رمضان المبارک کا آخری عشرہ: فضائلِ شبِ قدر، اہمیتِ اعتکاف اور غزوہ بدر کا پیغام

(اشاعتِ اول) جمعہ،30 اپریل، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

§       17 رمضان کی تاریخی اہمیت اور غزوہ بدر میں 313 صحابہ کرام کی ایمانی استقامت۔

§       غزوہ بدر کے مقتولین کا سننا اور برزخی حیات کے حوالے سے ایک اہم عقیدہ۔

§       شبِ قدر کی بے پناہ فضیلت: ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے۔

§       اعتکاف حصولِ لیلۃ القدر کا یقینی ذریعہ اور روحانی اصلاح کا بہترین موقع ہے۔

§       اعتکاف میں سلوک کے چار مجاہدات (تقلیلِ طعام، کلام، منام اور اختلاط) کا مسنون حصول۔

§       ذکر اور درود شریف کا موازنہ اور مشائخ کے تجویز کردہ اعمال کی اہمیت۔

§       اعتکاف سے محروم افراد کے لیے تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ مغرب و عشاء پڑھنے کی تاکید۔

§       فرشتوں کا نزول، شبِ قدر کی علامات اور عبادات میں رقتِ قلبی کے اسباب۔

§       نمازِ جمعہ کو بلا تاخیر اول وقت میں ادا کرنے کی اہمیت اور مستحب طریقہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ

اَمَّا بَعْدُ

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

﴿وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ وَّ الشَّفْـعِ وَ الْوَتْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ﴾

فَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿وَ لَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَ اَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسٰجِدِ﴾ (البقرۃ: 187) وَ قَالَ اللهُ تَعَالىٰ: ﴿لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ﴾ (القدر: 2) وَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ''مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ''۔ (مسلم، رقم الحدیث:760)

وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''لِلهِ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ''۔ (نسائی، رقم الحدیث:2106)

وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''إِذَا کَانَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرَائِیْلُ فِیْ کَبْکَبَةٍ مِّنَ الْمَـلٰئِکَةِ یُصَلُّوْنَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ یَّذْکُرُ اللهَ عَزَّ وَ جَلَّ''۔ (شعب الایمان للبیهقي، رقم الحديث:3444)

وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: فِی الْمُعْتَكِفِ: ''هُوَ يَعْتَکِفُ الذُّنُوبَ وَ یُجْرٰی لَهٗ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا''۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث:1781)

وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَّمَضَانَ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:2020)

وَ قَالَ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ: ''مَنْ شَھِدَ الْعِشَاءَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهٖ مِنْھَا'' (شعب الإیمان للبیهقي، رقم الحديث:3430)، وَ کَاَنَّہٗ تَفْسِیْرٌ لِّلْمَرْفُوْعِ: ''مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ فَالَّذِيْ شَھِدَ الْعِشَاءَ لَمْ یُحْرَمْ خَیْرَھَا''۔ (نسائی، رقم الحدیث:2106)

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ ﴿وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ وَّ الشَّفْـعِ وَ الْوَتْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ﴾ (الفجر: 1-4، فَسَّرَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَّضِيَ اللہُ عَنْهُمَا بِعَشْرِ الْآوَاخِرِ مِنْ رَّمَضَانَ، کَذَا فِي الدُّرِّ الْمَنْثُوْرِ فِيْ تَفْسِیْرِ ھٰذِہِ الْآیَاتِ)


صدق اللہ العلی العظیم و صدق رسولہ النبی الکریم۔


معزز خواتین و حضرات! اللہ پاک کا انتہائی فضل اور احسان ہم پر ہوا کہ ہمیں رمضان شریف عطا فرمایا۔ اس رمضان شریف کے اندر کیا ہے؟ اصل بات تو اللہ کو پتہ ہے اور اللہ کے رسول کو پتہ ہے۔ البتہ ہم تک یہ بات جتنی قرآن میں اللہ پاک نے پہنچائی ہے اور جتنی آپ ﷺ نے سمجھائی ہے، ہم اس حد تک بات کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ ایمانی باتیں ہیں اور ایمانی باتیں ہمیں اللہ اور اللہ کے رسول سے ہی معلوم ہو سکتی ہیں۔

