غیر معتدل خطوں میں عبادات کے اوقات: قرآنی حکم، حدیثِ دجال اور سائنسی تقویم

(اشاعت، اول) جمعرات، 8 مئی، 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        رمضان المبارک میں سیرت النبی ﷺ کے درس کے اوقات کار کی تبدیلی۔

•        سورۃ البقرہ کی آیت کی روشنی میں لفظ 'شَهِدَ' کا مفہوم اور روزے کی فرضیت۔

•        چھ ماہ کے دن رات والے مقامات پر حضرت تھانویؒ کا معقول اور منطقی جواب۔

•        حدیثِ دجال کی روشنی میں غیر معتدل خطوں میں عبادات کے اوقات کا سائنسی تعین۔

•        خطِ استوا اور وقتِ زوال کو بنیاد بنا کر متناسب حسابات (Proportional Calculations) کا طریقہ۔

•        حضرت شیخ کے امریکہ اور جرمنی کے سفر میں طویل روزوں اور نمازوں کے عملی تجربات۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو درس ہے وہ جاری ہے۔

تو حضرت نے رمضان شریف کے بارے میں جو سیرت پاک میں لکھا ہے اس میں ابھی تک جو ہوا ہے اس میں فرضیت صیام پھر ایام روزہ کی جو تحدید ہے اس کے بارے میں بات ہوئی ہے۔

اب ایک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں

ایک نکتہ:

قرآن پاک نے اس رمضان کے روزہ کا حکم ان الفاظ میں دیا ہے۔

﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (سورہ البقرہ، آیت 185)

تو جو اس مہینہ کو پاوے تو اس مہینہ بھر روزہ رکھے۔


لفظِ شَهِدَ کے لغوی معنی کسی مقام یا زمانہ میں موجود اور حاضر رہنے کے ہیں، اسی سے شہادت اور شاہد کے الفاظ نکلے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ روزے اسی پر واجب ہیں جو اس ماہِ صیام میں موجود اور حاضر ہو، اس ماہِ صیام میں غیر موجود اور غیر حاضر ہونے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ماہِ صیام آئے اور شخص غیر حاضر ہو یعنی اس دنیا میں موجود نہ ہو جس میں وہ ماہِ صیام آیا، یا دوسری صورت یہ ہے کہ شخص اپنی جگہ پر موجود ہو مگر ماہِ صیام کا وہاں گزر نہ ہو یہ صورت ان قطعاتِ ارضی میں پیش آئے گی جہاں شب و روز کا وہ نظام موجود نہیں جو باقی متمدن دنیا میں ہے۔ مثلاً جن مقامات میں کئی مہینوں کے دن اور کئی مہینوں کی راتیں ہوتی ہیں وہاں رمضان کی آمد کا سوال ہی نہیں۔ ہاں اگر وہاں کے مسلمان چاہیں تو بقیہ متمدن ممالک کے کیلنڈر (تقویم) کو معیار مان کر روزے رکھیں اور کھولیں (جیسا کہ حدیثِ دجال سے جو صحاح میں ہے ثابت ہے)


یہ اصل میں بہت... دلچسپ بحث ہے۔ ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ... گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ تو دیکھا کہ جنٹلمین... یہ اسٹوڈنٹس... انہوں نے ایک مولوی کو گھیرا ہوا ہے اور ان سے سوالات کر رہے ہیں، الٹے پلٹے... تنگ کرنے کے لیے۔ اور ایک متشرع آدمی بیٹھا ہے اور ان کی باتوں پہ ہنس رہا ہے، یعنی گویا انجوائے کر رہا ہے۔

اب حضرت ماشاءاللہ ظاہر ہے عالم بھی تھے اور مصلح بھی تھے۔ اس وجہ سے ان کی اصلاح کی نیت سے... ان طلباء کی طرف مخاطب ہوئے کہ آپ ان سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ اس مولوی صاحب سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم ان سے پوچھ رہے ہیں کہ جہاں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہو وہاں نمازیں ہم کیسے پڑھیں گے؟ تو یہ جواب نہیں دے رہا۔ تو حضرت نے فرمایا کہ تم ادھر جا رہے ہو یا ادھر سے آ رہے ہو؟ یعنی تمہارا وہاں کوئی پروگرام بن گیا جانے کا، یا ادھر ہی تمہارا کوئی کام چل رہا ہے، کاروبار وغیرہ ہے؟ انہوں نے کہا نہ وہاں جا رہے ہیں، نہ وہاں سے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پھر تمہیں کیا ضرورت ہے ایسے مسئلے پوچھنے کی جس کا تمہارے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں؟ دین تو عملی دین ہے نا...

