اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
﴿وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ وَّ الشَّفْـعِ وَ الْوَتْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ﴾
فَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿وَ لَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَ اَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسٰجِدِ﴾ (البقرۃ: 187) وَ قَالَ اللهُ تَعَالىٰ: ﴿لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ﴾ (القدر: 2) وَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ''مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ''۔ (مسلم، رقم الحدیث:760) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''لِلّٰهِ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ''۔ (نسائی، رقم الحدیث:2106) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''إِذَا کَانَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرَائِیْلُ فِیْ کَبْکَبَةٍ مِّنَ الْمَـلٰئِکَةِ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ یَّذْکُرُ اللهَ عَزَّ وَ جَلَّ''۔ (شعب الایمان للبیهقي، رقم الحديث:3444) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: فِی الْمُعْتَكِفِ: ''هُوَ يَعْتَکِفُ الذُّنُوبَ وَ یُجْرٰی لَهٗ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا''۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث:1781) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَّمَضَانَ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:2020) وَ قَالَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ: ''مَنْ شَھِدَ الْعِشَاءَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهٖ مِنْھَا'' (شعب الإیمان للبیهقي، رقم الحديث:3430)، وَ کَاَنَّہٗ تَفْسِیْرٌ لِّلْمَرْفُوْعِ: ''مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ فَالَّذِيْ شَھِدَ الْعِشَاءَ لَمْ یُحْرَمْ خَیْرَھَا''۔ (نسائی، رقم الحدیث:2106)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! انتہائی درجے کی مبارک دن اور مبارک راتیں شروع ہونے والی ہیں۔ یعنی آج مغرب کے ساتھ ہی آخری عشرہ شروع ہو جائے گا۔ اُس آخری عشرے کے بہت فضائل ہیں جو کہ ابھی جو میں نے قرآن پاک کی آیات مبارکہ اور احادیث شریفہ تلاوت کی ہیں اس میں بیان کی گئی ہیں۔ تو ان برکات کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں مستعد ہونا چاہیے اور اپنے تمام چیزوں کو آگے پیچھے کر کے ان برکات کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بعض علاقوں میں بعض لوگوں کے روزگار ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا ایک season ہوتا ہے۔ مثلاً پورے سال میں دو مہینے کام کرتے ہیں۔ لیکن دو مہینے میں نہ پھر کسی سے ملتے ہیں نہ کسی سے بات چیت کرتے ہیں، بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ کوئی دوست بھی آجائے تو ان سے بھی معذرت کر لیتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ بھئی یہ دو مہینے تو ہمارے بس پورے سال کے لیے ہیں، لہٰذا اس میں جتنا ہم کما سکیں تو کمائیں۔ تقریباً یہی بات ان دس راتوں کی ہے۔ پورے رمضان کی ہے لیکن رمضان میں پھر دس راتوں کی بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ واقعی اگر کسی نے ان کو کما لیا، سبحان اللہ! اللہ نے ان کو بہت نواز دیا۔ بہت زیادہ نواز دیا۔
اب تھوڑا سا غور کر لیں، یہ باہر ملکوں میں لوگ جاتے ہیں service کے لیے، ان کو کتنا، یعنی زیادہ تنخواہ ملے گی؟ کتنی ملے گی؟ تھوڑا سا اندازہ کر لیں۔ دس گنا؟ بیس گنا؟ تیس گنا؟ کتنا ملے گی؟ خود ہی اندازہ کر لیں۔ اب یہاں پر اگر کوئی دس ہزار روپے کما رہا ہے تو وہاں پر کتنا ملے گا؟ ایک لاکھ ملے گا تو پھر کہیں گے بھئی یہ تو بہت زیادہ ہے۔ چلو دو لاکھ، تو بیس گنا ہو گیا۔ اس سے زیادہ تو دنیا کے کسی حصے میں بھی نہیں ہوگا۔ تو دس گنا، بیس گنا کے لیے لوگ اتنے پاپڑ بیلتے ہیں کہ اس کے لیے پتا نہیں کیا کیا طریقے اختیار کرتے ہیں، تعلقات بناتے ہیں، سوچ و بچار کرتے ہیں، کیونکہ ان کو پتا ہے کہ ہمیں یہ چیز ملے گی زیادہ۔
جبکہ لیلۃ القدر کے بارے میں قرآن بتا رہا ہے، یعنی کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔ آج کل یہ بھی fashion ہے کہ کسی کام کو نہیں کرنا ہو تو کہہ دیں ضعیف حدیث ہے۔ یہ ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کی سورۃ مبارکہ ہے، سورۃ القدر اس سے ثابت ہے۔ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ
اللہ جل شانہ کس انداز میں بات بتا رہے ہیں، انداز کو دیکھیں! اور تمہیں کیا پتا لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ حقیقتاً ہمیں پتا نہیں ہے، اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ ہمارا تو ایمان بالغیب ہے۔ جو کچھ آتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، ہمیں تو کچھ پتا نہیں ہے۔ لیکن اس میں استفہام کا یہ انداز جو اللہ پاک نے رکھا ہے، یہ اس کی پوری عظمت سنا رہا ہے، بتا رہا ہے کہ یہ کچھ عجیب ہی رات ہے۔ کچھ عجیب ہی رات ہے، اس کے بارے میں تمہاری معلومات کیا ہیں؟ تو پھر فرماتے ہیں: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ یہ تو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔
اب تھوڑا سا غور کر لیں، ہزار مہینوں سے افضل رات، کیا مطلب ہے؟ وہ تنخواہ کا دس گنا، بیس گنا یاد رکھیں آپ۔ تو اب یہاں پر صورتحال ہے تیس ہزار گنا۔ تیس ہزار گنا! ایک ہزار مہینوں سے 83 سال بنتے ہیں کچھ اوپر۔ 83 سال عمر کسے باشد؟ کس کو ملتا ہے؟ آپ ذرا غور کر لیں، بہت کم chances۔ لیکن کسی کو مل بھی جائے 83 سال تو اس میں جو بچپن کی عمر ہے وہ اس کو نکالیں، اور بڑھاپے میں پھر کچھ جان نہیں رہتی عوارض آ جاتے ہیں تو اصل یہی 40، 50 سال تقریباً رہ جاتے ہیں یہ بھی ان کی جو کہ اس عمر کو پہنچ جائیں۔ تو اس میں جتنی زیادہ 83 سال اس کو ثواب ملتا ہے، یعنی ایک رات کا! اچھا، 83 سال مسلسل آپ عمل نہیں کر سکتے، کر سکتے ہیں؟ پوری پوری رات 83 سال؟ نہیں کر سکتے، مل بھی جائے پھر بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس میں ایک رات میں پوری رات جاگنا کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ناممکن ہو۔ مشکل یقیناً ہے، کون سی چیز مشکل نہیں ہے؟ ہمارے پشتو کا ایک شعر ہے، بچپن میں ہم پڑھتے تھے: "کروټې خوړل اسان دي، نوړۍ جوړول غواړي" (کہ روٹی اگر کھانا آسان ہے لیکن نوالہ بنانا پڑے گا)۔ مطلب کوئی کام بھی ایسا نہیں ہے کہ just ویسے خود بخود ہو جائے، اس کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ تو یہ بات یہاں پر بھی ہے کہ کوئی آسان تو ایسا نہیں ہے، لیکن بہرحال اس کے مقابلے میں بہت آسان ہے، کیونکہ اس میں انسان continuously دس بارہ گھنٹے جاگ سکتے ہیں، اور کام کر سکتے ہیں۔