اب یہ ہے کہ رمضان شریف بہت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور آج سترہ (17) رمضان ہے۔ اس لحاظ سے مجھے یاد آگیا کہ ایک انتہائی اہم تاریخ ہے یہ۔ گویا کہ یوں سمجھ لیں تاریخ رقم ہوئی ہے۔ تاریخ رقم ہوئی ہے اور وہ تاریخ 17 رمضان کی ہمیشہ کے لیے یاد رہے گا۔ 17 رمضان اور 313 کا عدد، یہ یاد رہے۔ کہ 17 رمضان کو اللہ جل شانہ کی تشکیل کردہ یعنی غزوہ بدر ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا کہ اللہ پاک چاہتے تھے کہ یہ آپس میں ان کا ہو جائے مقابلہ۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا اظہار فرمانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کی دھاک بٹھانا چاہتے تھے۔ تو اس کے لیے حالات ایسے بنائے گئے کہ مسلمان بھی اسی طرف چلتے گئے جس طرف کفار اپنی سوچ کے مطابق چلتے گئے۔ حتیٰ کہ یہاں تک بات ہو گئی کہ قافلہ آیا ہے سفیان رضی اللہ عنہ (اس وقت تو مسلمان نہیں تھے) تو وہ قافلہ آیا ہے تو ان کو پتہ چل گیا کہ مسلمان اس راستے سے گزرے اور مسلمان کو پتہ نہیں چلا۔

تو یہ گویا یوں سمجھ لیجئے کہ ایک عجیب و غریب والی بات ہے۔ تو کفار اپنی پوری طاقت کے ساتھ آئے تھے۔ مسلمان اول تو لڑائی کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ وہ تو صرف ایک قافلے کو Intercept کر رہے تھے۔ لڑائی کی باقاعدہ تیاری تو نہیں تھی اور وسائل کی شدید کمی تھی۔ اس کے پیش نظر بدر کے میدان میں آپ ﷺ نے جو رقت والی دعا فرمائی ہے رو رو کے اللہ تعالیٰ کے حضور، کہ یہ بہت مختصر جماعت ہے اور اگر یہ ختم ہو گیا تو پھر تو کوئی بھی حق پر نہیں رہے گا۔ اس وجہ سے اس کی مدد فرما دیں اور بار بار چادر گرتی جاتی تھی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دوبارہ اپنی جگہ پہ رکھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اللہ پاک نے آپ کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔


تو یہ والی بات کہ ہم لوگوں کو اس وقت کو یاد رکھنا چاہیے جب اتنا بے سر و سامان جو جماعت ہے وہ ایک ایسی جماعت کے مقابلے میں ہے جو پوری طرح لیس ہے اور جو افرادی لحاظ سے بھی مضبوط ہے اور وسائل کے لحاظ سے بھی مضبوط ہے۔ لیکن مقابلہ جب ہوتا ہے تو ابتدائی مقابلہ ان کے رواج کے مطابق تو ایسے ہوتا تھا کہ وہ تین اس طرف سے آئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے مقابلے میں کوئی آنا چاہے تو آ جائیں۔ عتبہ، شیبہ اور ولید۔ یہ تین آ گئے اور آپ ﷺ نے اپنی طرف سے ایک جماعت کی تشکیل کی لیکن وہ انصار کی جماعت تھی۔

تو قریش نے کہا کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ... انصار سے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں ہے، ہمارا مقابلہ تو ان سے ہے جو ہماری جگہ سے گئے ہیں، ہم تو ان کے ساتھ مقابلہ کرنا... وہ بھیجو۔ تو پھر آپ ﷺ نے اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اور اپنے چچا زاد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اور اس طرح ایک اور صحابی کو بھیج دیا۔ تینوں گئے ہیں اور امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے تو ایک ہی وار... اور اس طرح علی رضی اللہ عنہ نے، البتہ مقابلہ ان کا دوسرے صحابی کے ساتھ اور شیبہ کا ہوا کیونکہ شیبہ جوان بھی تھا۔ تو وہ بہرحال لڑائی سخت ہوئی، اس میں ہماری طرف سے جو صحابی تھے وہ زخمی ہوئے، بعد میں شہید بھی ہوئے۔ لیکن علی رضی اللہ عنہ اس دوران فارغ ہو چکے تھے تو وہ آئے اور بس انہوں نے پھر شیبہ کا بھی کام تمام کر دیا۔

تو یہ پہلے ہی شکست تھی ان کو، پھر اس کے بعد جو رعب پڑا ان کے اوپر، تو وہ بھاگتے رہ گئے، بھاگتے رہ گئے حتیٰ کہ ابوجہل بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے اور ان کے بڑے بڑے رؤساء یہ جو ہے نا میدان کے اوپر پڑے ہیں۔ اخیر میں جس وقت میدان مطلب جو ہے نا وہ ہو گیا تو فارغ ہو گئی تو اس کے بعد آپ ﷺ نے ان وہ جو کفار کے رؤساء تھے جو مرے پڑے تھے، تو ان سے خطاب فرما رہے تھے کہ تم لوگوں نے بھی دیکھا اور ہم لوگوں نے بھی دیکھا، ہمارے ساتھ جو وعدہ تھا وہ بھی ہم نے دیکھ لیا اب تم کیا کہتے ہو؟

