اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات۔
اعتکاف کے مسائل
شرائط:
اعتکاف کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں۔ مسجدِ جماعت میں بہ نیتِ اعتکاف ٹھہرنا۔
نیت جو ہے نا، یہ دل کا فعل ہے۔ لہٰذا کسی کے دل میں ہو کہ میں اعتکاف کے لیے مسجد میں آ رہا ہوں اور اس نیت سے داخل ہو جائے تو بس اس کی نیت ہو گئی۔ الفاظ ضروری نہیں ہیں، ہاں برکت اس میں ہے۔
مسجدِ جماعت میں بہ نیتِ اعتکاف ٹھہرنا، پس بے قصد و ارادہ ٹھہر جانے کو اعتکاف نہیں کہیں گے۔
سنت اعتکاف میں تو اس کا مسئلہ اتنا نہیں ہوتا کیونکہ آتے ہی انسان نیت کر لے گا۔ البتہ جو نفلی اعتکاف ہے، اس میں اس کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ نفلی اعتکاف جیسے ہی انسان مسجد سے باہر جاتا ہے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ نفلی اعتکاف ختم ہو جاتا ہے، پھر بعد میں داخل ہو گا تو پھر نیت کرنی پڑے گی۔ اس میں، مسنون اعتکاف میں انسان نیت کرتے ہوئے ٹھہر جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف اس وقت نکلتا ہے جس کی شرعاً اجازت ہو۔ یعنی انسان toilet جانے کے لیے نکلتا ہے، استنجاء کرنے کے لیے نکلتا ہے۔
چونکہ نیت کے صحیح ہونے کے لیے نیت کرنے والے کا مسلمان اور عاقل ہونا شرط ہے، لہٰذا عقل و اسلام کا شرط ہونا بھی نیت کے ضمن میں آ گیا۔
حیض و نفاس سے خالی اور پاک ہونا یہ عورتوں کے لیے، اور جنابت سے پاک ہونا، یہ ظاہر ہے دونوں کے لیے۔
قسمیں:
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
پہلا اعتکاف واجب:
یہ وہ ہوتا ہے کہ اگر اس کی نظر مانی جائے۔ نذر خواہ غیر معلق ہو، جیسے کوئی شخص بغیر کسی شرط کے اعتکاف کی نذر کرے یا معلق جیسے کوئی شخص یہ شرط کرے کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو میں اعتکاف کروں گا۔
مسئلہ: اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے۔ جب کوئى شخص اعتکاف کرے گا تو اسکو روزہ رکھنا بھى ضرورى ہوگا بلکہ اگر يہ بھى نيت کرے کہ ميں روزہ نہ رکھوں گا تب بھى اس کو روزہ رکھنا لازم ہوگا۔ اسى وجہ سے اگر کوئى شخص رات کے اعتکاف کى نيت کرے تو وہ لغو سمجھى جاويگى ۔ کيونکہ رات روزے کا محل نہيں ۔ ہاں اگر رات دن دونوں کى نيت کرے يا صرف کئى دنوں کى تو پھر رات ضمنا داخل ہو جائے گى اور رات کو بھى اعتکاف کرنا ضرورى ہوگا۔ اور اگر صرف ايک ہى دن کے اعتکاف کى نذر کرے تو پھر رات ضمنا بھى داخل نہ ہوگى روزے کا خاص اعتکاف کيلئے رکھنا ضرورى نہيں خواہ کسى غرض سے روزہ رکھا جائے اعتکاف کے لئے کافى ہے
جیسے ابھی ہم فرض روزے رکھ رہے ہیں۔
مثلا کوئى شخص رمضان ميں اعتکاف کى نذر کرے تو رمضان کا روزہ اس اعتکاف کيلئے بھى کافى ہے۔ ہاں اس روزہ کا واجب ہونا ضرورى ہے نفل روزے اسکے لئے کافى نہيں ۔ مثلا کوئى شخص نفل روزہ رکھے اور بعد اس کے اسى دن اعتکاف کى نذر کرے تو صحيح نہيں اگر کوئى شخص پورے رمضان کے اعتکاف کى نذر کرے اور اتفاق سے رمضان ميں نہ کر سکے تو کسى اور مہينے ميں اس کے بدلے کر لينے سے اس کى نذر پورى ہو جائے گى مگر على الاتصال روزے رکھنا اور ان ميں اعتکاف کرنا ضرورى ہوگا۔
سنتِ مؤکدہ:
رمضان کے اخیر عشرے کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔
یعنی چند لوگوں نے بھی اگر کر لیا تو سب کی طرف سے ہو جائے گا۔
رمضان کے اخير عشرے ميں نبى علیہ السلام سے بالالتزام اعتکاف کرنا احاديث صحيحہ ميں منقول ہے مگر يہ سنت مؤکدہ بعض کے کر لينے سے سب کے ذمے سے اتر جائيگى
مستحب:
رمضان کے اخیر عشرے کے سوا کسی اور زمانے میں، خواہ رمضان کا پہلا، دوسرا عشرہ ہو یا کوئی اور مہینہ، اعتکاف بہ نیت ثواب کرنا مستحب ہے۔
جیسا ہمارے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ تشریف لاتے تھے، 40 دن کا اعتکاف کرتے تھے۔ یعنی شعبان کے 10 دن اور پورا رمضان۔ تو اس میں آخری حصہ ظاہر ہے وہ سنت والا ہوتا تھا۔
مسائل:
مسئلہ: سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام يعنى کعبہ مکرمہ ميں کيا جائے اس کے بعد مسجد نبوى کا ۔ اسکے بعد مسجد بيت المقدس کا ۔ اسکے بعد اس جامع مسجد کا جسميں جماعت کا انتظام ہو۔ اگر جامع مسجد ميں جماعت کا انتظام نہ ہو تو محلے کى مسجد اسکے بعد وہ مسجد جسميں زيادہ جماعت ہوتى ہو۔
مسئلہ: اعتکاف مسنون ميں تو روزہ ہوتا ہى ہے اس لئے اس کے واسطے شرط کرنے کى ضرورت نہيں
مسئلہ: اعتکاف مستحب ميں بھى احتياط يہ ہے کہ روزہ شرط ہے اور معتمد يہ ہے کہ شرط نہيں۔
مسئلہ: اعتکاف واجب کم سے کم ايک دن ہو سکتا ہے اور زيادہ جس قدر نيت کرے اور اعتکاف مسنون ايک عشرہ اس لئے کہ اعتکاف مسنون رمضان کے اخير عشرے ميں ہوتا ہے اور اعتکاف مستحب کے لئے کوئى مقدار مقرر نہيں ايک منٹ بلکہ اس سے بھى کم ہو سکتا ہے۔
مثلاً اب آپ کسی بیان میں بیٹھے ہیں، اچانک آپ کو خیال آیا کہ میں اعتکاف کی نیت کیوں نہ کروں؟ اعتکاف کی نیت کر لیں۔ اب باقی جتنا وقت آپ کا گزرے گا مسجد میں، وہ اعتکاف کا ثواب ملے گا۔ اس لیے کہتے ہیں نا علمائے کرام کہ ساتھ ساتھ رہنا چاہیے، فائدہ ہوتا ہے۔ مفت میں ثواب کی صورتیں نکل آتی ہیں۔
