اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وہی پوجنے کے قابل ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ بادشاہ ہے۔ سب عیبوں سے پاک ہے۔ وہی اپنے بندوں کو سب آفتوں سے بچاتا ہے۔ وہی عزت والا ہے۔ بڑائی والا ہے۔ ساری چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ زبردست ہے۔ بہت دینے والا ہے۔ روزی پہنچانے والا ہے۔ جس کی روزی چاہے تنگ کر دے، جس کی چاہے زیادہ کر دے۔
اب اس میں ایمانی کا تعلق ہے، باقی چیزیں تو صاف ہیں، مطلب اس میں تو کوئی گنجلک عبارت نہیں ہے۔
جس کو چاہے پست کر دے، جس کو چاہے بلند کرے۔
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ۔ مطلب وہ جو ہے نا وہ... قرآن پاک...
جس کو چاہے عزت دے، جس کو چاہے ذلت دے۔ انصاف والا ہے۔ بڑے تحمل اور برداشت والا ہے۔ خدمت اور عبادت کی قدر کرنے والا ہے۔ دعا کا قبول کرنے والا ہے۔ وہ سب پر حاکم ہے۔ اس پر کوئی حاکم نہیں۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ وہ سب کا کام بنانے والا ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا۔ وہی قیامت میں پھر پیدا کرے گا۔ وہی جلاتا ہے۔
اب دیکھیں کیسے پیدا کرے گا؟ اس کا دعویٰ ہی نہیں۔ بلکہ اس کے لیے سیدھا سیدھا جواب ہے کہ تمہیں پہلے جیسے پیدا کیا تھا، بغیر کسی چیز کے ہونے کے، تو اس طرح دوبارہ پیدا کر لے گا۔ تو اگر اس کو مانتے ہو تو اس کو کیوں نہیں مانتے؟ اب یہ سادہ سی بات ہے نا، مطلب اس میں کوئی... مشکل بات تو نہیں ہے نا، وہی بات ہے۔
وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے۔ يُحْيِي وَيُمِيتُ۔ اس کو نشانی اور صفتوں سے سب جانتے ہیں۔
صفات، جیسے وہی سنتا ہے، وہی دیکھتا ہے، یہ ساری صفات اس کی۔
اس کی ذات کی باریکی کوئی نہیں جان سکتا۔
کیونکہ اللہ پاک کی ذات وراء الوراء ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ۔ اس کی طرف... تم جب مثال بھی نہیں، کوئی دیکھ بھی نہ سکے، تو پھر کیسے سمجھ میں آ جائے؟ ظاہر ہے پھر سمجھ میں نہیں آ سکتا۔
وہ کسی صاحب نے یہ بڑی زبردست بات کی ہے کہ:
بندہ وہ ہے جو اللہ کو پاوے
اور اللہ وہ ہے جو سمجھ میں نہ آوے
اور واقعتاً اللہ پاک سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ ہاں البتہ اللہ پاک کو ماننا پڑتا ہے۔ صفات کے ذریعے سے۔ صفات کے ذریعے سے اللہ پاک کو ماننا پڑتا ہے۔ اب صفات آپ مانتے ہو تو ذات بھی مانتے ہو نا، ذات کے بغیر تو صفات نہیں ہوتے۔ تو Indirectly آپ نے مان لیا نا... مطلب صفات مان لیے تو اس کے ساتھ ذات بھی مان لی۔ لیکن ذات کو دیکھ کر نہیں مانا، ذات کو ان صفات کے ذریعے سے مانا۔
مثال کے طور پر دیکھو، سورج... یہ ابھی چڑھا نہیں ہے، لیکن یہ دیکھو سرخی نظر آ رہی ہے۔ تو مجھے پتا چل گیا کہ ابھی سورج طلوع ہونے والا ہے۔ ابھی سورج میں نے دیکھا نہیں ہے، لیکن مجھے پتا چل گیا کہ سورج طلوع ہونے والا ہے کیونکہ یہ اس کی صفت ہے۔ تو میں نے اس کی صفت سے پہچان لیا کہ اس کے بعد سورج آنے والا ہے۔ تو اسی طریقے سے میں جب دیکھتا ہوں کہ ہر چیز بالکل ایک خاص طریقے پر ہے، اس میں کوئی کمی نہیں ہے، تو کوئی ایسی ہستی ہے جو یہ سب کام کر سکتی ہے۔ اس کو خدا کہتے ہیں۔
یعنی آپ اندازہ کر لیں میں آپ کو کیا بتاؤں؟ سائنسدان... اللہ پاک جس کو ہدایت دے تو ہدایت دے، ورنہ یہ ساری چیزیں انہی کو نظر آتی ہیں۔ لیکن کسی کی قسمت میں ہدایت نہ ہو تو آدمی کیا کر سکتا ہے؟ ان کو کون فلسفی ہدایت دے سکتا ہے؟