اب اصول یہ ہے کہ اگر کسی نے ایک پارہ تلاوت کیا ہے اس رات میں، تو ایسا ہے جیسے اس نے 83 سال ہر رات میں ایک پارہ تلاوت کیا ہے۔ اگر کسی نے دس رکعات نماز پڑھی ہے تو ایسے ہے جیسے اس نے ہر رات کے اندر دس رکعات نماز پڑھی ہے۔ اب خود ہی اندازہ لگا لیں، ہمت کی بات ہے۔ جتنا انسان کمائے کمانا چاہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ہو اس کو سونے کی کان کی duty لگا دی جائے کہ اچھا ٹھیک ہے جی، تمہیں bonus مل رہا ہے، چلو جی، اس رات میں جتنا سونا تم اپنے لیے نکال سکتے ہو نکالو۔ کتنا نکالو گے؟ انگوٹھی کے برابر؟ بھئی انگوٹھی بھی تو بڑی مہنگی ہے تو کیا ضرورت ہے اس سے زیادہ کی؟ نہیں، اس وقت تو، یقین جانیے کہ، میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں بڑا interesting واقعہ ہے۔ ایک بادشاہ تھا اس کو شوق چڑھا، کہ اس پورے ایک بڑے علاقے کا land map بنا دیا اور اس میں، کہتے تھے کہ، کوئی آئے، اتنے پیسے یہاں جمع کر لے اور پھر جتنا زمین، پورے ایک دن میں گھیر سکتا ہے تو گھیرے۔ وہ اس کی ہے۔ جتنی زمین اس پورے دن میں چل کے جتنا گھیر سکتے ہیں تو گھیریں، اس کی ہے۔ کوئی بھی نہیں حاصل کر سکا۔ کیوں؟ ہوتا یہ تھا کہ آدھے دن نصف النہار تک تو دوڑتا رہتا خوب، اور یہ کہتے ذرا تھوڑا اور، ذرا تھوڑا اور، ذرا تھوڑا اور، اب ذرا تھوڑا اور میں اپنی حد سے نکل جاتا، جتنی استطاعت ہو۔ اب واپسی میں وہ طاقت اتنی نہیں رہتی۔ تو کوئی گر جاتا، کوئی مر جاتا، کوئی بھی اس target کو پورا نہیں کر سکا، واپس اس جگہ پہ نہیں آ سکا، نتیجتاً وہ پیسے بادشاہ کو ویسے مل جاتے ہیں اور یہ لوگ out ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہے۔ تو اتنا حرص ہوتا ہے انسان کا، کہ انسان جو ہے نا آرام، سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔ یہ بس وہ کرتا ہے۔ یہ دنیا کی بات میں بتا رہا ہوں۔ لیکن آخرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرما رہے ہیں، یعنی گویا کہ ہمیں حرص دلا رہے ہیں: وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ لیلۃ القدر تو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ تو یہ بات ہے کہ ہم کمانا چاہیں تو کما لیں۔ اب صرف سوال ایک پیدا ہوتا ہے، کہ پھر لوگ کیوں نہیں حاصل کرتے؟ ایک سوال ہے۔ تو اس کے اندر کچھ معصوم غلطیاں بھی ہیں، غلط فہمیاں ہیں۔ اور کچھ سستیاں ہیں۔
جو معصوم غلط فہمی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں یہ ایک لمحہ ہے۔ اس کی بھی ایک غلط فہمی کی وجہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے کچھ حصے کشفی ہیں اور کچھ حصے واقعی ہیں۔ وہ چاہے کشف ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ ہیں۔ یعنی اس کا جو زمان ہے duration ہے، وہ مغرب سے لے کر فجر تک ہے۔ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ فجر تک ہے۔ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ غروب آفتاب سے شروع ہو جاتا ہے۔ اچھا، اب جب یہ بات ہو گئی تو زمان تو مستقل ہو گیا، اس میں تو فرق نہیں ہے۔ لہٰذا اس زمان کے درمیان جو بھی جو عمل کرے گا وہ لیلۃ القدر میں آئے گا اور اس کا تیس ہزار گنا اجر ملے گا کم از کم۔
لیکن ایک ہے اس کا وہ، جیسے فرشتوں کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور ابھی حدیث شریف بھی گزری کہ جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی جھرمٹ میں زمین پر آتے ہیں اور جو لوگ عبادت کرتے ہیں ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور بعض خوش نصیب لوگوں کے ساتھ فرشتے ہاتھ ملاتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں۔ اس کی علامت یہ بتائی گئی کہ جھرجھری سی آجاتی ہے انسان کو۔ اچھا اب فرشتے نورانی مخلوق ہیں۔ تو کسی کو کشف کی وجہ سے وہ نور محسوس نظر آ جاتی ہے، روشنی نظر آ جاتی ہے۔ تو ٹھیک ہے، انکار نہیں۔ یہ کشفی چیز ہے۔ اچھا، بعض لوگوں کو اللہ جل شانہ اس کی برکات دکھا دیتے ہیں، برکات فرشتوں کے آنے کے۔ وہ ایسی صورتحال بن جاتی ہے کہ بعض لوگوں کو یہ درخت سجدہ ریز نظر آتے ہیں اس وقت۔ اور بعض لوگوں کو کڑوا پانی، جیسے سمندر کا ہے، وہ میٹھا محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب واقعات موجود ہیں یعنی تاریخ میں کوئی ویسی فضول باتیں نہیں ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا ہر ایک کو نظر آئے گا۔ اور اجر کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔ نہیں، نہ اجر کا اس کے ساتھ تعلق ہے، وہ بھی لمحہ، جو فرشتے آ گئے دعا جو ان کی ہے وہ بہت بڑی بات ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے، لیکن اس سے لیلۃ القدر کے اجر میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ ایک عام آدمی جو بالکل اس کو نہیں جانتا، وہ جو بس وہ گمنامی میں وہ عبادت کر رہا ہے الحمدللہ اس کے لیے بھی وہ چیز موجود ہے۔ وہ کسی سے ہٹایا نہیں جاتا۔ تو یہ بات ہے کہ، یعنی انسان اگر اجر حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے کشف کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایک اضافی چیز ہے۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کی حقیقت ہے، ایسی چیزیں بھی نظر آئی ہیں اور لوگوں نے report کی ہوئی ہیں، لیکن لوگوں نے اس سے غلط مطلب یہ نکال دیا کہ بس وہ لمحات لیلۃ القدر ہیں۔ باقی نہیں ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ لیلۃ القدر پوری رات ہے۔ جیسے اس کے نام سے ظاہر ہے، لَيْلَةُ الْقَدْرِ تو اب پوری رات میں جو عبادت کریں گے وہ آپ کے کھاتے میں جائے گا۔ تو اب یہ بات غلط فہمی جو ہے، بعض لوگ چونکہ دنیا کے طلب میں اتنے آگے ہوتے ہیں، کہ اس وقت بھی انتظار کرتے ہیں کہ کبھی روشنی نظر آئے گی، کب وہ چیز ہوگی کہ ہم لوگ کوئی دنیا کی چیز مانگیں۔ ہے اس قسم کے ہیں، جو باقاعدہ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی روشنی نظر آئے تو ہم کوئی دنیا کی چیز مانگیں۔
