تو ابھی ابتدا کر لیتے ہیں۔ کیونکہ اشراق میں ابھی چند منٹ ہی باقی ہیں۔ لیکن آج بات تقریباً اسی پر ہی ہوئی ہے، عقائد پر ہی ہوئی ہے۔ البتہ یہ ہے کہ جگہ ذرا دوسری لی ہے، تو ابھی بہشتی زیور دے دیں، تاکہ ابتدا کر لیں۔
یہ بہشتی زیور بہت اچھی کتاب ہے۔ اصل میں یہ لکھی گئی تو عورتوں کے لیے ہے لیکن مرد اس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔
عقیدوں کا بیان
عقیدہ پہلا نمبر۔
تمام عالم پہلے بالکل ناپید تھا، پھر اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہوا۔ یعنی کچھ بھی نہیں تھا، پھر اللہ پاک نے یہ سارا کچھ پیدا کر دیا۔ کیسے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے۔ ہم صرف جزئیات جان سکتے ہیں، اور وہ بھی یقینی طور پر نہیں۔ جزئیات ہو سکتے ہیں یقینی طور پر نہیں۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اللہ پاک نے پیدا فرما دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے فرماتے ہیں نا کہ عدم سے وجود میں آیا۔ تو عدم اس کو کہتے ہیں جہاں کچھ بھی نہ ہو۔ اور موجود اس کو کہتے ہیں جو آجائے جو موجود ہو جائے۔ تو خیر اس کی تو بڑی تفصیلات ہیں اس وقت تو میں اس پر بات نہیں کر سکتا لیکن بہرحال یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے اس کو عدم سے وجود بخشا اور یہ پھر سامنے آیا۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا کہ یہ چیز موجود ہے، البتہ اللہ پاک کی منشا کے مطابق۔
عقیدہ نمبر دو۔
اللہ ایک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا، نہ اس کی کوئی بیوی ہے، نہ کوئی اس کا مقابل کا نہیں۔
گویا یہ سورہ اخلاص کا ترجمہ ہے۔ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، اللهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔ ایک دفعہ میں گاڑی جا رہا تھا تو میرے ساتھ ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا تو اس نے اپنا تعارف کیا کہ میں سکھ ہوں۔ تو گپ شپ لگا رہے تھے آپس میں، پھر اس نے اپنی گرمکھی زبان میں کچھ پڑھا۔ مجھے پتہ چلا کہ... میں نے کہا کیا پڑھا؟ میں نے کہا یہ تو آپ کو پتہ ہوگا، میں تو یہ زبان نہیں جانتا۔ کہتا ہے یہ سورہ اخلاص ہے۔ پھر اس نے اس کا ترجمہ بتایا تو واقعی سورہ اخلاص کا ترجمہ تھا۔ کہتا ہے ہمارے گرو نانک بابا نے یہ اشلوک ہمیں بتایا، تو یہ سورہ اخلاص۔ تو سورہ اخلاص میں یہی ہے، اللہ ایک ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، اللهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۔
نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، اس کا کوئی ہمسر اور مقابل نہیں ہے۔
یہ کوئی بیوی اس لیے ساتھ فرمایا کہ عیسائیوں کا عقیدہ کیا ہے؟ مریم علیہا السلام۔ وہ خدا کی بیٹا، اس کو کہتے ہیں نا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو۔ تو ہم کہتے ہیں کہ نہیں پیغمبر تھے، بڑے اونچے درجے کے اولوالعزم پیغمبر تھے، لیکن خدا کا کوئی بیٹا نہیں۔ نہ کوئی بیٹی ہے، نہ کوئی بیوی ہے۔
