اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
فَمَنْ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿181﴾ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿182﴾
پھر جو شخص اس وصیت کو سننے کے بعد اس میں کوئی تبدیلی کرے گا، تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہو گا جو اس میں تبدیلی کریں گے۔
یعنی جن لوگوں نے مرنے والے کی زبان سے کوئی وصیت سنی ہو ان کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں کوئی کمی بیشی کریں۔ اس کے بجائے ان کے لئے وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔
یہ اصل میں چونکہ میت جو ہے نا وہ اپنی ذمہ داری بس اس طرح پوری کر سکتا ہے کہ وہ وصیت کر لے۔ لیکن بعد میں تو اس کا بس نہیں چلے گا، وہ جن لوگوں نے سنا ہوگا وہی اس پر اس کو Implement کر سکتے ہیں۔ تو میراث میں چونکہ یہ بات بہت زیادہ اہم ہوتی ہے کہ لوگ مالی معاملات میں بد دیانتی کرتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی اپنی Favor کی بات سنی ہو تو اس کو تو بتا دیتے ہیں اور اگر کوئی اپنی Favor کی بات نہیں سنی ہو تو، دوسرے کی Favor کی ہو تو پھر وہ اس کو چھپا دیتے ہیں۔
یہ طریقہ ابھی تک چلا آ رہا ہے، مطلب اسی طریقے سے ہی ہوتا ہے، لوگ اپنے دنیاوی فائدے کے لیے جو کوئی چیز ہوتی ہے اس کو ہی سامنے رکھتے ہیں۔ تو یہاں پر اس وجہ سے سختی کے ساتھ فرمایا کہ یعنی
جن لوگوں نے مرنے والے کی زبان سے کوئی وصیت سنی ہو ان کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ اس میں کوئی کمی بیشی کریں، اس کے بجائے ان کے لیے وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔
اس وقت تو پورے مال میں وصیت کیا جا سکتا تھا جب یہ آیت اتری تھی، لیکن بعد میں چونکہ میراث کے بارے میں پورے احکامات اترے ہیں، اس وجہ سے وارث کے لیے تو وصیت جائز نہیں ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ وصیت سارے مال کے لیے نہیں کی جا سکتی، صرف ان کے لیے کی جا سکتی ہے جن کا ان کے اوپر کوئی حق ہو، تو اس حق کو بتلائے گا، اس کی وصیت کریں گے اور باقی مال میں جو بچے گا تو اس میں صرف تہائی میں وصیت کر سکتے ہیں اس سے زیادہ میں وصیت نہیں کر سکتے۔
ہاں اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ کوئی وصیت کرنے والا بے جا طرف داری یا گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، اور وہ متعلقہ آدمیوں کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ وصیت کرنے والا بعض دفعہ کوئی گناہ کر سکتا ہے مطلب وہ غلط وصیت کر سکتا ہے، تو وہ پھر یہ ہے کہ کوئی درمیان جو سننے والا ہو اس کو سمجھائے بجھائے، مطلب اس کو بتائے کہ ناانصافی سے کام نہ لے۔ تو مرنے سے پہلے پہلے اگر اس میں تبدیلی کرا دے تو کوئی اس پہ ایسی بات نہیں ہے، تو یہ جائز ہے۔
مطلب ویسے موت کے بعد پھر اس کی وصیت میں تبدیلی نہیں ہو سکتی لیکن موت سے پہلے پہلے اگر وہ اس میں کوئی ایسی بات ہو کہ کچھ لوگوں کو محروم رکھ رہا ہو اور وہ قریبی ہوں، تو ان کے لیے وہ وصیت کروا دے اور صلح کرا دے اور کوئی ایسی بات درمیان میں ہو تو اس کو ختم کروا دے، معافی تلافی کروا دے تو یہ اچھی بات ہے اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ﴿183﴾
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ﴿183﴾
یہ بہت مشہور آیت ہے یعنی بہت زیادہ اس کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ اور وہ اس وجہ سے کہ رمضان شریف کے جو روزے ہیں وہ فرض ہیں۔ باقی روزے فرض نہیں ہیں، کچھ سنت ہیں، کچھ نفل ہیں، کچھ واجب بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ رمضان شریف کے روزے جو ہیں وہ فرض ہیں۔
اور پہلے لوگوں پر بھی روزے فرض ہوا کرتے تھے۔ کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا جو نفس ہے وہ بغیر مجاہدے کے Control نہیں ہوتا۔ تو یہ اللہ پاک نے مجاہدے کا انتظام فرمایا ہے کہ تین چیزوں کے اوپر پابندی لگا دیتے ہیں ایک وقت تک۔ اس سے انسان اپنے نفس کو Control کرنا سیکھ لیتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ ایک انسان سمجھتا ہے کہ بھئی میں کر ہی نہیں سکتا۔ تو جب وہ کچھ وقت کے لیے کر لیتا ہے تو اس کو پتا چل جائے کہ نہیں، میں تو کر سکتا ہوں۔
تو وہ گویا کہ نفس کو قابو کرنا سیکھ لیتا ہے۔ تو یہ اس لحاظ سے ایک نفس کا علاج ہو جاتا ہے اور اس کو Control کرنے کا طریقہ انسان کو آ جاتا ہے۔ اس وجہ سے چونکہ نفس کو Control نہ کیا جائے تو پھر وہ فجور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور فجور سے بچنا تقویٰ ہے۔ تو لہٰذا جب انسان نفس کو قابو کر لیتا ہے اور فجور میں مبتلا نہیں ہوتا تو وہ متقی ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ تاکہ تم تقویٰ اختیار کر لو۔
تو تقویٰ جو ہے نفس کی اصلاح کے ساتھ مربوط ہے۔ ہوتا دل میں ہے، مطلب یہ ہے کہ گویا کہ پیدا نفس کے مخالفت سے ہوتا ہے لیکن سٹور دل میں ہوتا ہے۔ گویا کہ دل متقی ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں اپنے نفس کو قابو کرنا ہے اور دل کی اصلاح کرنی ہے تاکہ ہم لوگ متقی ہو جائیں۔
اور متقی جب ہوتا ہے تو اس کے لیے ہدایت اللہ پاک خاص فرما دیتے ہیں، هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ قرآن پاک میں ہے کہ یہ ہدایت ہے متقین کے لیے۔ لہٰذا جو تقویٰ اختیار کر لیتا ہے، ڈرتا ہے، تو اس کے لیے قرآن میں بھی ہدایت ہے، حدیث میں بھی ہدایت ہے، بزرگوں کے ملفوظات میں بھی ہدایت ہے، وہ ساری چیزوں، جہاں جہاں پر بھی ہدایت ہو گی تو اس کو مل جائے گی۔ لہٰذا رمضان شریف کے روزے اس مقصد کے لیے بہت ہی زیادہ مفید ہیں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