رمضان المبارک: نفس کی تربیت، مجاہداتِ تصوف اور حقیقی بندگی کا شعور

دفتر اول: مکتوب نمبر 45 - (اشاعتِ اول) بدھ، 30 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ ﷺ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.


معزز خواتین و حضرات!

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ تو کوشش ہم کر رہے ہیں کہ ہمارا اپنا جو program عمومی ہے جو چل رہا ہے، اس پر بھی عمل ہو اور ساتھ ساتھ رمضان شریف کی جو برکات ہیں ان کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس وجہ سے حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کے ان مکتوبات شریف کی تشریح ان دنوں میں کی جا رہی ہے جو رمضان شریف سے متعلق ہیں۔

ویسے تو ظاہر ہے حضرت کا ہر مکتوب انتہائی قابلِ قدر اور کافی علوم کا ذخیرہ ہے، لیکن موقع کی بات جو ہوتی ہے وہ بہت زیادہ اہم ہوتی ہے، ہر چیز کا اپنا ایک موقع ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے حضرت کے مکتوبات میں سے بھی ان مکتوبات کو ہم چن رہے ہیں جو رمضان شریف سے متعلق ہیں۔


پچھلی دفعہ مکتوب نمبر 45 جو دفتر اول ہی کا ہے، یہ شیخ فرید کے نام صادر فرمایا تھا۔ تو اس کی تشریح ان شاءاللہ کوشش کرتے ہیں۔


— — — گذشتہ درس سے پیوستہ — — —


اب ذرا تھوڑا سا میں عرض کروں کہ ابھی حضرت نے اس میں ابھی فرمایا کہ جو رمضان شریف میں اچھے اعمال کرتا ہے، پورے سال ان کے اعمال وہ چلتے ہیں پھر۔ اور اگر کوئی رمضان شریف میں پرواہ نہ کرے اس کا، تو پھر پورے اعمال اس طرح پراگندگی میں گزرتے ہیں پورا سال۔ یہ ابھی فرمایا نا؟ یہ بالکل یہی چیز ہے۔ رمضان شریف کے اندر اگر کوئی ماشاءاللہ کوئی اچھائی کا کام شروع کر لے، اور اس پر قائم رہے۔ مثلاً تہجد شروع کر لے، آسان ہے تہجد پڑھنا پھر مشکل نہیں ہے نا، قرآن پاک کی تلاوت شروع کر لے، ذکر شروع کر لے، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی شروع کر دے، دین کی دعوت دینا شروع کر لے، مطلب جو بھی ہے، جو اچھائی کا کام ہے، اگر وہ شروع کر لے، ان شاءاللہ پورے سال وہ چلتا رہے گا۔ ماشاءاللہ، تو ہمارے پاس پورا ایک نیکیاں کمانے کا season ہے۔

اچھا پھر دیکھیں اللہ پاک کا انتظام کیا ہے، اللہ پاک تو مختارِ کل ہے نا، تو جو بھی چاہتے ہیں وہ کر لیتے ہیں۔


فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ

تو اب دیکھیں انتظام کیسے فرمایا۔ انتظام ایسے فرمایا ہے کہ برائی کے دو بڑے sources ہیں۔ جو انسان کو برائی پہ مائل کرتے ہیں۔ ایک شیطان ہے اور دوسرا نفس ہے، نفسِ امارہ۔ اب اللہ پاک نے رمضان شریف میں شیطان کو قید کیا ہوتا ہے۔ سرکش شیاطین کو اللہ پاک قید فرما دیتے ہیں۔ اب جب قید ہو جاتے ہیں تو وہ تو نہیں کر سکتے کچھ۔ اور نفس کے اوپر پیر پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ نفس کے تین بڑے خواہشات ہیں۔ جو کہ نفس کسی حالت میں بھی sacrifice نہیں کرنا چاہتا۔ کھانا، پینا اور مباشرت۔ یہ تین بڑے خواہشات ہیں۔ تو اللہ پاک نے باقاعدہ اس کے لیے پورا نظام بنایا ہوا ہے اس کو ان تین خواہشات کو جائز طریقے سے پورا کرنے کے لیے پورا ایک نظام ہے۔ اس نظام کے مطابق 11 مہینے پوری اجازت ہوتی ہے اس کی۔ 11 مہینے پوری اجازت ہوتی ہے۔ اب 12واں مہینہ جو ہے نا اس کا، یہ کہ اس میں ان کو وقتی طور پر باقی 11 مہینوں کے اندر جو اس کے مفاسد ہو سکتے ہیں، اس کو control کرنے کے لیے روک دیتے ہیں۔ ایک محدود وقت میں، صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔ اب گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ جو روکنا ہے، تربیتاً ہے۔ یہ روکنا تربیتاً ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی اس پر عمل کر لے تو اس کی تربیت ہو جائے گی۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان تین چیزوں کو روک دوں اور باقی جتنی برائیاں اس کے لیے میں کھلے بندوں آزاد رہوں۔ کیوں؟ وہ تو ایک sense ہے نا انسان کو خود ہی چاہیے کہ ایک چیز ہے جو کہ وقتی طور پر روکا گیا ہے، ویسے حلال ہے۔ اور دوسری چیز by default حرام ہے، پہلے سے حرام ہے۔ جیسے شراب حرام ہے، جھوٹ حرام ہے، دھوکہ حرام ہے، غیبت حرام ہے۔ اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو ہر حالت میں حرام ہیں۔ تو رمضان شریف میں تو اس کا حرام ہونا زیادہ ہو جائے گا۔ کم تو نہیں ہو گا۔ تو اگر کوئی شخص اس sense کو اپنا لے، اور دیکھ لے کہ میں نے رمضان شریف میں ان چیزوں کو نہیں کرنا۔

یہاں تک protection دی گئی ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ لڑے۔ تو اس کے ساتھ نہ الجھے، بلکہ اتنا کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔ إِنِّي صَائِمٌ، کہ میں تو روزے دار ہوں۔ بس اپنے آپ کو ہٹا لے۔ اس میں زیادہ اس میں involve نہ ہو۔ تو اس کا یہ ہو گا کہ آپ کا وہ بھی، جو اس میں نقصان ہو سکتا ہے، اس سے بھی بچ جاؤ گے۔ تو رمضان شریف میں انسان کو گویا کہ اپنے آپ کو رمضان کے قلعے میں بند کرنا چاہیے۔ تو ان شاءاللہ جو برائیوں کی جو لت ہے جو ہمیں پڑ گئی ہے، ان چیزوں سے ہم ان شاءاللہ آسانی کے ساتھ نجات پا جائیں گے۔ پھر ہمیں باقی دنوں میں بہت آسانی کے ساتھ ان پر قابو پانے کی توفیق ہو جائے گی۔


البتہ ایک چیز کا میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں، بالکل رمضان شریف کے اخیر میں، عید کے موقع پہ، جب انسان relax ہوتا ہے، تو نفس کی جو دبی ہوئی چیزیں ہوتی ہیں نا، تو جس چیز کو آپ دباتے ہیں نا تو پھر وہ جب کھلتا ہے تو پھر ایک spring action ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ابتدائی جو تین دن ہوتے ہیں، وہ بہت زیادہ... تو اس میں آپ دو خوشیوں میں سے ایک خوشی حاصل کر لیں۔ ایک خوشی روحانی خوشی ہے، ایک جسمانی خوشی ہے۔ اگر آپ روحانی خوشی حاصل کرتے ہیں اور جسمانی خوشیوں میں ناجائز سے رکتے ہیں۔ جسمانی خوشی پہ پابندی نہیں ہے۔ مثلاً آپ اچھا کھانا کھا لیں، سبحان اللہ، بالکل ٹھیک ہے۔ آپ جائز تفریح کر لیں، اس پہ کوئی پابندی نہیں۔ آپ اچھے کپڑے پہن لیں، بہت اچھی بات ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ ملیں، بالکل، مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ بات ہے ناجائز خوشی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ تاکہ آپ کی روح متاثر نہ ہو، روح کو نقصان نہ ہو۔ آپ کی جسمانی خوشی at the cost of spiritual damage نہ ہو۔ بس یہ بات، اتنا ذہن میں اپنے رکھ لیں۔ تو پھر کیا ہو جائے گا؟ ماشاءاللہ پھر اس کے بعد پورا سال ہمارا ٹھیک چلے گا۔ پورا سال۔ تو یہ بہت اچھا موقع ہے ہمارے لیے کہ ہم اس رمضان شریف کے ان برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔


پھر اس میں دیکھیں نا، آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس میں سخاوت فرماتے تھے۔ یہ خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ مطلب اس میں جو کنجوسی ہے نا انسان کی، اس پہ ذرا تھوڑا سے ضرب پڑنی چاہیے۔ آدمی جو اپنے لیے ساری چیزیں جمع کرتا ہے، تو دوسروں کو دینا سیکھے۔ اس سے یہ ہو گا ان شاءاللہ العزیز وہ جو کنجوسی کی جو عادت ہے، یہ ٹوٹ جائے گی۔ ان شاءاللہ۔ اور اس میں، اللہ اکبر، سستی کی جو عادت ہے نا، سستی... حرص پر بھی تو اثر پڑ جاتا ہے نا کیونکہ وہ تو تین چیزوں کو روک دیا تو یہ تو حرص کو توڑنا ہے، اور سستی کو توڑنے کے لیے ریاضت ہے۔ تو ریاضت کیا ہے؟ رات کو تراویح میں کھڑا ہونا۔ یعنی انسان ہے، وہ کھانا کھا لیا اس نے، پورے دن بھوکا تھا۔ تو ظاہر ہے کھانا بھی ذرا تھوڑا سا بے اعتدالی کے ساتھ کھا لیتا ہے۔ ہے، انسان ہے کمزور ہے۔ اب انسان اچھا کھانا کھا چکا ہو تو اس کے بعد ایک natural tendency یہ ہوتی ہے کہ انسان ذرا لیٹ جائے۔ تھوڑا سا لیٹ جائے۔ ڈاکٹر صاحب اس میں alcohol بنتا ہے نا کھانے کھانے کے بعد؟ تو پھر... تو پھر انسان کے اوپر خمار آتا ہے اور آدمی کہتا ہے کہ میں ذرا لیٹ جاؤں۔ تو اب لیٹنے کا حکم نہیں ہے۔ عام دنوں میں 9 رکعتیں پڑھتے ہیں ہم عشاء کی، اس میں 29، کم از کم۔ اب 29 رکعات کے لیے۔ اور پھر بھی اس میں بھی ماشاءاللہ وہ زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو اس میں زیادہ قرآن سنتا ہے۔ اب یہ جو ریاضت ہے، یہ انسان کو جسمانی جفاکشی کی عادت ڈالنے کے لیے بہت بڑی سہولت ہے۔ جسمانی جفاکشی۔ یعنی انسان کی جو آرام کرنے کی tendency ہے، جو بے اعتدالی کے ساتھ ہوتی ہے، اس کو اعتدال پر لاتی ہے۔ ضرورت کے وقت پہ آرام ٹھیک ہے، لیکن کام کے وقت کام، اس وقت کوئی سستی نہیں ہونی چاہیے۔

