الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے، منگل کے دن ہمارے ہاں، یعنی خانقاہ میں، مثنوی مولانا روم کا درس ہوا کرتا ہے اور اس وقت، اس وقت ہم انگلینڈ کے شہر Birmingham میں ہیں، تو وہاں سے یہ درس ان شاء اللہ نشر کیا جا رہا ہے۔
37
قول ہیں آپس میں ایک دوسرے کے ضد اگرکیسے پھر ہو ایک دیکھ زہر و شکر
یعنی اس وزیر نے ہر ایک کو مختلف راہ بتائی۔ ہر ایک کو ایک مختلف قول بتایا کہ ایسا ہے۔ ایک دوسرے کے ضد تھے۔ تو ظاہر ہے پھر تو آپس میں اکٹھے نہیں ہو سکتے، جیسے زہر اور شکر آپس میں مل نہیں سکتے، اس طرح ان کے اقوال آپس میں مل نہیں سکتے۔ اصل میں اس کی ترتیب بھی یہی تھی کہ آپس میں لڑ پڑیں۔ تو اس وجہ سے انہوں نے بارہ کے بارہ امیروں کو ایسے اقوال بتائے جو ایک دوسرے کو ضد تھے۔
یعنی ہر قول ان دفتروں میں ایک دوسرے کے خلاف تھا، حتیٰ کہ یہ قول اول سے آخر تک ضد تھا۔ تو پھر زہر اور شکر جو بلحاظِ صورت اور اثر کے مختلف ہوتے ہیں، ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟
40
مختلف سب کے معنی اور صُوَرروز و شب یا خار و گل، سنگ و گہر
یعنی ان سب کے معانی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، صورتیں بھی مختلف تھیں۔ جیسے کہ روز اور شب کو لے لو، دن اور رات کو لے لو، اور خار و گل کو لے لو، یعنی کانٹے اور پھول کو لے لو، سنگ و گہر کو لے لو، پتھر اور موتی کو لے لو۔ جیسے یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس طرح یہ سب آپس میں مختلف تھے۔
41
اختلافات سے گزر وحدت کو پایہ نہ ہو خوشبؤِ وحدت پھر کہاں
یعنی مخاطب، ان اختلافات سے گزر کر وحدت کو پا لو۔ یعنی کثرت سے وحدت کی طرف چلو، یہ مختلف چیزیں جو ہیں اس کو چھوڑ کر، ایک چیز کے پیچھے چلو اور وہ کیا ہے؟ وحدت ہے۔ یعنی اللہ پاک کے سب کچھ ہونے کا یقین۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وحدت کی خوشبو کہاں ملے گی؟
یعنی اوپر وزیر کے متضاد و متخالف مضامین کے ذکر میں ضمنًا امتیاز و اتحاد کا ذکر آ گیا تھا۔ اس لیے بوجہ مناسبت مولانا کا ذہن فورًا اپنے پسندیدہ موضوع توحید کی طرف منتقل ہو گیا جیسے کہ آپ بوجہ غلبۂ مذاق اکثر اثنائے بیان میں ذکر چھیڑتے رہتے ہیں۔
42
وحدت اندر وحدت ہے یہ مثنویبحر کے آسمان تلک سیر معنوی
مطلب یہ جو وحدت ہے، وہ اصل میں اس کے اندر جو وحدت ہے، اصل میں یہ چیز مثنوی بتا رہا ہے۔ کہ وہ وحدت جو کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاتا ہے۔ یعنی جو آسمان ہے، یعنی
یہ مثنوی اسرارِ وحدت سے بھرپور ہے۔ اے طالبِ معنٰی (اس کے ذریعہ سے) زیرِ زمین سے بالائے فلک تک کی سیر کر لے۔
یعنی زیرِ زمین جو ہے نا جو کچھ ہے، اس سے آپ کو ایک ہی بات آپ کو ملے گی کہ یہ چیزیں بھی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ چیزیں جو اوپر ہیں وہ بھی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ یعنی اس سے آپ کو ایک ہی رستہ ملے گا، یہ مراد ہے اس سے۔
وحدت اندر وحدت ہے یہ مثنویبحر کے آسمان تلک سیر معنوی
دفتر اول - حکایت 24
