درود شریف کی کثرت، سنتِ نبوی ﷺ سے محبت اور عذابِ الٰہی سے نجات

(اشاعتِ اول) جمعہ، 18 مئی، 2023

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

  درود شریف پڑھنے کا قرآنی حکم اور اس کی فضیلت• درود شریف کے ذریعے اللہ کی دس رحمتوں کا نزول• عذابِ الٰہی سے بچاؤ کے دو راستے: ذاتِ نبوی ﷺ (درود و سنت) اور استغفار• سنتوں پر عمل کی اہمیت اور معاشرتی رکاوٹیں• روزانہ درود شریف کی کثرت کی مقدار (کم از کم 300 مرتبہ)• دعاؤں میں درود شریف کی شمولیت کے حوالے سے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا واقعہ• قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کا خصوصی قرب اور درجات کی بلندی  

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

إِنَّ اللهَ وَمَلَآئِكَتَهٗ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

معزز خواتین و حضرات! اللہ جل شانہ نے اس آیت شریفہ کے ذریعے سے ہم سب مسلمانوں اور ایمان والوں سے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس عظیم نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ اے مسلمانو تم بھی، اے مومنو تم بھی، ان پر اہتمام کے ساتھ درود و سلام بھیجا کرو۔ استمرار کا صیغہ ہے، یعنی بھیجتے رہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ہمیں بھی اس پہ استمرار کرنا چاہیے۔ اور کثرت کے ساتھ درود پاک بھیجنا چاہیے۔

اس آیت... کے بارے میں علمائے کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ درود شریف کا پڑھنا فرض ہے۔ کم از کم ایک دفعہ۔ جیسے حج انسان پر فرض ہے، مطلب پوری زندگی میں ایک مرتبہ، اسی طریقے سے یہ درود شریف کا پڑھنا جو ہے، صیغہ امر سے چونکہ فرمایا گیا ہے، تو کم از کم ایک دفعہ زندگی میں پڑھنا فرض ہے۔

پھر چونکہ ہر دفعہ جب نئی مجلس میں پہلی دفعہ یہ مطلب جو ہے نا وہ ذکر آئے گا آپ ﷺ کا، تو آپ ﷺ کا نام آنے سے ہی پہلی دفعہ درود پڑھنا واجب ہے۔ اس کے بعد پھر جتنی دفعہ آپ ﷺ کا نام آئے گا، تو درود پڑھنا مستحب ہے۔ لیکن بہت زبردست مستحب ہے۔ اس کے ذریعے سے بہت زیادہ برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ برکتیں کیا ہیں؟ کہ ایک بار درود شریف کوئی پڑھے گا تو دس رحمتیں اس کے اوپر اللہ پاک نازل فرما دیتے ہیں۔ تو ایک رحمت کیا، کتنی بڑی چیز ہے؟ تو پھر اللہ جل شانہ ایک دفعہ درود پاک پڑھنے پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ لہٰذا اللہ پاک کی رحمت کو حاصل کرنے کا بہت آسان نسخہ ہے۔

ہمارے حضرت شیخ مولانا محمد اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ بات فرما رہے تھے۔ فرما رہے تھے کہ اگر میں اللہ پاک کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہوں تو اس کا بہت آسان طریقہ ہے۔ درود شریف پڑھ لیا، فرمایا اللہ کی رحمتیں، رحمت میری طرف متوجہ ہو گئی، اور میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں۔ اللہ کی رحمت میری طرف متوجہ ہو گئی، اور میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں۔ تو یہ والی بات ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو بھی اللہ پاک کی رحمت کو متوجہ کرنے کا جو اتنا بڑا ذریعہ، آسان ذریعہ اللہ پاک نے عطا فرمایا ہے، تو اس ذریعے کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ اور جو ہے نا مطلب کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنا چاہیے۔

اور ایک ات، ایت آج کل بہت سارے پریشان لوگ کہ ہمارے اوپر اتنے مشکلات آئیں ہیں اس میں ہمارا کیا طریقہ ہو اس سے نکلنے کا؟ کیا طریقہ ہو؟ تو قرآن پاک میں ایک آیت شریفہ ہے:

وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔

اور اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب کرے اس حال میں کہ اے نبی! آپ ان میں موجود ہیں، موجود ہوں۔ اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔

تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ کی ذات مبارک، اور استغفار یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں، کہ جو عذاب کو ٹالتے ہیں۔ عذاب کو روکتے ہیں۔ تو اس وقت چونکہ آپ ﷺ موجود تھے۔ تو یہی سب سے بڑا ذریعہ تھا عذاب کو روکنے والا۔ اور ایک بات تو کم از کم اس امت پر ہمیشہ کے لیے ہے، کہ آپ ﷺ کی برکت سے وہ پورے کا پورا جو عذاب ہے جو سب کو ہلاک کرنے والا، وہ نہیں آئے گا۔ تو یہ بات تو ہے کم از کم۔ البتہ یہ بات ہے کہ جو جزوی عذابات آتے ہیں، ان کو روکنے کے لیے بھی آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ تعلق بہت ضروری ہے۔ تو دو ذریعے سے بہت اعلیٰ تعلق حاصل ہو سکتا ہے۔

ایک یہ کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ محبت کریں، اور اس محبت کے ساتھ ہم آپ ﷺ پر درود شریف پڑھیں۔ درود شریف بھیجیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنتوں کے ساتھ محبت کریں اور آپ ﷺ کی سنتوں پر محبت کے ساتھ عمل کریں۔ تو یہ دو ذریعے جو ہیں نا یہ کیا ہیں ہمیں آپ ﷺ کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی نسبت ہمیں حاصل ہو جاتی ہے۔ اور جب یہ بات ہے، تو پھر دیکھیں، مطلب یہ ہے کہ یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ کہ درود شریف کثرت کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور کثرت کے ساتھ سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

اب سنتوں پر عمل کرنا آج عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں شاید یہ بڑا مشکل کام ہے۔ یقیناً جن لوگوں کو اس کا پتا نہیں ہے تو ان کے لیے واقعی مشکل ہے۔ لیکن دیکھیں اس میں ساری سنتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ بعض سنتیں اتنی آسان ہیں کہ اس کے لیے آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑ رہا۔ بلکہ آپ کو آسانی ہو گی اس کے ذریعے سے۔ اس کے ذریعے سے آسانی ہو گی۔ اگر اس میں کچھ مشکل ہے تو ہمارے ماحول کی وجہ سے ہے۔ ہمارا ماحول جو ہے نا، بگڑ چکا ہے۔

لہٰذا مثال کے طور پر شادی بیاہ کی جو سنتیں ہیں، اس پہ ہم عمل اس لیے نہیں کرتے کہ رسوم و رواج عام ہو چکے ہیں۔ تو رسوم و رواج آڑے آ جاتے ہیں۔ اس طریقے سے مطلب ہمارے معاشرے کے اندر، اگر سنت چہرہ نہیں کوئی بنا سکتا تو معاشرے کے اندر یہی بگاڑ ہے کہ رسم و رواج جو ہے نا عام ہو چکا ہے، لہٰذا اس کی طرف لوگ نہیں جاتے۔ ورنہ محبت تو کرتے ہیں آپ ﷺ کے ساتھ، لیکن معاشرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ صرف یہی والی بات ہوتی ہے۔ تو اگر معاشرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کا اگر طری، مطلب جو ہے نا وہ جواب نہیں ہے، تو جو آسان سنتیں ہیں جس میں یہ چیز نہیں ہے، اس کو تو شروع کریں نا۔

تو اس کا طریقہ پھر یہ ہے کہ جو چیزیں جو سن، سنتیں بالکل آسان ہیں۔ جو سنتیں بالکل آسان ہیں، اس کو تو فوراً عمل ہونا چاہیے۔ جیسے کھانے کی سنتیں، سونے کی سنتیں، کپڑے پہننے کی سنتیں، وہ تو آپ نے ویسے ہی کرنا ہے، تو اس کے ذریعے سے وہ سنتیں جو کہ مشکل ہیں وہ بھی تدریجاً آسان ہوتی جائیں گی۔ اور ایک وقت آئے گا کہ آپ بہت ساری سنتوں پہ عمل کر سکیں گے۔

تو سنتوں پر، اور درود شریف کی کثرت، کثرت کتنی ہے؟ اصل میں تو کثرت کی کوئی خاص تعداد متعین نہیں کی گئی ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جو ہے نا مطلب ہے کہ اس میں علمائے کرام نے فرمایا کہ اگر تین سو دفعہ کوئی روزانہ مطلب جو ہے نا پڑھے تو وہ کثرت میں آ جاتا ہے، بقول حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، کہ تین سو مرتبہ اگر روزانہ کوئی درود شریف پڑھے، تو وہ کثرت میں آ جاتا ہے۔ لیکن بہرحال اہل محبت کے لیے تو یہ بات الگ ہے۔ وہ تو مستقل ہی درود شریف مطلب پڑھتے جائیں گے۔

تو حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو واقعہ ہے، وہ میرے خیال میں ہمیں جو ہے نا یاد رکھنا چاہیے۔ کہ اس میں جو ہے نا وہ کیا ہوا تھا؟ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو جو ہے نا مطلب جو ہے نا وہ آپ ﷺ سے جو ہے نا مطلب عرض کر لیا تھا، کہ یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ کے اوپر، جو میں نے دو، جو ہے نا مطلب جو ہے نا دعاؤں کے لیے وقت مقرر کیا ہے تو اس کے جو ہے نا مطلب میں یعنی کیا جو ہے نا مطلب یعنی کتنے حصے مقرر کر لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جتنا آپ کا جی چاہے۔ انہوں نے فرمایا کہ چوتھائی؟ فرمایا ٹھیک ہے، اچھا ہے لیکن اگر اس سے زیادہ ہو تو اور زیادہ اچھا ہے۔ اس پر جو ہے نا مطلب ہے کہ اس نے پھر جو ہے نا وہ، کہا کہ یا رسول اللہ! اگر میں نصف کر لوں؟ فرمایا ٹھیک ہے، لیکن اس سے زیادہ کر لو تو اس سے بھی اچھا ہے۔ پھر انہوں نے کہا اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر میں دو تہائی کر لوں؟ فرمایا ہاں ٹھیک ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ کر لو تو اچھا ہے۔ تو پھر انہوں نے فرمایا، اب تو میں پورا ہی وقت جو دعاؤں کے لیے میں نے مقرر کیا اس میں میں درود شریف پڑھوں گا۔ فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے کاموں کی کفالت فرمائیں گے۔

تو اب یہ والی بات جو ہے ماشاءاللہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں کثرت کے ساتھ درود شریف جو ہے نا مطلب وہ پڑھنا چاہیے۔ جو دعائیں ہم کر رہے ہیں، یقیناً دعائیں بھی کرنا چاہیے، لیکن یہ والی بات ہے کہ درود شریف زیادہ ہونا چاہیے اور اس وقت امت کے لیے اس کی ضرورت بھی ہے، امت کے لیے اس کی ضرورت بھی ہے کیوں کہ امت پر جو عذابات آرہے ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے تو کوئی نا کوئی راستہ تو ہونا چاہیے نا جس کی وجہ سے امت صحیح کاموں پہ آجائے تو اللہ پاک کی رحمت جیسے جیسے آتی جائے گی وہ اپنا راستہ بناتی جائے گی تو اس طرح بات یہ ہے کہ درود شریف اگر ہم کثرت سے پڑھیں تو اللہ کی رحمت آنی شروع ہو جائے گی۔ اور چھوٹی چھوٹی سنتیں جس کو ہم کہتے ہیں، وہ بہت یعنی عام سنتیں، جس کو لوگ اتنا مشکل بھی نہیں سمجھتے، تو اس پر عمل کرنا شروع کر لیں تو اس سے مزید سنتوں پہ عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔

تو اس طریقے سے ان شاءاللہ اللہ جل شانہ ہم پر فضل فرمائے گا۔ اور اس کی برکت سے ان شاءاللہ ہمارے لیے آسانی آئے گی۔ اللہ کی رحمتیں آئیں گی۔ اور عذابات دور ہوں گے۔ اور ان شاءاللہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہم سب یعنی بہت یعنی مطلب ہے کہ اچھی زندگی گزاریں گے۔ اور سب سے بڑا شیریں اس کا یہ ہے کہ جو جتنا درود شریف زیادہ پڑھے گا اتنا ہی قریب ہو گا آپ ﷺ سے۔ مطلب جو ہے نا قیامت میں۔ تو کس کا دل نہیں چاہے گا کہ آپ ﷺ کے قریب ہو؟ جو اللہ، جو آپ ﷺ کے قریب ہوا اللہ کے بھی قریب ہوا نا۔ یہ بھی تو ہے نا بات۔

تو لہٰذا ہمارے پاس یہ بہت بڑا نسخہ ہے کہ اس کے ذریعے سے ہم اللہ کے تعلق کو حاصل کر لیں، اللہ کی محبت کو حاصل کریں، اور سنتوں کے ذریعے سے اللہ کی محبت کے مستحق ہو جائیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ


تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع بہترین عنوان: درود شریف کی کثرت، سنتِ نبوی ﷺ سے محبت اور عذابِ الٰہی سے نجات

متبادل عنوان: اللہ کی رحمت اور قربِ مصطفیٰ ﷺ حاصل کرنے کا آسان نسخہ

اہم موضوعات:

• درود شریف پڑھنے کا قرآنی حکم اور اس کی فضیلت

• درود شریف کے ذریعے اللہ کی دس رحمتوں کا نزول

• عذابِ الٰہی سے بچاؤ کے دو راستے: ذاتِ نبوی ﷺ (درود و سنت) اور استغفار

• سنتوں پر عمل کی اہمیت اور معاشرتی رکاوٹیں

• روزانہ درود شریف کی کثرت کی مقدار (کم از کم 300 مرتبہ)

• دعاؤں میں درود شریف کی شمولیت کے حوالے سے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا واقعہ

• قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کا خصوصی قرب اور درجات کی بلندی