اللہ تعالیٰ کے بارے میں

(اشاعتِ اول) 8 مئی، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

   اللہ کا فضل بمقابلہ انسانی اعمال۲. نعمتِ الٰہی کا حق اور انسانی عجز۳. عبادت پر فخر کا انجام (۳۰۰ سالہ عابد کا واقعہ)۴. اللہ کے حضور محاسبے کے بجائے فضل کی طلب۵. علمیت کے زعم اور خود پسندی سے بچاؤ۶. اللہ کے سامنے اپنی کمزوری کا اظہار (پہلوانی کی نفی)۷. انبیاءِ کرام کا طریقِ عاجزی اور استغفار۸. بندگی کا اصل جوہر: "میں کچھ بھی نہیں"۹. خلاصہ: اللہ پر کسی چیز کا واجب نہ ہونا  

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


کوئی چیز خدا کے ذمے ضروری نہیں ہے۔ وہ جو کچھ مہربانی کرے اس کا فضل ہے۔

یہ بھی بہت ذرا مشکل بات ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جو عبادت کر رہے ہیں تو اس عبادت کو آپ لازم نہیں کر سکتے کہ اس سے مجھے جنت مل جائے گی۔ یہ ضروری نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ وہ جنت اللہ فضل سے ملے گی۔ اللہ کے فضل سے ملے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تو نے جو عبادت کی ہے تو اگر اللہ پاک تمہارے ساتھ حساب کر لے تو قرض دار ہو جاؤ گے۔ مثلاً اگر آپ سے اللہ پاک صرف ایک آنکھ کا حساب کر لے کہ تو کیا کرو گے؟ ظاہر ہے ساری چیزیں آپ کی اسی میں چلی جائیں گی۔

وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مثال کے طور پر ہے کہ ایک صاحب تھے، 300 سال اس نے عبادت کی تھی۔ تو اس کو اللہ نے کہا چلو ٹھیک ہے جی میں تجھے بخش دیتا ہوں۔ تو اس نے کہا وہ 300 سال عبادت جو میں نے کی تھی؟ انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ فرشتوں سے کہا اس کو ذرا جہنم کی سیر کراؤ۔ اب جہنم کی گرمی دور سے جھلسا دیتی ہے۔ تو اس کو بڑی سخت پیاس لگی۔ تو اس نے پانی مانگا۔ فرشتے نے کہا بھئی یہاں تو ہر چیز مول بکتی ہے۔ تم آدھی عبادت دے دو جو تو نے کی ہے۔ 150 سال کی۔ تو پھر تمہیں پانی ملے گا۔

اب اس کو پیاس بڑی سخت لگی تھی اس وقت تو کچھ بھی کر سکتا تھا، اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے لے لو۔ پانی لے لیا پی لیا پھر وہ پانی پھنس گیا پیشاب نہیں آ رہا۔ اب پیشاب نہیں ہو رہا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اب کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا یہاں تو ہر چیز مول بکتی ہے، اگر وہ باقی 150 سال دیتے ہو تو پھر پیشاب نکلے گا۔ تو وہ اس سے بھی زیادہ تنگ تھا تو اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے تو جب فارغ ہو گیا تو اللہ پاک نے فرمایا اب بتاؤ، کیا کروں؟ اس نے کہا یا اللہ تیرا فضل چاہیے۔ اللہ نے کہا یہی تو میں پہلے کر رہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حساب نہ کرو کم از کم اللہ کے ساتھ حساب نہ کرو ورنہ گھاٹے میں رہو گے۔

اللہ تعالیٰ کے سامنے صحیح بات کیا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں۔ بس۔ ایک وہ عالم تھے ان کو ذرا اپنی علمیت کا غرہ ہوگا۔ اس نے خواب دیکھا۔ خواب میں قیامت کا منظر ہے۔ اللہ جل شانہ نے اس سے پوچھا کیا تو عالم ہے؟ اس نے کہا جی۔ انہوں نے کہا اچھا پھر جلالین، جلالین میں امتحان دو گے۔ جلالین میں امتحان دو گے۔ اب یہ بہت ڈر گیا کہ اللہ امتحان لے گا تو میں کیسے پاس ہو سکتا ہوں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو میری تمام کمزوریوں کو جانتا ہے، تو میں کیسے پاس ہوں گا میں تو مارا جاؤں گا۔ تو ادھر ادھر دیکھا کہ کس طرح میں بچ سکتا ہوں، تو دیکھا کہ آپ ﷺ کچھ فاصلے پہ تشریف فرما ہیں۔ تو یہ رینگتے رینگتے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔

یا رسول اللہ، کچھ بتائیے میں تو پھنس گیا ہوں، اللہ پاک میرا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، تم کہو میں عالم نہیں ہوں۔ تم کہہ دو کہ میں عالم نہیں ہوں۔ تو پھر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی یا اللہ میں تو عالم نہیں ہوں۔ اچھا ٹھیک ہے۔ کچھ تھوڑی سی سزا دے دی لیکن بچ گئے۔ تو مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حساب کتاب نہ کرو ورنہ مارے جاؤ گے اور اپنے آپ کو کچھ بہادر نہ دکھاؤ، اللہ کے سامنے کون بہادر ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تو فریاد کر رہے تھے کہ ہائے مر گیا ہائے مرگیا ہائے مرگیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ آپ بھی اس طرح کہتے ہیں۔ فرمایا اللہ پاک نے مجھے اس لیے بیمار کیا میری کمزوری کو دیکھے، میں اپنی پہلوانی دکھاؤں؟ میں اپنی پہلوانی دکھاؤں؟ تو اللہ تعالیٰ کو پہلوانی نہیں دکھانی۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی کمزوری دکھانی ہے۔

آدم علیہ السلام نے کیا کہا؟

﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾

یونس علیہ السلام نے کیا کہا؟

﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾

یہ مطلب، یہ بڑے بڑے لوگ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے جب بات آجاتی ہے پھر بات، معاملہ مختلف ہے۔لہٰذا

اللہ کے ذمے کوئی چیز ضروری نہیں، جو کچھ مہربانی کرے اس کا فضل ہے۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



اللہ تعالیٰ کے بارے میں - عقائد