یعنی جس وقت... اب مثال کے طور پر دیکھو ہمارا جو Solar system ہے، Solar system... جس کو نظام شمسی کہتے ہیں۔ اس میں سیارے ہیں۔ ان سیاروں کی داستان کیا ہے؟ کچھ سیارے تو نظر آتے ہیں نا، عطارد، زہرہ، مریخ... یہ تو نظر آتے ہیں، مطلب دوربین سے بھی نظر آتے ہیں، ویسے بھی بعض نظر آتے ہیں۔ پھر مشتری، پھر اس طرح نیپچون۔ اب اس سے آگے پھر نظر بڑے مشکل سے آتے ہیں۔ تو وہ پھر یہ ہوا کہ باقاعدہ calculations سے یعنی وہ باقاعدہ کیا کہ سائنسدانوں نے کہا کہ یہ جو Solar system ہے Balanced نہیں ہے۔ اس کو Balance کرنے کے لیے کوئی سیارہ ہونا چاہیے۔ تو وہ پھر تلاش میں رہے، تلاش میں رہے تو انہوں نے نیپچون کو دریافت کر لیا۔
اس طرح مطلب جو ہے نا وہ یہ پلوٹو جو تھا نا، یہ تو اس وقت دریافت ہوا ہے جب ایک Machine ایجاد ہو گیا تھا، جو ستاروں کو گن سکتا تھا۔ اگر وہ Machine نہ ہوتا تو پلوٹو دریافت ہی نہیں ہو سکتا تھا۔
اب سائنسدان مطمئن نہیں تھے کہ یہ کیسے؟ مطلب Balance نہیں ہے۔ تو انہوں نے کہا پھر کیا ہے؟ تو ایک جرمن Student نے calculation کر کے announce کیا کہ فلاں قدر کا ایک سیارہ ہے، فلاں Constellation میں ہے۔ اگر کوئی اس کی طرف دوربین کر لے تو اس کو یہ نظر آ سکتا ہے۔ تو اس کے لیے پھر چونکہ بہت باریک تھا، بہت ہی دور تھا، لہٰذا وہ مشین استعمال ہو گیا۔ اس مشین میں جو... جو Documented مطلب Stars تھے اور مطلب وہ تو تھے لیکن ایک جگہ جو، جہاں کوئی چیز نہیں تھی، وہاں پر ان کو نظر آ گیا۔ اس کو جب انہوں نے دیکھا تو واقعی بالکل... وہ پلوٹو تھا۔
کیونکہ سیارے اور ستارے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ سیارہ جگہ بدلتا ہے اور ستارہ اپنی جگہ پہ قائم رہتا ہے۔ مطلب آپس میں ان کا Distance جو ستاروں کا ہوتا ہے وہ Same رہتا ہے۔ کیونکہ بہت دور ہوتے ہیں ہمارے Reference سے۔ لیکن سیارہ جو ہوتا ہے وہ ہمارے قریب ہوتا ہے، لہٰذا وہ اگلے دن، دوسرے دن اس میں فرق پڑ چکا ہوتا ہے۔ تو اس سے ان کو پتا چلتا ہے کہ یہ سیارہ ہے اور یہ وہ ہے۔ دوسرا بھی اس کا ہے کہ دوربین کے ذریعے سے وہ بڑا ہو سکتا ہے جبکہ ستارہ ویسے ہی رہتا ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے کہ ان کو پتا چل گیا۔ اب دیکھو calculation سے... یعنی اتنا منظم نظام ہے اللہ پاک کا اس Solar system کا کہ اس میں اس حد تک باریک calculation کر کے جو ہے نا ہمیں پتا چل گیا کہ یہ چیز ہے۔ تو اب اگر کوئی نہیں مانتا اور انکار کرتا ہے تو اس کی اپنی مرضی۔ لیکن یہ ہے کہ بات تو سامنے آ گئی نا کہ اتنی بڑی ہستی ہے کہ اس نے یہ ساری چیزیں اس طرح کی ہیں۔
Newton... اس کا ایک دوست تھا۔ Newton عیسائی تھا لیکن کم از کم خدا تو مانتا تھا۔ تو اس کا ایک دوست تھا وہ آیا اس کے پاس، تو اس نے دیکھا کہ اس کے پاس ایک لکڑی کا Model ہے Solar system کا... بڑا اچھا مطلب یعنی سمجھانے کے لیے۔ تو اس نے کہا یہ... یہ Solar system کا Model کس نے بنایا ہے؟
تو Newton کو ذرا چھیڑ سوجھی، اس نے کہا یہ خود بخود بنا ہے۔ وہ Atheist تھا جو... جس نے پوچھا تھا۔ کہتا ہے یہ خود بخود بنا ہے۔ اس نے کہا نہیں میں اس کے Carpenter کا پوچھنا چاہتا ہوں، آخر میں بھی بنوانا چاہتا ہوں، مجھے مذاق نہ کرو صحیح بات بتاؤ۔ اس نے کہا مذاق کی کیا بات ہے، خود بخود بنا ہے۔ اس نے کہا بھئی کیا... تم آج کیوں، کس موڈ میں ہو؟
