اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
جہان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ بے حکم اس کے ذرہ بھی نہیں ہل سکتا۔ نہ وہ سوتا ہے، نہ اونگھتا ہے، وہ تمام عالم کی حفاظت سے تھکتا نہیں ہے۔
یہ آیت الکرسی ہے:
﴿اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۬ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴾۔
وہی سب چیزوں کو تھامے ہوئے ہے اس طرح تمام اچھی اور کمال کی صفتیں اس کو حاصل ہیں اور بری اور نقصان کی کوئی صفت اس میں نہیں ہے، نہ اس میں کوئی عیب ہے۔
اس کی سب صفتیں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی اور اس کی کوئی صفت کبھی جا نہیں سکتی۔ مخلوق کی صفتوں سے وہ پاک ہے اور قرآن حدیث میں بعض جگہ ایسی باتوں کی خبر دی ہے تو اس کے معنی اللہ کے حوالے کریں کہ وہی اس کی حقیقت جانتا ہے۔ اور ہم بے کود کرید کے اس طرح ایمان لاتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ اس کا مطلب ہے وہ ٹھیک ہے اور حق ہے اور یہی بات بہتر ہے۔ یا اس کے کچھ مناسب معنی لگائیں، جس سے وہ سمجھ میں آ جائے۔
عالم میں جو کچھ بھلا برا ہوتا ہے سب کو اللہ تعالیٰ اس کے ہونے سے پہلے ہمیشہ سے جانتا ہے اور اپنے جاننے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے۔ اسی کا نام تقدیر ہے۔ اور بری چیزوں کے پیدا کرنے میں بہت بھید ہیں، جن کو ہر ایک نہیں جانتا۔
اصل میں پیدا کرنے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔ تو جس چیز کو کوئی پیدا کرنا چاہے تو اس کو جانتا ہوتا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ اس کو پہلے سے جانتا ہے۔ یعنی اس کے علم میں ہوتا ہے۔
تقدیر اصل میں اندازے کو کہتے ہیں۔ یعنی کسی بھی چیز کے بارے میں اندازہ کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ کا اندازہ تو exact ہوتا ہے۔ لیکن نام اس کا بھی تقدیر ہے۔
بندوں کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ اور ارادہ دیا ہے، جس سے وہ گناہ اور ثواب کے کام اپنے اختیار سے کرتے ہیں۔ مگر بندوں کو کسی کام کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ گناہ کے کام سے اللہ میاں ناراض اور ثواب کے کام سے خوش ہوتے ہیں۔
یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن بہرحال ہمیں اس کو اس طرح ہی ماننا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ انسان ارادہ کر سکتا ہے اس کام کو کر نہیں سکتا اگر اللہ نہ ہونے دے۔
مثلاً بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان گناہ کا ارادہ کرتا ہے لیکن اللہ پاک اس کو نہیں ہونے دیتا۔ کسی پہ اللہ پاک کا فضل ہوتا ہے۔ وہ نہیں ہونے دیتا حالات اس کے مطابق نہیں ہوتے۔ تو وہ گناہ نہیں ہو پاتا۔ اس میں بہت ساری باتیں شامل ہو جاتی ہیں ظاہری طور پر، لیکن حقیقت میں تو یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہر ایک کو ارادہ تو دیا ہے، قدرت نہیں دی ہے۔
اب دیکھ لیں یہ جیسے میں مثال کے طور پر یہ fan چل رہا ہے تو button سے میں on کرتا ہوں تو اس کو وہ on ہو جاتا ہے، چل پڑتا ہے۔ لیکن اس کے اندر اگر یہ circuit نہ ہو تو میں ہزار بار بھی button دباؤں تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ تو اصل بات تو یہ ہے کہ circuit سے چل رہا ہے لیکن یہ جو button دبا رہے ہیں ظاہر ہے یہ circuit کو complete کرتا ہے۔ تو اس طریقے سے وہ چل پڑتا ہے۔