مسئلہ: حالت اعتکاف ميں دو قسم کے افعال حرام ہيں يعنى ان کے ارتکاب سے اگر اعتکاف واجب يا مسنون ہے تو فاسد ہو جائے گا اور اسکى قضا کرنا پڑے گى اور اگر اعتکاف مستحب ہے تو ختم ہو جائے گا ۔ اس لئے کہ اعتکاف مستحب کے لئے کوئى مدت مقرر نہيں پس اسکى قضا بھى نہيں۔ پہلى قسم اعتکاف کى جگہ سے بے ضرورت طبعى نکلنا، یعنی کھانا لانے کے لیے نکلنا ضرورتِ طبعی میں داخل ہے، جبکہ کوئی شخص کھانا لانے والا نہ ہو۔ اور شرعی ضرورت جیسے جمعہ کی نماز کے لیے نکلنا۔
یہ اس وقت کے لیے جہاں پر جمعہ کی نماز نہ ہوتا ہو۔ جس مسجد میں جمعہ کی نماز نہ ہوتا ہو، اور وہاں اعتکاف کیا جائے تو اس میں جمعہ کی نماز کے لیے نکلنا، یہ کیا ہے؟ جائز ہے۔ لیکن اگر وہ کسی ایسے علاقے میں ہے تو پھر، جہاں جمعہ ہوتا ہی نہ ہو۔
مسئلہ: جس ضرورت کے لئے اپنے اعتکاف کى مسجد سے باہر جائے بعد اسکے فارغ ہونے کے وہاں قيام نہ کرے اور جہاں تک ممکن ہو ايسى جگہ اپنى ضرورت رفع کرے جو اس مسجد سے زيادہ قريب ہو۔ مثلا پائخانے کيلئے اگر جائے اور اسکا گھر دور ہو اور اس کے کسى دوست وغيرہ کا گھر قریب ہو تو وہيں جائے ۔ ہاں اگر اس کى طبيعت اپنے گھر مانوس ہو اور دوسرى جگہ جانے سے اسکى ضرورت رفع نہ ہو تو پھر جائز ہے۔ اگر جمعے کى نماز کے لئے کسى مسجد ميں جائے اور بعد نماز کے وہيں ٹھہر جائے اور وہيں اعتکاف کو پورا کرے تب بھى جائز ہے مگر مکروہ ہے۔
مسئلہ: بھولے سے بھى اپنى اعتکاف کى مسجد کو ايک منٹ بلکہ اس سے بھى کم چھوڑ دينا جائز نہيں
مسئلہ: جو عذر کثير الوقوع نہ ہوں ان کے لئے اپنے معتکف کو جائے اعتکاف چھوڑ دينا منافى اعتکاف ہے مثلا کسى مريض کى عيادت کے لئے يا کسى ڈوبتے ہوئے کو بچانے کے لئے يا آگ بجھانے کو يا مسجد کے گرنے کے خوف سے گو ان صورتوں ميں معتکف سے نکل جانا گناہ نہيں بلکہ جان بچانے کى غرض سے ضرورى ہے مگر اعتکاف قائم نہ رہے گا۔ اگر کسى شرعى يا طبعى ضرورت کے لئے نکلے اور اس درميان ميں خواہ ضرورت رفع ہونيکے پہلے يا اس کے بعد کسى مريض کى عيادت کرے يا نماز جنازے ميں شريک ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہيں۔
شرعی و طبعی ضرورت پہلے بتا دی گئی نا، جیسے انسان جمعہ کی نماز کے لیے نکلا ہو، یا کھانا لانے کے لیے نکلا ہو، یعنی کھانا اگر کوئی لانے والا نہیں ہے۔ اس کے نکلنے... تو اس درمیان میں اگر کوئی مریض کی عیادت کر لے یا نمازِ جنازہ میں شریک ہو جائے تو اس میں کوئی پابندی نہیں ہے۔
مسئلہ: جمعہ کى نماز کيلئے ايسے وقت جاوے کہ تحية المسجد اور سنت جمعہ وہاں پڑھ سکے اور بعد نماز کے بھى سنت پڑہنے کے لئے ٹھہرنا جائز ہے اس مقدار وقت کا اندازہ اس شخص کى رائے پر چھوڑ ديا گيا ہے۔ اگر اندازہ غلط ہو جائے يعنى کچھ پہلے سے پہنچ جائے تو کچھ مضائقہ نہيں
مسئلہ: اسى طرح اگر کسى شرعى يا طبعى ضرورت سے نکلے اور راستہ ميں کوئى قرض خواہ روک لے يا بيمار ہو جائے اور پھر معتکف تک پہنچنے ميں کچھ دير ہو جائے تب بھى اعتکاف قائم نہ رہے گا۔
اس میں بہت ساری چیزیں اب، اب نہیں پائی جاتیں۔ مثلاً پہلے گاؤں وغیرہ میں اعتکاف ہوتا تھا، مجھے یاد ہے تو جو اعتکاف کرتے تھے تو وہ رفعِ حاجت کے لیے وہ کھیتوں وغیرہ میں جایا کرتے تھے۔ ان دنوں یہ بیت الخلاء یا مساجد میں تو اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ تو ہمیں یاد ہے کہ وہ حضرات جایا کرتے تھے، اور انہوں نے اپنے لیے پروٹوکول بھی بنایا ہوا تھا۔ کہ وہ اس طرح رومال جو ہے نا سر پہ ڈالتے، کہ یہاں تک آتا تھا۔ تو ان کو لوگ نظر نہیں آتے تھے، راستہ نظر آتا تھا، مطلب بس اس طرح جاتے تھے۔ تاکہ کسی کے ساتھ آنکھیں نہ ملیں اور بات کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ اس طرح جاتے تھے۔ اب چاہے گاؤں ہو چاہے شہر ہو، اس کے... بیت الخلاؤں کا وجود آ گیا مساجد کے ساتھ، لہٰذا اس کے لیے دور نکلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور پھر یہ ہے کہ جمعہ کی نماز تقریباً، جہاں جہاں بھی اعتکاف کیا وہاں تقریباً جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ ہاں بہت rare ایسی جگہیں ہیں جہاں پر ایسی صورتحال بنے تو وہاں کے لیے مسائل ہوں گے۔
مسئلہ: حالتِ اعتکاف میں بالکل چپ بیٹھنا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔
بالکل چپ بیٹھنا، یعنی آدمی اس کو لازم سمجھے، تو نہیں ہے۔ ہاں،
بری باتیں زبان سے نہ نکلیں، جھوٹ نہ بولے، غیبت نہ کرے، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت یا کسی دینی علم کے پڑھنے پڑھانے، یا کسی اور عبادت میں اپنے اوقات صرف کرے۔ خلاصہ یہ کہ چپ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں ہے، اس کو عبادت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اعتکاف کی خوبیاں:
اعتکاف کی بہت ساری خوبیاں ہیں، ان میں کچھ یہ ہیں:
نمبر 1: اپنے قلب کو دنیاوی امور سے فارغ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اعتکاف کرنے والا اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگا دیتا ہے اور دنیا کے اشغال سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کر دیتا ہے، تاکہ اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ اس کی طرف التجا کرنے کے لیے اس کا تقرب حاصل کرے۔
کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آج کل Medical research کے مطابق ماشاءاللہ سامنے آ رہی ہیں۔ مثلاً بعض دفعہ انسان ہوتا ہے بہت سارے کام کر رہا ہے، multi-dimensional thinking کر رہا ہے، اِدھر جا رہا ہے، اُدھر جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی دماغی حالت کچھ تبدیل ہو جاتی ہے۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ان سے بھول جاتی ہیں، وہ balance کاموں میں نہیں رہتا۔ صحیح معنوں میں جیسے پروفیسر کوئی بنتا ہے، پروفیسر بن جاتا ہے۔ بڑے لطیفے اس کے لیے مشہور ہیں کہ ایک پروفیسر کوئی بنتا ہے تو پھر کیسے ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کا علاج پھر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی جگہ جائیں، کچھ بھی نہ کریں بس، سوچیں بھی نہیں۔ بس جیسے دریا کو دیکھیں یا کسی اور چیز کو دیکھیں، مطلب اس میں کوئی اور کام نہ کریں۔ تو اس طرح چند دن اگر گزارے تو پھر اس کی دوبارہ وہ چیز بحال ہو جاتی ہے، مطلب وہ چیزیں آ جاتی ہیں۔ پھر reactivate ہو جاتا ہے، سارا کچھ۔
تو اس طرح دنیا کے ماحول میں رہ کر انسان دنیا کی طرف مائل ہوتا ہے، وہ دنیا کے بارے میں نہیں بھی سوچتا، پھر بھی دنیا آتی ہے۔ اس سے انسان کا ادھر ادھر کا بچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے لیے پھر ضروری ہے کہ وہ ان تمام چیزوں سے disconnect ہو جائے جس نے اس کو عادی بنایا ہے ان چیزوں کا۔ تو جس وقت اعتکاف میں اس قسم کا موقع مل جاتا ہے۔
میں آپ کو اس کا واقعہ سناتا ہوں، ایک بڑی interesting واقعہ ہے۔ ہم گئے تھے سکردو۔ سکردو کے لیے ہمارا ٹکٹ تھا واپسی کا، جہاز کا۔ جہاز ہمارے سامنے آیا لیکن اتر نہیں سکا، اور واپس چلا گیا۔ وہاں موسموں کے مسائل تو ہوتے ہیں نا۔ واپس آ گیا۔ وہاں سے سیدھے ہم اڈے پہ گئے اور جو بس کوچ available تھی اس میں ہم نے ٹکٹ کیا۔ مجھے front seat پر جگہ مل گئی، میں بڑا خوش قسمت سمجھتا تھا اپنے آپ کو کہ بھئی کمال ہے اتنا late آ گئے پھر بھی front seat مل گیا۔ پتہ چلا کہ میری خوش قسمتی کا راز کیا تھا۔ میری خوش قسمتی کا راز یہ تھا کہ وہ... اس سے driving seat کے پچھلے seat پر، TV کا screen لگا ہوا تھا۔ تو لوگ front seat پہ اس لیے نہیں بیٹھتے کہ پھر ان کو TV نظر نہیں آتا تھا۔ میں ان کو مولوی نظر آ گیا، انہوں نے کہا جی اعتراض نہیں کرے گا، چلو اس کو front seat دے دو، ٹھیک ہے؟ اس لحاظ سے میں خوش قسمت ہو گیا مطلب یہ کہ front seat پہ بیٹھ گیا۔ لیکن جلدی میری خوش قسمتی مشکلات کا شکار ہو گئی۔ وہ ایسا ہوا کہ وہ جو تھے ڈرائیور، انہوں نے ظاہر ہے پھر جیسے تھے، اس طرح گانے لگانے شروع کر لیے۔ اب جو گانے لگانے شروع کیے اور ظاہر ہے سب سے زیادہ قریب تو speaker کے میں تھا۔ تو میرے دماغ پر وہ ساری چیزیں وہ ظاہر ہے آنے لگیں۔ راستہ بھی لمبا، 22 گھنٹے کا سفر تھا۔ 22 گھنٹے کا سفر تھا، تو ظاہر ہے مسلسل گانے سننے پڑے۔ اب اعتراض بھی نہیں کر رہے، وہ کہتے ہیں ہمیں پھر نیند آتی ہے۔ پھر آدمی کیا کرے ان کے ساتھ؟ اب کوئی planned طریقے سے تو ہم آئے نہیں تھے۔ کہ میں اکثر کرتا ہوں ایسی جگہوں پہ جب دور جاتا ہوں تو اپنے ساتھ کچھ کیسٹ ویسٹ رکھ لیا کرتا تھا، نعتوں کا یا ایسی چیزوں کا کہ بھئی ان کو دے دیتا کہ بھئی یہ بجاؤ۔ لیکن میں نے planning کا، موقع ہی نہیں تھا، ہم تو جہاز پہ جانے والے تھے۔ تو خیر ایسا ہے کہ بس مجبوری تھی سننا تو پڑا پھر۔ اب یہ 22 گھنٹے کی recording وہ جو دماغ کے اوپر جا رہی تھی، وہ دماغ میں ایسے رچ بس گئی، کہ مجھے ویسے عام وقت میں بھی گانے سنائی دینے لگے۔
اس کے لیے پھر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا، کہ کئی دن میں مسلسل جو بھی وقت مجھے ملتا، میں نعتیں سن رہا تھا، یا قرآن کی تلاوت سننا شروع کیا۔ مسلسل، اس طریقے سے وہ overlap ہو گیا۔ اور وہ چیزیں ختم ہو گئیں، پھر وہ جو اخیر میں جو نعتیں سنی تھیں وہ ذہن پہ آنے لگیں۔ تو یہ بات ہے کہ اعتکاف میں یہ بات ہوتی ہے کہ جب آپ اعتکاف میں آتے ہیں تو مسلسل وہ کام یہ کرتے ہیں جو کہ ماشاءاللہ جائز ہوتے ہیں، اور مناسب ہوتے ہیں، مفید ہوتے ہیں۔ وہ اس سے پھر ان چیزوں کا wash out ہو جاتا ہے۔
اعتکاف کے آداب و مستحبات:
نمبر 1: نیک باتوں کے سوا اور کوئی کلام کرنا مکروہ ہے۔ اعتکاف کے علاوہ بھی مسجد اور مسجد کے باہر یہی حکم ہے۔ اور اعتکاف والے کے لیے بدرجہ اولیٰ ہے۔ نیک باتوں سے مراد وہ باتیں ہیں جس میں گناہ نہ ہو۔ مباح کلام کرنا ضرورت کے وقت نیک کام میں شامل ہے اور بلا ضرورت نیک کام میں شامل نہیں۔ اگر مباح کلام تقرب کے قصد سے ہو تو اس میں ثواب ملے گا۔
نمبر دو: اعتکاف میں اکثر اوقات قرآن پاک کی تلاوت کرنا، ذکر کرنا، درود شریف پڑھنا، نوافل پڑھنا، حدیث شریف اور دینی علم پڑھنا اور پڑھانا، اور درس دینا، رسول اللہ ﷺ اور دوسرے انبیاء کرام کی سیرت و حالات اور نیک لوگوں کے حالات و حکایات کا پڑھنا اور بیان کرنا اور دینی امور کے لکھنے میں مشغول ہونا، اختیار کرے۔
نمبر 3: رمضان شریف کے اخیر عشرہ کے اعتکاف کا التزام کرے۔
