اللہ تعالیٰ کے بارے میں

(اشاعتِ اول) 5 مئی، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


فرماتے ہیں حضرت…

کلام فرماتا ہے لیکن اس کا کلام ہم لوگوں کے کلام کی طرح نہیں۔ جو چاہے کرتا ہے کوئی اس کی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ وہی پوجنے کے قابل ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں۔ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ بادشاہ ہے۔ سب عیبوں سے پاک ہے۔

سبحان اللہ۔ سبحان اللہ کا مطلب کیا ہے؟ سب عیبوں سے پاک ہے۔

وہی اپنے بندوں کو سب آفتوں سے بچاتا ہے۔ وہی عزت والا ہے۔ بڑائی والا ہے۔ ساری چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور اس کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ زبردست ہے۔ بہت دینے والا ہے۔ روزی پہنچانے والا ہے۔ جس کی روزی چاہے تنگ کر دے، جس کی روزی چاہے زیادہ کر دے۔ جس کو چاہے پست کر دے، جس کو چاہے بلند کر دے۔ جس کو چاہے عزت دے، جس کو چاہے ذلت دے۔

لیکن ساتھ آ رہا ہے

انصاف والا ہے۔

اب ذرا اس کا مطلب کیا ہے؟ اصل میں... اگر کوئی کورس انسان کرتا ہے اور پھر اس کے examination hall میں جاتا ہے امتحان کرتا ہے۔ تو کیا وہ یہ demand کر سکتا ہے کہ میری مرضی کے مطابق سوال لے آئیں پیپر میں؟ کر سکتا ہے؟ کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ سوال آتا ہے examiner کی مرضی کے مطابق۔ اور جو appear ہو رہا ہے وہ اس کو کرنا پڑے گا۔

اب اگر examiner یہ کر لے کہ 10 آدمی بیٹھے ہیں اور 10 آدمیوں کو different سوال دے دے۔ تو کیا examiner کو اس کا حق ہے یا نہیں ہے؟ ہم خود بھی کرتے تھے۔ اس طرح کرتے تھے۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو copy بھی کرنا چاہتے تھے۔ تو assignment ہم different وغیرہ دیتے تھے۔ تو ہر ایک اپنا اپنا وہ کر لیتا تھا۔

تو اس طریقے سے اگر کر سکتے ہیں examiner، تو اللہ جل شانہ جو علیم و خبیر ہے۔ وہ ہر شخص کے لیے اپنا امتحان طے کرتا ہے۔ کسی کو غریب کرتا ہے، اس کا امتحان اس میں ہوتا ہے۔ کسی کو مالدار کرتا ہے، اس کا امتحان اس میں ہوتا ہے۔ کسی کو بیمار کرتا ہے، اس کا امتحان اس میں ہوتا ہے۔ کسی کو ہٹا کٹا، صحت مند بناتا ہے، اس کا امتحان اسی میں ہوتا ہے۔ کسی کو طبیعت میں جلالی صفات ڈال لیتا ہے، اس کا امتحان اس میں ہوتا ہے۔ اور کسی کو جمالی صفات عطا فرماتا ہے، پھر اس کا امتحان اس میں ہوتا ہے۔ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ پاک نے جس حال میں جس کو رکھا ہے، اس میں اس کا امتحان ہو رہا ہے۔

اور اللہ جل شانہ کا حساب بہت تیز ہے۔ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ہے۔ لہٰذا آپ جو بھی آپ کا پیپر ہے اس کے مطابق آپ جو بھی attempt کریں گے، تو اللہ جل شانہ بالکل صحیح اندازہ لگا لیں گے کہ تم کس چیز کے قابل ہو۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے کہ اللہ پاک سب کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ سے کیا چاہتے ہیں، وہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ آپ نے اسی کے مطابق تیاری کرنی ہے۔ اور اگر آپ کامیاب ہو گئے تو آپ کو بہت کچھ دے گا۔ اور خدانخواستہ چین بجبین ہو گئے اور سمجھے کہ مجھے فلاں کی طرح کیوں نہیں...

ایک دفعہ ایسا ہوا تھا ہمارے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ... ان کے پاس دو طالب علم آئے۔ مولانا صاحب بڑا خیال رکھتے تھے طالب علموں کا۔ اس کی وجہ یہ کہ انہی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کام ہی وہی حوالے ہوا تھا۔ دو طالب علم آئے اور انہوں نے اپنا اپنا کوئی مسئلہ بیان کیا کہ ہمارے لیے دعا کریں۔ حضرت دعا میں بخل نہیں کرتے تھے۔ فوراً دعا کر لیتے۔ دعا کر لی ان کے لیے۔

چند دن کے بعد وہ آئے تو ایک طالب علم جنہوں نے کسی کام کا کہا تھا ان کا کام ہو گیا تھا اور دوسرے کا نہیں ہوا تھا۔ تو جو دوسرے کا نہیں ہوا تھا... تو اس نے مولانا صاحب سے کہا مولانا صاحب آپ نے ان کے لیے دعا کی تھی اور میرے لیے دعا نہیں کی تھی۔ مولانا صاحب نے فرمایا میں نے آپ کے لیے بھی دعا کی تھی۔ پھر کہتا ہے نہیں حضرت آپ نے میرے لیے دعا نہیں کی تھی ان کے لیے دعا کی تھی۔ انہوں نے فرمایا بیٹا میں نے آپ کے لیے بھی دعا کی تھی۔

پھر اس نے کہا... غالباً سات آٹھ دفعہ شاید... بس پھر خاموش ہو گئے حضرت۔ پھر جواب دینا چھوڑ دیا۔ اب وہ لڑکا مسلسل کہے جا رہا ہے لیکن جب اس کو پتا چلا کہ مولانا صاحب جواب نہیں دے رہے اور تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں تو اس کو بھی صورتحال کا اندازہ ہو گیا کہ معاملہ گڑبڑ ہو گیا۔ تو وہ رک گیا، انہوں نے کہا حضرت مجھے معاف کر لیں مجھ سے زیادتی ہوئی۔ حضرت نے پھر بھی اس پہ جواب نہیں دیا۔ خاموش۔

پھر اس کے بعد اس نے کہا حضرت مجھے معاف کر لیں، پھر بھی حضرت خاموش۔ یہاں تک بات آئی کہ باقاعدہ اس نے رونا شروع کر لیا مجھے مولانا صاحب معاف کر لیں، حضرت پھر بھی خاموش۔ جب بہت زیادہ بات کی تو انہوں نے فرمایا بیٹا اب جو ہونا تھا ہو گیا۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔

یہ اصل میں ایک میسج (message) تھا۔ اب ایک سرسری سوچ والا آدمی کہے گا کہ مولانا صاحب کا کیا جاتا اگر وہ معاف کر لیتے؟ لیکن تھوڑا سا غور کرو اس نے مولانا صاحب کو کتنی مرتبہ جھوٹا کہا؟ مولانا صاحب فرماتے ہیں میں نے دعا کی، اور وہ کہتا ہے نہیں تو نے دعا نہیں کی... اس کو کیا اس کا حق حاصل تھا؟ کیا مولانا صاحب کی اس بات کو مان نہیں سکتا تھا کہ میں نے آپ کے لیے دعا کی تھی؟ اور پھر مولانا صاحب دعا ہی کر سکتے تھے، کام تو کروانا وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہوتا ہے۔ دعا کرنے کا مطلب یہ تھوڑا ہوتا ہے کہ وہ اللہ پاک سے زبردستی کام کروا دے گا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ تو...

ایک دفعہ مولانا صاحب بیمار تھے، اب اکثر بیمار ہوتے تھے۔ کیونکہ کئی بیماریاں لگی ہوئی تھیں۔ تو ان کا ایک بہت ہی محبوب مرید، انجینئر (engineer) تھے وہ بھی تو وہ مولانا صاحب سے کہتے ہیں مولانا صاحب یہ کیا بات ہے، سب لوگوں کو آپ دم کرتے ہیں وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، خود آپ اپنے آپ کو دم نہیں کرتے، دیکھو نا پوری رات فریاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ وزیرستان کا تھا نا مطلب سادہ آدمی تھا، اس کو مولانا صاحب لشکی خان کہتے تھے، لشکی خان۔ وہ لشکی کہتے ہیں نا، لشکی ایسے، لشکی ایسے، وہ جو ہے نا وہ کہتے ہیں وزیرستان کی زبان میں۔ تو مولانا صاحب ان کو کہتے تھے لشکی خان۔

تو وہ جو ہے نا وہ ایسا ہے کہ وہ حضرت ڈاکٹر شیر حسن صاحب سے مولانا صاحب نے کہا آپ کو اس کا تعارف ہے نا، یہ لشکی خان ہے۔ مطلب یہ اس طرح بات کر سکتا ہے۔ پھر مولانا صاحب نے فرمایا بیٹا ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اب کسی کے لیے وہ دم چلا دے اور کسی کے لیے نہ چلائے۔ وہ تو ہمارا کام نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

تو اب یہی والی بات ہے۔ کہ انسان کچھ نہیں کہہ سکتا، اللہ پاک کی مرضی کے سامنے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ جیسے اللہ چاہتا ہے، ویسے ہوگا۔ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ۔ عزت بھی تو ہی دیتا ہے اور ذلت بھی تو دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارا کام اللہ کے سامنے پیش کرنا ہے۔ باقی منظوری اور نامنظوری، اس کا کام ہے۔ تو حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے اشعار میں کہا ہے...

سنا دے اپنی داستانِ دل سامنے اس کے

وہ چاہے اقرار کرے یا نہ اقرار کرے

مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام صرف پیش کرنا ہے۔ ہمارا کام اس سے منوانا نہیں ہے، وہ نہیں ہو سکتا مطلب ظاہر ہے ہی نہیں۔ ہماری کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔

اب پیغمبر... پیغمبر... پیغمبر... نوح عليه السلام۔ نوح عليه السلام اپنے بیٹے کی سفارش کر رہا ہے۔ اپنے بیٹے کی سفارش کر رہا ہے دیکھو نا، نوح عليه السلام پیغمبر ہے اور اس کا بیٹا ہے۔ اس سے زیادہ قریبی رشتہ کون سا ہوگا؟ اللہ پاک فرماتے ہیں جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے بارے میں کیوں بات کرتے ہو؟ وہ تیرے اہل سے نہیں ہے۔ وہ تیرے اہل سے نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے اہل سے کاٹ دیا۔

تو فوراً تو نوح عليه السلام نے تو ہاتھ جوڑ لیے کہ مطلب اس سے واپس ہوتا ہوں، جو تو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ اس بیٹے نے کہا... بیٹے کو کہا تھا نا کہ آ جاؤ، ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاؤں گا تو مجھے سیلاب کیا کہہ سکتا ہے؟ وہ اس کو صرف اس چیز کو جانتا تھا، سیلاب کو۔ وہ نہیں جانتا کہ سیلاب آیا کدھر سے ہے۔ تو اگر سیلاب اللہ کی طرف سے ہے تو اس سے کون بچ سکتا ہے؟ اس سے تو کوئی نہیں بچ سکتا۔ بھئی آپ کو موقع ملے گا تو چڑھو گے نا؟ موقع ملے گا تو چڑھو گے، ادھر موقع ہی نہ دیا جائے تو پھر کیا کر سکتے ہو؟ مثلاً دیکھو نا میرا ہاتھ ہے، میں اس ہاتھ کو... اس کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں... کیا ضروری ہے کہ میں اس کو پکڑ سکوں گا؟ اگر میرے ہاتھ سے... جان نکال دی جائے... سامنے ہوگا، کچھ بھی نہیں کر سکوں گا۔ سامنے ہوگا لیکن کچھ بھی نہیں کر سکوں گا اور ایسا ہوا ہے۔ کتنے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے؟

تو یہ مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ... کیا ہوتے ہیں... ذرا... بہت ہی اپنے بارے میں... خوش عقیدہ ہوتے ہیں کہ جیسے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا حال تو یہ ہے... کہ جو سانس ہمارے گلے کے اندر چلا گیا، وہ واپس آئے گا یا نہیں آئے گا؟ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ واپس آئے گا یا نہیں آئے گا؟ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ اللہ کو پتا ہے۔ کسی اور کو پتا نہیں۔

وہ . میرے کزن (cousin)... اس نے گپ شپ میں اپنے آپ کو گولی ماری تھی۔ پتا نہیں کر رہا تھا تو ادھر رکھا تھا اور بس فائر (fire) ہو گیا۔ تو ادھر سے گولی اندر چلی گئی، ادھر سے نکلی۔ ہسپتال لے گئے۔ حلیمی صاحب بھی پیچھے پہنچ گئے کیونکہ انہی کے گھر میں ہوا تھا۔ حلیمی صاحب پہنچ گئے... تو... یہ بہت گھبرائے ہوئے تھے، کہتے ہیں کیا میں بچ جاؤں گا؟

تو حلیمی صاحب بھی جلالی بزرگ تھے۔ فرمایا مجھے یہ پتا نہیں کہ میں بچتا ہوں یا نہیں بچتا ہوں، تمہارے بارے میں میں کیا جانتا ہوں؟ مجھے اپنا پتا نہیں کہ میں بچتا ہوں یا نہیں بچتا ہوں۔ لیکن اللہ نے بچا لیا۔ سبحان اللہ۔ اندازہ کر لیں، گولی ادھر سے چلی... ہو سکتا ہے؟ ادھر سے گولی اور ادھر سے نکلی ہے۔ اور یہ بچ گیا۔ ابھی بھی زندہ ہے۔ 70 سال کی عمر کے ہوں گے۔

تو وہ کیا ہوا؟ کہ یہ خلا خلا میں گیا ہے۔ بس تھوڑا سا اس فائر (fire) کی وجہ سے جو آنکھ کے اوپر پریشر (pressure) پڑا تھا نا اس میں بینائی میں کچھ فرق آ گیا تھا۔ یہی ایسے ایک آنکھ میں۔ باقی جو ہے نا بالکل کچھ بھی نہیں ہوا، بس بچ گیا۔ تو یہ اللہ پاک جب کرتا ہے تو اس طرح کرتا ہے۔ لیکن بہرحال حلیمی صاحب نے فوراً فرما دیا مجھے خود اپنا پتا نہیں کہ میں بچتا ہوں یا نہیں بچتا ہوں، گھر تک پہنچ سکتا ہوں یا نہیں پہنچ سکتا ہوں، تمہارے بارے میں میں کیا جانتا ہوں؟

تو یہ بات مطلب یہ ہے کہ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ نہ اپنے بارے میں پتا ہے، نہ کسی دوسرے کے بارے میں پتا ہے۔ ہاں، اللہ پاک کو سب چیزوں کا پتا ہے۔ اس وجہ سے ہمیں اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے اور اللہ پاک کی بات ماننی چاہیے، اللہ کو راضی کرنا چاہیے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


اللہ تعالیٰ کے بارے میں - عقائد