اس امر کا بیان کہ چلنے کی صورت میں اختلاف ہے، نہ کہ راہ کی حقیقت میں
(مطلب اس عنوان کا یہ ہے کہ اہلِ حق کے طرزِ عمل اور طریقِ روش میں اختلاف ہوتا ہے۔ مقصد سب کا ایک ہے اس میں اختلاف نہیں۔)
جیسے کہ سلاسل ہیں۔ ان سلاسل میں مقصد میں اختلاف نہیں ہے لیکن طریقے میں اختلاف ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ چونکہ اس نے ہر ایک چیز کا مقصد ہی مختلف بتایا تھا، اس وجہ سے فرق تھا۔ تو یہ جو ہمارا طریقہ ہے اس میں نہیں ہے، تو اختلاف طریقے میں ہو سکتا ہے لیکن مقصد میں اختلاف نہیں ہوتا۔
1
دینی پستی کے دشمن نے اس طرز کےبارہ دفتر الگ الگ تیار کئے
یعنی جو دینِ عیسیٰ کا دشمن تھا، اس نے اس طرز کے بارہ دفتر الگ الگ تیار کیے۔ ہاں جی، ہر ایک کو الگ الگ رُخ بتایا۔
2
وہ یک رنگی عیسیٰ کی جانتا نہ تھاوہ مزاجِ خمِ عیسیٰ پایا نہ تھا
وزیر محض حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متبع ہونے کے باعث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخالف ہو رہا تھا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالف نہیں بلکہ ان کے ہم رنگ ہیں، اور نہ صرف خود ہمرنگ ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اسی رنگ کی طرف دعوت دیتے ہیں مگر وہ اس اتحادِ رنگ سے خُو گر نہ تھا۔
مطلب یہ ہے کہ اس کو پتہ نہیں تھا کہ یہ دونوں ایک ہیں۔ کوئی بھی پیغمبر دوسرے پیغمبر سے مختلف نہیں ہے۔ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ۔ ہم ان میں سے کوئی فرق نہیں کرتے۔
3
جامۂ صد رنگ ازاں خمِّ صفاسادہ و یک رنگ ہوا جیسے ضِیا
سینکڑوں مختلف رنگوں کے کپڑے (یعنی مختلف العقائد لوگ) اس صاف مٹکے (یعنی تعلیماتِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے خالص اور یک رنگ (یعنی متحد المذاہب) ہو جاتے تھے جس طرح روشنی (خالص اور یک رنگ ہوتی ہے)۔
یعنی ساتوں رنگ مل کے اس سے ایک رنگ بن جاتا ہے۔
نکتۂ لطیف: یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ روشنی جو ہم کو بظاہر خالص سفید رنگ کی اور یک رنگ معلوم ہوتی ہے وہ ان سات رنگوں سے مرکب ہے سُرخ، نارنجی، زرد، سبز، آسمانی، نیلا اور بنفشی۔ چنانچہ جب شعاع کسی ایسے شیشے میں گزرتی ہے جو منشور مثلثی ہو تو یہ ساتوں رنگ الگ الگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایک ایسے دین کے لیے ضیاء کی مثال پیش کرنا جو مختلف العقائد لوگوں کے اجتماع و اتحاد سے بنا ہو کس قدر نورانی تمثیل ہے، اور اگر مذکورہ تحقیق عہدِ جدید کی ہے تو اس تمثیل کو مولانا کی کرامات میں سے سمجھنا چاہیے۔
سوال: مدّعا تو یہ تھا کہ مختلف عقائد کے لوگ دین عیسیٰ علیہ السلام میں آ کر یک رنگ ہو گئے۔ بخلاف اس کے دین کی تمثیل اس مٹکے سے دی گئی جس میں ایک رنگ کے کپڑے داخل ہو کر مختلف الالوان ہو جاتے تھے۔ "فَاَیْنَ الْمُمَثَّلُ مِنَ الْمُمَثَّلِ لَہٗ"۔
جواب: بعض شراح نے تسلیم کیا ہے کہ اس مضمون میں تعقید ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ رنگ کا مٹکا مراد نہیں۔ بلکہ خمِ معنوی مراد ہے جس کا اثر اس معجزے کے مٹکے سے خلاف ہے۔ مجازًا اور تشبیہًا اس کو خم کہہ دیا۔ بطور "تَسْمِیَۃُ الشَّیْءِ بِاسْمِ ضِدِّہٖ"۔