نمبر 4: اعتکاف کے واسطے افضل مسجد کو اختیار کرے۔ مثلاً مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی یا مسجدِ اقصیٰ یا جامع مسجد۔
نمبر 5: رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرے تو 21ویں شب کو، یعنی 20 رمضان کا سورج غروب ہونے سے قدرے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور رمضان المبارک کے آخری دن سورج غروب ہونے کے بعد مسجد سے باہر آ سکتا ہے۔
جن چیزوں سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے اور جن چیزوں سے نہیں:
اعتکاف فاسد کرنے والی چیزیں یہ ہیں:
نمبر 1: مسجد سے باہر نکلنا۔ اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ اعتکاف والی مسجد سے بلا عذر نہ دن میں باہر نکلے اور نہ رات میں۔ اور اگر عذر کے بغیر تھوڑی دیر کے لیے بھی مسجد سے نکل گیا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ خواہ جان بوجھ کر نکلا ہو یا بھول کر۔ اگر کسی عذر سے باہر نکلنے پر ضرورت سے زیادہ باہر ٹھہرا، تب اس کا واجب اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ نفلی اعتکاف ختم ہو جائے گا۔ عذر کی وجہ سے نکلنے میں کوئی حرج نہیں۔
وہ اعذار جن کی وجہ سے اعتکاف والے کو مسجد سے نکلنا جائز ہے، یہ ہیں۔
طبعی حاجات:
یعنی پیشاب، پاخانہ، استنجاء، وضو، فرض غسل کے لیے، یعنی اگر احتلام ہو جائے، تو غسل کرنے کے لیے مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔ پس جب پیشاب یا پاخانے کے لیے مسجد سے نکلے تو اس کو گھر میں داخل ہونے کا کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن قضائے حاجت کے بعد طہارت، یعنی استنجاء وضو سے فارغ ہوتے ہی مسجد میں آ جائے۔ اگر طہارت کے بعد وہ اپنے گھر میں تھوڑی دیر کے لیے بھی ٹھہرا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ اگر اعتکاف کرنے والے کے دو گھر ہوں، جن میں ایک نزدیک ہو اور دوسرا دور ہو، تو بعض کے نزدیک دور والے گھر میں قضائے حاجت کے لیے جانا جائز ہے، اور اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔ اور بعض کے نزدیک جائز نہیں ہوگا، اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
پس وہ فارمولا کہ ایسا کام نہ کرے جس میں شک پڑ جائے۔ لہٰذا قریب والے گھر میں ہی جائے تو اچھا ہے۔
اگر مسجد کے ساتھ بیت الخلاء ہو جو گھر کی بنسبت قریب ہے تو اس صورت میں بھی وہی اختلاف ہے جو دو گھروں کے بارے میں بیان ہوا ہو۔ اس لیے احتیاطاً قریب والے بیت الخلاء کو استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر وہ شخص مسجد کے بیت الخلاء یا اپنے دو گھروں میں سے ایک گھر والے بیت الخلاء سے مانوس نہ ہو، وہاں اس کو آسانی سے رفع حاجت نہ ہوتی ہو، تو اپنے مانوس بیت الخلاء میں رفع حاجت کے لیے جانا بلا خلاف جائز ہے، اگرچہ وہ دور واقع ہو۔
جب حاجتِ طبعی کے لیے نکلے تو اس کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آہستہ آہستہ چلنا جائز ہے۔
دوڑ کے نہیں کہ بھئی میرے وقت زیادہ نہ لگے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ نہیں، اعتکاف اس سے نہیں ٹوٹے گا۔
کھانا پینا اور سونا اپنے اعتکاف کی جگہ میں کرنا چاہیے۔ اس کے لیے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ اگر اعتکاف والے کے لیے گھر سے کھانا لانے والا کوئی شخص نہ ہو تو اس کو گھر سے کھانا لانا، لے آنا جائز ہے۔ کیونکہ اس صورت میں پیشاب پاخانے کی طرح طبعی حاجت میں داخل ہے۔ لیکن اس کو چاہیے کہ کھانا لے کر فوراً مسجد میں آ جائے اور وہیں آ کر کھائے۔
دوسری شرعی حاجت:
مثلاً اذان دینے، یا جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے باہر جانا جائز ہے۔ پس اگر اذان کے لیے مسجد سے نکلا، اور اذان کا مینارہ کا دروازہ مسجد سے باہر ہو، تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ خواہ مؤذن ہو یا نہ ہو۔ اور اگر اذان کا مینارہ اندر ہو تو بدرجہ اولیٰ اس پر چڑھنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ مستحب یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے تحری کر کے، اندازہ سے ایسے وقت نکلے کہ جہاں مسجد میں پہنچ کر خطبہ کی اذان سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد اور چار رکعت سنتِ جمعہ قبلیہ پڑھ لے۔ اور اس کا اندازہ اعتکاف کرنے والے کی رائے پر موقوف ہے۔ اگر اندازہ غلط ہو جائے، یعنی کچھ پہلے پہنچ جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ اور نمازِ فرضِ جمعہ ادا کرنے کے بعد اس قدر ٹھہرے کہ چار یا چھ رکعتیں پڑھ لے۔ فرضِ جمعہ سے پہلے کی چار رکعتیں اور بعد کی چار اعتکاف والی مسجد میں بھی ادا کر سکتا ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ جامع مسجد ہی میں ادا کرے۔ اور اگر زیادہ دیر جامع مسجد میں ٹھہرا رہا، مثلاً ایک دن رات وہاں ٹھہرا، یا باقی اعتکاف وہیں پورا کیا تب بھی جائز ہے۔ اس کا اعتکاف فاسد تو نہیں ہو گا، مگر یہ مکروہ ہو گا۔
اگر کسی عذر مثلاً مسجد کے گر جانے یا زبردستی کسی کے نکال دینے کی وجہ سے یا اپنی جان و مال کے خوف سے مسجد سے نکلا، تو اس وقت اعتکاف کی نیت سے دوسری مسجد میں داخل ہو گیا، کسی اور کام میں مشغول نہیں ہوا، تو اس کا اعتکاف پھر فاسد نہیں ہو گا۔