تو یہ تو عملی دین ہے۔ تو جن کو واسطہ پڑے گا تو ظاہر ہے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ تمہیں تو اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ پھر کیوں پوچھ رہے ہو؟ فرمایا یہ ضابطے کا جواب ہے۔ لیکن تمہارے دل میں آ سکتا ہے کہ شاید مجھے بھی جواب معلوم نہیں۔ اس وجہ سے تمہیں اس کا جواب بھی دیتا ہوں۔ لیکن پہلے آپ لوگوں سے ایک سوال کرتا ہوں۔ بتاؤ اگر تمہاری ڈیوٹی وہاں لگ جائے جہاں کی بات تم کر رہے ہو، تو تم چھ مہینے کی تنخواہ لو گے یا... ایک دن کی؟

اس کو کہتے ہیں معقولیوں کے ساتھ معقول میں بات کرنا۔ معقولیوں کے ساتھ معقول میں بات کرنا۔ ان کو معقول ہی میں شکست دینا۔ تم... چھ مہینے کی تنخواہ لو گے؟ یا ایک دن کی؟ انہوں نے کہا جی ہم تو چھ مہینے کی تنخواہ لیں گے۔ انہوں نے کہا پھر چھ مہینے کی نمازیں پڑھنی پڑیں گی۔ کیسے پڑھنی پڑیں گی؟ وہ پھر ہم بتا دیں گے آپ کو۔ وہ ہم آپ کو بتا دیں گے۔

تو یہ جو حضرت نے ابھی فرمایا حدیث دجال... اس سے پھر یہ حکم نکالا جا سکتا ہے۔ حدیث دجال میں آتا ہے کہ دجال پہلی دفعہ جب آئے گا تو اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا۔ پھر... ایک دن ایک مہینے کے برابر ہو جائے گا، پھر ایک ہفتے کے، پھر عام دنوں کی طرح ہو جائے گا۔

تو پوچھا گیا کہ اس وقت لوگ نمازیں کیسے پڑھیں گے؟ ایک سال میں پھر پانچ نمازیں پڑھیں گے؟ فرمایا نہیں۔ وقت کا اندازہ کر کے پڑھیں گے۔ اس سے پتا چلا کہ اگر ایسی صورتحال ہو تو وقت کا اندازہ کرنا پڑے گا۔ سمجھ میں آ گئی نا بات، یہ صحیح حدیث شریف ہے۔ اس کو حدیث دجال کہتے ہیں اور یہ بہت بڑی بنیاد ہے اس کی Calculation کی۔ کیسے Calculation کریں گے؟ یہ بھی اب بتاتا ہوں۔

اب دیکھیں Equator جو ہے نا Equator، یہ بالکل معتدل ترین خط ہے، جس پہ دن اور رات تقریباً برابر ہوتے ہیں۔ تو اس Equator کی جو Proportions ہیں ظہر سے لے کے عصر تک اور عصر سے لے کر مغرب تک اور مغرب سے لے کے عشاء تک اور طلوع سے فجر، طلوع فجر سے لے کے طلوع آفتاب تک، یہ جو Proportions بنتے ہیں گھنٹوں کے حساب سے، جو چوبیس گھنٹے میں اس کا Proportion بنتا ہے، اس کے Proportional Calculations کی جا سکتی ہیں۔

اب اس میں Reference کون سا لیا جائے؟ Reference بھی تو لیا جائے گا نا، چوبیس چوبیس گھنٹے کا تو آپ کریں گے، لیکن اس میں Error آ سکتا ہے۔ اس میں Reference اللہ پاک نے دیا ہوتا ہے۔ کہ جو زوال کا وقت ہے نا، زوال کا وقت، یہ ہر جگہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس میں فرق نہیں پڑتا۔ Throughout the globe... لہٰذا زوال کا وقت اگر وہاں Calculated ہے، تو وہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس سے Reference لے لیں گے مطلب Start...