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ یہ تو نہیں سنتے تو آپ کیوں ان سے بات فرما رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم سے زیادہ سنتے ہیں۔ ظاہر ہے جب اللہ پاک سنوانا چاہے تو پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اب دیکھیں یہ ذرا تھوڑا سا درمیان میں ایک اور عقیدہ کی بات بھی ہماری آ گئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا؟ یہ سنتے نہیں تو آپ ان سے کیوں بات کریں گے؟ سنتے نہیں ہیں۔ یہ مشہور کچھ لوگوں کا فقرہ ہے، یہ سنتے نہیں۔ اور آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ تم سے زیادہ سنتے ہیں۔ کن کے بارے میں فرمایا؟ کافروں کے بارے میں فرمایا ہے۔ جو کافر مر گئے ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا ہے۔ کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ پاک جب سنوانا چاہے... یعنی یہ اصل میں تم نہیں سنا سکتے، یہ قرآن پاک کی جو آیت ہے نا کہ مردوں کو نہیں سنا سکتے تو بات تو بالکل صحیح ہے، ہم تو نہیں سنا سکتے۔ ہم تو سامنے بیٹھے والے کو بھی نہیں سنا سکتے، اللہ پاک نے سبب بنایا ہوا ہے اس کے ذریعہ سے سنتے ہیں۔ ہم تو نہیں سنا سکتے۔ البتہ اللہ پاک سنوانا چاہے، چاہے اسباب کے ذریعہ سے سنوانا چاہے یا بغیر اسباب کے سنوائے اپنے حکم سے۔ لہذا اللہ پاک جب سنوانا چاہے تو پھر کوئی رکاوٹ نہیں... کافروں کو بھی سنوا دیا تو اولیاء اللہ کو نہیں سنوا سکتے؟ پیغمبروں کو نہیں سنوا سکتے؟ اور پھر خاتم النبیین ﷺ کو نہیں سنوا سکتے؟ یعنی یہ ایک درمیان میں ایک جملہ معترضہ آ گیا۔

تو ظاہر ہے کہ ہم لوگوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ تو بدر کا جو ماشاءاللہ میدان 17 رمضان کو جو سج گیا تھا، ایک عجیب معاملہ تھا، ایک عجیب معرکہ تھا۔ تو اس کو یاد ہونا چاہیے اور اللہ پاک نے بھی اس کو ایسی حیثیت عطا فرمائی کہ 313 ایک عدد کو قبولیت بھی نصیب فرمائی اور ساتھ ساتھ یہ کہ اصحاب بدر کا جو مقام تھا وہ ایک علیحدہ مقام تھا۔ یعنی صحابہ کرام ان کو جیسے خلفائے راشدین کے بعد سب سے اہم سمجھتے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

باقی یہ ہے کہ ابھی رمضان شریف میں، 17 رمضان ہے تو ابھی بس دن تو آخری عشرے میں بہت تھوڑے ہیں۔ آخری عشرہ گویا کہ رمضان کا نگینہ ہے۔ اگر رمضان انگوٹھی ہے تو اس میں نگینہ جو ہے نا وہ آخری عشرہ ہے۔ اور وہ جو لیلۃ القدر ہے وہ تو سبحان اللہ انتہائی چمکدار۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لیلۃ القدر کا باقاعدہ تعارف کیا گیا ہے قرآن پاک میں بڑے عجیب الفاظ میں:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔

ہاں! لیلۃ القدر کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ استفہامیہ انداز ہے، تم کیا جانتے ہو وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، لیلۃ القدر کیا ہے؟ تم کیا جانتے ہو اس کو؟ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔ یہ تو اللہ پاک سے سنو۔ لیلۃ القدر جو ہے نا وہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے کہ لوگ اعتراض کر لیں کہ یہ ویسے ہی تعداد بڑھا رہے ہیں، یہ مستند ترین قرآن پاک مطلب اس میں یہ بات ہے کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ہزار مہینوں سے 83 سال بنتے ہیں۔ لہذا اگر کسی کو لیلۃ القدر نصیب ہوا تو اس کو 83 سال کی عبادت کا ثواب مل سکتا ہے اگر اس میں عبادت کی۔ 83 سال بہت بڑی بات ہے۔ کسی کی عمر بھی آج کل، بہت تھوڑے لوگوں کی عمر 83 سال ہوتی ہے۔ 83 سال میں بھی کچھ بچپن میں گزر جاتا ہے، کچھ بڑھاپے میں چلا جاتا ہے۔ تو درمیان میں آپ کو 60 سال ہی ملتے ہوں گے۔ اور یہ 60 سالوں میں آپ مسلسل عبادت تو نہیں کر سکتے۔ یعنی ظاہر ہے انسان تھک جاتا ہے۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ایک رات عبادت کر لو تو گویا کہ 83 سال مسلسل عبادت کے ثواب سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔

تو اس وجہ سے یہ بہت ہی قیمتی رات ہے اور اگر کوئی طریقہ اس کا سیکھ لے، الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ ہمیں اپنے اکابر نے سکھایا ہے۔ اگر کوئی طریقہ اس کا سیکھ لے تو ہر سال لیلۃ القدر حاصل کر سکتا ہے۔ کہیں گے بھئی یہ تو بہت بڑا دعویٰ ہے۔ یعنی یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تمہیں لیلۃ القدر مل گیا؟ بھئی بات یہ ہے کہ ایک گڑھا ہے۔ اس کے اندر کوئی چیز پڑی ہوئی ہے۔ آپ کو گڑھا مل گیا تو وہ چیز آپ کو مل گئی یا نہیں ملی؟ مطلب ظاہر ہے وہ آپ کو چیز مل گئی نا، ظاہر ہے آپ کو گڑھا مل گیا تو اس میں وہ چیز مل گئی۔

اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ آپ کو آخری عشرہ اگر اعتکاف کا مل گیا، تو اعتکاف میں تو ظاہر ہے عمل Discontinue نہیں ہوتا۔ مطلب اس میں اعتکاف میں اگر کوئی سو بھی رہا ہو تو اس کا اعتکاف ختم تو نہیں ہوتا۔ تو اعتکاف کا اجر تو بہرحال موجود ہے۔ اور کوئی اعتکاف میں ہو تو کیا نماز نہیں پڑھے گا؟ یہ کیسا اعتکاف ہو گا جس میں نماز نہیں پڑھے گا؟ اور وہ نماز باجماعت پڑھے گا یا بغیر جماعت کے پڑھے گا؟ باجماعت پڑھے گا، تکبیر اولیٰ سے پڑھے گا یا عام طریقے سے پڑھے گا؟ مطلب کوئی تمام مواقع گویا کہ خیر کے اکٹھے ہو جاتے ہیں اعتکاف میں۔ ویسے اگر آپ باہمت آدمی ہیں تو اعتکاف کے بغیر بھی چیز حاصل کر سکتے ہیں یعنی تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز آپ حاصل کر سکتے ہیں، ہر وقت مسجد میں رہ سکتے ہیں، یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن اعتکاف میں انسان کو یعنی گویا کہ ایک فیصلے سے باقی ساری چیزیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ باقی ساری چیزیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ تو اب اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کو اعتکاف نصیب ہو گیا اللہ پاک کے فضل و کرم سے تو آپ کو لیلۃ القدر بھی مل گیا۔ کیونکہ لیلۃ القدر انہی ایام میں ہے۔ تو اب بے شک اکیسویں کو، بائیسویں کو، تئیسویں کو، چوبیسویں کو، اگر آپ اعتکاف میں ہیں تو آپ کو تو مل گیا۔ تو اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ یہ بہت ہی زیادہ۔۔۔ بالخصوص حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو اخیر وقت میں جو اجتہاد فرمایا ہے اور اعتکاف کو بطورِ خانقاہ کے جو استعمال فرمایا ہے۔ خانقاہی اعمال کے لیے جو استعمال فرمایا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ اگر کسی شیخ کامل کے ساتھ کوئی اعتکاف کر رہا ہو اور سبحان اللہ اس کی نگرانی میں اعمال کر رہا ہو...

میں آپ کو تھوڑا سا اس کے بارے میں بتا دوں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ عام ذکر سے درود شریف افضل ہے۔ عام ذکر سے درود شریف افضل ہے کیونکہ اس کے اندر دعا بھی ہے، درود بھی ہے اور ذکر بھی ہے۔ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ذکر ہے یا نہیں؟ اَللّٰهُمَّ صَلِّ دعا ہے یا نہیں ہے؟ اور اس طریقے سے مطلب ہے کہ درود تو یہ درود ہی ہے۔ تو گویا کہ تینوں چیزیں اس کے اندر پائی جاتی ہیں لہذا یہ عام ذکر سے افضل ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق۔ لیکن فرمایا کہ جو مشائخ ذکر دیا کرتے ہیں، جو مشائخ ذکر دیا کرتے ہیں وہ اس درود پاک سے بھی زیادہ افضل ہے۔ کیونکہ درود پاک بہرحال جتنا بھی اونچا ہے لیکن ہے تو مستحب۔ ہے تو مستحب۔ ہاں پہلی دفعہ واجب ہے اگر کوئی پہلی دفعہ پڑھے تو مجلس میں نام آنے پر تو وہ واجب ہے۔ بعد میں تو مستحب ہی ہو گا۔ لیکن یہ جو ذکر ہے یہ جو مشائخ دیتے ہیں یہ آپ کو اصلاح کے لیے دیتے ہیں اور اصلاح فرض عین ہے۔ تو فرض عین کا مقدمہ بھی ویسے ہی ہو گا۔ تو لہذا یہ مطلب ہے کہ گویا کہ یہ حضرت نے فرمایا کہ...