حالانکہ بھئی دنیا اگر ساری بھی آپ کو مل جائے نا، اس کا ایک end ہے۔ کچھ دنوں کے لیے ہے۔ پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ کے وقت میں ایک صاحب آئے، اس نے اپنے لیے مالداری مانگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ بار بار بتانے کے بعد بھی جب اس نے مانگی تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کی۔ ان کے مال مویشی میں اللہ پاک نے برکت عطا فرمائی اتنی زیادہ ہو گئی کہ ان کو مدینہ منورہ میں سنبھالنا ممکن نہیں رہا، ان کو مضافات میں جانا پڑا۔ پہلے جمعہ کے دن نماز کے لیے آیا کرتے تھے مسجد وہاں پر، پھر جمعہ کے لیے بھی آنا ممکن نہیں رہا۔ مطلب وہ نہیں آ سکتے تھے۔ پھر جو زکوٰۃ کے بارے میں لوگ ان کے پاس گئے تو ان کا مذاق اڑایا، ان کی زکوٰۃ وغیرہ بھی تو، مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل ہو گئے۔ اگرچہ بعد میں اس نے توبہ کی، لیکن ابتداء میں اس قسم کی چیزیں ہوئیں۔ اچھا اب یہ بتائیں یہ ابتلا ہوا کہ نہیں ہوا؟ تو اگر آپ کو دنیا مل جائے تو دنیا کے ساتھ بہت سارے مسائل ہوتے ہیں یہ کوئی اس طرح آسان گھونٹ نہیں ہے کہ آپ پی لیں گے۔ اس کے بڑے حاسدین ہوتے ہیں، وہ آپ کی زندگی اجیرن کر دیں گے۔ آسان تو نہیں ہے۔
ہمارے ایک کزن تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اب تو فوت ہو گئے، کہتے ہیں، آج کل تو یہ دور ہے کہ کوئی استری شدہ کپڑے پہنے نا، تو اس کو بھی لوگ برداشت نہیں کر سکتے۔ استری شدہ کپڑے پہنے خود اپنے، اس کو بھی لوگ برداشت نہیں کر سکتے، انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں۔ تو بات تو آج کل ایسی ہے کہ، یعنی حاسدین بہت زیادہ۔ اور پھر جاتے ہیں عاملوں کے پاس، تو مقصد یہ ہے کہ، ہم لوگ اللہ سے خیر مانگیں۔ حضرت مولانا محمد عمر پالن پوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پہ مجھے دعا دی: "اللہ تمہارے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے"۔ اس کی ٹھنڈک میرے سینے میں ابھی تک موجود ہے کہ الحمدللہ، حضرت نے بہت بڑی دعا میرے لیے مانگی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے۔ کتنی بڑی بات ہے! تو مطلب یہ ہے کہ یہ چیز، خیر مانگیں اللہ تعالیٰ سے۔
تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا آپ ﷺ سے، یا رسول اللہ، اگر میں لیلۃ القدر پاؤں، تو کیا مانگوں؟ فرمایا، یہ دعا: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے بھی معاف کر۔ مختصر، لیکن بہت پُر اثر دعا، وہ آپ ﷺ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سکھائی۔ تو یہ دعا، اس قسم کی دعائیں مانگنی چاہیے۔ ہاں اگر کچھ زیادہ ہی مانگنا چاہتے ہو تو پھر اس کے لیے بھی قرآنی دعا موجود ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ دونوں جمع ہو گئے۔ اگر امتِ مسلمہ کا بھی ساتھ فکر ہے تو: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا... یہ دعا مانگو۔ مطلب یہ ہے کہ، گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ قرآن سے ہدایت لے لو، احادیث شریفہ سے ہدایت لے لو، ایسی دعائیں مانگو جس میں آپ کا خیر ہو واقعی۔
خیر یہ تو درمیان کی باتیں آ گئیں۔ اب عرض کرتا ہوں، لیلۃ القدر۔ یہ ان دس راتوں میں ہے ان شاء اللہ۔ کیونکہ ابھی حدیث شریف گزری ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اس کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔ لہٰذا ان دس راتوں میں ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ طاق راتوں میں اس کا زیادہ امکان ہے۔ اور ستائیسویں کو اس کا بہت زیادہ امکان ہے۔ جو اس کے واقف کار لوگ ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ زیادہ تر طاق راتوں میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر نوے فیصد امکان طاق راتوں میں ہے اور دس فیصد امکان جفت راتوں میں ہے، تو نوے فیصد بہت زیادہ ہے۔ پھر نوے فیصد میں، مثلاً ساٹھ فیصد صرف ستائیسویں کو ہے اور باقی تیس فیصد باقی طاق راتوں میں امکان ہے۔ اگرچہ، ہماری تحقیق کے مطابق، واللہ اعلم میری تحقیق کیا حیثیت ہے لیکن بہرحال، وہ یہ ہے کہ امکان کچھ باقی طاق راتوں کے بھی زیادہ ہیں ایسے نہیں ہیں، مطلب اور راتوں میں بھی، اس کا اکیسویں کو بھی مکشوف ہوا ہے، تئیسویں کو بھی ہوا ہے، پچیسویں کو بھی ہوا ہے، مطلب مختلف، انتیسویں کو بھی ہوا ہے۔ تو یہ یعنی chances کی بات ہے۔ تو ایسا ہے، لیکن چلو آپ مان لیں کہ ساٹھ فیصد امکان ستائیسویں کو ہے، ساٹھ فیصد امکان ستائیسویں کو ہے اور باقی تیس فیصد جو ہے وہ عام طاق راتوں میں ہے، اور دس فیصد تمام جفت راتوں میں ہے۔
اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں، ایک صاحب، کسی جگہ اپنی job کرنے کے لیے گئے۔ اس کو صاحب job دے رہا ہے، اور کہتے ہیں بھئی job تو میں آپ کو دیتا ہوں، آپ کی تنخواہ میں مقرر کرتا ہوں۔ ہر رات کو آپ کو پانچ ہزار روپے ملیں گے۔ دس دن کی service ہے۔ ہر رات کو پانچ ہزار روپے ملیں گے، اور ایک رات، جو میں آپ کو نہیں بتاؤں گا، وہ اس میں آپ کو پانچ ارب روپے ملیں گے۔ تو جتنے دن کی service کرنا چاہتے ہو کرو۔ اور یہ نمبر میں نے رکھ دیا فلاں طاق میں، یہ پھر دیکھ لینا۔ اس کے حساب سے ہوگا۔ اب بتاؤ، کتنے دن job کرو گے؟ اور کون سے دن کرو گے؟ دس کے دس دن کرو گے؟ کیونکہ آپ one percent کا chance بھی نہیں miss کر سکتے۔ اگر وہ one percent میں وہ آ گیا، تو پھر کیا ہوگا؟ تو یہ بات ہے کہ یہ ہماری نفسیات ہے نا، نفسیات ہے۔ تو اس وجہ سے اگر ہم دیکھیں، تو chance جفت کے بھی ممکن ہیں، طاق راتوں کے بھی ممکن ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ ستائیسویں کا زیادہ بھی ممکن ہے، لیکن ہم لوگ نے سستی کی وجہ سے، اول تو ستائیسویں یقینی کر لی کہ ستائیسویں کو ہی ہے۔ یہ تو ہمارا ایک خیال ہے۔ دوسرا ستائیسویں کو بھی عبادت کا chance کم ہے۔ تقریروں کا chance زیادہ ہے۔ تقریریں سنتے ہیں۔ خدا کے بندو تقریریں اِس دن سننی ہیں؟ تقریریں اس سے پہلے، یہ تقریر نہیں ہو رہی؟ یہ تقریر ہو رہی ہے نا۔ تقریر پہلے ہونی چاہیے، ذہن سازی پہلے ہونی چاہیے، عمل اُس رات ہونی چاہیے۔