کیوں، آپ لوگوں کو جو کاکول میں ٹریننگ دی جاتی ہے تو کیا ہمیشہ آپ کو اس طرح tight رکھا جاتا ہے پھر؟ یا صرف اس واسطے عادت دی جاتی ہے کہ جب آپ کی ضرورت پڑے تو سستی نہ ہو۔ یہی بات ہوتی ہے نا؟ وہ جو دو سال کی training ہے صرف اس چیز کے لیے ہے کہ آپ کو alert رہنے کی عادت پڑ جائے۔ اگر ضرورت ہو تو اس وقت آپ کو رات کو دو بجے بھی اگر call کیا جائے تو آپ یہ نہ کہیں کہ اس وقت تو میرا آرام کا وقت ہے۔ ایسے ہی ہے نا؟ اس وقت آپ بھاگ کے اپنے position پہ جانے کے لیے آپ تیار ہو۔ بس یہی روزے کا بھی sense ہے۔ کہ روزہ میں یہ جو ہم لوگوں کو ریاضت کروائی جاتی ہے تراویح کی، تو اس میں دو باتیں ہیں، ایک تو ہمارے جسم کے اوپر مشقت ڈال دی جاتی ہے، جس سے ہم لوگ مشقت کے خوگر ہو جاتے ہیں ایک بات۔ دوسری بات اس کا جو spiritual اثر ہے قرآن کا، سننے کا، جس سے دل بنتا ہے۔


کیونکہ دیکھیں:


أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

نماز قائم کرو اللہ کی یاد کے لیے۔ گویا نماز ذکر کے لیے ہے۔


إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں جو ذکر ہے وہ تو ایک عملی چیز ہے، وہ تو ہے۔ اور پھر فرمایا کہ قرآن جو ہے یہ بھی ذکر ہے۔


وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي

اس کا مفتی صاحب کیا کرتے ہیں تفسیر؟ کس چیز سے اعراض؟ قرآن سے۔ تو قرآن ذکر ہوا نا؟ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو ذکر ہے، یہ ذکر غفلت کو دور کرتا ہے۔ ذکر غفلت کو دور کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے نفس کے اندر جو آرام کا تقاضا ہے اس پہ ضرب لگائی کھڑے ہونے نے قیام، قیام اللیل کہا نا اس کو، قیام نے۔ اور ساتھ قرآن... قرآن نے غفلت کو دور کر لیا۔ تو یہ دونوں چیزیں جو ہے نا بہت بڑی contribution ہے اصلاح میں۔ ان جو دونوں چیزوں کا، کہ غفلت دور ہو جاؤ، یہ دل کی اصلاح ہے۔ اور جو مشقت کا خوگر انسان ہو جائے، یہ نفس کی اصلاح ہے۔ تو گویا کہ الحمدللہ رمضان شریف میں عقل، دل، نفس تینوں کی اصلاح کا پورا سامان موجود ہے۔

اور حضرت تھانوی رحمة الله عليه نے تو ماشاءاللہ، ایک وعظ میں، ماشاءاللہ بہت تفصیل کے ساتھ... روح الصیام، وعظ ہے اس میں اعتکاف کے بارے میں فرمایا کہ اعتکاف میں تو ماشاءاللہ جو تصوف کے چاروں مجاہدات ہیں، وہ شامل ہیں۔ جو اصلاح کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

تقلیلِ طعام، فرمایا کہ اوقات کھانے کے جو بدل جاتے ہیں، وہ اس کا قائم مقام ہے۔

اچھا تقلیلِ منام، یہ تراویح کے لیے جو ہم کھڑے ہوتے ہیں اور صبح جلدی اٹھتے ہیں سحری کے لیے، یہ تقلیلِ منام کے قائم مقام ہے۔

اور فرمایا کہ تقلیلِ کلام، وہ مطلب یہ ہے کہ فرمایا ہے نا کہ بلاوجہ باتوں میں نہ پڑو، اور ساتھ یہ کہ اعتکاف میں تو ماشاءاللہ لوگ تھوڑے ہوتے ہیں آپس میں باتیں بھی نہیں کرتے، لہٰذا وہ بھی ہو جاتا ہے۔

