جانتا ہے کہ ان (مخلوق) کی پیدائش سے مقصود خود ان کے اپنے کمالات کا حاصل ہونا ہے نہ کہ وہ کمال جو حق تعالےٰ و تقدس کی بارگاہ کی طرف عائد ہو سکے۔ آیہ کریمہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (زاریات 51 آیت 56) ای لیعرفون
یہاں پر بھی ای لیعرفون خود حضرت نے فرمایا ہے۔
(اور میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ یعنی معرفت کے لئے) اسی مطلب کی تائید کرتی ہے ـــ لہذا جن و انس کی پیدائش سے مقصود ان کو معرفت کا حصول ہے جو کہ ان کے لئے کمال ہے، نہ یہ کہ ایسا امر جو حق سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف عائد ہو سکے ـــ اور یہ حدیث قدسی میں آیا ہے: فَخَلَقْتُ الخَلْقَ لِاَعْرَفَ (میں نے مخلوق کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ پہچانا جاؤں) اس جگہ بھی ان کی اپنی معرفت مراد ہے نہ یہ کہ میں (یعنی حق تعالیٰ) معروف ہو جاوں اور ان کی معرفت کے توسل سے کمال حاصل کروں۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ عُلُوًا کَبِیرًا
عقیدہ (6) حق تعالیٰ نقص کی تمام صفتوں (اقسام) اور حدوث کے تمام نشانات سے منزہ اور مبرا ہے،
نقص نہیں ہو سکتا۔
جس طرح وہ جسم و جسمانی نہیں ہے مکانی و زمانی بھی نہیں ہے بلکہ تمام صفات کمال اسی کے لئے ثابت ہیں، جن میں سے آٹھ صفات کمال وجود ذات تعالیٰ و تقدس پر وجود زائد کے ساتھ موجود ہیں۔ اور وہ آٹھ صفات: حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین (پیدا کرنا) ہیں، اور یہ صفات خارج میں موجود ہیں، اور ایسا نہیں ہے کہ وجود ذات پر وجود زائد کے ساتھ علم میں موجود ہیں
یعنی علم میں موجود ہونے کا مطلب کہ یعنی اس کی حقیقت باہر نہیں ہے، جیسے میں نے کچھ خیال کیا تو وہ خیال میں ہے باہر تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تو یہ نہیں کہ صفتِ علم میں ہے بلکہ یہ موجود ہے باہر، ان کی اپنی حقیقت موجود ہے یعنی آپ کہہ سکتے ہو۔
اور خارج میں نفس ذات تعالیٰ و تقدس ہیں جیسا کہ بعض صوفیہ وجودیہ نے گمان کیا ہے اور کہا ہے
ازروئے تعقل ہمہ غیر اند صفات
باذات تو ازروئے تحقق ہمہ عین
(عقل کہتی ہے صفات اغیار ہیں
سچ یہ ہے وہ ذات میں ہیں عین ذات)
کیونکہ اس میں درحقیقت صفات کی نفی ہے اس لئے صفات کی نفی کرنے والے یعنی معتزلہ اور فلاسفہ نے بھی تغائر علمی اور اتحاد خارجی کہا ہے اور تغائر علمی سے انکار نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ علم کا مفہوم عین مفہوم ذات تعالیٰ و تقدس ہے یا عین مفہوم قدرت و ارادہ ہے، بلکہ عینیت وجود خارجی کے اعتبار سے کہا ہے۔ لہذا جب تک یہ (صوفیہ) وجود خارجی کے تغایر کا اعتبار نہ کریں صفات کے انکار کرنے والوں میں سے نہیں نکلتے، کیونکہ تغائر اعتباری کچھ نفع نہیں دیتا، کما عرفت جیسا کہ تو نے سمجھ لیا۔