اُس رات عمل کے علاوہ. بھئی دیکھو، یہ خانہ کعبہ کوئی جاتا ہے، حضور ﷺ کے روضۂ اقدس پہ کوئی جاتا ہے، تو نعت شریف، وہ محبت کو بڑھاتا ہے، خانہ کعبہ کی یاد، اس کے کلام ہو، یا بیان ہو، یا جو بھی ہو، وہ بڑھاتے ہیں۔ لیکن وہاں جا کر کیا کرو گے؟ وہ بیان ہی کرتے رہو گے؟ مطلب وہاں پر یہ کرو گے کہ وہاں تو جس چیز کے لیے گئے ہو، اس چیز کو حاصل کرو گے۔ یعنی طواف کرو گے، خانہ کعبہ کا تو طواف کرو گے، وہاں صلوۃ و سلام پڑھو گے۔ دعائیں کرو گے، مطلب یہ ہے کہ وہاں عمل ہے۔ یہاں ذہن سازی ہے، مطلب یہ ساری باتیں، تو یہ ذہن سازی جو ہے یہ پہلے ہونی چاہیے، یہ بات ہے، یہ اس رات کی بات نہیں ہے۔ اتنے لمبے لمبے بیان ہوتے ہیں میں حیران ہوتا ہوں، اور بڑے، زیادہ پیسوں پہ مقررین کو بلاتے ہیں۔ جو چسکے دار باتیں کرتے ہیں اور پھر جو ہے نا خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے رات، شب بیداری کی۔ شب بیداری بیشک ہوئی، لیکن کس مقصد کے لیے ہوئی؟ وہ تقریر سننے کے لیے ہوئی۔ عمل سے مسئلہ حل ہوتا ہے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ ایک تو یہ بات ہے کہ صرف ستائیسویں نہیں ہے، ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں عمل کرنا ہے۔ تو عمل کیا کرنا ہے؟ عمل جو کرنا ہے وہ یہ کرنا ہے کہ دیکھو، فرض اعمال تو اس میں دو ہی ہیں۔ ایک مغرب کی نماز ہے، ایک عشاء کی نماز ہے۔ وہ تو آپ فرض عمل کریں گے۔ وہ تو آپ کی ہے۔ ہاں بائی چانس اگر کسی کی زکوٰۃ اسی دن نصاب بنتا ہے تو اس کے لیے وہ فرض ہے۔ لیکن بہرحال فرض عمل تو یہی دو ہی نمازیں ہیں۔ تو اب یہ دو نمازیں تو ہم نے پڑھنی ہی پڑھنی ہیں چاہے آپ کچھ بھی کریں کوئی لیلۃ القدر ہو یا نہ ہو، وہ تو آپ نے نمازیں تو پڑھنی ہیں۔ ہاں محرومی کے باعث ضرور ہو سکتی ہے کہ اس دن بھی کوئی نہ پڑھے، یہ بہت بڑی محرومی ہے۔ بہت بڑی محرومی ہے۔ تو یہ دو نمازیں پڑھ لیں۔
اچھا اب اتنی اہم، قیمتی نمازیں ہیں، تو اس کو کچھ بہترین طریقے سے پڑھنا چاہیے نا۔ جس میں کوئی درمیان میں chance رد ہونے کے نہ رہیں۔ جیسے ہم visa لیتے ہیں تو visa کے لیے جو form بھرتے ہیں تو کتنی احتیاط سے بھرتے ہیں؟ یہ ایسا نہ ہو کہ درمیان میں اس کی وجہ سے وہ reject ہو جائے۔ تو اسی طریقے سے ہم وہ نماز، وہ پڑھیں جو نماز قبولیت کے زیادہ قریب ہو۔ اس میں کچھ راستے ہیں۔ مثلاً ایک راستہ تو یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ اب جماعت کے ساتھ پڑھنے میں کیا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے، جو بھی، سب کی نمازوں کو، جو بھی اس میں سب سے بہتر نماز ہوتی ہے، اس کے صدقے میں اللہ سب کی نمازیں قبول فرما لیتا ہے۔ یہ بھی ایک، کتنا زبردست package ہے! جی۔ تو اس لیے جماعت کے ساتھ ہم پڑھنے کی کوشش کریں۔
دوسرا یہ ہے کہ اس کو ذرا تھوڑا سا سیکھیں ہم۔ تو یہ بات ہے کہ نماز کو سیکھے آدمی۔ اور یہ بھی پہلے کی بات ہے، یعنی اس سے پہلے کی بات ہے۔ اچھا، اب یہ ساری باتیں لوگوں کو مشکل نظر آتی ہیں۔ اوہ! یہ نماز کو ہم سیکھیں؟ ابھی تک نماز پڑھتے رہے ہیں اور کیا سیکھیں؟ بھئی خدا کے بندو! انسان تو طالب علم ہے، مہد سے لحد تک۔ طالب علم ہے، ہر وقت وہ سیکھے گا۔ تو اس میں کون سا مسئلہ ہے کہ اب نماز کو ہم سیکھیں؟ ذرا تھوڑا سا اپنے آپ کو test کریں نا۔ وہ ہمارے احمد جان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، مولانا احمد جان صاحب رائیونڈ میں، بہت بڑے بزرگ تھے۔ تو ایک دفعہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، تو سوالات کیے یہ کیسا ہے، یہ کیا ہے، یہ کیا ہے؟ بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ جوابات دیے۔ کہتے، اچھا تمہارے 30 نمبر ہیں 100 میں سے، تمہارے 10 نمبر ہیں، تمہارے 50 نمبر ہیں۔ وہ لوگ حیران تھے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا، میں نے جو سوال کیے آپ سے، میں نے کوئی فقہ کی بہت بڑی ضخیم کتاب سے سوالات نہیں کیے، میں نے تعلیم الاسلام سے سوالات کیے ہیں۔ تعلیم الاسلام، مفتی کفایت اللہ صاحب کی۔ کتنی بڑی کتاب ہے وہ؟ اس سے میں نے سوالات کیے ہیں۔ اب اگر وہ بھی نہیں معلوم تو میں کیا کروں؟
تو ایک چھوٹی سی کتاب ہے حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی، وہ ہے "نمازیں سنت کے مطابق پڑھیے"۔ پتا نہیں پچیس چھبیس صفحات کی ہوگی شاید، اس سے بھی، شاید اس سے بھی کم ہو۔ تو پچیس چھبیس صفحات آپ کتنے دن میں پڑھیں گے؟ اس میں سے اکثر چیزیں تو آپ کو پہلے سے معلوم ہوں گی۔ جو نہیں معلوم وہ صرف وہی پتہ چلے گا نا آپ کو۔ تو اس کو پڑھ لیجیے گا۔ اس سے ان شاء اللہ آپ کی refresh ہو جائے گی knowledge، جو مطلب آپ جانتے ہیں نماز کے بارے میں، عمل کی بات ہے۔ تو پھر اس پہ عمل شروع کیجیے۔
اور اس طرح نماز آپ پڑھیں۔ یہ تو ہو گئی انفرادی نماز کی بات۔ جو جماعت کی نماز ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اس رات کم از کم تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ جماعت میں شامل ہو جائیں۔ یعنی جیسے امام اللہ اکبر کہے، تکبیرِ تحریمہ کی، آپ بھی اس کے فوراً بعد کرلیں اس کے ساتھ، یہ ہے تکبیرِ اولیٰ۔ یا ثناء ختم ہونے سے پہلے پہلے۔ آپ شامل ہو جائیں، تو آپ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس کے بہت بڑے فضائل ہیں۔ اگر 40 دن تک کوئی تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ہر نماز پڑھے تو اس کو دو پروانے ملتے ہیں: ایک جہنم سے خلاصی کا، اور ایک نفاق سے بری ہونے کا۔ تو بہت بڑی بات ہے۔ تو ایک تو یہ بات ہے کہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ آپ نماز میں شامل ہو جائیں۔
اور پھر یہ والی بات ہے کہ تصور کر لیں کہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔ مطلب یہ پتہ نہیں دنیا میں مجھے پھر موقع ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ وہ جیسے پھانسی پہ جانے والے سے پہلے کوئی اجازت مانگتا ہے نا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دیں۔ تو اس وقت نماز کیسے پڑھتے ہو؟ تو یہ نماز پڑھے کہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔ تو نماز کی کیفیت خود بخود بن جائے گی۔ تو یہ بات اس طریقے سے آپ نماز تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ، جماعت۔ تکبیرِ اولیٰ کو catch کرنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ پانچ منٹ، 10 منٹ پہلے مسجد میں چلے جائیں۔ بجائے اس کے کہ آپ گھر میں گھڑی دیکھیں کہ ابھی تو دو منٹ ہیں۔ دو منٹ بعد روانہ ہوں گا۔ تو وہ تو پھر اس کا مطلب ہے کہ آپ نے پہلی رکعت میں پہنچنے کی نیت کی ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ اگر آپ کو تکبیرِ اولیٰ میں شامل ہونا ہے تو اس کے لیے تو آپ کو پہلے سے موجود ہونا چاہیے ادھر۔ تو یہ بات میں عرض کر رہا ہوں کہ کچھ پانچ دس منٹ پہلے۔ اس میں اضافی فائدہ یہ ہوگا کہ آپ دو رکعت یا چار رکعت نفل پہلے پڑھ سکیں گے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو راستے کا transients ہیں، یہ حقیقت ہے transients ہوتے ہیں، یعنی انسان کے اوپر چلنے کا جو اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ طبیعت منتشر رہتی ہے۔ تو وہ طبیعت کا جو انتشار ہے، یہ پانچ دس منٹ میں بیٹھ جائے گا اس نماز کے ذریعے سے۔ اب آپ fresh ہو کر جماعت میں شامل ہو جائیں گے تو ماشاءاللہ، یہ، ایک تو یہ بات کر لیں۔