اور تقلیلِ اختلاط مع الانام، تو ظاہر ہے مسجد میں تو جو لوگ آئیں گے صرف ان سے ملاقات ہو سکتی ہے، باقی لوگوں سے تو ہو نہیں سکتی، تو تقلیلِ اختلاط مع الانام بھی ہو گیا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے چاروں جو مجاہدات ہیں اصلاح کے، وہ سارے کے سارے اس میں شامل ہیں۔ بہت آسانی کے ساتھ، ان شاءاللہ ہمارے اصلاح کے جو ذرائع ہیں وہ رمضان شریف کے اندر موجود ہیں تو حضرت نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔


فرمایا

اور اس ماہ مبارک کی ہر رات میں کئی ہزار دوزخ کے مستحق آدمیوں کو آزادی ملتی ہے اور اس مہینے میں بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

یعنی جہاں جہاں سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے، وہ دروازہ کھول دیا، اور جہاں جہاں سے نقصان ہو سکتا ہے وہ دروازہ بند کر دیا۔ اب مزہ ہے۔ دیکھو کتنا اللہ کا... اب اگر اس facility سے کوئی فائدہ نہ اٹھائے۔ اور کہہ دے میں دوسرے دنوں میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ تو کتنی بڑی غلط فہمی ہے۔ اب ہر وقت شیطان موجود ہے۔ شیطان نقصان پہنچاتا ہے۔ تو اب ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس وقت مجھے اس کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ ہر وقت، ہر آن مقابلہ ہے۔ لیکن رمضان شریف میں شیطان سے فراغت ہو جاتی ہے۔ صرف نفس کی بات ہے۔ تو جو نفس کی اصلاح ہے اس کے لیے بھی اللہ پاک نے نظام بنایا ہوا ہے، تو اس نظام کے مطابق ہم چلیں تو ان شاءاللہ اس میں فائدہ ہوگا۔


اور افطار میں جلدی کرنا اور سحری کھانے میں تاخیر کرنا سنت ہے۔

یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہ میں کوئی جوگ پر عمل نہیں کر رہا، کیونکہ نفس کے اوپر مشقت ڈالنا برائے مشقت جو ہے یہ جوگ ہے۔ مطلب یہ جو جوگی کرتے ہیں نا، کئی کئی دن کھانے نہیں کھاتے، اور سوتے نہیں ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا... وہ یہ چیز نہیں ہے۔ یہ اللہ کے حکم کے مطابق ہے۔ اب اللہ کے حکم کے مطابق آپ نے بند کر دیا، اب اللہ کا حکم ہو گیا کہ کھول لو تو پھر فوراً کھول لو۔ پھر اس میں یہ نہ دیکھو کہ اوہو، اس میں زیادہ فائدہ ہو جائے گا۔ بھئی دیکھیں ہمارا روزہ اگر 4 بج کر 25 منٹ پہ شروع ہو گا انشاءاللہ روزہ ہمارا اور پورا ہو گا 6 بج کر 35 منٹ۔ اب اگر میں کہوں کہ رات کو 2 بجے میں شروع کر لیتا ہوں۔ رات کو 2 بجے میں شروع کر لیتا ہوں اور سات بجے افطار کر لوں۔ تو duration تو زیادہ ہو گیا نا۔ Duration تو زیادہ ہو گیا، لیکن روزہ نہیں ہوا۔ روزہ نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ نے اللہ کا حکم توڑا ہے۔ اللہ کے حکم کے مطابق نہیں کیا تو آپ کو وہ فائدہ نہیں ہوا۔ اور اگر آپ اس طرح کر لیں کہ اس کو مثال کے طور پر ٹھیک ہے جی، آپ دو بجے آپ شروع کر لیں لیکن وقت پر توڑ لیں، تو روزہ ہو گیا لیکن ثواب میں کمی ہے۔ کیوں کمی ہے؟ کہ اللہ کے حکم میں کمزوری ہے۔ آپ نے دو بجے سمجھا ہے اس کو، آپ اس کو اخیر تک لے آؤ۔ بے شک ایک گھونٹ پانی پی لو۔ جتنی تاخیر، مطلب جائز تاخیر... جائز تاخیر... جتنی جائز تاخیر ہو سکتی ہے اس کے ساتھ جب آپ اس کو شروع کرتے ہیں۔ اور جتنی جائز جلدی ہو سکتی ہے۔ جائز جلدی سے مراد یہ کہ جب سورج ڈوبنے کا یقین ہو جائے۔ شک پہ نہیں توڑ سکتے آپ۔ جب یقین ہو جائے تو اس کے بعد پھر مزید دیر نہ کریں۔ پھر آپ جلدی کر لیں، تو یہ چونکہ اللہ پاک کا حکم اس میں پورا ہوتا ہے لہٰذا آپ کو زیادہ ثواب ملے گا۔


اور اس بارے میں آنسرور علیہ الصلوۃ و السلام مبالغہ (یعنی بہت تاکید) فرماتے تھے۔ اور شاید سحری کھانے میں تاخیر اور افطار میں جلدی کرنے میں اپنے عاجز و محتاج ہونے کا اظہار ہے جو کہ بندگی کے مقام کے مناسب ہے۔ اور کھجور یا چھوہارے سے افطار کرنا سنت ہے۔ اور آنحضرت ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:


ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

(پیاس دور ہو گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اجر ثابت ہو گیا، ان شاءاللہ تعالیٰ)


اس ماہ مبارک میں نماز تراویح کا ادا کرنا اور (نماز تراویح میں) قرآن مجید کا ختم کرنا سنت موکدہ ہے اور اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں وَفَّقَنَا اللّٰہُ سُبْحَانَہُ بِحُرْمَۃِ حَبِیْبِہٖ عَلَیْہٖ وَ عَلیٰ آلِہٖ الصَّلَوَاتُ وَ التَّسْلِیْمَاتُ وَ التَّحِیَّاتُ (اللہ سبحانہ اپنے حبیب علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات و التحیات کے طفیل ہم کو ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے)۔

باقی آپ کو یہ تکلیف دی جاتی ہے کہ آپ کا عنایت نامہ عین ماہ رمضان المبارک میں پہنچا ورنہ حکم بجا لانے میں اپنے آپ کو معاف نہ رکھتا، ماہ مبارک مذکور کے بعد کی بابت بات کرنا غیب کے متعلق حکم کرنا ہے اور (دنیا میں زندہ رہنے کی) بڑی لمبی امید کی خبر دینے والا بننا ہے (جو کہ مذموم ہے)۔ غرض کہ جس طرح آپ کی مرضی ہو گی اس میں (یہ فقیر) کسی طرح بھی اپنے آپ کو معاف نہ رکھے گا کیونکہ آپ کے ظاہری و باطنی حقوق ہم فقراء کے ذمہ ثابت و لازم ہیں۔ حضرت قبلہ گاہی (ہمارے پیر و مرشد) قدس اللہ تعالیٰ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ شیخ جیو کے حقوق تم سب پر ثابت و مقرر ہیں (کیونکہ) اس جمعیت کا باعث آپ ہی ہیں۔ حق سبحانہ و تعالیٰ آپ کو اپنے حبیب پاک علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات اور آپ کی آل اطہار کے طفیل ہمیشہ پسندیدہ اعمال کی توفیقِ رفیق بخشے۔ اس سے زیادہ لکھنا آپ کو تکلیف دینا ہے۔


یہ دیکھیں نا، اب یہاں پر بھی سبحان اللہ! آپ ﷺ کے فوراً بعد آپ ﷺ کی آلِ اطہار کا طفیل فرمایا۔ اس کو ہمیں note کرنا چاہیے۔ حضرت نے پورے اپنے مکتوبات میں اس چیز کی بہت اہتمام فرمایا ہے۔ حضرت نے پوری زندگی جو صحابہ کی مخالفت کرنے والے ہیں نا ان کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ پوری زندگی ان کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ اب ان کے خلاف جنگ لڑنے کا ایک side effect ہو سکتا تھا۔ اور وہ یہ کہ جو وہ لوگ کہتے ہیں، ان کی ضد میں بعض لوگ آ جاتے ہیں۔ مثلاً وہ چونکہ اہلِ بیت کی بات کرتے ہیں، تو لوگ اہلِ بیت کی طرف ذرا ان کا معاملہ کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ناسمجھی کی وجہ سے اور اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ورنہ جس کی اصلاح ہو چکی ہوتی ہے، وہ کسی طریقے سے بھی کسی چیز کی اصلیت کو تبدیل نہیں کرتے۔ ذرا دیکھیں آپ درود شریف، درود ابراہیمی میں کیا ہے؟ اٰلِ محمد ہے یا نہیں؟ اور ہمارے پاس ابھی چہل حدیث شریف جو ہمارے حضرات نے وہ کیا ہے، اس میں 25 درود ہیں اور 15 سلام ہیں۔ 25 میں کتنے میں آل والا ہے؟ 22 میں۔ تو اس سے پتہ چلا نا کہ اس کا کوئی وزن ہے نا۔ تو ہمیں ان چیزوں کو note کرنا چاہیے۔ ہم لوگ ویسے ہی گزر جاتے ہیں۔

ہمارے شیخ رحمة الله عليه ایک دفعہ فرمایا کرتے تھے، ہماری مثال ان بطخ کے بچوں کی طرح ہے، کہ جیسے وہ غوطہ کھاتے ہیں نا پانی میں، تو باہر آتے ہیں تو بالکل خشک ہی خشک۔ ان کے اوپر پانی لگتا ہی نہیں ہے۔ تو ہم لوگ اتنی بڑی بڑی چیزوں کو دیکھتے ہیں، اور اس سے ذرہ بھر بھی اثر نہیں لیتے۔ فرمایا التحیات جو ہے، یہ کیا چیز ہے؟ کبھی التحیات پہ سوچا ہے کہ التحیات کیا چیز ہے؟ لیکن ظاہر ہے ہمارے اوپر اس کا اثر ہی نہیں ہوتا کہ کتنی بڑی چیز سے ہم گزر کے آگئے۔ یا اللہ اکبر تکبیرِ تحریمہ جب ہم کہتے ہیں وہ کیا چیز ہے؟ لیکن ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہمیں کہ کیا، کتنی بڑی چیز سے ہم ہو کے آئے ہیں۔ بلکہ حضرت فرماتے ہیں کہ دیکھو اگر تمہارے پاس کوئی بیٹھا ہو، اور آپ کو اچانک کہہ دے السلام علیکم، تو آپ کہیں گے بھئی کیا ہو گیا آپ کو؟ مسئلہ کیا ہے، کدھر تھے آپ؟ اور یہ ہمارے روزمرہ کی بات ہوتی ہے کہ جو ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، تو نماز ختم کس طرح کرتے ہیں؟ السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس کو کوئی بھی نہیں کہتا کہ بھئی کیوں کرتے ہو؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ ادھر تھے ہی نہیں۔ وہ تو اللہ کے پاس تھے۔ نماز میں انسان اللہ کے پاس ہوتا ہے۔ تو جو اللہ کے پاس ہے اور ابھی آپ کے پاس آ گیا، تو اس نے سلام تو کرنا تھا نا۔ تو اصل بات، یہی بات ہے کہ ہم لوگ note نہیں کرتے۔ ورنہ یہ چیزیں سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو بہترین سمجھ عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