عقیدہ (7) اور حق تعالیٰ قدیم اور ازلی ہے اور اس کے سوا کسی کے لئے "قدم و ازل" ثابت نہیں، تمام ملتوں کا اس پر اجماع ہے اور جو شخص بھی حق جل و علا کے سوا کسی غیر کے قدم و ازلیت کا قائل ہوا اس کی تکفیر کی ہے ـــ امام غزالیؒ نے اسی وجہ سے ابن سینا اور فارابی اور ان جیسے عقائد والوں کی تکفیر کی ہے جو عقول و نفوس کے قدم کے قائل ہیں اور ہیولیٰ اور صورت کے قدیم ہونے کا گمان رکھتے ہیں اور آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو بھی قدیم جانا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں فلسفے کے شر سے محفوظ فرمائے۔ فلسفہ کا جو شر ہے نا وہ یہاں تک پھر چلا جاتا ہے کہ انسان وہ جو کافروں کی جو چیزیں تھیں نا جو انہوں نے اپنے ذہن سے سوچ کر بنائی ہیں، ان کو عقیدوں میں داخل کر لیتے ہیں۔ یونانی فلسفی تھے نا، یونان والے مسلمان تھوڑے تھے۔ تو انہوں نے سوچا اور اپنے سوچ سے انہوں نے جو ماڈلز بنا دیے، thinking models، اس ماڈل کو فلسفہ کہتے ہیں ان ماڈلز کو۔ deep thinking فلسفہ ہے نا، تو انہوں نے بہت سوچا، غور سے کچھ سوچ سے انہوں نے ماڈلز بنائے کہ یہ بات اس طرح ہو سکتی ہے، اس طرح ہو سکتی ہے، اس طرح ہو سکتی ہے۔ اگر آج کل کے لوگوں میں ذرا دیکھتے ہو تو یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، شمس الدین عظیمی، سلسلہ عظیمی، وہ اس قسم کے سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مراقبہِ حال اسی لیے بنائے ہوتے ہیں، اور وہ مراقبے اس قسم کے کراتے ہیں۔ بس ایک hint دیں گے پھر اس کے اوپر لوگ سوچیں گے، اور پھر جو سوچ ہو گا اس کو کمال سمجھیں گے میرے ذہن میں یہ آیا یا میرے ذہن میں وہ آيا، اور پھر اس کو بیان کر دیں گے۔ جاننا چاہتے ہو تو روحانی ڈائجسٹ کو دیکھ لو، ان کی چیزیں موجود ہیں اس میں۔ بڑی بڑی باتیں کریں گے، اللہ پاک بچائے، بڑی بڑی باتیں کریں گے، حالانکہ ہماری سوچ بہت محدود ہے۔ ہم کہاں اور ان باتیں کی۔ ہاں قرآن و سنت کے قریب قریب چلیں تو پھر فائدہ ہے۔ یہاں سے سگنل ملے کہ بھئی اس ایریا میں نہ گھسو، تو بس پھر فوراً رک جائیں۔ اب دیکھ لیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ وہ معرفت جو ظنی ہے، اس سے اگرچہ آپ کو فائدہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر آپ اس سے یقینی چیز کو زائل کر دیں تو پھر؟ نقصان ہو جائے گا۔ تو اپنی یقینی چیز کو کیوں خراب کرتے ہو؟ یقینی چیز تو قرآن و سنت ہے۔ تو اپنی جو سوچ ہے وہ تو ظنی ہے، اپنی کشفیں بھی ظنی ہے، اپنی خوابیں بھی ظنی ہے۔ لہذا اپنی خوابوں، اپنی سوچوں، اپنی کشفوں کو قرآن و سنت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ اگر قرآن و سنت اجازت دیتے ہیں تو مانو ورنہ چھوڑو۔
امام غزالیؒ نے اسی وجہ سے ابن سینا اور فارابی اور ان جیسے عقائد والوں کی تکفیر کی ہے جو عقول و نفوس کے قدم کے قائل ہیں اور ہیولیٰ اور صورت کے قدیم ہونے کا گمان رکھتے ہیں اور آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو بھی قدیم جانا ہے ـــ اور ہمارے خواجہ حضرت (باقی باللہ) قدس سرہ فرماتے تھے کہ "شیخ محی الدین بن العربیؒ کاملین کی ارواح کے قدیم ہونے کے قائل ہیں۔" اس بات کو ظاہر کی طرف سے پھیر کر تاویل پر محمول کرنا چاہئے تاکہ اہل ملت کے اجماع کے مخالف نہ ہو۔
عقیدہ (8) اور حق تعالیٰ قادر مختار ہے۔ ایجاب کی آمیزش اور اضطرار کے گمان سے منزہ اور مبرا ہے۔
قادرِ مختار۔ قادرِ مختار سے مراد کیا ہے؟ قادر بھی ہے اور جو کرنا چاہتا ہے کرے۔ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ۔