اسی طریقے سے اگر میں اس پر ہاتھ رکھوں تو حقیقت میں تو circuit نے چلایا ہے، لیکن لوگ کیا کہیں گے کہ پنکھا کس نے چلایا؟ جس نے button پہ ہاتھ رکھا ہے لوگ وہی کہیں گے نا کہ اس نے چلایا ہے۔ تو اسی طریقے سے جب انسان کوئی ارادہ کرتا ہے اور اللہ پاک اس کے مطابق اس کو کر دیتا ہے، تو لوگ سمجھتے ہیں یہ اس نے کیا ہے۔ اسی میں confusion ہوتا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے کیا، نہیں! کیا اللہ نے ہے لیکن ارادہ اس کا ہوا ہے، اس کے ارادے کو اللہ نے مکمل کر دیا۔ اس کو ہونے دیا۔ اگر اللہ پاک نہ ہونے دے، نہ ہونے دینا چاہے تو وہ نہیں کر سکتا وہ نہیں ہوگا پھر۔
مثلاً بعض دفعہ کسی کو کوئی قتل کرنا چاہتا ہے لیکن اللہ اس کو بچا لیتا ہے۔ وہ نہیں اس کو قتل کر سکتا۔ وہ ہمارے اوپر جو حملہ ہوا تھا وہ India کی طرف سے، جہازوں کا جو پورا بیڑا آیا تھا، بس اللہ پاک کا یہ تھا کہ نہیں ہونے دینا تھا تو بس اللہ پاک نے ہمارے لوگوں کو تدبیر دی اور اس طریقے سے ہو گیا کہ وہ نہیں کر سکے۔
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ایسے کام کا حکم نہیں دیا جو بندوں سے ہو نہ سکے۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ﴾
یہ بہت بڑا نقطہ ہے۔ جب بھی ہم سوچیں تو اگر اختیار میں نہیں ہے تو ہم سے مطالبہ اس کا نہیں ہوگا۔ جب بھی کوئی بھی بات سوچو جو اختیار میں نہیں اس کا مطالبہ نہیں ہے۔
مثلاً نماز آپ پورا پڑھ سکتے ہیں پوری نماز کا مطالبہ ہے۔ اگر پورے نہیں پڑھ سکتے، کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے، بیٹھ کر پڑھ سکتے ہو تو بیٹھ کر پڑھنے کا مطالبہ ہوگا۔ اور اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے، صرف اشارے سے پڑھ سکتے ہیں تو پھر اشارے سے اس کا وہ ہوگا۔ بہت ساری جو معذور کی جو نمازیں ہوتے ہیں اس میں بڑی relaxations ہیں۔ وہ relaxations اس وجہ سے ہیں کہ وہ انسان کر نہیں سکتا۔
لیکن کوئی ہٹا کٹا آدمی اس معذور کو دیکھے، کہتا ہے اوہ یہ تو اس طرح پڑھ رہا ہے، میں بھی اس طرح پڑھتا ہوں۔ اور اگر وہ معذور بزرگ ہو، کہتا ہے میں بزرگوں کی نقل کرتا ہوں۔ تو یہ غلط ہوگا۔ یہاں پر بزرگوں کی نقل نہیں، یہاں پر شریعت پر چلنا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ کر نہیں سکتا، معذور ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دوں۔ یہ ایک عالم تھے تو اس نے جو نماز پڑھی تو وہ بوڑھوں کی طرح پڑھی۔ تو اس نے کہا بھئی یہ سنت طریقہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کون سی سنت؟ جوانی کی سنت یا بڑھاپے کی سنت؟ کتابیں تو میں نے بھی پڑھی ہیں تو یہ میں نے بڑھاپے کی سنت پہ عمل کیا ہے تو جوانی کی سنت تو تم جوان ہے تو تم اس پہ عمل کرو نا۔
یہ بات بالکل ایک technical بات ہے کہ جو شخص جس position پر ہے اس position کے مطابق اس سے اعمال کا مطالبہ ہے۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ اس سے نہیں، مثلاً اچھے خواب آنا، یہ ایک اچھی بات ہے۔ لیکن دوسرا آدمی کہے مجھے اچھے خواب کیوں نہیں آتے؟ تو اس سے کہے تجھے کیا فکر ہے؟ بھئی اچھے خواب پر کونسا اجر مل رہا ہے؟ ایک آدمی نے 50 اچھے خواب دیکھے، دوسرے نے ایک دفعہ ﴿سُبْحَانَ اللّٰهِ﴾ پڑھا اور کوئی اچھا خواب نظر نہیں آیا۔ کس کو فائدہ ہوا؟ وہ ایک دفعہ ﴿سُبْحَانَ اللّٰهِ﴾ کہنے والے کو فائدہ ہوا۔
اب ہمیں ﴿سُبْحَانَ اللّٰهِ﴾ کا عمل نظر نہیں آ رہا اور اچھے خواب نظر آ رہے ہیں، بھئی ﴿سُبْحَانَ اللّٰهِ﴾ اختیاری ہے۔ اور اچھے خواب نظر آنا اختیاری نہیں ہے تو تم اچھے خوابوں کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ اسی طرح ذکر میں بعض لوگوں کو مزہ آتا ہے بعض لوگوں کو مزہ نہیں آتا۔ اب مزہ آنا یہ اختیاری نہیں ہے، تو اگر نہیں آتا تو آپ سے مطالبہ کس طرح ہے؟ کس کا ہے کہ تمہیں ذکر میں مزہ آنا چاہیے؟ بلکہ تم زیادہ مجاہدے کے ساتھ اگر کرو گے یعنی مزہ نہیں آئے گا اور پھر بھی کرو گے تو آپ کو زیادہ اجر ملے گا۔ تو ان چیزوں کو لوگ دیکھتے نہیں ہیں تو اس وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