اس نے کہا بھئی جس اصل Solar system کو تم کہتے ہو خود بخود بنا ہے، تو یہ Model کیوں خود بخود نہیں بن سکتا لکڑی کا؟ یعنی Atheist کو یہ جواب دیا کہ یہ خود بخود کیوں نہیں بن سکتا؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ واقعتاً یہ سادہ سی بات ہے، مطلب اس میں کوئی Complication تو نہیں ہے نا۔ سادہ سی بات ہے کہ دیکھو اگر Actual system خود بخود بن سکتا ہے تو اس کی Copy بھی پھر خود بخود بن سکتی ہے۔
تو موجود تو ہیں، دلائل موجود ہیں، تمام چیزیں موجود ہیں، Simple انداز سے، سب کچھ موجود ہے۔ لیکن ماننا نہ ماننا ہر ایک کا اپنا کام ہے۔ قرآن پاک میں ہے: وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔ (کیا تم اپنی جانوں کے اندر غور نہیں کرتے؟)
یقین کیجیے انسان کی Anatomy جو ہے اور انسان کی جو Pathology ہے، وہ اگر انسان Study کرے نا، تو اس کے اندر اتنی زبردست Sophistication اور اتنی Precision اور اتنا وہ ہے، کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ کسی نے ویسے تو نہیں بنایا۔ خود بخود تو نہیں بنا۔ ہر چیز کے لیے Cause and effect والی بات ہے۔ تو اس میں جو اتنی زبردست ترتیب ہے... حتیٰ کہ یہ جو ہمارا Infection کو Kill کرنے کا نظام ہے، ایک شاہکار ہے۔ عجیب اس کا پورا نظام ہے۔
تو اب یہ ہے کہ ہمارا Heart کا System اب دیکھو 72 Pulses per minute average یہ جو ہے نا Generate کرتا ہے۔ اور کب سے؟ جب سے انسان پیدا ہوا ہے۔ اور یہ تھکتا نہیں ہے۔ اگر تھک جائے گا تو بس پھر... ساتھ ہی آدمی کو لے جائے گا۔ ٹھیک ہے نا... مطلب یہ مسلسل چل رہا ہے اب دیکھو نا، نہ سوتا ہے، نہ جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ... ساتھ ہی ساتھ Feeding بھی لے رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ چل بھی رہا ہے اور باقی System کو چلا بھی رہا ہے۔ پھیپھڑوں کو دیکھیں، پھیپھڑے بھی چل رہے ہیں۔ ہمارا دماغ... ہم سوتے ہیں، دماغ نہیں سوتا۔
تو اس طرح مطلب ہے کہ ہر قسم کی چیز، اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی زبردست نظام بنایا ہوا ہے کہ آپ کو کیا بتاؤں؟ تو اس نظام کو دیکھ کر اگر کوئی ڈاکٹر مسلمان نہیں ہوتا تو اس کی قسمت ہے۔ اس کی اپنی قسمت ہے ظاہر ہے وہ اگر نہیں سمجھتا تو یہ اس کی اپنی بات ہے۔ ورنہ یہ تو بالکل واضح بات ہے۔
یعنی آپ اندازہ کریں ہماری جو آنکھ ہے، ایک شاہکار ہے۔ مجھے ایک Eye specialist نے کہا کہ میں جب آنکھ کھولتا ہوں یعنی Operation کرتا ہوں اس کا، تو کہتے ہیں میں اللہ کی قدرتوں پہ حیران ہو جاتا ہوں کہ اللہ پاک نے کیسی عجیب چیز بنائی ہوئی ہے۔ یعنی یہ آنکھ جو ہے، لاکھوں Lenses ہیں۔ وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ لاکھوں Rods اور لاکھوں Cones ہیں۔ یہ مطلب اس سے بنا ہوا ہے۔
اب ان سب کو ایک Nerve کے ذریعے سے ملایا ہوا ہے۔ وہاں Center کے ساتھ۔ اور Signals pass ہوتے ہیں اور اس سے وہ Image بنتی ہے۔ ہم کیمروں کے ذریعے سے معلوم کریں نا، تین چار کیمرے ہم لگا دیتے ہیں، وہ اتنی Precision کے ساتھ نہیں ہمیں چیز دے سکتے۔ کیونکہ اس میں صرف تین چار کیمرے ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ لاکھوں ہیں۔ تو ہر طرف سے م اس کی ایک باقاعدہ وہ کر لیتے ہیں۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو آنکھ کا نظام ہے، کان کا نظام ہے۔
اور اس طرح جو دانتوں کا نظام ہے، اور دماغ، اور پتا نہیں کیا کیا... ہر چیز کے اندر پورا ایک شاہکار بنا ہوا ہے۔ لہٰذا... اگر کوئی سمجھتا ہے تو اس کو سمجھ آنی چاہیے۔ اور اگر نہیں سمجھ اس کو آ رہی، تو بس... پھر اس کی قسمت ہے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