بے عقل فلاسفہ نے کمال کو ایجاب میں جان کر واجب تعالیٰ سے اختیار کی نفی کر کے اس کے ایجاب کا اثبات کیا ہے، اور ان بے عقلوں نے ذات واجب تعالیٰ و تقدس کو بیکار سمجھا ہے اور سوائے ایک مصنوع کے کہ وہ بھی ایجاب سے ہے زمین و آسمان کے خالق سے صادر نہ جان کر حوادث کے وجود کو عقل فعال کی نسبت دی ہے جس کا وجود ان کے وہم کے علاوہ کہیں ثابت نہیں ہے۔ اور ان کے فاسد زعم میں حق سبحانہ و تعالیٰ سے ان کو کچھ کام نہیں ہے۔ لازمی طور پر چاہئے تھا کہ اضطراب و اضطرار کے وقت اپنی عقل فعال کی طرف التجا کرتے اور حضرت حق سبحانہ کی طرف رجوع نہ کرتے۔
یعنی جب تو وہ کچھ کام کرتا ہی نہیں ہے تو پھر آپ اس سے کیسے مانگتے ہیں؟ اب اس بات کو ہم کیسے رد کریں گے؟ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" ہم تیری بات کرتے ہیں تو تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ لہذا یہ درمیان کی چیزیں ختم، چاہے وہ کتنی بڑی کیوں نہ ہوں۔ اللہ نے ان کو بڑائی دی ہو گی اس میں کوئی شک نہیں، ان کو اللہ تو نہیں بنایا نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو بس وہ ٹھیک ہے جی بڑے ہوں گے یقیناً، لیکن ہم تو اللہ ہی سے مانگیں گے اور اللہ پاک ہی کی عبادت کریں گے، ٹھیک ہے نا؟
کیونکہ ان کے نزدیک حوادث کے وجود میں اس تعالیٰ کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ اور کہتے ہیں کہ عقل فعال ہی حوادث کی ایجاد سے تعلق رکھتی ہے۔
عقلِ فعال۔ میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بعض مثالیں بعض کے لیے جال بن جاتی ہیں۔ بعض مثالیں بعض کے لیے جال بن جاتی ہیں، اس لیے تو کہتے ہیں نا قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ قریب قریب رہنا چاہیے۔ اب دیکھیں ہم کہتے ہیں کہ ہمارے جسم میں تین چیزیں ہیں، عقل ہے اور نفس ہے اور قلب ہے تین چیزیں۔ اس وجہ سے اس سے بات اوپر چلی گئی کہ اللہ پاک نے ایک سسٹم بنایا، جو سسٹم بنایا وہ تو اللہ نے بنایا لیکن باقی کام سارا وہ سسٹم کرتے ہیں۔ جیسے ہم لوگ مثال، میں نے کہا مثالوں سے انسان پھنس جاتے ہیں، ہم لوگ سمجھیں کہ انسان نے ایک سافٹ ویئر بنایا، اب وہ انٹیلیجنٹ سسٹم اس نے بنایا، آرٹیفیشل انٹیلیجنٹ، اور اب وہ سارا کام وہ کر رہا ہے وہ انسان کچھ نہیں کر رہا۔ تو بس ٹھیک ہے جی جس طرح اس کو اللہ پاک نے بھی، اللہ پاک کو بھی ایسے سمجھا۔ حالانکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اللہ کے ارادے سے ہوتا ہے، مرید ہے اللہ پاک۔ جو کچھ کر رہا ہے وہ اللہ ہی کر رہا ہے، پہلے end سے آخری end تک وہ اللہ ہی کر رہا ہے۔ باقی چیزیں استعمال ہو رہی ہیں، ان کو استعمال بھی اللہ کر رہا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ وہ کسی اور کے حوالے نہیں کیا کہ اب تم کرو میں تو فارغ ہوں۔ ایسا نہیں ہے۔ تو اب ہم لوگ اپنی چیزوں کے اوپر بنیاد بنا کر پھر اللہ کے لیے بھی ایسے سوچنے لگتے ہیں، تو ایسا تو نہیں ہے، ایسا تو نہیں ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ذرا قرآن و سنت، فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ۔ وہ فعال ہے، عقلِ فعال نہیں ہے، بلکہ اللہ فعال ہے، فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ، وہ فعال ہے جو چاہتے ہیں اس کے لیے وہ کرتا ہے۔ اور جس چیز کو کرنا چاہتا ہے، "إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" جس وقت کسی چیز کا ارادہ کر لے تو کہہ دے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے۔ تو اس کے لیے تو اسباب مؤثر نہیں ہیں، اسباب تو اس نے ہمارے لیے بنائے ہیں۔ وہ تو بغیر اسباب کے سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور جو اسباب کرتے ہیں وہ بھی وہی کرتا ہے۔ وہ بھی وہی کرتا ہے۔ وہ کون سا شعر ہے وہ جس میں قلم ہے ہاتھ میں؟ ہاں اس میں ہے کہ وہ جو ہے نا اس پر قلم پر نظر ہے تو قلم جس کے ہاتھ میں ہے اس پر بھی نظر ہے، لیکن اس ہاتھ کو جو چلا رہا ہے اس پر بھی نظر ہونی چاہیے۔
قلم ہے ہاتھ میں میرا مگر لکھوائے وہی
بات زبان سے میں نکالوں مگر بتائے وہی
لوگ قلم پر تو نظر رکھتے ہیں پر ہاتھ پہ نہیں
اور کہاں اس پہ ہو کہ ہاتھ کو ہلائے وہی
تو مطلب یہ ہے کہ ایک شیخ سے کسی کو فائدہ ہو رہا ہے، تو اس پر تو لوگوں کی نظر ہوتی ہے، لیکن اس شیخ کو جو استعمال کیا جا رہا ہے اس پر بھی تو نظر ہونی چاہیے نا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔
بلکہ وہ تو عقل فعال سے بھی رجوع نہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک بلیات کے دفع کرنے میں بھی ان کا اختیار نہیں ہے۔ یہ بدنصیب (فلاسفہ) اپنی بے وقوفی اور حمایت میں فرقہ ضلالہ سے بھی آگے بڑھ گئے حالانکہ کافر بھی بخلاف ان بدبختوں کے حق سبحانہ و تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں اور بلاؤں کے دفعیہ کو اسی تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں ـــ تمام گمراہ اور بے دین فرقوں کی نسبت ان بدبختوں میں دو چیزیں زیادہ ہیں ایک یہ کہ احکام منزلہ کا کفر اور انکار کرتے ہیں اور اخبار مرسلہ کے ساتھ عداوت و دشمنی رکھتے ہیں۔
اخبارِ مرسلہ یعنی جو اللہ پاک نے باتیں بھیجی ہیں۔
دوسرے یہ کہ اپنے بیہودہ اور واہی مطالب اور مقاصد کے ثابت کرنے میں بیہودہ مقدمات کو ترتیب دیتے ہیں۔
تاویلات کرتے ہیں اس کے لیے۔ یہ اس طرح اور یہ اس طرح
اور جھوٹے دلائل اور باطل شواہد کو عمل میں لاتے ہیں، اپنے مطالب و مقاصد کے ثابت کرنے میں جس قدر ان کو خبط لاحق ہوا ہے اور کسی بے وقوف کو اس قدر لاحق نہیں ہوا۔ آسمان اور ستارے جو ہر وقت بے قرار اور سرگرداں ہیں اپنے کاموں کا مدار ان کی حرکات اور اوضاع پر رکھا ہے۔
وہ نہیں ہوتے ستارہ شناس؟
اور آسمانوں کے خالق اور ستاروں کے موجد و محرک اور مدبر (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں ہیں اور دو راز معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ کیا ہی بے خرد اور کتنے بے وقوف ہیں، اور ان سے بھی زیادہ بے وقوف اور احمق وہ شخص ہے جو ان کو دانا سمجھتا اور عقلمند جانتا ہے ـــ ان کے منظم اور منضبط یعنی مرتب کردہ علوم میں سے ایک علم ہندسہ ہے جو محض لا یعنی بیہودہ اور لاطائل ہے۔ بھلا مثلث کے تینوں زاویوں کا دو زاویہ قائمہ کے برابر ہونا کس کام آئے گا اور شکل عروسی اور مامونی جو ان کے نزدیک بڑی مشکل اور جانکاہ ہے کس غرض کے لئے ہے ـــ علم طلب و نجوم اور علم تہذیب اخلاق جو ان کے تمام علوم میں سے بہترین علوم ہیں، انہوں نے گزشتہ انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات کی کتابوں سے چرا کر اپنے باطل اور بیہودہ علوم کو رائج کیا ہے، جیسا کہ امام غزالیؒ نے اپنے رسالہ "المنقذ عن الضلال" میں اس امر کی تصریح کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ آسمان کے جو ستارے اور اس کے اندر جو باقاعدہ پن ہے اللہ پاک نے بنایا ہے، اس کو کچھ اور چیزوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ قسمت وابستہ ہے۔
ایک دفعہ ایک نجومی نے صدر مشرف کو خط لکھا۔ یہاں راولپنڈی کا ایک نجومی ہے، غازی منجم۔ اس نے خط لکھا کہ ہمارا جو جھنڈا ہے یہ منحوس ہے۔ اس پہ سیٹنگ مون (Setting Moon) ہے۔ انہوں نے وزارتِ مذہبی امور کو mark کر دیا کہ اس پہ comment کرو۔ سیکرٹری صاحب نے میرے پاس بھیج دیا، خدا کی شان۔ فائل میرے پاس بھیج دی کہ آپ اس پہ بات کرو۔ میں نے کہا کہ اگر میں پہلے حدیث شریف لکھتا ہوں تو کہیں یہ بے ادبی نہ کر دے۔ بے ادبی نہ کر دے، ظاہر ہے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں بیچارے وہ جانتے نہیں ہیں۔ تو میں نے پہلے علامہ اقبال کا شعر کہا۔ میں نے کہا ہمارا شاعرِ مشرق کہتا ہے:
ستارہ کیا تجھے تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود ہی گردشِ افلاک میں خوار و زبوں
منہ تو ان کا اس سے بند ہو گیا نا؟ شاعرِ مشرق ان کے سامنے کر دیا اب لڑو ان کے ساتھ۔ اور پھر کہا کہ جو یہ کہتا ہے کہ ہمارے اس پر Setting Moon ہے یعنی چاند جو ہے Setting Moon ہے، تو وہ فلکیات کے الف ب سے بھی واقف نہیں۔ کیونکہ Setting Moon میں اور Rising Moon میں کوئی فرق نہیں ہوتا سوائے direction کے کہ ہم اس کو کس طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک کو مشرق میں دیکھتے ہیں، ایک کو مغرب میں دیکھتے ہیں۔ اس طرف بھی ہو گا تو اس طرح ہی نظر آتا ہے نا، تو کاغذ پر اگر آپ اس کو تصویر لے لیں اور اس طرف دیکھیں تو اس طرح نظر آئے گا۔ کاغذ پر تو اس میں کوئی فرق ہو گا؟ ٹھیک ہے نا؟ آپ نے تصویر لینا ہے، اس طرح plane کا لینا۔ اب دیکھو نا جو Rising Moon ہے وہ تو اس طرح ہے۔ ہم دیکھتے ہیں نا آج کل بھی نظر آئے گا۔ ہاں تو اس طرح اس طرح ہوتا ہے اور جس وقت اس طرف دیکھتے ہیں تو اس طرح نظر آتا ہے جو Setting Moon ہوتا ہے اس طرح نظر آتا ہے نا؟ آپ نے دونوں کی تصویریں لیں۔ کیا آپ ان دو تصویروں کے اندر فرق کر سکتے ہیں کہ یہ Setting ہے یا Rising ہے؟ کوئی فرق نہیں ہو گا۔ تصویر میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ہاں ایک live person کو جو دیکھ رہا ہے اس کو فرق ہے کیونکہ ایک مشرق میں دیکھ رہا ہے تو دوسرا مغرب میں دیکھ رہا ہے۔ اس کے لحاظ سے فرق ہو گا، تو میں نے کہا جو اس کے شکل میں فرق کا قائل ہے وہ تو فلکیات کا الف ب بھی نہیں جانتا۔ پھر حدیث شریف لکھی۔ میں نے کہا حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو ان چیزوں پہ یقین کرے گا اس کی چالیس دن کی مقبول نمازیں ضائع ہو جائیں گی۔ وہ حدیث شریف میں نے لکھ دی۔ سیکرٹری صاحب تک یہ بات پہنچ گئی، اس نے کہا اس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی، اسی پر دستخط کر کے صدر صاحب کو بھیج دیا۔ اللہ کا شکر ہے پاکستان کا جھنڈا بچ گیا۔ مطلب پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا کیا کارروائیاں کرتے۔ انہی حضرات کی برکت سے، الحمدللہ جی اللہ کا شکر ہے جی۔
اہل ملت اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے متبعین اگر دلائل و براہین میں غلطی کریں تو کچھ ڈر نہیں کیونکہ ان کے کام کا مدار انبیا علیہم الصلواۃ والسلام کی تقلید پر ہے اور اپنے مطالب عالیہ کے ثبوت کے لئے دلائل و براہین کو صرف بطور تبرع (بطور احسان) لاتے ہیں۔ یہی تقلید ان کے لئے کافی ہے، بخلاف ان بدبختوں کے جو تقلید سے نکل کر صرف دلائل کے ساتھ اپنے مطالب کو ثابت کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ضَلُّوا فَأَضَلُّواْ (یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔
حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کی دعوت جب افلاطون کو پہنچی جو ان بدنصیبوں کا سب سے بڑا سردار ہے تو اس نے کہا: نَحْنُ قَوم مُھْتَدَوُنَ لَا حَاجَۃَ بِنَا اِلیٰ مَنْ یَھْدِیْنَا (ہم ہدایت یافتہ قوم ہیں اور ہم کو ایسے شخص کی حاجت نہیں ہے جو ہم کو ہدایت دے)ـ اس بے وقوف کو چاہئے تھا کہ ایسے شخص کو جو مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور مادرزاد اندھے کو بینا (دیکھنے والا) اور ابرص (جذامی کوڑھی) کو اچھا کر دیتا ہے، جو (ان کی) حکمت کے قانون سے ناممکن ہے پہلے ان کو دیکھتا اور ان کے حالات دریافت کرتا (پھر جواب دیتا) بغیر دیکھے جواب دینا کمال درجہ دشمنی اور کمینہ پن ہے
فلسفہ چوں اکثرش باشد سفہ پس کل آں
ہم سفہ باشد کہ حکم کل حکم اکثر است
نَجَّانَا اللّٰہُ سُبْحَانَہ عَنْ ظُلُمَاتِ مُعْتَقِدَاتِھِمُ السُّوءِ (اللہ سبحانہ ان کے برے عقائد کی تاریکی سے ہم کو نجات دے) ـــ ان ہی ایام میں فرزندی محمد معصوم نے "جواہر شرح مواقف" کو پورا کیا ہے۔ اثنائے سبق میں ان بے وقوفوں (فلاسفہ) کی برائیاں واضح طور پر سامنے آئیں اور ان کی وجہ سے بہت فائدے مترتب ہوئے الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي هَدَانَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللّٰہُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہم کو ہدایت دی اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے، بیشک ہمارے رب کے رسول حق بات لیکر آئے) اور شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی (بعض) عبارتیں بھی ایجاب کی طرف ناظر ہیں اور قدرت کے معنی میں فلسفہ کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں کہ اس کے ترک کی صحت قادر (حق تعالیٰ) سے تجویز نہیں کرتے اور فعل کی جانب کو لازم جانتے ہیں۔
عجب معاملہ ہے کہ شیخ محی الدین (اللہ تعالیٰ کے) مقبولین میں سے نظر آتے ہیں لیکن ان کے اکثر علوم جو اہل حق کی آراء کے مخالف ہیں خطا اور نادرست ظاہر ہوتے ہیں شاید ان کو خطائے کشفی کے باعث معذور رکھا گیا ہے اور خطائے اجتہادی کی طرح ان سے ملامت دور کر دی گئی ہے۔
اصل میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بات کی ہے جو مجھے بہت پیاری لگی، مجھے بہت فائدہ ہوا اس سے۔ وہ نہ ہوتی تو صحیح بات ہے میں یہاں یہ درس ہی نہ کر سکتا۔ حضرت نے فرمایا کہ دیکھو فقہ میں بھی کچھ گنجائشیں ہوتی ہیں۔ گنجائشیں ہوتی ہیں اور ان گنجائشوں کے بغیر فقہ پر عمل ہی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ہم کسی کپڑے کو دھوتے ہیں، تو جیسے پانی بہاتے ہیں تو اوپر پانی رس جاتا ہے، تو پھر وہ بھی ناپاک ہو گیا۔ پھر اس کو پاک کرنے کے لیے اور پانی رس جائے گا، تو پھر وہ بھی ناپاک ہو گیا۔ تو اس طرح پورا پورا کرتے آپ کا تو پورا کپڑا ختم ہو جائے گا پاک نہیں ہوگا۔ تو یہ فقہ میں گنجائشیں ہیں۔ فرمایا اس طرح فقہ کے اندر گنجائش ہے اس طرح اس معرفت کی باتوں میں بھی گنجائشیں ہوں گی ورنہ انسانی چیزوں کو ٹچ ہی نہیں کر سکے گا۔ تو اب جو قرآن و سنت کے پیچھے چلنے والا ہو اور اس میں اگر خطا کر دے، حضرت نے ابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے بات کی کہ ان کی گنجائش ہے معافی کی۔ کیونکہ اجتہادی خطا ہے۔ لیکن جو ان چیزوں کو کچھ نہ سمجھے اور پھر اپنی بات کر لے تو وہ ان ساری باتوں کا ذمہ دار خود ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ابھی بات کی ہے نا تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی ہے۔ اپنی ساری باتوں کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ جب کہ جو خطائے اجتہادی والے ہیں تو حضرت کے ساتھ یہی بات ہے خطائے اجتہادی کی طرح ان سے ملامت دور کر دی گئی۔ حضرت نے بھی بات فرما دی۔ تو شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بات ماشاءاللہ کی ہے۔
شیخ محی الدین کے حق میں فقیر کا اعتقاد یہی ہے کہ ان کو مقبولین میں سے جانتا ہے اور ان کے ان علوم کو (جو اہل حق کے) مخالف ہیں خطا اور ضرر رساں دیکھتا ہے ـــ اس گروہ (صوفیہ) کے بعض لوگ ایسے ہیں کہ شیخ (موصوف) کو طعن و ملامت بھی کرتے ہیں اور ان کے علومِ مخالفہ کو بھی غلط اور نادرست سمجھتے ہیں۔ اور اس گروہ کے بعض لوگ شیخ (موصوف) کی تقلید اختیار کر کے ان کے تمام علوم کو درست جانتے ہیں اور دلائل و شواہد سے ان علوم کی حقیقت کو ثابت کرتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ہر دو فریق نے افراط و تفریط کا راستہ اختیار کیا ہے۔
یعنی جو ان کو غیر مقبول سمجھتے ہیں وہ بھی وہ تفریط ہے، اور جو ان کی وجہ سے ان کاموں کو صحیح سمجھتے ہیں وہ افراط ہے۔ فرمایا دونوں چیزیں ٹھیک نہیں ہیں۔ الحمدللہ آج اس میں حضرت نے کھل کے کلام فرمایا۔
اور میانہ روی سے دور ہو گئے ہیں، شیخ (موصوف) کو جو کہ اولیائے مقبولین میں سے ہیں خطائے کشفی کے باعث کس طرح رد کر دیا جائے اور ان کے علوم کو جو کہ صحت و صواب سے دور ہیں اور اہل حق کی رائے کے مخالف ہیں تقلید کی وجہ سے کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے: فَالحَقُّ ھُوَ التَّوَسُّطُ الَّذِی وَفَّقَنِی اللّٰہُ سُبحَانَہ بِمَنِّہ وَکَرَمِہِ (پس حق اسی میانہ روی میں ہے جس کی توفیق اللہ سبحانہ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے بخشی ہے)۔
اللہ جل شانہ ہمیں حضرت کے ان علوم کا وارث بنا دے اور ان کو جو ہے نا وہ اچھی طرح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بہت اعلیٰ علوم ہیں اور بہت ساری چیزیں صاف ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ یہ موضوعات ایسے ہیں کہ اس میں پھونک پھونک کے قدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنا انسان اس میں relax نہیں ہو سکتا۔ تو بہرحال جتنا ہم کر سکتے ہیں ان شاءاللہ کریں گے باقی تو اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست ہے۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