مذکورہ دو قسم کے اعذار کے علاوہ کسی اور عذر سے مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ پس اگر بیماری یا خوف کی وجہ سے یا مریض کی عیادت کے لیے یا نمازِ جنازہ کے لیے مسجد سے نکلے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو گا۔
لیکن اگر بشری حاجات پیشاب پاخانے وغیرہ کے لیے مسجد سے باہر نکلا، پھر اسی ضمن میں مریض کی عیادت بھی کی، یا نمازِ جنازہ کے لیے چلا گیا تو پھر ایسا جائز ہے۔ جب کہ اس کا مسجد سے نکلنا خاص اس مقصد کے لیے نہ ہو، اور وہ راستے سے نہ پھرے۔ نمازِ جنازہ یا مریض کی مزاج پرسی سے زیادہ وہاں نہ ٹھہرے۔ ورنہ اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
اگر نذر کرتے وقت شرط کر لی ہو کہ میں بعیادتِ مریض یا نمازِ جنازہ یا مجلسِ علم میں شریک، حاضر ہوں گا، تو تب ان امور کی وجہ سے باہر نکلنے پر اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔
یہ اچھا point ہے اچھا۔ کہ پہلے سے اگر طے کر لے کہ وہ عیادتِ مریض یا نمازِ جنازہ یا مجلسِ علم میں حاضر ہوگا تو تب ان امور کی وجہ سے مسجد سے باہر نکلنے پر اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ کیا خیال ہے پھر کیا کرنا چاہیے؟ یہ نیت کرنی چاہیے؟ پوچھ رہا ہوں، یہ نیت کر لینی چاہیے؟ مسنون میں بھی ہو سکتا ہے۔ دیکھیں، مسنون میں جو ہے نا یہ شرائط معتبر نہیں ہیں۔ اعتکافِ مسنون میں اس طرح شرط کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ اس سے وہ اعتکاف مسنون نہیں رہتا۔ یہاں پر مطلب یہ ہے کہ وہ سب، اس وقت ہے کہ جب اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ تو اس میں جو ہے نا وہ، اس کا وہ ہے۔ لیکن اصل میں اس میں مسئلہ کیا ہے۔ کہ پھر آپ کو وہ ثواب بغیر کیے نہیں ملے گا۔ اب ہم نے نیت نہیں کی ہے نا، تو ہم نہیں جا رہے۔ تو ہمیں مفت میں ثواب مل رہے ہیں۔ جو دوسرے لوگ عیادت کے لیے جا رہے ہیں یا وہ کر رہے ہیں، تو ہمیں تو مفت میں ثواب مل رہا ہے، کیا خیال ہے؟ مل رہا ہے نہیں مل رہا؟ ملے گا نا، کیونکہ اس نے تو اس میں شمولیت کی ہے۔ یہ سب احکام واجب اور سنتِ مؤکدہ اعتکاف کے ہیں۔ ٹھیک ہے؟
اگر نفلی اعتکاف میں عذر سے یا بلا عذر مسجد سے نکلے تو مثلاً مریض کی عیادت یا نمازِ جنازہ میں حاضر ہونے کے لیے تو کچھ مضائقہ نہیں۔
کیونکہ پھر بے شک اگر آپ کا اعتکاف ٹوٹ بھی گیا تو آ کے دوبارہ کر لیں نیت۔ وہ تو... مطلب، دنوں پر مخصوص نہیں ہے نا۔
اگر نفلی اعتکاف شروع کیا اور پھر توڑ دیا تو اس کی قضاء لازم نہیں ہے۔ کیونکہ اس اعتکاف کو ختم کرنا، توڑنا نہیں ہے۔ اور سنتِ مؤکدہ یعنی رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف شروع کر کے توڑ دینے سے ختم ہو جائے گا۔ سنتِ مؤکدہ یعنی رمضان المبارک کے اخیر عشرے کا اعتکاف شروع کر کے توڑ دینے سے ختم ہوتا ہے، سنتِ مؤکدہ کے بجائے ادا نہ ہو گا۔ البتہ وہ تو پورے عشرے کا ہی ہوتا ہے، اس لیے اس سے کم کیا ہوا اعتکاف نفلی بن جائے گا۔ اور اس پر اس دن کے اعتکاف کی قضاء بھی واجب ہو گی جس دن کا اعتکاف فاسد کیا ہے۔
مثلاً 24ویں کو اس کا اعتکاف ٹوٹ گیا۔ تو کیا کرے؟ اب وہ یوں کرے، کہ اس کا جو اعتکاف ہے، اس کا تو 25ویں میں نیت کر لے، پورا دن، تاکہ یہ اس کی قضاء بن جائے۔ اور باقی 26ویں، 27ویں، 28ویں، 29ویں کو کرے گا تو اس کا نفلی اعتکاف ہو گا۔ اور گزشتہ بھی ظاہر ہے نفلی ہو جائے گا۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ گویا کہ جو قضاء ہے، وہ تو اس کے 24 گھنٹے اعتکاف کرنے سے next کرنے کی، یعنی وہ تو ہو جائے گا ادا۔ لیکن باقی جو اعتکاف ہو گا وہ نفلی بن جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟
یہ مسئلہ میرے خیال میں کل میں نے کسی کو بتایا تھا شاید۔ اس کو جو ہے نا وہ غلطی سے باہر چلا گیا تھا وہ۔ کسی، مطلب ان جگہوں میں سے۔ حالانکہ میں نے بتایا بھی تھا بھئی کلی کرنے کے لیے، خصوصی طور پر بتایا تھا۔ لیکن غلطی سے... اصل میں اس میں وہی، ہمارا جو inertia ہے نا، inertia، یہ بڑی عجیب قسم کی چیز ہے۔ یعنی کوئی چیز چل رہی ہو نا، تو اس کو ذہن سے نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ تو آدمی تو آزاد عادی ہوتا ہے نا۔
یہ جنات کا اعتکاف کافی مشکل اعتکاف ہو گا۔ کیونکہ ظاہر ہے، وہ تو آزاد مخلوق ہے نا، توجب وہ کرتے... کرتے ہیں، وہ بھی کرتے ہیں۔ تو ان کے لیے تو اچھا خاصا مجاہدہ ہو گا۔ لیکن مجاہدے کا اجر بھی تو ملے گا نا ان کو۔ جنات کے اعتکاف پر آپ کو کیوں ہنسی آ رہی ہے؟ وہ ایک بہت زبردست مخلوق ہے۔ ان کے اپنے احکامات ہیں، اپنی فقہ ہے۔ ان میں بڑے اچھے اچھے لوگ ہیں۔
نمبر 2: اعتکاف توڑنے والی دوسری چیز جماع اور اس کے لوازم ہیں۔ اعتکاف والے پر جماع اور اس کے لوازم حرام ہیں۔ پس پیشاب پاخانے کے مقام میں دخول سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ اور لوازمِ جماع مثلاً مباشرت، بدن سے بدن ملانا، بوسہ مساس معانقہ اور پیشاب پاخانے کے مقام کے علاوہ کسی اور جگہ، ان صورتوں میں اگر انزال ہو جائے تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ اور اگر انزال نہ ہو تو اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔ خواہ جماع اور لوازمِ جماع دن میں واقع ہو یا رات میں ہو، جان بوجھ کر ہو یا بھول کر ہو، خواہ رضامندی کی حالت میں ہو یا اکراہ کی حالت میں ہو۔ اعتکاف کی حالت، فاسد ہونے کا حکم یکساں ہے۔ خواہ جماع مسجد سے باہر واقع ہو۔ خلاصہ یہ کہ جماع اور لوازمِ جماع کی جن صورتوں میں روزہ فاسد ہو جاتا ہے، ان سب صورتوں میں اعتکاف بھی فاسد ہو جاتا ہے۔