وہ ازل سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
یہ دونوں باتیں انسان نہیں اس کو جان سکتا۔
کوئی چیز اس کے مثل نہیں، وہ سب سے نرالا ہے۔ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ۔ اس کی طرح کوئی چیز نہیں ہے۔
یعنی ہم کسی چیز سے بھی اللہ پاک کی مثال نہیں دے سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی ذات وراء الوریٰ ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں۔ مخلوق اپنے خالق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ Domain مختلف ہے۔ خالق کا Domain الگ ہے، مخلوق کا Domain الگ ہے۔ تو اس وجہ سے وہاں تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔
عقیدہ(5):
وہ زندہ ہے ، ہر چیز پر اس کو قدرت ہے، کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں، وہ سب کچھ دیکھتا ہے، سنتا ہے، وہ جو چاہے کرتا ہے، کلام فرماتا ہے۔
لیکن اس کا کلام ہم لوگوں کے کلام کی طرح نہیں۔ یہ وہی ہے صفاتِ ثبوتیہ والا مراقبہ جس کو ہم بتاتے ہیں، نقشبندی سلسلے کا کہ صفات جو انسانوں کے ہیں اس کے ذریعے سے ہم اللہ پاک کی صفات کا گویا کہ احساس کرتے ہیں، احساس کرتے ہیں۔ کیسے؟ اگر مجھے دیکھنے کا پتہ نہ ہوتا کہ دیکھنا کیا چیز ہے، تو میں کیسے سمجھتا کہ اللہ پاک دیکھتا ہے؟ سمجھ میں آیا نا؟ تو اللہ دیکھتا ہے لیکن میں اس کو احساس کرتا ہوں اپنے دیکھنے سے کہ چونکہ میں دیکھتا ہوں، تو اللہ بھی دیکھتا ہے لیکن میرا دیکھنا اور اللہ کا دیکھنا ایک جیسا نہیں ہے۔ اللہ کا دیکھنا مکمل ہے، میرا دیکھنا نامکمل ہے۔ دیکھو اِس دیوار کے پیچھے میں نہیں دیکھ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں ساری چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ کوئی چیز اس کی نظر سے مخفی نہیں۔ چاہے وہ اندھیرے میں ہے چاہے دھوپ میں ہے۔ ہر وقت ہر چیز اس کے سامنے ہے۔ اس کی نظر سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔
وہ ایک دفعہ ایک بزرگ تھے، اس نے اپنے مریدوں کا امتحان لینا چاہا۔ تو ہر ایک کو ایک مرغ دے دیا، کہ جاؤ کسی ایسی جگہ ذبح کر لو جہاں کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ تو تھوڑی دیر کے بعد جو مریدین آ گئے تو انہوں نے مرغ کو ذبح کیا ہوا تھا، اپنی اپنی جگہ پر تنہائیوں میں۔ وہ ایک مرید تھا ذرا تھوڑا سا، وہ معصوم سا، وہ آیا اور زندہ مرغ پکڑا ہوا ہے اور اس طرح ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ تو اس نے غصے سے کہا کہ میں نے جب تجھے کہا تھا کہ مرغ ذبح کرنا ہے تو تو نے کیوں ذبح نہیں کیا؟ انہوں نے کہا آپ نے کچھ اور بات بھی کہی تھی۔ انہوں نے کہا کیا؟ کہ جہاں کوئی دیکھتا نہیں۔ کہتا ہے ہاں نا، کہتے ہیں پھر ہر جگہ اللہ دیکھتا ہے۔ تو میں کیسے اس کو ذبح کرتا؟ تو حضرت نے ان کو ایک طرف کیا، باقیوں کو فرمایا جاؤ تم رخصت ہو، تم اس جگہ کے قابل نہیں ہو، یہی قابل ہے۔ اس جگہ کا یہی قابل ہے۔ کیونکہ اس کا یہ مراقبہ پکا ہو گیا ہے کہ اللہ دیکھتا ہے، اللہ دیکھتا ہے۔
