اسلام میں جنگ و صلح کے اصول اور جہاد کی حقیقت

درس نمبر 67- حدیث نمبر 53- (اشاعتِ اول)، 11 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        دشمن سے جنگ کی تمنا کرنے کی ممانعت اور عافیت کی دعا۔

•        جنگ ناگزیر ہونے کی صورت میں صبر، استقامت اور ثابت قدمی کا حکم۔

•        اسلام کے خلاف خون ریزی اور غارت گری کے Propaganda کی مدلل تردید۔

•        صلح کی اہمیت اور قرآنی احکامات کے مطابق دشمن کی پیشکش پر مثبت ردعمل۔

•        جنگ کے دوران ظاہری اسباب اور ہتھیاروں کے بجائے اللہ کی ذات پر کامل توکل۔

•        "جنت تلواروں کے سائے تلے ہے" کے فرمانِ نبوی ﷺ کا حقیقی مفہوم۔

•        جہاد اور صلح میں نفسانی خواہشات کے بجائے خالصۃً اللہ کے حکم کی پیروی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

جنگ کرنے کی تمنا مضر ہے

(53) ﴿وَ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ، حَتّٰی إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَ مُجْرِيَ السَّحَابِ، وَ هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾ وَ بِاللهِ التَّوْفِيقُ۔

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ دشمن کے مقابلہ میں تھے، سورج کے ڈھلنے کا انتظار فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے سلامتی کا سوال کرو پس جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرو اور (اچھی طرح جان لو) کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے ان کو شکست دے اور ان پر ہمیں غالب فرما۔“

یعنی دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔

ایک طرف تو شریعت نے مسلمانوں کو ہمہ وقت جہاد کے لئے مستعد رہنے کی تاکید فرمائی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ تاکید بھی کی جارہی ہے کہ خواہ مخواہ لڑائی مول نہیں لینی چاہیے۔ ہاں اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو اللہ جل شانہ پر اعتماد کر کے انتہائی پامردی کے ساتھ دشمنوں سے مرتے دم تک لڑنا چاہیے یہاں تک کہ شہید ہو کر جنت پہنچ جائے یا غازی بن کر زندہ رہے۔ نیز اس خطبہ سے اس پروپیگینڈہ کی بھی تردید ہو رہی ہے جو دشمنانِ اسلام کرتے ہیں کہ اسلام تو صرف خونریزی اور غارتگری کی تعلیم دیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف تو اسلام نے یہ کہا کہ خواہ مخواہ لڑائی نہیں کرنا چاہیے، اس کے بعد بھی صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ﴿وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ ”اے نبی اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ پھر وہ دشمن نہ مانے تو اب پھر لڑائی ہے۔“ (حوالہ: سورۃ الانفال، آیت 61)

فَإِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوْا:

اللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ اے اللہ کتاب کے نازل کرنے والے۔

یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب جنگ ہو تو سارا اعتماد اپنے ہتھیاروں، مادی ساز و سامان اور اپنی قوت و طاقت پر نہ ہو بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ ہو اور دعاؤں میں مشغول رہیں اور یقین رکھنا چاہیے کہ فتح و نصرت اللہ کے پاس ہے۔ ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ﴾ جیسے کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (حوالہ: سورۃ الانفال، آیت 45)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم کو کسی جماعت سے جہاد میں مقابلہ کا اتفاق ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کا خوب کثرت سے ذکر کرو۔

تخریج حدیث: رواه البخاري في الجهاد (باب الجنة تحت بارقة السيوف) و (باب لا تتمنوا لقاء العدو) رواه مسلم في الجهاد (باب كراهة تمنى لقاء العدو والإمر بالصبر عند اللقاء) و اخرجه امام احمد في مسنده 19136/7 والحاكم 3413/2، ابوداؤد ايضاً۔

تو اس میں گویا کہ یہ اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نہ تو دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تمنا کرنی چاہیے۔ اگر اللہ پاک صلح کے ذریعے سے فائدہ پہنچانا چاہے، تو پھر صلح کرنا چاہیے۔ اور اگر جنگ کے حالات پیدا ہو جائیں، تو پھر ثابت قدمی کے ساتھ لڑنا چاہیے۔ یعنی گویا کہ اپنے نفس کے لیے نہ لڑنا چاہیے، نہ اپنے نفس کے لیے صلح کرنا چاہیے۔ جس وقت بھی اللہ پاک کا جو امر ہو، اس پر عمل کرنا چاہیے۔

اور یہ بھی فرمایا کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ یعنی اگر مقابلہ آ جائے تو پھر اس وقت آگے پیچھے نہیں ہونا چاہیے اس سے، بلکہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے سے مراد کہ جو یعنی اس جنگ میں اپنی طاقت کو استعمال کرے گا، اپنے طریقے کو استعمال کرے گا، تو اس کو الحمد للہ آخرت میں جنت ملے گی۔ تو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو دونوں طرف کی باتوں کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔



اسلام میں جنگ و صلح کے اصول اور جہاد کی حقیقت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور