نیکی کا اصل تصور اور ایمان و اعمال کی حقیقت

اشاعت اول، 7 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•         تفسیر میں شانِ نزول کی اہمیت۔

•         تحویلِ قبلہ اور اہل کتاب کے اعتراضات۔

•         ظاہری سمت پر ایمان کی فوقیت۔

•         بنیادی ارکانِ ایمان کا بیان۔

•         اللہ کی محبت میں مال خرچ کرنا۔

•         نماز، زکوٰۃ اور ایفائے عہد کی اہمیت۔

•         مشکل حالات میں صبر و استقامت۔

•         سچے اور متقی انسان کا قرآنی معیار۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِی الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِی الْبَأْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ﴿177﴾

نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں، نیز جنگ کے وقت، صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں ﴿177﴾

اصل میں قبلہ کی تبدیلی جب ہوئی تھی، تو اہل کتاب کی طرف سے یہ بحث و مباحثہ شروع ہو چکا تھا کہ

دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہو چکی ہے۔ اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے، اور اہل کتاب سے بھی یہ کہنا چاہئے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو، اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں۔ اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں، اور اسلامی قانون کے مختلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کر کے آگے آ رہے ہیں۔

شانِ نزول جو ہوتا ہے یہ اصل میں بہت اہم ہوتا ہے قرآن پاک کی تفسیر کے لحاظ سے۔ کیونکہ بعض دفعہ اگر شانِ نزول معلوم نہیں ہے تو پھر بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا اور اس کی درجہ بندی میں، تمام چیزوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ تو اب یہاں پر قبلے کی بات ہو رہی ہے اور قبلے کی بات سے فوراً ایمان کی بات ہو گئی اور کچھ خصوصی اعمال کی بات ہو گئی۔

تو اس میں گویا کہ اول تو مسلمانوں کو بھی یاد دلایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا، تو اس کا قبلے کی طرف رخ کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے... صحیح قبلے... یعنی ظاہر ہے وہ تو ایک عمل ہے۔ تو عمل کا درجہ تو ایمان کے بعد ہے۔ ایمان جب کوئی لائے گا تو عمل کا حساب شروع ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے سب سے پہلے تو ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ تو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے تو باقی باتیں وہ تو بعد کی باتیں ہیں... مطلب اس کا تو اس سے زیادہ آگے کی بات نہیں ہے۔

تو پہلے ایمان کی بات کی۔ ظاہر ہے ایمانیات اس میں آتے ہیں نا کہ اللہ پر، آخرت پر، فرشتوں پر، اللہ کی کتاب اور نبیوں پر یہ ایمان لانا۔ تو اب ظاہر ہے نبیوں میں آپ ﷺ جب آئے تو اگر کسی نے ان کی نبوت کو نہیں مانا تو بس اس نے پھر کچھ بھی نہیں مانا۔ اس طرح کتابوں میں قرآن۔ اگر قرآن پر ایمان نہیں لایا تو بس وہ کچھ بھی نہیں رہا اس کے پاس۔ تو سب سے پہلے تو اس چیز کو ٹھیک کر لیں۔

پھر اس کے بعد کچھ اور باتیں ہیں جو بہت اہم ہیں۔ جیسے اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، غریبوں، مسافروں، سائلوں کو دینا، غلاموں کو آزاد کرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، جب کوئی عہد لے تو اپنے عہد کو پورا کرنا، اور تنگی اور تکلیف میں اور نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہو... یہ تمام لوگ جو ہیں نا اصل میں اپنے ایمان کی عملی گواہی دے رہے ہیں۔ مطلب ایمان ایک لفظ نہیں ہے، ایک وہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے پورا ایک نظام ہے۔ تو وہ نظام کی بات ہو رہی ہے کہ وہ کیا چیز ہے۔

تو دیکھیں اس میں کس حد تک اہم باتیں ہیں کہ اللہ پاک کی محبت... اس میں پھر اپنا سارا کچھ لٹانا اور جو اللہ پاک کا حکم ہو اس کو پورا کرنا اور اگر اس میں کوئی مشکل آ جائے تو اس پر صبر کرنا، یہ ساری باتیں ان کے ساتھ ضروری ہیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت کے تمام قوانین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


نیکی کا اصل تصور اور ایمان و اعمال کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور