عدت، نکاح اور طلاق کے اہم مسائل

درس نمبر 101، سورۃ البقرہ: آیت: 235 تا 237- (اشاعتِ اول) 03 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عدتِ وفات کے احکامات: بیوہ عورت کے لیے چار ماہ دس دن کی عدت کی اہمیت۔

پیغامِ نکاح کا سلیقہ: عدت کے دوران اشارے کنائے میں بات کرنے کی اجازت اور اس کی حکمت۔

طلاق اور مہر کے مسائل: خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق کی صورت میں مہر کی ادائیگی کے مختلف احوال۔

اسلامی اخلاقیات: طلاق جیسے تلخ مرحلے پر بھی فیاضی، احسان اور تقویٰ کو برقرار رکھنے کی تاکید۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا فَعَلْنَ فِی أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ ۝۲۳۴ وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُم بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ أَوْ أَکْنَنتُمْ فِی أَنفُسِکُمْ ۚ عَلِمَ اللہُ أَنَّکُمْ سَتَذْکُرُونَہُنَّ وَلٰکِن لَّا تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہٗ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِی أَنفُسِکُمْ فَاحْذَرُوہُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللہَ غَفُورٌ حَلِیمٌ ۝۲۳۵

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔

اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ کر جائیں، تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں گی۔ پھر جب وہ اپنی عدت کی میعاد کو پہنچ جائیں، تو وہ اپنے بارے میں جو کارروائی، مثلاً دوسرا نکاح، قاعدے کے مطابق کریں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

اور عدت کے دوران اگر تم ان عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو، یا ان سے نکاح کا ارادہ دل میں چھپائے رکھو، تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ان سے نکاح کا خیال تو دل میں لاؤ گے، لیکن ان سے نکاح کا دو طرفہ وعدہ مت کرنا، الّا یہ کہ مناسب طریقے سے کوئی بات کہہ دو۔

جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کو صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دینا اور یہ بات کر لینا جائز نہیں ہے۔

ہے کہ عدت کے بعد تم مجھ سے نکاح کروگی۔ البتہ اس آیت نے کوئی مناسب اشارہ دینے کی اجازت دی ہے جس سے وہ عورت سمجھ جائے کہ اس شخص کا ارادہ عدت کے بعد پیغام دینے کا ہے۔ مثلاً کوئی اتنا کہلوادے کہ میں بھی کسی مناسب رشتے کی تلاش میں ہوں۔

یہ اصل میں عدت، یہ گزشتہ شوہر کے ساتھ گویا کہ ایک Contact موجود ہوتا ہے۔ یعنی وہ اس کے اس میں ہوتی ہے۔ اس وجہ سے چونکہ شوہر کے ہوتے ہوئے وہ نہیں کرنا چاہیے، تو اس طریقے سے اس کا ایک اثر، ایک پرچھائی آپ کہہ سکتے ہیں موجود رہتی ہے کہ اس دوران میں اس کو نہ دیں۔

کیونکہ یہ نکاح جو ہے، یہ تو ماشاءاللہ ایک بہت پاک کام ہے، البتہ یہ ہے کہ اس کے لیے طریقے بھی ایسے ہونے چاہئیں۔ تو اس کو اس وقت تک تو واضح طور پر نہ کہا جائے اور نہ اس سے بات پکی کی جائے، البتہ اشارے کنائے میں اگر کوئی ایسی بات ہو جس سے وہ سمجھ جائے کہ ان کو بھی اس کی طلب ہے، کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مثلاً کوئی خاتون ہے، اس کو بھی اس کا پتا ہے اور اس کی بھی اس کی خواہش ہوتی ہے مثلاً کہ یہ اچھا ہے میرے لیے۔ تو ایسی صورت میں اگر وہ کوئی اشارے کنائے سے بات نہ کرے اور دوسرا اس کو عدت کے فوراً بعد کوئی بات کر لے، ان سے بات پکی ہو جائے، پھر تو نہیں ہو سکتا۔ تو اس کے ذہن میں ہو گا کہ ایسا کوئی ہے تو پھر مطلب وہ اپنا فیصلہ بہتر کر سکے گی۔ تو گویا کہ یہ درمیان کی ایک چیز ہے کہ نہ تو واضح طور پر بات کر لے تاکہ اس چیز کو نہ Damage کرے، وہ جو عدت والی بات ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کو کم از کم Information بھی ہو جائے گا، تو اس کو اپنا فیصلہ کرنے میں بہتر ہو گا یہ بات۔

اور نکاح کا عقد پکا کرنے کا اس وقت تک ارادہ بھی مت کرنا جب تک عدت کی مقررہ مدت اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے۔ اور یاد رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے؛ لہذا اس سے ڈرتے رہو؛ اور یاد رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔ (235)

لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةً وَّ مَتِّعُوْهُنَّ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ ﴿236﴾ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَ اَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ﴿237﴾

تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم عورتوں کو ایسے وقت طلاق دو جبکہ ابھی تم نے ان کو چھوا بھی نہ ہو، اور نہ ان کے لئے کوئی مہر مقرر کیا ہو۔ اور (ایسی صورت میں) ان کو کوئی تحفہ دو

یہ وہ صورت ہے جس میں دو مرد و عورت نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا، اور پھر دونوں کے درمیان خلوت کی نوبت آنے سے پہلے ہی طلاق ہوگئی؛ اس صورت میں شوہر پر مہر تو واجب نہیں ہوتا، لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑا دینا واجب ہے، اور کچھ مزید تحفہ دے دے تو زیادہ بہتر ہے۔ (اس تحفے کو اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے) اور اگر نکاح کے وقت مہر کی مقدار طے کرلی گئی تھی، پھر خلوت سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو اس صورت میں آدھا مہر واجب ہوگا۔


خوشحال شخص اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے مطابق بھلے طریقے سے یہ تحفہ دے۔ یہ نیک آدمیوں پر ایک لازمی حق ہے ﴿236﴾ اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی اس حالت میں طلاق دی ہو جبکہ ان کے لئے (نکاح کے وقت) کوئی مہر مقرر کرلیا تھا تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا (واجب ہے) الّا یہ کہ وہ عورتیں رعایت کردیں (اور آدھے مہر کا بھی مطالبہ نہ کریں) یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، رعایت کرے (اور پورا مہر دے دے) اور اگر تم رعایت کرو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور آپس میں فراخ دلی کا برتاؤ کرنا مت بھولو۔ جو عمل بھی تم کرتے ہو، اللہ یقیناً اسے دیکھ رہا ہے ﴿237﴾

اللہ جل شانہ ہمیں شریعت کی تمام باتوں پر جب جب موقع ہو، تو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔



عدت، نکاح اور طلاق کے اہم مسائل - درسِ قرآن - دوسرا دور