خواتین، ان سے میں اکثر ایک بات عرض کرتا ہوں۔ خواتین کی یہ ایک عام بیماری ہے کہ یہ نماز تاخیر سے پڑھتی ہیں۔ وقت پہ پڑھنا بہت کم کو نصیب ہوتا ہے۔ ان کی مجبوری ہے، اس میں کوئی شک نہیں، وہ مجبوری یہ ہے کہ گھر کے کام کاج وہ ان کی گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں نا گھر کے کام کاج۔ اور یہ اچھی بات ہے، کوئی غلط بات تو نہیں ہے، کہ وہ گھر کے کام کاج کرتی ہیں، ان کی top priority گھر کے کام ہوتے ہیں۔ لہٰذا پھر کیا ہوتا ہے؟ بس ابھی یہ برتن دھو لوں، یہ کر لوں، وہ کر لوں، تو بس پھر نماز پڑھتی ہوں، اسی میں تقریباً... اب مغرب سے عشاء تک کتنا ٹائم ہوتا ہے؟ بالخصوص رمضان شریف میں؟ رمضان شریف میں افطاری سے فارغ ہونے میں تقریباً بیس پچیس منٹ لگ جاتے ہیں، آسانی کے ساتھ۔ اب اگر آپ نے کچھ مزید تاخیر کی، تو یہ آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اس وقت، اس time، یعنی اس سال، جو مغرب سے اور عشاء کے درمیان time ہے، یہ سال کا minimum time ہے۔ یہ کیوں کہ مارچ چل رہا ہے نا، تو مارچ، اپریل میں اور ستمبر کے لگ بھگ میں، minimum time اور duration ہوتا ہے مغرب کے وقت کا۔ یعنی ہمارے علاقے میں تقریباً یہ 1 گھنٹہ 24 منٹ کے لگ بھگ، 1 گھنٹہ 24 منٹ۔ اب اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر آدھے وقت پہلے میں آپ نے پڑھ لیا تو یہ اول وقت کہلاتا ہے۔ اور اگر آدھے وقت بعد میں پڑھ لیا تو یہ آخر وقت کہلاتا ہے۔ تو مغرب کے آخر وقت میں پڑھنا نماز تو ہو جاتی ہے لیکن مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ میں نے خود حساب لگایا، فرماتے ہیں نا کہ تارے کثرت سے نظر آنے لگیں، تو یہ تارے کثرت سے نظر آجاتے ہیں اس دوران۔ اس دوران نظر آجاتے ہیں۔ تو لہٰذا مکروہ تحریمی ہو گئی۔ اب اس رات آپ کی نماز مکروہ تحریمی ہو گئی تو کیسے ہوا؟ کتنا بڑا نقصان ہے! اس نقصان سے بچنا چاہیے نا۔
تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بھئی برتن آپ نے دھونا ہے نا بس ٹھیک ہے نا، یا کچھ اور setting کرنی ہے، کوئی چیز کرنی ہے، تو کرنی ہے تو بس نماز کے لیے چھٹی لے لو۔ نماز پڑھ لو اول وقت میں، اور پھر اس کے بعد آپ سارے کام کرتی رہو، اس پر اجر ملے گا ان شاء اللہ۔ تو یہ بات میں اکثر عورتوں سے کہا کرتا ہوں کہ کم از کم ان ایام میں تو ذرا تھوڑا سا خیال رکھو۔ کہ نماز اول وقت میں، کیوں کہ مردوں کی جماعت کا مسئلہ ہوتا ہے، وہ تو جماعت مسجد میں جو جماعت کا وقت ہوتا ہے اس پہ جائیں گے۔ ان کے لیے تو ہے مجبوری، عورتوں کے لیے کیا مجبوری ہے؟ اذان ہو گئی، بس وقت داخل ہو گیا، لہٰذا بس نماز پڑھو۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ بات میں اکثر عورتوں سے کہا کرتا ہوں کہ ان ایام میں کم از کم تاخیر، نہیں، یہ مناسب نہیں ہے تاخیر سے بچو۔
اب اس کے بعد ہم دو نمازیں جو فرض ہیں، اس کی بات کر رہے تھے وہ ہو گئی الحمدللہ، پوری ہو گئی۔ اب پوری رات باقی ہے۔ کیا کریں اس کے ساتھ؟ لوگوں نے کچھ اپنی طرف سے نظام بنائے ہوئے ہیں۔ صحیح بات ہے نا کہ قرآن و حدیث سے کوئی نصاب نہیں آیا کہ آپ یہ رات کیسے گزاریں۔ مختلف اعمال کے فضائل آئے ہوئے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کے فضائل کی احادیث بھی ہیں۔ اور ذکر کی بھی احادیث شریفہ ہیں۔ قیام اللیل اور جو رات کی نماز ہے، نفلیں ہیں، اس کی بھی فضیلت آئی ہے۔ اور اس طرح دعاؤں کی بہت بڑی فضیلت آئی ہوئی ہے دعائیں کرنے کی۔ یہ سب فضائل موجود ہیں، لیکن اس کے لیے کوئی نصاب موجود نہیں ہے کہ اتنے رکعت نماز پڑھو، اتنے دفعہ یہ پڑھ لو، اتنے دفعہ یہ کر لو۔ یہ میں صرف ذہن سازی کے لیے کہنا چاہتا ہوں کہ غلط ذہن سازی نہ ہو۔ یہ کوئی چیز اس طرح نہیں ہے کہ ہم اس کو لازم پکڑیں۔
ہاں تجربے کی بات ضرور ہے۔ مثلاً ایک تجربہ کار شخص آپ کو ایک طریقہ بتاتا ہے تو وہ کئی طریقوں سے وہ کام ہو سکتا ہوگا۔ لیکن جو تجربہ کار ہوگا وہ کہے گا اس طریقے سے کہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ فائدہ ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہو سکتا ہے نا تجربے کا۔ تو اس طرح تجربہ کار لوگوں نے جو تجربے بتائے ہیں، ان کے تجربات سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کو ہم مسنون نہیں کہہ سکتے، بس ٹھیک ہے جی، تجربہ ہے۔
تو اب اس میں تجربہ بتاتا ہوں۔ اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔ میں نے بہت سارے بزرگوں کو ان راتوں کو گزارتے دیکھا ہے الحمدللہ۔ تو آخر ان سے سیکھا ہے، اللہ کا شکر ہے۔ تو ان کے تجربات کی روشنی میں جیسے مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، اور اس طرح اور بڑے بڑے اکابر، ان کے بارے میں پڑھا، یا کچھ کو دیکھا، تو اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ان اعمال کا گلدستہ بنایا جائے۔
اب دیکھو آپ ایک جو بہترین پھول آپ کو نظر آتا ہے نا، آپ اس کے بھی سارے پھول گھر میں نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ کچھ اور گلدستہ بناتے ہیں، مطلب کوئی چنبیلی ہے تو کوئی گلاب ہے، تو کوئی اور ہے، کوئی اور، مطلب مختلف قسم کے۔ اس کا آپ ایک گلدستہ بناتے ہیں اسی کے اندر ایک charm ہوتا ہے۔ تو اسی طرح اس میں بھی جو اعمال ہیں، ان کے فضائل تو بہت سارے ہیں۔ مطلب نماز کے بھی ہیں، قرآن کے بھی ہیں تلاوت کی، اور ذکر کے بھی ہیں، سب چیزوں کے۔ گلدستہ یہ ہے کہ اعمال اس طرح کر لو کہ باری باری سارے اعمال ہوں۔ کیونکہ اگر ایک ہی عمل آپ مسلسل کرتے رہیں تو تھکاوٹ ہو جاتی ہے، یہ بھی ایک فطری بات ہے۔ مطلب دیکھیں آپ، کوئی مسلسل بیٹھے تو تھک گیا، کوئی مسلسل کھڑا ہو تو تھک گیا، کوئی مسلسل بولے تو تھک گیا، کوئی مسلسل خاموش ہو تو تھک گیا۔ مسلسل سونے سے آدمی تھک جاتا ہے۔ وہ کہتے ایک فنکشن تھا تو ایک عورت تھی تو اس نے کہا میں تھک گئی، تو اس نے کہا کیا کر رہی تھی؟ کہتی کھاتے کھاتے۔ کھاتے کھاتے تھک گئے۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی کام کو مسلسل کرے گا تو تھک جائے گا۔ تو اس کے بجائے پھر یہی بات ہے نا کہ تبدیل کرتے رہو۔