کیونکہ روزہ ٹوٹ جانے سے بھی اعتکاف ختم ہو جاتا ہے، مسنون اعتکاف۔
اور جن صورتوں میں روزہ فاسد نہیں ہوتا، ان صورتوں میں اعتکاف بھی فاسد نہیں ہوتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اعتکاف کے لیے دن رات اس حکم میں برابر ہیں اور روزے میں صرف دن کے وقت، یعنی روزے کی حالت میں یہ چیزیں روزے کو فاسد کر دیتی ہیں۔
نمبر 3: اعتکاف کو توڑنے والی تیسری چیز بے ہوشی اور جنون ہے۔
بے ہوشی یا جنون سے اعتکاف اس وقت باطل ہوتا ہے جب کہ وہ دو یا زیادہ دن تک رہے۔ کیونکہ اس دن میں، ان دنوں میں نیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا روزہ فوت ہو جائے گا۔ لیکن پہلے دن کا اعتکاف باطل نہیں ہو گا جبکہ اس نے وہ دن مسجد میں پورا کیا ہو۔ کیونکہ نیت پائی گئی ہے۔ لیکن اگر وہ مسجد سے باہر نکل گیا تو جنون اور بے ہوشی دور ہونے کے بعد، پر اس دن کی قضاء لازم ہو گی۔ اس دن کے علاوہ بے ہوشی یا جنون کے باقی دنوں میں اعتکاف کا بھی جنون اور بے ہوشی دور ہونے کے بعد قضاء کرے۔ اگرچہ وہ جنون بہت طویل ہو گیا ہو۔ جب اس واجب یا نذر کے اعتکاف کی قضاء پر قادر ہو جائے تو اس کو روزے کے ساتھ قضاء کرے۔
فائدہ: اگر وہ واجب یا نذر کا اعتکاف کسی معین مہینے کا ہو تو جس قدر دن باقی رہ گئے ہوں صرف اتنے دن کا اعتکاف قضاء کرے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں، اور اگر وہ واجب اعتکاف غیر معین مہینے کا ہو، تو فاسد کر دینے کے بعد اس کو نئے سرے سے شروع کرنا لازم ہو گا۔ کیونکہ وہ لگاتار ادا کرنا لازم ہوا ہے۔ خواہ اس اعتکاف کو اپنے فعل سے یا کسی عذر کے بغیر فاسد کیا ہو، یا اپنے فعل سے کسی عذر کی وجہ سے فاسد کیا ہو، یا اس کے فعل کے بغیر ہی فاسد ہوا ہو۔
وہ چیزیں جو اعتکاف میں حرام یا مکروہ ہیں، اور جو مکروہ نہیں:
نمبر 1: خاموش رہنا۔ اگر اعتکاف میں عبادت سمجھ کر خاموش رہے تو مکروہِ تحریمی ہے۔
بعض یہ گاؤں کے لوگ جو اعتکاف کرتے ہیں نا، انہوں نے اپنے اوپر زبردست پابندیاں لگائی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے وہ علم نہیں ہوتا۔ اور اگر اس کو عبادت نہ سمجھتا ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔
بری باتوں سے خاموشی اختیار کرنا تو فرض و واجب ہے، کیونکہ بات کرنا کبھی حرام ہوتا ہے مثلاً غیبت کرنا، کبھی مکروہ ہوتا ہے جیسے برے شعر پڑھنا، یا سامان تجارت بیچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، اس لیے پہلی قسم سے چپ رہنا فرض ہے، اور دوسری چیز سے چپ رہنا واجب ہے۔
غیر مفید باتیں کرنے سے اپنی زبان کو بچانے کے لیے خاموش رہنا مکروہ نہیں ہے۔ لیکن زیادہ تر وقت تلاوت وغیرہ، تلاوت ذکر وغیرہ میں گزارے۔
خاموش رہنے کے یہ احکام مسجد سے باہر اور اندر والے اور جو شخص اعتکاف میں نہ ہو، ان سب کے لیے یکساں ہیں۔ مسجد اور اعتکاف والے کے لیے بدرجہ اولیٰ یہ احکام ہیں۔
نمبر 2: اگر اعتکاف والے شخص نے دن میں روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیا، تو چونکہ اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا اس لیے اس کا اعتکاف بھی فاسد نہیں ہوگا۔
کیونکہ کھانے پینے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، روزہ فاسد ہوتا ہے۔ تو روزہ اگر بھولے سے کھا لیا تو وہ فاسد نہیں ہوا لہٰذا اعتکاف بھی فاسد نہیں ہوا۔ کیونکہ روزہ ٹوٹنے سے اعتکاف ٹوٹتا نا۔
نمبر 3: اگر اعتکاف والے شخص اپنے ضرورت کی چیزیں مسجد میں بیچے یا خریدے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر خرید و فروخت تجارت کے ارادے سے کرے تو مکروہ ہے۔ اعتکاف کی حالت میں نکاح کرنا، طلاق سے رجعت کرنا، لباس پہننا، خوشبو اور تیل لگانا جائز ہے۔
نمبر 4: اعتکاف کرنے والے کو مسجد میں تجارت کی قصد سے خرید و فروخت کی بات کرنا مکروہ ہے، خواہ وہ سامان تجارت وہاں حاضر کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اور بغیر اعتکاف والے کے لیے مسجد میں خرید و فروخت کرنا مطلقاً مکروہ ہے۔ خواہ تجارت کے لیے ہو یا بغیر تجارت کے ہو، اور خواہ سامان تجارت حاضر ہو یا نہ ہو۔ اور خواہ اپنے لیے، اپنے عیال کے لیے اس کا محتاج ہو یا نہ ہو۔
نمبر 5: سامان تجارت کو مسجد میں موجود کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔
یہ بعض لوگ کتابیں بیچتے ہیں نا، دینی کتابیں بیچتے ہیں، لیکن وہ بھی تجارت میں آتے ہیں، تو وہ مسجد میں نہیں لائی جا سکتیں، مسجد سے باہر رکھنی ہوں گی۔
اور جو کھانا اعتکاف والے نے خریدا، اس کو مسجد میں لانے کی کوئی کراہت نہیں۔
نمبر 7: گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، لیکن یہ افعال مسجد میں اور مسجد سے باہر ممنوع و حرام ہیں۔ پس اعتکاف کی حالت میں بدرجہ اولیٰ حرام ہوں گے، ممنوع ہوں گے۔ اس لیے ان سے بچنا ہر وقت ضروری ہے۔