تو اب دیکھو اگر آپ کسی شیخ کی مجلس میں ہیں اور کسی شیخ کی صحبت میں ہیں اور اگر آپ شیخ کے ساتھ اعتکاف کر رہے ہیں اور ماشاءاللہ اس کے جو تمام اعمال اصلاح کے لیے ہیں تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ ظاہر ہے اس کی وہی حیثیت ہو گی تو اگر آپ اعتکاف میں ہیں تو اس کا مقام بہت اونچا ہو جائے گا۔ اس وجہ سے ہمارا مشاہدہ ہے کہ جتنی دس رات اعتکاف میں شیخ کے ساتھ اعتکاف میں اصلاح ہوتی ہے وہ پورے سال میں اتنی نہیں ہوتی۔ یہ دس رات، دس دن جو گزارتے ہیں شیخ کی صحبت میں، جس میں جتنی اصلاح ہوتی ہے پورے سال میں پھر اتنی نہیں ہوتی۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ سبحان اللہ! ایک تو رمضان شریف کا مہینہ، جو ہے ہی اصلاح کا مہینہ، لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ جو ہے ہی اصلاح کا مہینہ۔ دوسرا اعتکاف، جس میں چاروں مجاہدات سلوک کے جمع ہو جاتے ہیں۔ چاروں مجاہدات، یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ہے کہ چاروں مجاہدات جس کو تقلیلِ طعام، تقلیلِ منام، تقلیلِ کلام، تقلیلِ خلط مع الانام، یہ چار مجاہدات ہیں سلوک کے۔ تو فرمایا کہ یہ چاروں اس میں مجاہدات ہو جاتے ہیں۔ روح الصیام اور اعتکاف، اس کے بارے میں حضرت کے مواعظ ہیں سپیشل۔ تو حضرت نے اس میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ چاروں مجاہدات جمع ہو جاتے ہیں۔

کیسے جمع ہو جاتے ہیں؟ بھئی روزہ تو ہے نا، تو تقلیل طعام تو اس سے ہو گیا۔ روزہ ہوتا ہے۔ اچھا! اب تراویح پڑھتے ہیں، تراویح پڑھتے ہیں تو نیند کا موقع ہٹ جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے یہ تقلیل منام اس میں آ گیا۔ اور اگر آپ اعتکاف میں ہیں تو لوگوں سے ملنا جلنا کم ہے لہذا بات چیت کم ہے۔ تو تقلیل کلام بھی ہو گیا۔ اور اگر آپ علیحدہ ہیں، اپنے اس میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور یعنی رابطہ آپ کا باہر والوں کے ساتھ نہیں ہے تو آپ کو تقلیل خلط مع الانام بھی مل گیا۔ صحبت ناجنس سے پرہیز خود بخود حاصل ہو گیا۔ صحبت ناجنس سے پرہیز خود بخود حاصل ہو گیا اور یہ مسنون طریقے سے حاصل ہو گیا۔ سبحان اللہ۔ تو اب یہ ساری چیزیں جو جمع ہو گئیں تو اب مجھے بتاؤ اس کا کچھ اثر ہو گا یا نہیں ہو گا؟

تو ماشاءاللہ شیخ بھی موجود ہو اور ساتھ ساتھ یہ مجاہدات بھی موجود ہوں اور برکت والا مہینہ بھی موجود ہو، ہاں اور خود اس میں روزے سے ہو اعتکاف سبحان اللہ کیا بات ہے جی۔ یعنی کیا اللہ پاک نے اس نے اس میں یہ رکھا ہوا ہے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اس وقت چونکہ آنکھیں بند ہیں ہمیں نظر نہیں آتا کہ کون سی چیز کیا ہے۔ تو بتانا پڑتا ہے۔ ہماری ساری چیزیں سماعی ہیں۔ یعنی مطلب ہے کہ ہم لوگ سن سن کے اس کو حاصل کر رہے ہیں۔ جس وقت مشاہدہ بن جائے گا تو اس وقت سب کو پتہ چل جائے گا لیکن وہ مشاہدہ جب بنے گا تو اس وقت عمل کا وقت نہیں ہو گا۔ عمل کا وقت نہیں ہو گا۔ لہذا ہمیں اپنی سماع کے اوپر ہی کرنا چاہیے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، تو ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ دیکھ تو سکتا نہیں ہے۔ تو اسی طریقے سے اس سماعت کو ایسے تسلیم کر لو جیسے تو اس کو دیکھ رہا ہے، تو ان حالات کو دیکھ رہا ہے۔ تو ماشاءاللہ آپ کو پھر اس کی بصیرت حاصل ہو جائے گی اور بصارت بے شک نہ ہو لیکن بصیرت سے سارے کام چل جاتے ہیں۔

تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ اس میں اللہ پاک نے آپ کے لیے ایک پورا نظام رکھا ہوا ہے۔ اور پھر اس میں جو ماشاءاللہ:

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا۔

یہ لفظ بہت پیارا لفظ ہے إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا۔ اس کو اس کو غور سے سننا چاہیے۔ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔

إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو آپ کو یہ جو خبر ملا ہے، ایمانی خبر ہے، آپ کا اس کے اوپر ایمان ہے، یہ سماعی ہے لیکن آپ کا اس کے اوپر ایمان ہے، آپ نے اس کو دیکھا نہیں ہے، يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ میں آتا ہے۔ تو إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، ثواب کی نیت سے۔ ویسے نہیں، مزے کے لیے نہیں۔ مزے کے لیے نہیں، ثواب کی نیت سے کہ اس میں ثواب ہے اللہ پاک کا حکم ہے، یہ آپ ﷺ کا طریقہ ہے۔ تو اس وجہ سے إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا کا لفظ بار بار آ رہا ہے۔ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ تو اس میں نیت جو ہے نا کس چیز کی رکھنی چاہیے؟ ثواب کی رکھنی چاہیے۔ اور ظاہر ہے ایمان کے ذریعہ... ایمان ہی اس کا محرک ہے۔ تو یہ دو چیزیں بہت طاقتور اس میں پائی جاتی ہیں لہذا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِيهِ: لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ۔

جو اس کے خیر سے محروم رہا تو بس وہ تو محروم ہی رہا۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرَائِيلُ فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ۔

سبحان اللہ! یعنی اس میں حضرت کے بارے میں یعنی جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے ہیں۔ ہاں! جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں جماعت کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور ہر شخص کے لیے دعا گو ہوتے ہیں جو کھڑے ہیں یا بیٹھے ہیں یا اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ اب دیکھیے کھڑے یا بیٹھے یا دعا گو... دیکھو نا یہ ذرا تھوڑا سا اس پہ غور فرمائیں کچھ چیزیں بتائی جا رہی ہیں۔

عَلٰى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ۔ قائم قیام اللیل کے لیے مطلب نماز پڑھ رہا ہے، قاعد کوئی بیٹھا ہوا ذکر کر رہا ہے یا تلاوت کر رہا ہے، جو بھی جو عمل کر رہا ہے۔ تو ان سب کے لیے وہ دعا فرماتے ہیں۔ اور کسی کسی خوش نصیب کے ساتھ حدیث شریف کے مطابق مصافحہ بھی کرتے ہیں۔ کسی کسی... اس کی یہ بات جو محسوس کی جاتی ہے وہ اس طرح کہ اس پہ ایک کپکپی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ مطلب یہ ہے کہ فرشتے الگ مخلوق ہیں، نورانی اور روحانی مخلوق ہیں اور ہم جسمانی ہیں۔ تو ان دونوں کا اتصال جو ہے نا یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے۔ تو اس کے ساتھ جب مصافحہ ہوتا ہے تو انسان کا جسم اس کو برداشت نہیں کرتا۔ تو جسم جو ہے وہ حرکت کرتا ہے اور وہ حرکت اضطراری ہوتا ہے۔ تو اضطراری حرکت کون سی ہوتی ہے؟ وہ کپکپی ہوتی ہے نا۔ کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ تو یہ مطلب ایک تو یہ بات بتائی جاتی ہے۔

کبھی اگر اللہ والوں کی قبر پر جائے آدمی اور یکدم رقت طاری ہو جائے، تو اس قبر سے فائدہ ہونے کی علامت ہے۔ مطلب جیسے وہ کوئی چیز ان کی طرف سے دے دی گئی۔ مطلب آپ کو بالکل وہ sense ہی نہیں ہے، کوئی بات ہے ہی نہیں رونے کی یا کوئی اس قسم کی بات نہیں ہے اور یکدم آپ کے اوپر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے رونا شروع کر لیا تو اس کا مطلب ہے کہ ادھر سے کوئی اِن پُٹ (Input) آئی ہے۔ تو یہ چیز مطلب یہ ہے کہ یہ اس طرح فرشتوں کے ساتھ اور جو فوت شدہ بزرگ ہیں، ان کے ساتھ وہ جو آتا ہے تو یہ ظاہر ہے اس کی کچھ نشانیاں اس قسم کی اللہ والوں نے بتائی ہیں۔

تو یہ ہے کہ: وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي المعتكف: هُوَ يَعْتَكِفُ الذُّنُوبَ، سبحان اللہ! جو اعتکاف میں بیٹھا ہوا ہے تو وہ گناہوں سے بچا ہوا ہے اور اس کے جو حسنات ہیں: وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا۔ اور جو حسنات جن سے اس کو روکا گیا ہے اعتکاف کی وجہ سے، مثلاً وہ عیادت نہیں کر سکتا، وہ جنازے پہ نہیں جا سکتا اور اس قسم کے کام خیر خواہی کے جو کام ہوتے ہیں وہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کا اجر اس کو مسلسل مل رہا ہے۔ کیونکہ وہ رکا ہوا کس وجہ سے ہے؟ سبحان اللہ! دیکھو آپ ﷺ نے بھیجا تھا عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ تو بیعتِ رضوان کے وقت پھر کیا ہوا؟ جب بیعتِ رضوان ہو رہا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کہا۔ یہ ہے عثمان کا ہاتھ، یہ عثمان کا ہاتھ ہے، ان کو مطلب بیعت کر لیا، اس میں شامل کر لیا۔ چونکہ تشکیل کی تھی آپ ﷺ نے۔

تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پاک نے تشکیل کی ہے کہ نہیں جانا، بس اعتکاف سپیشل تھنگ (Special thing)، اس میں آپ نے ادھر رہنا ہے اور باقی کام نہیں کرنے۔ تو بس پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ان چیزوں کا ثواب جو ہے خود بخود ملتا رہے گا۔ تو آپ خود کتنا کما لیں گے؟ جب اللہ پاک آپ کو خود اپنی مرضی سے دیں گے تو اس کی کیا حالت ہو گی؟

تو یہ بات ہے: وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ یعنی لیلۃ القدر کو تلاش کرو رمضان شریف کے آخری عشرے میں۔ اس کا مطلب ہے یہاں آپ کو ان شاءاللہ ملے گا۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے اس کو تلاش کرنا ہے، تو اس کو تلاش کرنے کا بہترین طریقہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ اعتکاف ہے۔

لیکن اگر اعتکاف آپ نہیں کر سکتے، مشکلات ہیں جیسے مثال کے طور پر کوئی جاب ایسی ہے، چھٹی نہیں ملتی یا کوئی اور بات ہے تو پھر اس کے جو اعمال ہیں نا ان کو طاری کر لو اپنے اوپر اہتمام کے ساتھ اور ارادے کے ساتھ، قوتِ ارادی سے کام لیتے ہوئے۔ مثلاً ٹھیک ہے گھر میں آپ ہیں تو گھر میں مسائل تو ہوتے ہیں۔ کبھی بچہ روئے گا، کبھی کیا ہو گا، کبھی کیا شور ہو گا۔ اب دیکھو یہاں پر ابھی ہم تو نہیں چاہتے کہ یہ آوازیں ہوں لیکن یہ آوازیں ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے اس کے ساتھ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن مسجد میں آپ ماشاءاللہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو کوئی ٹچ (Touch) نہیں کر سکتا مطلب جو ہے نا بس وہیں پر ہے۔

تو ایسی صورت میں جو لیلۃ القدر ہے آپ اس میں چلے گئے تو پھر آپ کو سارے کام ماشاءاللہ اس کے مطابق آپ ملیں گے۔ تو یہ آخری عشرہ آپ کو اگر اعتکاف میں نہیں ملے تو پھر آپ اپنے اوپر وہ حالات اعتکاف کے طاری کر لیں یعنی زبردستی۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ مجبوراً گھر جا رہے ہیں۔ ہے تو ویسے آپ مسجد میں، ویسے بھی حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ مومن کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔ تو ویسے بھی ہے لیکن جو آپ... سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی دو نسبتیں بہت زیادہ واضح تھیں۔ رمضان شریف کی اور حج کی۔ اور حج تو عذر کی وجہ سے ہر وقت کر نہیں سکتے تھے جب بھی موقع ملتا تھا تو پھر کرتے تھے لیکن کرتے ضرور تھے۔ تو ایک دفعہ ہمارے جو وائس چانسلر (Vice Chancellor) صاحب تھے، وہ گئے تھے تو اس نے وہاں تصویریں لی تھیں یعنی خانہ کعبہ کی اور روضہ اقدس کی اور اس طرح مختلف میدان عرفات کی، اس طرح مختلف تصویریں لی تھیں۔ تو وہ تصویریں وہ دکھانا چاہتے تھے یونیورسٹی میں مطلب یہ ہے کہ پریزنٹیشن (Presentation) اس کی دے رہے تھے تو اس نے مطلب مولانا صاحب کو بھی دعوت دی کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ تو مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب جا رہے تھے فرمایا: ادھر حاضر تو نہیں ہو سکے تو چلیں وہاں حاضر ہونے والوں کو دیکھ لیں۔ وہاں حاضر ہونے والوں کو دیکھ لیں۔

تو یہ دل والے جو ہوتے ہیں نا وہ دل والوں کی بات ایسی ہوتی ہے۔ کہ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ وہ نہیں حاصل کر سکتے جو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جو حاصل کر رہے ہیں پھر ان کی خدمت کر لے، ان کی طرح حالات اپنے اوپر طاری کر لے، ان کی طرح۔ تو ان شاءاللہ العزیز جیسے مثال کے طور پر کسی کو رونا نہیں آتا تو رونے والوں کے حالات اپنے اوپر طاری کر لے۔ فَلْیَتَبَاكَوْا۔ تو اس میں انسان پھر اعتکاف کے حالات اپنے اوپر طاری کر لے اور اس کا یہ ہے کہ اپنے اوقات کی حفاظت کر لے۔ زیادہ وقت مسجد میں لگانے کی کوشش کر لے۔ باہر بہت کم مختصر وقت بضرورت، وہ چلتے ہوئے بھی ذکر ہو، واپس آتے ہوئے بھی ذکر، اور خاموشی کو اصل سمجھیں، یعنی زیادہ بات نہ کرے، بس کرے تو ذکر اللہ کرے۔ تو اس طریقے سے ان شاءاللہ العزیز کچھ بات ہو جائے گی ان شاءاللہ۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں جو دو نمازیں ہیں، کم از کم یہ دو نمازیں تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیں نا، وہ دو نمازیں مغرب کی اور عشاء کی آتی ہیں۔ اگر کوئی جماعت کے ساتھ تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھ لے تو ان شاءاللہ ان شاءاللہ ان شاءاللہ بہت بڑا حصہ نصیب ہو جائے گا۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ کوئی چیز جو ہوتی ہے وہ بہت زیادہ تو تھوڑی جگہ میں ہوتی ہے لیکن بعد میں تھوڑی تھوڑی تھوڑی تھوڑی بہت زیادہ اس میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ تو اس میں یہ کہ جو بہت زیادہ ہے وہ یہی ہے یعنی نمازوں کا، کیونکہ نماز کیا ہے؟ نماز فرض اور وہ جماعت کے ساتھ اور لیلۃ القدر میں، تو بہت بڑا آف... یعنی بہت بڑا spike اس کی وجہ سے آ جاتا ہے۔ باقی اس کے بعد پھر یہ ہے کہ آہستہ آہستہ آہستہ باقی جیسے آپ پورا گراف (Graph) بنا رہے ہیں تو اس کا جو ابتدا سے آپ جو ہے نا بنا رہے ہیں نا تو یہ بہت زیادہ ہے پھر اس کے بعد تھوڑا تھوڑا تھوڑا تھوڑا تھوڑا مطلب یہ آتا ہے۔ تو ماشاءاللہ اگر یہ کر لے تو کم از کم بہت زیادہ حصہ وہ اس طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا۔

تو یہاں پر جو آیت کریمہ میں نے پڑھی ہے:

وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْر ٍ ۝ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۝ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ۔

قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت کی اور طاق کی اور رات کی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی اس وقت اب دیکھیے اس میں جو دس راتوں کی قسم کھائی ہے یہ اصل میں آخری عشرے کی دس راتیں ہیں۔ آخری عشرے کی دس راتیں۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس کی جو عظمت ہے اس کو یاد رکھنا چاہیے تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ اس کے فیوض اور برکات ملیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنا تعلقِ خاص نصیب فرمائے۔ ان شاءاللہ نماز کے بعد ایک کلام لگایا جائے گا چونکہ یہ ظاہر ہے جمعہ کے لیے تو ہم تو اپنے وقت پہ جمعہ پڑھیں گے اور جمعہ جو ہے نا یہ اول وقت میں مستحب ہے تمام موسموں میں۔ لیکن ظہر کی نماز جو ہے یہ گرمیوں میں آخری اوقات میں گویا کہ یوں سمجھ لیجیے تاخیر کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اور سردیوں میں جلدی پڑھنا مستحب ہے۔ آج کل اس پر عمل تقریباً نہیں ہو رہا، میرے خیال میں شاید ہی کہیں پر عمل ہو رہا ہو۔ تو جمعہ کی یہ حالت ہے کہ بعض جگہوں پہ دو دو بجے، ڈھائی ڈھائی بجے، تین تین بجے جمعہ ہوتی ہے۔ بھئی یہ طریقہ کم از کم منقول طریقہ نہیں ہے۔ ٹھیک ہے ہو جاتا ہے، نماز ہو جاتی ہے لیکن بہرحال یہ طریقہ مستحسن نہیں ہے۔ تو جمعہ جو ہے نا یہ اول وقت میں مستحب ہے۔ اس وجہ سے ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ ہم اس کو اول وقت میں پڑھ لیں۔ تو ابھی ان شاءاللہ جمعہ کی نماز ہم پڑھیں گے۔ پھر اس کے بعد ان شاءاللہ ان شاءاللہ ان شاءاللہ ایک کلام سنایا جائے گا جمعہ کی نماز کے بعد۔ تو جو لوگ سننا چاہیں تو اس وقت کا انتظار کر لیں اور جو نہیں سننا چاہیں تو ان سے کچھ کہا بھی نہیں جائے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔


رمضان المبارک کا آخری عشرہ: فضائلِ شبِ قدر، اہمیتِ اعتکاف اور غزوہ بدر کا پیغام - جمعہ بیان