کہ اس سے ظہر کا کتنا فرق ہے، وہ Proportion، پھر عصر کا کتنا ٹائم ہے وہ Proportion، اس سے جو مغرب کا کتنا، یعنی وہ Proportion لیا جا سکتا ہے Reference to that... اور ویسے اس کا مشاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دیکھو جب سورج غروب ہوتا ہے اور طلوع ہوتا ہے نا، اس کا Procedure کیا ہے؟

سورج طلوع ہوتا ہے مشرق میں۔ غروب ہوتا ہے مغرب میں۔ اور Peak پہ آتا ہے... شمالی نصف کرہ میں جنوب میں جو Highest point ہوتا ہے، اس پہ آتا ہے۔ ہے نا یہ بات؟ اور جتنا آپ Equator سے دور ہوتے جائیں گے، تو یہ... جو مطلب یہ ہے کہ یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ... وہ Angle change ہوتا جائے گا سورج کا۔ جیسے سورج کا Angle یہ ہے نا، تو پھر Angle یہ بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ ہوگا۔ پھر یہ ہوگا، پھر برابر ہو جائے گا تو سورج بالکل گول چکر لگائے گا۔ اور پھر اس سے نیچے چلا جائے گا تو پھر وہ...

تو گویا کہ جب وہ بالکل نیچے چلا جائے اور سورج بالکل چڑھتا ہی نہیں ہے تو وہ چھ مہینے رات ہوتی ہے۔ اور جب وہ بالکل اوپر ہی رہتا ہے، مطلب غروب بھی نہیں ہوتا، تو چھ مہینے دن ہوتا ہے۔ لیکن اس کا Lowest point بھی ہوتا ہے، اگر دن ہو، اور Highest point بھی ہوتا ہے۔ تو Highest point زوال ہے نا... Lowest point بھی نظر آتا ہے، Highest point بھی...

ٹھیک ہے نا... تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اس کا باقاعدہ روزانہ حساب۔ اور رات کا وقت جب ان کا ہوتا ہے، تو رات کے وقت میں تو چونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی وہ تو... یعنی مطلب Day reference کے ساتھ جو ہے نا وہ عشاء کا وقت بھی Calculate ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا اس کی ضرورت ہی نہیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو گویا کہ ہم لوگ... اور ویسے جو چھ مہینے جو رات ہے اس کے اندر... اگر آپ وہ کرنا چاہتے ہیں اندازے سے نمازیں اوقات، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں Light کم اور زیادہ ہوتی ہے۔

جب Maximum light ہو اس کا مطلب ہے کہ Peak پہ پہنچ گیا ہے۔ اور جب کم light ہو گی تو اس کا مطلب ہے کہ... لیکن بہرحال اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ چونکہ Global calculations تو ہو چکی ہوتی ہیں، تو جیسے 12 بج کر 14 منٹ پر اگر یہاں پر ہے، تو 12 بج کر 14 منٹ پر Equator پہ بھی ہوگا۔ ٹھیک ہے نا... تو اس طریقے سے ہم لوگ Reference calculations کر کے، اور Reference... Properly referenced proportional calculations کے ذریعے سے، ہم ایسے دنوں میں اور ایسی راتوں میں نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔

تو نمازیں پڑھ سکتے ہیں تو روزے بھی رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ... روزہ جو ہے... یہ شروع ہوتا ہے طلوع فجر سے۔ تو طلوع فجر کا Proportion آپ کو Day Reference سے معلوم ہو جائے گا۔ اور Sunset کا بھی پتہ چل جاتا ہے اس سے... تو اس کا مطلب ہے کہ آپ روزانہ calculation اس کی کر سکتے ہیں کہ فلاں ٹائم ہو گا، فلاں ٹائم ہو گا، فلاں ٹائم ہو گا۔ تو آپ اپنے Chart پر...

اب میں آپ کو ایک لطیفہ سناؤں۔ میں امریکہ چلا گیا تھا 1984 کی بات ہے۔ جو میرے میزبان تھے انہوں نے مجھے اٹھا دیا... رات کے کھانے کے لیے۔ سویا ہوا تھا کیونکہ ظاہر ہے میں... کافی سفر کیا تھا۔ تو... انہوں نے مجھے... رات کے کھانے وہ دن کے وقت... دن تھا اس وقت، یعنی آٹھ نو بجے تھے لیکن وہ دن سورج موجود تھا۔ تو میں نے کہا ابھی تو دن ہے، کہتے ہیں یہاں پر اگر آپ رات کا انتظار کریں گے تو پھر... کھانا آپ کو 11 بجے کے بعد کھانا پڑے گا۔