تو آپ مثلاً چار رکعت آپ نے پڑھ لیے، نماز۔ پھر اس کے بعد آدھا پارہ تلاوت، پھر 500 مرتبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، 500 مرتبہ درود شریف، 500 مرتبہ استغفار۔
اب آپ کو ایک بات بتا دوں۔ بتایا کیا گیا ہے ان دنوں میں کون سی کثرت کس چیز کی کثرت کرو؟ ان راتوں میں۔۔۔کلمہ طیبہ کی اور استغفار کی۔۔۔تو کریں گے تو یہ۔۔۔جو جیسے فرمایا گیا ہے لیکن کس نے فرمایا ہے؟ اس کو بھول جاؤ گے؟
اس کو بھول کر کریں؟مطلب ظاہر ہے جس نے فرمایا ہے اس کا ہمارے اوپر اتنا احسان ہے، تو اس کو تو نہ بھولیں نہ ہم، تو درود شریف بھی۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ تین چیزیں جو ہیں ہم ان کی کثرت کریں۔ ٹھیک ہے نا؟ تو پھر کیا ہوا یہ ماشاءاللہ یہ آپ نے 500، 500 مرتبہ کیے ہیں۔ آپ دو سو دو سو پر کریں، میں یہ نہیں کہتا وہ لازم نہیں ہے لیکن میں تجربے کی بات بتا رہا ہوں۔
اچھا پھر اس کے بعد آپ قرآن پاک کی تلاوت، اب ذکر بھی ہو گیا، اس کے بعد پھر دعائیں کریں۔اچھا دعائیں میں اپنی زبان میں بھی کر سکتا ہوں، اللہ پاک ساری زبانیں جانتا ہے۔ لیکن جو زبانِ اطہر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بات نکلی ہے، وہ تو کوئی اور بات ہے نا۔ اور جس کو قرآن میں پسند کیا گیا ہے، تو اس کی بات تو اور ہے نا۔ تو پھر کیا کریں ہم؟ پھر دعائیں کریں اور دعائیں زیادہ بہتر ہے کہ ہم قرآنی دعائیں اور مسنون دعائیں، اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ تو اس کے لیے کتاب موجود ہے الحمد للہ اس کا نام ہے "مناجاتِ مقبول"۔ اس کتاب کے اندر الحمد للہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنی دعائیں اور مسنون دعائیں ایسی جمع کی ہے کہ اس کو سب دعاؤں کو ان نے سات پر تقسیم کیا ہے اور ہر ایک کو ایک منزل کہا ہے۔ اور ہر منزل کو ایک دن قرار دیا گیا، تو جیسے ہفتے کے دن ایک منزل، اتوار کے دن دوسرا منزل تاکہ پورے ہفتے میں مکمل ہو جائے۔ سات منزل بنا دیے۔ اب ٹھیک ہے انھوں نے تو ہفتے کے لحاظ سے انتظام کر دیا ہے لیکن ہماری تو راتیں بہت اہم ہیں۔ تو ہم یوں کریں کہ اس کے بعد ایک منزل مناجات مقبول کی پڑھ لیں۔ پھر اپنی زبان میں دعائیں کریں کچھ۔ جو ظاہر ہے اس منزل میں نہیں ہوں گی۔ اپنی زبان میں دعائیں کریں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے تو بہت ساری دعائیں تو ہماری اس میں آ جاتی ہیں اور بہترین طریقے سے آ جاتی ہیں۔ کم از کم میں اس کے بارے میں عرض کروں کہ اس کو ہم اس انداز میں مانگ نہیں سکتے جس انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا ہے۔
جیسے: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ۔
کون سی چیز رہ گئی؟
میں تجھ سے نافع علم مانگتا ہوں اور وسیع رزق مانگتا ہوں اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں۔ ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں، اب بتاؤ کون سی چیز رہ گئی؟
اس طرح عجیب عجیب دعائیں ہیں قرآنی دعائیں اور احادیث شریف کی دعائیں، جس کو کوئی جانتا ہو تو آدمی حیران ہو جاتا ہے بالکل مر مٹتا ہے اس کے اوپر۔
تو یہ دعا ہے، یہ میری ایک دعا ہے میں اس کے۔۔۔ اتوار کے دعاؤں میں پڑھتا رہا، پڑھتا رہا، پڑھتا رہا تو ایک دن میں نے اس پہ خیال کیا میں نے کہا میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ تو میں نے جب دیکھا میں نے کہا سبحان اللہ یہ تو بڑی زبردست دعا ہے وہ میں نے یاد کر لی، میں ابھی تک الحمد للہ اس کو دعاؤں میں پڑھتا ہوں:
اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضِنَا وَارْضَ عَنَّا۔
سبحان اللہ کیا بات ہے! کس انداز میں یہ دعائیں ہیں۔ تو یہ دعائیں ہم کریں ان شاء اللہ۔ پھر دوبارہ Repeat کرنا شروع کر لیں۔ پھر آپ چار رکعت نماز پڑھ لیں۔ پھر اس کے بعد آدھا پارہ تلاوت کر لیں۔ پھر آپ 500، 500 مرتبہ ذکر کر لیں۔ پھر آپ دعائیں شروع کر لیں۔ پھر اپنی زبان میں دعائیں۔
تھکاوٹ ہو جائے کچھ، فطری بات ہے، ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، "مشروب الصالحین" اپنے ساتھ رکھ لیں۔ وہ کیا ہے؟ چائے! یہ بھی ایک مشروب ہے۔ بعض حضرات ذرا تھوڑے سے touchy ہوتے ہیں اس بارے میں، بھئی ناجائز تو نہیں ہے نا، حرام بھی نہیں ہے، کوئی اس پہ حرام کا فتویٰ لگا سکتا ہے؟ بعض لوگوں نے تو اس کو حرام تک پہنچایا ہے لیکن ان کے پاس دلیل کیا ہے؟
ہمارے ایک، حاجی فاروق صاحب سکھروی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ تو ایک دن میں تخلیہ میں حضرت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو مجھے کہتے ہیں، شاہ صاحب! یہ بعض لوگوں نے تو چائے کو بالکل حرام تک پہنچا دیا۔ ہم نے تو بزرگوں کو چائے پیتے دیکھا ہے۔ تو بات تو بالکل صحیح ہے کہ بھئی کوئی ایسی بات نہیں، ٹھیک ہے۔ کوئی نہیں پیتا ہمارے مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ، کہ میں چائے پیتا ہوں، لیکن جو نہیں پیتا میں اس کو پسند کرتا ہوں۔ تو ٹھیک ہے، اگر کوئی نہیں پیتا تو اچھی بات ہے، اس کے بغیر اگر ہشاش بشاش رہتا ہے تو خوش باش، کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر ضرورت ہے اس کو، وہ ایک دفعہ ہم گئے تھے نا London گئے تھے۔ تو واپسی میں Coffee والی بات یاد ہے آپ کو فاروق صاحب؟
وہ بہت Hard Coffee۔تو کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ظاہر ہے سفر کرنا ہے تو گاڑی چلانی ہے تو مجبوری ہے اب کیا کریں؟ نیند کو بھگانا ہے۔ تو اس کے لیے ضرورت ہے۔۔۔ ہو جاتی ہے تو اس قسم کی چیزوں کے لیے ضرورت پڑ جاتی ہے۔ تو پھر ٹھیک ہے استعمال بھی کر لو۔ نہ کرو تو نہ کرو۔ آپ کی مرضی ہے لیکن بہرحال میں نے ایک Solution بتا دیا۔ کہ وہ یہ ہے کہ آدمی جو ہے نا وہ کرے۔ تو اس سے پھر کیا ہو گا ان شاء اللہ، ان شاء اللہ آپ اس طرح چلتے چلتے چلتے پوری رات اعمال میں گزار لیں گے۔ یہ شب بیداری ہے۔ اس کو شب بیداری کہتے ہیں۔ ہلے گلے کو شب بیداری نہیں کہتے۔ ایک دفعہ ہم نے اعتکاف ایک ایسی مسجد میں کیا جس میں ہم نو وارد تھے۔ پہلی دفعہ ہم اس میں۔۔۔ ہم نے اعتکاف کیا اصلاحی اعتکاف۔ ان بیچاروں نے ہمارا بڑا اکرام کیا تھا لیکن جو ان کے طور اطوار تھے وہ تو اپنے ہی تھے۔ تو شبینہ تھا ان کے ہاں، 27 ویں کو شبینہ تھا۔ تو شبینہ ان کے ساتھ۔۔۔ ان کا اس طرح تھا کہ وہ قاری صاحبان آتے تھے وہ کوئی ایک پارہ تلاوت کر لیتے، کوئی دو پارے تلاوت کر لیتے، اس طریقے سے وہ سلسلہ چل رہا تھا، کھانے پینے کا بھی سلسلہ چل رہا تھا اور یہ پڑھنے پڑھانے کا۔ اب قاری صاحبان آپس میں بے تکلف ہوتے ہیں۔ اب ہوا کیا؟ اب ایک قاری صاحب نماز پڑھ رہے ہیں باقی قاری صاحبان بیٹھے ہوئے چائے پی رہے ہیں۔ اور دوسرے لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔۔۔ اب یہاں تک کی بات ہے کہ اس کے پیچھے سامع بھی نہیں ہے۔ بھئی ایک قاری تو کم از کم پیچھے سامع کے طور پر ہو نا۔ تو شاید سامع بھی نہیں تھا۔ اب اس کو لقمہ کی ضرورت ہوئی۔