اعتکاف کے متفرق مسائل:
متفرق مسائل سے مراد یہ ہے کہ جن کی ضرورت کسی بھی وقت آ سکتی ہے، جو بیان کیے گئے ان کے علاوہ ہیں۔
جب کوئی شخص اپنے اوپر اعتکاف واجب کرنے کا یعنی اعتکاف کی نذر ماننے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ زبان سے بھی کہے کہ صرف دل سے نیت کرنا اعتکاف واجب ہونے کے لیے کافی نہیں، اس سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ (یعنی اعتکاف واجب کے لیے، سنت کے لیے نہیں)۔
یہ نذر والا چونکہ کافی تفصیلی باتیں ہیں اور یہ ہمیں ہمارے لیے فی الحال وہ نہیں ہے، ہم اس کو فی الحال چھوڑتے ہیں۔
شبِ قدر اور اس کے احکام:
فضائلِ شبِ قدر:
یہ تو سب کو پتہ ہے شبِ قدر بہت زیادہ فضیلت اور بڑے مرتبہ والی رات ہے۔ اس رات کو لیلۃ القدر، لیلۃ المبارکہ، لیلۃ السلام اور لیلۃ التحیۃ کہتے ہیں۔ اس کو تلاش کرنا مستحب ہے۔ یہ رات سال کی تمام راتوں میں افضل ہے۔ قرآن مجید میں اس کو ہزار مہینے سے افضل فرمایا ہے۔ اس رات کو کوئی نیک عمل کرنا، دوسرے ایک ہزار مہینے کی راتوں میں اس عمل کرنے سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے 83 سال چار مہینے بنتے ہیں۔ لیلۃ القدر کی فضیلت قیامت تک باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ جن مسلمانوں کو چاہتے ہیں شبِ قدر پانے کی سعادت نصیب فرماتے ہیں۔ جو شخص اس کو پائے اس کو چاہیے کہ اس کا اظہار نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ دعا کرے۔
لیلۃ القدر کے تعین کے متعلق اقوال:
شبِ قدر کے تعین کے بارے میں علماء کے بہت مختلف اقوال ہیں۔ ان سب کا نتیجہ 46 اقوال ہیں۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، صاحبین رحمہم اللہ کے نزدیک بالاتفاق شبِ قدر رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ لیکن صاحبین کے نزدیک وہ ہمیشہ رمضان کی ایک معین رات میں ہوتی ہے۔ اور امام صاحب کے نزدیک اس کی کوئی رات متعین نہیں۔ بلکہ آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔ لیکن بالاتفاق یہ معلوم نہیں کہ وہ کون سی رات ہے۔ احادیث کی روشنی میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اکیسویں شب ہوتی ہے اور بعض کے نزدیک ستائیسویں شب ہوتی ہے، اور بعض کے نزدیک رمضان کے اخیر عشرے کی طاق راتوں، اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں رات میں اس کی امید کی گئی ہے۔ اب اس امت میں مشہور یہ ہے کہ شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے، اور صحابہ کرام کی ایک جماعت، اور بہت سے علماء و فقہاء کی یہی رائے ہے۔ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک قول یہی ہے کہ عوام کے حق میں اسی پر فتویٰ ہے۔ بعض کے نزدیک تمام سال میں واقع ہوتی ہے اور مہینے کی جفت راتوں میں بھی اور طاق راتوں میں بھی ہوتی ہے۔
علامات لیلۃ القدر:
یعنی کسی کو اگر نظر آ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟
نمبر 1: شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات نورانی، چمکدار اور پرسکون ہوتی ہے۔ اس رات میں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے نہ زیادہ سردی۔ بلکہ معتدل موسم ہوتا ہے۔ اس رات کو صبح کو سورج شعاعوں کے بغیر طلوع ہوتا ہے، گویا ایک تھال ہے۔ اس رات میں ہرگز کوئی ستارہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس رات میں درخت زمین پر جھکتے ہیں، اور پھر اپنی جڑوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ہر چیز اس رات میں سجدہ کرتی ہے۔ کھاری پانی میٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس رات میں کسی کتے کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس رات کے عجائبات اور مذکورہ بالا باتیں اہلِ دل اور صاحبِ ولایت مومنوں میں سے جس پر حق تعالیٰ چاہتے ہیں کشف فرما دیتے ہیں۔ ہر شخص پر ان کا اظہار نہیں ہوتا۔ اور شبِ قدر کا ثواب حاصل کرنے کے لیے ان میں سے کسی چیز کا ظاہر ہونا شرط نہیں ہے۔ بلکہ اس رات میں عبادت کرنا شرط ہے۔ اس رات کو پوشیدہ کر دیا گیا ہے تاکہ جو شخص اس کی تلاش میں کوشش کرے، وہ اس کی وجہ سے عبادت میں کوشش کرنے والوں کا اجر حاصل کرے۔
اب اس میں ہمارے حضرت شیخ کا بھی ایک قول ہے۔ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا۔ حضرت نے فرمایا کہ اللہ پاک نے ایک رات کو چھپا کر پانچ راتیں دے دیں۔ یعنی اکیسویں کو بھی آپ اس تصور کے ساتھ کہ شاید لیلۃ القدر ہو، عبادت کریں گے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي" کے مصداق، چونکہ حدیث شریف ہے کہ میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، تو اللہ تعالیٰ شبِ قدر کا ثواب دے دے۔ اور تئیسویں کو آپ ایسا کریں تو اپ کو اس پر بھی مل جائے، پچیسویں کو بھی مل جائے، ستائیسویں کو بھی مل جائے، انتیسویں کو بھی مل جائے۔ یعنی پانچ راتوں کی آپ کو لیلۃ القدر کا ثواب مل جائے۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اس وجہ سے ہر رات کو شبِ قدر... اس لیے بزرگوں نے فرمایا:
ہر شب شبِ قدر است گر قدر است
(ہر شب شبِ قدر ہے اگر قدر ہو)۔
اور اگر قدر نہ ہو تو پھر...؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ حضرت بہترین رات کون سی ہے؟ فرمایا: شبِ قدر۔ بات درست، قرآن پاک کی نص موجود۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ بہترین رات کونسی ہے؟ فرمایا: ہر اس شخص کے لیے جس کی توبہ کسی رات میں قبول ہو جائے، وہی رات بہترین ہے۔ جس کا توبہ جس رات میں قبول ہو جائے، وہی اس کے لیے بہترین رات ہے۔ پس اگر شبِ قدر میں کوئی توبہ نہ کرے، یا ایسے گناہ اس سے ہوں جس کی وجہ سے اس کو مسائل ہوں، تو اس کے لیے تو وہ بہترین رات نہیں ہوئی نا۔ بہترین رات تو ہے لیکن اس کے لیے تو نہیں ہے نا۔ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا۔ بہترین رات کون سی ہے؟ فرمایا ہر اس شخص کی، ہر اس شخص کے لیے جس کا توبہ کسی رات میں قبول ہو جائے، وہی رات بہترین ہے۔ جس کا توبہ جس رات میں قبول ہو جائے، وہی اس کے لیے بہترین رات ہے۔ پس اگر شبِ قدر میں کوئی توبہ نہ کرے، یا ایسے گناہ ان سے ہوں جس کی وجہ سے اس کو مسائل ہوں، تو اس کے لیے تو وہ بہترین رات نہیں ہوئی نا۔ بہترین رات تو ہے لیکن اس کے لیے تو نہیں ہے نا۔
احکامِ لیلۃ القدر:
رمضان کریم کے آخری عشرے کی راتوں میں خصوصاً طاق راتوں میں جاگنا اور عبادت کرنا مستحب ہے۔ روایت میں ہے کہ جس نے شبِ قدر کو ایمان کی حالت میں ثواب حاصل کرنے کے لیے اس میں قیام کیا یعنی عبادت کی، اس کے گزرے ہوئے زمانے کے سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کے آئندہ کے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے۔ پس اس رات میں غافل ہو کر نہ سوئے۔ اس کے قیام کا ادنیٰ درجہ فجر کی نماز باجماعت کے ساتھ ادا کرنے میں ہے۔ لیکن اس کا اکمل درجہ یہ ہے کہ تمام رات یا اس کا زیادہ حصہ شب بیداری کرے۔ نماز پڑھنے، قرآن مجید، حدیث شریف پڑھے اور سنے، تسبیح و تہلیل و ذکر درود شریف، استغفار وغیرہ عبادت میں مشغول رہے، اور اخلاص کے ساتھ دعائیں مانگے۔ مستحب یہ ہے کہ اس رات میں اس دعا کی کثرت کرے۔ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ شبِ قدر میں غسل کرنا بھی مستحب ہے۔
اعتکاف کرنے والوں کے لیے نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ لائنیں لگ جائیں اپنے اعتکاف کھونے کے لیے۔
لیلۃ القدر کے بعد آنے والے دن کو بھی عبادت میں گزارنا مستحب ہے سنت ہے، کیونکہ اس کی فضیلت بھی شبِ قدر کی مانند ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ چار دن ایسے ہیں کہ ان کے دن ان کی راتوں کی مانند ہیں۔ ان میں رزق کی فراخی کی جاتی ہے، روحوں کو آزاد کیا جاتا ہے، ان میں بہت زیادہ خیر و بھلائی دی جاتی ہے۔ وہ یہ ہیں: شبِ قدر اور اس کی صبح، شعبان کی پندرھویں شب اور اس کی صبح، عرفہ کی شب اور اس کی صبح، جمعہ کی شب اور اس کی صبح۔ پس اگر کسی نے ان راتوں کو فضیلت حاصل نہیں کیا تو ان دنوں کو طاعات و عبادت میں گزارے۔ شبِ قدر کے علاوہ کچھ اور بھی راتیں ہیں جن کی فضیلت سال کی دوسری راتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ ہیں: ذی الحج کے پہلے عشرے کی ہر رات، خصوصاً آٹھویں اور نویں۔ اور عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی رات۔ پندرہویں شبِ شعبان کی رات۔ جمعہ کی رات۔ رجب کی اول اور پندرہویں اور ستائیسویں رات۔ محرم کی اول رات اور عاشورہ کی رات۔ لیکن شبِ قدر اور ان سب راتوں میں شب بیداری کے لیے مساجد وغیرہ میں جمع ہونے میں کئی خرابیاں ہیں، اس لیے علماء نے اس کو پسند نہیں کیا اور مکروہ کہا ہے۔
اب یہ عام طور پر روزے کا ایک مسئلہ ہے۔
روزے میں injection لگوانے کا شرعی حکم۔
injection کے ذریعے جو دوائی پہنچائی جاتی ہے وہ رگوں کے اندر جاتی ہے اور جوفِ معدہ یا جوفِ دماغ میں نہیں جاتی، اس لیے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
صیامِ اربعین، چلے کے روزوں کی حقیقت اور حکم:
صیامِ اربعین، چلے کے روزوں کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص چالیس روز تک روزانہ روزہ رکھے، اور اس عرصے میں اپنے ظاہر و باطن اعضاء کو ممنوعاتِ شرعیہ سے باز رکھے، اور ان کی عبادات و اذکار میں مشغول رکھے اور یہ نیت رکھے کہ اس کا نفس اس مدت میں اخلاقِ حسنہ پر عمل کرنے اور اعمالِ قبیحہ کو ترک کرنے کا عادی ہو جائے۔ اس لیے کہ اتنی مدت میں کسی چیز کی پابندی کرنے سے وہ چیز انسان کی طبعیتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ پس اس نیت سے چلہ کرنا اپنے اصل کے اعتبار سے جائز بلکہ احسن ہے۔ لیکن وہ اس وقت ہے جب اس عمل میں اخلاص ہو۔ اور خرابیوں مثلاً ریا و سمعہ، اور عجب و کبر نہ ہو، اور ایسی سخت ریاضت جو کہ تمام عبادتوں میں خلل ڈالنے والی ہو، بچتا رہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو چلے کے روزے رکھنا مکروہ ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو ماشاءاللہ یہ جو راتیں ہیں، ان کو اس طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، جس طرح یہ ہم نے ابھی ان کے بارے میں احکامات سنے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