تو ہم تو اس طرح ہی کرتے ہیں، وہاں جو ہوتا ہے نا وہ نمازیں... گھڑی کے حساب سے ہوتی ہیں۔ اور سونا جاگنا Shutters کے حساب سے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کمرے کے Shutter ڈال دو تو آپ کے لیے رات ہو گئی۔ بے شک باہر دھوپ چمک رہی ہو، آپ کی رات ہے۔

ہم مسلمانوں کے لیے تو مسئلہ ہو سکتا ہے نمازوں کے لیے، ان کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ تو مطلب یہ ہے کہ اب انہوں نے اگر سونا ہوا ہے 8 بجے تو بے شک باہر دھوپ ہو اندر جا کے بس Shutters بند کر کے بس جو ہے نا وہ 8 بجے سو گئے۔ ان کے لیے کوئی بات نہیں۔ اور صبح جو ہے نا وہ... جو جاگیں گے، 3 بجے مثال کے طور پر، تو بے شک ابھی اندھیرا ہو، وہ 3 بجے جاگیں گے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو گھڑی کے حساب سے سارا کچھ کرنا ہوتا ہے۔ یہ غیر معتدل مقامات ہوتے ہیں۔ غیر معتدل مقامات... جرمنی میں بھی ہمارے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا۔ جرمنی میں 9 مئی کو ہمارا رمضان آ رہا تھا، یاد ہے مجھے 1985، 9 مئی کو آ رہا تھا۔ یعنی تقریباً یہی موسم تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں اس دفعہ اس کو آیا نا اپریل کو... 25 اپریل کو... تو پچھلے سال والا موسم تھا۔ پچھلے سال والا موسم... تقریباً 33 سال گزر گئے ہوں گے نا۔ 33 سال کے بعد آتا ہے نا... تو اگر آپ دیکھیں تو 1985، پندرہ... اور 19، 34 سال ہو گئے نا...

تو مطلب یہ ہے کہ... یہ 33 سال کے بعد Repeat کرتا ہے تقریباً۔ تو یہ ہے کہ... وہاں پر بھی جب ہم نے روزے شروع کیے تو کافی لمبے تھے۔ لیکن مجھے اب اس وقت Exactly یاد نہیں کچھ 20 مئی یا کچھ اس کے لگ بھگ... وہ عشاء کا وقت پھر داخل ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ ختم ہو جاتا ہے نا مطلب... 48 degrees north پہ... اس پہ ختم ہو جاتا ہے۔

تو وقت ہی داخل نہیں ہوتا تھا، اور اس طرح فجر کا وقت بھی داخل نہیں ہوتا تھا، دونوں Mix ہو جاتے تھے۔ تو اس وقت پھر ہم اندازے سے حساب کرتے تھے۔ وہی Proportional calculations... تو Proportional calculations سے معاملہ بڑا آسان ہو جاتا... وہ تقریباً ایک گھنٹہ 12 منٹ وقفہ ہوتا تھا طلوع کے ساتھ، تو ایک گھنٹہ 12 منٹ پہلے ہم جو ہے نا کھانا پینا بند کرتے۔ سوا گھنٹہ پہلے بند کرتے، اور پھر لیکن کھولتے کافی دیر سے تھے کیونکہ Sunset تو موجود ہوتا تھا۔ تو غالباً پونے 10 بجے ہم... افطار کرتے۔ پونے 10... یا اس کے بعد بھی... بعد میں اس کے بعد بھی یعنی 10... کے لگ بھگ ہم جو ہے نا افطار کرتے۔

اور ہم بڑے انتظار میں ہوتے تھے کھانا وانا کھا کے... پھر انتظار میں ہوتے تھے کہ اب عشاء کا وقت calculated داخل ہو جائے۔ تو ایک گھنٹہ 12 منٹ بعد داخل ہوتا تھا، تو اس کے بعد پھر ہم جلدی جلدی جلدی جلدی جلدی تراویح پڑھتے، 20 رکعت، کیونکہ ٹائم ختم ہو جاتا، آگے چونکہ وہ... تقریباً سوا ایک بجے کے لگ بھگ... فجر ہو جاتی... اگر ابتدائی ایام میں، پھر بعد میں تو calculated ٹائم آ جاتا نا، لیکن اس سے پہلے اس قسم کی صورتحال تھی۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ کافی مشکل معاملہ تھا اس وقت...


جاری ہے ان شاء اللہ


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