لقمہ کی ضرورت ہوئی تو ایک قاری صاحب چائے چھوڑ کے آ کے اس نے نیت باندھی۔ جب نیت باندھی اس کے بعد اس نے لقمہ دے دیا اور پھر نیت توڑ کے چائے پینے لگے۔ مفتی صاحب کیا حال ہے؟ میں تو حیران ہو گیا، اس کے بعد میں نے توبہ کی ہے کہ اس مسجد میں میں کبھی بھی اعتکاف نہیں کروں گا اور پھر نہیں کی۔ یعنی ایسے مسائل کو اگر توڑا جا رہا ہو تو یہ تو بہت غلط بات ہے نا۔
تو یہ شبینہ، یہ شب بیداری یہ چیز نہیں ہے، یہ چیز نہیں ہے۔ شب بیداری اسی کو کہتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں جو میں نے عرض کر لیا۔ اعمال کی شب بیداری۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود بھی کمر کس لیتے تھے اعمال کے لیے اور اپنے جو قریبی رشتہ دار تھے ان کے بھی، ان کو بھی جگاتے تھے۔ یہ طریقہ تھا۔ تو شب بیداری تو ہے لیکن اعمال کے لیے ہے۔ اور یہ چیز جاری رہے گی ان شاء اللہ سحری تک۔ کیونکہ مطلب یہ ہے کہ ماشاء اللہ روزہ ہی ہو گا صبح، تو روزے کے لیے بھی تیاری تو ہے تو وہ بھی آپ کا یعنی اس میں آ جاتا ہے ثواب میں آتا ہے، سحری کا بھی ثواب ہے۔تو اس کا بھی ثواب ہے تو وہ بھی ثواب آپ کو ملے گا۔ پھر اس سے پہلے دعائیں جو ہیں وہ جو آخری گھڑیاں ہوتی ہیں رات کی اس میں دعائیں بڑی قبول۔۔۔ ویسے پوری رات میں دعائیں قبول ہو رہی ہیں یہ تو ہے ہی کیونکہ اس رات میں تو مغرب سے ہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال وہ پیک (Peak) پہ پہنچ جاتا ہے۔ تو دعاؤں کو نہ بھولا کریں۔ اس طریقے سے ان شاء اللہ العزیز اگر آپ کی یہ راتیں اس طرح گزریں۔
اب اس میں میں یہ عرض کروں گا کہ نصاب اپنے اپنے ہیں۔ جو صحیح ذہن والے ہیں نا وہ تو دس کی دس راتیں اس طرح گزاریں گے۔ جو صحیح سوچ والے ہیں۔ جو اس سے ذرا تھوڑے سے کم سوچ والے ہیں وہ طاق راتیں اس طرح گزاریں گے۔ اور جو اس سے بھی کم ہیں تو پھر وہ 27 ویں کو اس طرح گزاریں گے۔ مطلب نہ ہونے سے پھر بھی وہ بہتر ہے، یعنی وہ ٹھیک ہے۔ بھئی کم از کم یہ دو نمازیں تو سارے لوگوں نے پڑھنی ہے نا، ہر رات میں پڑھنی ہے۔ تو اس کا تو اہتمام کرو نا۔ کہ اس کو اس طریقے سے پڑھو تاکہ جو ہے نا۔۔۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ یہ جو اعتکاف نہیں کرنے والے لوگ بھی ہیں، وہ بھی کم از کم اس کا خیال رکھیں یعنی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مشکل ہو جاتا ہے اعتکاف نہیں کر پاتا یا خادم لوگ ہوتے ہیں خدمت کرنے والے ہوتے ہیں، تو ایسی صورت میں وہ بھی یہ دو نمازیں ہیں ان کا اہتمام اپنے طور پہ کر لیں کہ اس میں جو ہے نا تکبیر اولیٰ والی بات ہے۔
تو ابھی میرے خیال میں ٹائم تو کم ہو گیا میں آپ کو یہی چیزیں سناتا ہوں کلام کی صورت میں ان شاء اللہ۔
یعنی آپ کو۔۔۔ یہ سنانے والے ہیں نا یہ بہت بڑے افسر ہیں لیکن آج کل بیمار ہیں ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک ان کو شفا دے دے۔
ان کی شفا کے لیے بھی ایک ذریعہ بن جائے گا نا۔
آخری عشرۂ رمضان کی برکات سنا
مجھ کو معلوم نہ تھا اس کا کہیں یہ نہ کہو
عشرۂ خاص جہنم سے خلاصی کا ہے
یہ اپنے سارے گناہوں سے معافی کا ہے
لیلۃ القدر کے حصول السعی کا ہے
جو کہ ہمت کرے اس میں تو بس اسی کا ہے
اس میں جاگنے اور جگانے کا عمل جاری رہے
دل پہ بس حبِ الٰہی کا کیف طاری رہے
اس میں جاگنے اور جگانے کا عمل جاری رہے
دل پہ بس حبِ الٰہی کا کیف طاری رہے
لیلۃ القدر کی اک رات اس میں پنہانی ہے
جس میں اجر و قبولیت کی فراوانی ہے
ہزار مہینے سے افضل یہ رات آئی ہے
تو نے بھی ہمت و مردانگی دکھانی ہے
چاہیے ساری یہ دس راتیں جاگ کر گزریں
پسند اعمال جو اللہ کو ہیں وہ کر گزریں
چاہیے ساری یہ دس راتیں جاگ کر گزریں
پسند اعمال جو اللہ کو ہیں وہ کر گزریں
لیلۃ القدر کے پانے کا طریقہ آسان
اور تربیت کے لیے بھی مجاہدہ آسان
جو ہے مسنون طریقہ اعتکاف آسان
اور اعمال کے کرنے کا سلسلہ آسان
وہ ہے مسنون اعتکاف کا عمل اس میں
نصیب اس کو ہو شوق اور ہمت جس میں
وہ ہے مسنون اعتکاف کا عمل اس میں
نصیب اس کو ہو شوق اور ہمت جس میں
کسی کے واسطے مشکل ہو اعتکاف اگر
ہیں چند عملی گزارشات عمل کر دیں ان پر
نہ کوئی فرض و سنت چھوٹے رکھے اس پر نظر
زبان پہ ذکر ہو جاری نہ کرے کام منکر
اور کچھ بھی نہ ہو تو یہ تو ہو کہ گناہ نہ ہو
بعد اعمال کے سحری تلک تو سوتے رہو
دو نمازیں اس میں آتی ہیں جماعت کے ساتھ
زبان پہ ذکر ہو کرے کوئی فضول نہ بات
کچھ نوافل کچھ تلاوت کچھ دعائیں ہر رات
ایسا مشغول ہو اعمال میں کہ ہو جائے نجات
طاق راتوں میں یہ اعمال ذرا ہوں زیادہ
لیلۃ القدر کے پانے کا طریقہ سادہ
طاق راتوں میں یہ اعمال ذرا ہوں زیادہ
لیلۃ القدر کے پانے کا طریقہ سادہ
کچھ بدنصیب کرتے shopping ہیں ان راتوں میں
اور کچھ لوگ گزارتے ہیں ان کو باتوں میں
کچھ عید کارڈ ہی بانٹتے لیے ہاتھوں میں
کاش ان کی رات بھی گزرتی یہ مناجاتوں میں
کاش ان کو سمجھ ہوتی کماتے ہیں یہ کیا
اپنے اعمال کے نامے میں سجاتے ہیں یہ کیا
کاش ان کو سمجھ ہوتی کماتے ہیں یہ کیا
اپنے اعمال کے نامے میں سجاتے ہیں یہ کیا
آئیے اس میں ہم کچھ اور تجارت بھی کریں
صلح اللہ سے کریں اس کی عبادت بھی کریں
اور گناہوں سے اپنی خاص حفاظت بھی کریں
اس اک رات کے پانے کی کچھ ہمت بھی کریں
راتیں یہ گزریں شبِ بیداریِ صالحین کے ساتھ
کریں اعمال اس کی ذات پہ یقین کے ساتھ
راتیں یہ گزریں شبِ بیداریِ صالحین کے ساتھ
کریں اعمال اس کی ذات پہ یقین کے ساتھ
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو توفیقِ عمل کرنے کی عطا فرمائے۔ اللہ تو اپنے فضل و کرم سے رمضان شریف کا جو آخری عشرہ آنے والا ہے، یا اللہ العٰلمین، اس میں ہمارے دل اپنے ذات کے ساتھ لگا لے۔ یا اللہ اپنی طرف متوجہ فرما دے اور اپنی رحمت کو ہماری طرف متوجہ فرما دے۔ یا اللہ اس کے اندر جو نور ہے اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔ یا اللہ اس کے اندر جو فیض ہے وہ ہمیں نصیب فرما دے۔ اس کے اندر جو اجر ہے وہ ہمیں نصیب فرما۔ اے اللہ اس میں تو مل جائے۔ اے اللہ اس میں تو مل جائے...