ہمارے سید منیر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے، بہت ماشاءاللہ پیاری شخصیت تھی۔ ڈائریکٹر جنرل تھے ٹی آئی پی کے۔ لیکن بہت ماشاءاللہ سادہ مزاج۔ تو ان کی جو خانقاہ تھی، وہ بالکل خانقاہ مٹی کی خانقاہ تھی۔ مسجد بھی مٹی کا بنا ہوا تھا۔ تو وہاں وضو خانہ جو ہوتا تھا تو اس کے اوپر... "دیکھو اللہ دیکھ رہا ہے"، لکھا ہوا تھا اس طرح موٹا موٹا۔ "دیکھو اللہ دیکھ رہا ہے"۔ کس جگہ لکھا ہوا تھا؟ بھئی جو کرنا ہے ابھی کر لو، بعد کا کیا پتا؟ جو کرنا ہے ابھی کر لو، بعد کا کیا پتا؟ تو اس طرح چھوٹے چھوٹے فقرے انہوں نے لکھے ہوتے تھے لیکن وہ Inspiring ہوتے تھے۔ یعنی اس سے انسان کو پتا چلتا کہ مجھے کچھ کرنا ہے۔ تو یہ والی بات ہے کہ اللہ دیکھتا ہے، اللہ سنتا ہے۔ دیکھو بہت سارے لوگ ظالم اپنی زبان سے کہتے ہیں اللہ نہیں سنتا۔ یعنی میں دعا کر رہا ہوں میری نہیں سنتا۔ خدا کے بندے اللہ سنتا ہے تم اپنی زبان تو ٹھیک کرو نا، تم اپنا عقیدہ درست کر لو، تم اپنی زبان درست کر لو، تم اپنا خیال درست کر لو، پھر پتہ چلے گا کہ اللہ سنتا ہے۔ تو یہ اس قسم کی باتیں کر لیتے ہیں لوگ۔ اللہ پاک بس ایسی چیزوں سے بچائے۔ تو اللہ سنتا ہے۔ سب کی سنتا ہے۔
وہ ایک دفعہ محمود غزنوی، وہ بار بار اس کی نیند کھل رہی ہے، بار بار اس کی نیند کھل رہی ہے، اور یہ حیران تھا کہ اب میں کیا کروں مطلب ڈر اور خوف ہے کہ پتا نہیں کچھ ایسی بات ہو رہی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔ تو دیکھا کہ وہاں مسجد میں ایک ہندو ہے، وہ بیٹھا ہوا ہے زار و قطار رو رہا ہے۔ کہ محمود کیسے سو رہا ہے؟ محمود کیسے سو رہا ہے؟ میرے ساتھ یہ ہو رہا ہے اور محمود کیسے سو رہا ہے؟ تو اس نے جا کر وہ جو آ گیا، اس نے جب دیکھا انہوں نے کہا بھئی کیا بات ہے، مسئلہ کیا ہے؟ تو اس نے کہا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا مجھے چھوڑو، بتاؤ محمود کو کیا کہنا ہے؟ تو اس نے یہ کہا کہ میری بیوی کے ساتھ فلاں جرنیل لگا ہوا ہے اور میں اگر ادھر جاتا ہوں تو مجھے مار دے گا، تو میں کیا کروں؟ یہی بات ہے۔ انہوں نے کہا اچھا۔ بس، اس نے قسم کھا لی کہ جب تک میں اس کو ماروں گا نہیں اس وقت تک میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔ پھر جا کر اس کو مار دیا۔ پھر اس نے اپنا روزہ افطار کر لیا۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو اللہ سنتا ہے۔ کس کا سنا؟ مطلب یہ تو اصل میں ہم لوگ ایسے اگر ہو جائیں، اللہ پاک پر ہمارا بھروسہ ایسا ہو، تو اللہ تعالیٰ تو ہر وقت سنتا ہے۔ خیر یہ تو درمیان کی بات آگئی۔
تو کلام فرماتا ہے،
لیکن اس کا کلام ہمارے کلام کی طرح نہیں۔
جو چاہے کرتا ہے، کوئی اس کی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ وہی پوجنے کے قابل ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں۔
تو میرے خیال میں وقت پورا ہو گیا ہے اشراق کا۔ پھر اشراق پڑھ لیتے ہیں۔