(رقت انگیز دعا)
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔
یا اللہ ہم بہت ساری حاجات رکھتے ہیں، یا اللہ ہماری تمام حاجات کا تکفل فرما دے۔ یا اللہ افراط و تفریط سے بچا دے، جو حق راستہ ہے اس پہ چلا دے۔ یا اللہ حق والوں کے ساتھ کر دے، تمام فتنوں سے محفوظ فرما دے۔ اپنے نبی پاک ﷺ کی مبارک سنتوں پہ چلنے اور چلانے والا بنا دے۔ یا اللہ العٰلمین، ہمیشہ کے لیے شیطان کے شر سے محفوظ فرما۔ ہمیں یا اللہ العٰلمین قلبِ سلیم، عقلِ فہیم اور یا اللہ نفسِ مطمئنہ عطا فرما دے۔ یا اللہ العٰلمین اس رمضان شریف میں ہماری پوری پوری اصلاح فرما دے۔ یا اللہ اس کو ہمارے لیے زندگی کا بہترین مہینہ بنا دے۔ اور یہ آخری عشرہ یا اللہ العٰلمین ہماری بہترین راتیں بنا دے۔ اور یا اللہ اس میں روزے ہمارے بہت کامل روزے ہوں، اور یا اللہ العٰلمین تو اپنے فضل و کرم سے یا اللہ العٰلمین ہمارے تمام گناہوں کو بخش دے۔ یا اللہ جہنم سے ہمیں خلاصی عطا فرما دے۔ یا اللہ اس میں جو افطاریوں کی دعائیں ہیں یا اللہ ہمیں نصیب فرما دے اور قبول فرما دے۔ جو سحری کی دعائیں ہیں یا اللہ وہ بھی نصیب فرما قبول فرما دے۔ اعتکاف یا اللہ قبولیت والا نصیب فرما دے۔ یا اللہ العٰلمین، یا اللہ العٰلمین جو اصلاحی اعتکاف ہے یا اللہ اس کو کامل نصیب فرما دے اور یا اللہ العٰلمین تو ہم سے راضی ہو جا، ہم سے روٹھ کر ناراض نہ ہو۔ ہمارے ہر کام کو فقط اپنی رضا کے لیے کر دے۔ یا اللہ اپنے نبی پاک ﷺ کے طریقے کے مطابق کر دے۔ یا اللہ، یا اللہ العٰلمین، ہم تیری طرف بڑھنے والے ہوں، اور تو اور تیری رحمت ہماری طرف بڑھنے والی ہو۔
یا اللہ العٰلمین ہر وقت، ہر دم ہم ذاکر رہیں، غفلت سے بچے رہیں، اور یا اللہ اپنے نبی پاک ﷺ کے طریقے پر چلنے والے ہوں۔ ہماری زندگی کے اندر برکت عطا فرما، ہمارے مال کے اندر، ہمارے احوال کے اندر اور یا اللہ العٰلمین، جتنی بھی چیزیں یا اللہ العٰلمین ہمارے ساتھ ہیں، یا اللہ ان سب کے اندر برکت عطا فرما دے اور خیر والی برکت۔ اور یا اللہ العٰلمین ہر شر سے ہماری حفاظت فرما دے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔
یا اللہ ہمارے دلوں کے اندر جو جائز حاجات ہیں ان کو پورا فرما اور جو ناجائز حاجات ہیں ان سے ہمارے دلوں کو فارغ فرما۔ ہمیں مستجاب الدعوات بنا، یا اللہ جن نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، توقع رکھی، سب کی دعاؤں کو قبول فرما۔ اپنے نبی پاک ﷺ کی معیت پاک میں، اپنے دیدار پاک عطا فرما۔ یا اللہ جب تو فرمائے کہ میں تم سے راضی ہوں پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ یا اللہ اپنے مقربین میں، محبوبین میں، محبین میں، صدیقین میں، صادقین میں، اور یا اللہ ان لوگوں میں جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے شامل فرما۔ ان لوگوں میں جن کے بارے میں تو فرماتا ہے کہ جو میرے ہیں ان کو تو میرے ہاں پہنچا دے۔
یا اللہ العٰلمین، ہمیں یا اللہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بار بار لے جا، بے حساب لے جا۔ یا اللہ ہم کعبہ شریف کی زیارت کریں، بار بار، بے حساب کریں اور قبول کریں۔ یا اللہ اسی طرح مسجد نبوی اور روضہ اقدس کی زیارت بھی بار بار اور بے حساب اور قبول کریں۔ اور کسی ظالم، جابر اور فاسق و فاجر کا ہم پر مسلط ہونا ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یا اللہ حرمین شریفین کی زیارتیں بار بار نصیب فرما، مقبول حج اور مقبول عمرے عطا فرما۔ اور یا اللہ العٰلمین، وہاں پر جتنے بھی حضرات گئے ہیں، یا اللہ ان تمام لوگوں کے عمرے یا اللہ العٰلمین قبول فرما دے۔ اور یا اللہ العٰلمین تو ہمیں بھی بار بار وہاں پر لے جا۔ اور یا اللہ العٰلمین، پاکستان کو اچھے اور اللہ والے حکمران عطا فرما دے۔ تمام دنیا کے اندر مسلمانوں کو یا اللہ باعزت زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ غزہ کے مسلمانوں کی بھرپور مدد فرما دے۔ یا اللہ جو ان کی شہادتیں ہوئی ہیں، جو ان کے زخمی ہوئے ہیں، یا اللہ العٰلمین، ان کو اس کا بھرپور اجر عطا فرما، کمال قبولیت عطا فرما دے۔ اور یا اللہ العٰلمین ان کو تمام مصائب اور تکالیف سے محفوظ فرما دے۔ اور یا اللہ جو اسرائیلی ہیں، انہوں نے جو ظلم ان کے اوپر کیا ہے، جو تکبر و غرور کیا ہے، اور جو انہوں نے جال پھیلائے ہوئے ہیں پورے عالمِ اسلام کے خلاف، یا اللہ العٰلمین اولاً ان کو ہدایت عطا فرما، اگر ہدایت نصیب میں ان کی نہیں، تو ان کو جیسے تو نے فرعون کو غرق کر دیا، ان کو بھی غرق کر دے۔
اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ حَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