مطلب میرا یہ ہے کہ یہاں پر عیسیٰ علیہ السلام چونکہ ایک اللہ کی طرف بلاتا تھا اور ایک اللہ کی بات کی طرف بلاتا تھا۔ تو اس وجہ سے جتنے بھی لوگ تھے اگر اس کی طرف آ جائیں تو ایک ہو جائیں گے۔ اس میں کوئی مختلف والی بات نہیں تھی۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ سارے کے سارے اس میں آ کر ایک رنگ کے ہو جاتے تھے۔
4
وہ یک رنگی یوں نہ ہے کہ ہو ملالبلکہ مچھلی واسطے ہو آبِ زلال
وہ یک رنگی (ایسی) نہیں جس سے جی بھر جائے بلکہ (اس کی) مثال مچھلی اور آبِ زلال کی سی ہے۔
یعنی مچھلی جیسے پانی میں خوش ہوتا ہے اور پانی سے باہر تکلیف میں ہوتا ہے، اس طرح یہ جو یک رنگی ہے اس سے جی نہیں بھرتا، بلکہ اس میں تو خوشی ہوتی ہے۔
انسان عمومًا بمضمونِ "کُلُّ جَدِیْدٍ لَذِیْذٌ" تنوعِ احوال اور تجددِ اطوار کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے ایک حالت سے اس کا دل سیر ہو جاتا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل من و سلوٰی کھاتے کھاتے تنگ آ گئے تھے اور ایک مفت ہاتھ آنے والی آسمانی نعمت پر پیاز اور ککڑی وغیرہ ادنیٰ چیزوں کو ترجیح دینے لگے۔ مولانا فرماتے ہیں یہ یک رنگی ایسی چیز نہ تھی جس سے دل بھر جائیں۔ بلکہ اس کی مثال پانی کی سی ہے جس سے مچھلی کبھی سیر نہیں ہوتی۔
واقعتاً، یہ مثال بڑی عجیب ہے کہ مچھلی جو ہے واقعی مسلسل پانی میں رہتی ہے۔
اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک شخص تھے، وہ ایک ایسے صاحب سے ملے جو ساری عمر پانی میں رہے تھے، یعنی کام اس طرح کرتے تھے، پانی میں رہے تھے، ملاح تھے۔ تو اس خشکی پہ رہنے والے نے اس سے کہا کہ آپ کا والد کس چیز سے مرا تھا؟ انہوں نے کہا پانی میں۔ اس نے کہا آپ کا دادا؟ کہتا پانی میں۔ آپ کا پردادا؟ اس نے کہا پانی میں۔ سکڑ دادا؟ کہتے ہیں پانی میں۔ تو کہتا ہے پھر بھی آپ پانی میں کام کرتے ہو؟ تو اس نے کہا آپ کا باپ کہاں مرا تھا؟ اس نے کہا خشکی پہ۔ انہوں نے کہا آپ کا دادا کہاں؟ کہتے ہیں خشکی پہ۔ آپ کا پردادا؟ خشکی پہ۔ آپ کا سکڑ دادا؟ خشکی پہ۔ تو پھر آپ خشکی پہ سے کیوں نہیں بھاگتے ہو؟
مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہوتی ہے کہ جس چیز کے ساتھ ہماری تمام چیزیں وابستہ ہو جائیں، تو پھر وہ ایک بھی ہو اس سے جی سیر نہیں ہوتا۔ آپ مجھے بتائیں روٹی سے کسی کا جی بھرتا ہے؟ بلکہ میں کہتا ہوں کہ باقی چیزیں ساری کھا لیں، روٹی نہ کھائے تو کہتے ہیں جی کھانا نہیں کھایا۔ حالانکہ روٹی روز کھاتے ہیں، پانی بھی روز پیتے ہیں۔ تو اس سے کسی کا جی تو نہیں بھرتا۔
5
گرچہ خشکی میں ہزاروں رنگ ہیںمچھلیاں ساتھ ان کے رو بہ جنگ ہیں
کہتے ہیں خشکی میں ہزاروں رنگ ہیں، لیکن مچھلیاں اس کی طرف نہیں آ سکتیں۔ مچھلی کے لیے کُلُّ جَدِيدٍ لَذِيذٌ والی مثال اس پہ نہیں ہو سکتی۔
اگرچہ خشکی میں (کہیں مٹی کہیں ریت کہیں میدان کہیں پہاڑ اور ان کے) ہزاروں دل کش رنگ ہیں (بخلاف اس کے پانی یک رنگ و یک ذات چیز ہے مگر) مچھلیوں کو خشکی کے ساتھ بڑی مخالفت ہے (اور ان کو پانی مرغوب ہے)۔
مچھلی پانی کی عاشق ہے اور عاشق اپنے عشق سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ یہ مثال عاشقانِ الٰہی پر چسپاں ہوتی ہے جن کو دیباچۂ مثنوی میں بھی ماہی سے تشبیہ دی گئی تھی۔
اور ذاتِ حق سمندر ہے جو سب پر محیط ہے۔ جس طرح مچھلی پانی سے سیر نہیں ہوتی اسی طرح عاشقانِ الٰہی عشق سے بس نہیں کرتے۔
6
مچھلی دریا کیا؟ اور کیا ان کی مثال
مچھلی اور دریا کی کیا بات کر رہے ہو، خود اپنے آپ سے کہہ رہا ہے۔ ان کی کیا مثالیں لیے ہوئے ہو؟
کہ مثل ہو یہ خدائے ذوالجلال
مطلب کہ اس کی طرح مثال بن جائے، یعنی
کون ہوتی ہے مچھلی اور کیا چیز ہے دریا؟ جس کے ساتھ (وحدت کی) مثال میں خدائے عزّوجل کو مشابہت ہو۔
جوابِ اعتراض: اہلِ تصوّف خداوندِ جلّ و علا کی ذات کو کبھی آفتاب سے اور کبھی سمندر سے تشبیہ دیتے ہیں، اور بعض لوگ جو اس کوچہ سے نا آشنا ہیں اس قسم کی تشبیہات کو خلافِ عقائدِ اسلامیہ سمجھتے ہیں، اس کی تحقیق یہ ہے کہ یہ تشبیہ من کل الوجوہ نہیں ہوتی بلکہ خاص امور میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس مقام میں ذاتِ حق کو دریا کے ساتھ بلحاظِ وحدت کے تشبیہ دی اور گو ذاتِ خداوندی کی وحدت حقیقی ہے اور دریا کی وحدت اضافی۔ تاہم تمثیل کے لیے صرف مناسبت کافی ہے اور تمثیل کا جواز قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ﴿وَ لِلہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی﴾
میرے خیال میں یہ تشریح کرنے والے بھی ذرا تھوڑا سا آگے پیچھے ہو گئے۔ اس کی اصل بات جو مجھے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خود کہتے ہیں کہ میں کیا فضول مثالیں دے رہا ہوں؟ کہاں مچھلی، کہاں دریا، کہاں اللہ۔ یہ تو صرف سمجھانے کے لیے میں کہہ رہا ہوں، ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، حضرت خود یہ چیز سمجھانا چاہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ہمیں میرے خیال میں اس تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، وہ جو مطلب شارح نے دی ہے وہ علمی طور پر کسی اور چیز کی طرف چلا گیا، مطلب وہ شاید اس کو اس کو اعتراض سمجھا۔ اس کی وجہ میں یہ بتاؤں کہ میں نے حضرت کے اور اشعار بھی اس معنی میں دیکھے تھے، اور اس سے مراد یہی لیا گیا تھا۔ کہ حضرت فرماتے ہیں: "خاک بر فرق من و تمثیل من" میرا مطلب کچھ ہے، وہ کہتے ہیں میری مثالوں کے اوپر خاک ہو میں کیا باتیں کر رہا ہوں۔ تو حضرت خود اپنی مثالوں پہ خاک ڈال رہے ہیں، کہتے ہیں میں کیا مثالیں دے رہا ہوں، وہ تو تمام مثالوں سے پاک ہے۔ یہ مسئلہ ہے۔
7
لاکھوں بحر و مچھلیاں ہوں سر بسجود
دیکھو نا پھر آخر اسی طرف آ گیا۔
7
لاکھوں بحر و مچھلیاں ہوں سر بسجودسامنے ان کے آئے جب دریائے جُود
یعنی اللہ کے سامنے ان چیزوں کی کیا حیثیت ہے؟ یعنی
موجودات میں سے لاکھوں دریا اور مچھلیاں اس دریائے کرم (یعنی خداوند تعالیٰ) کے آگے سر بسجود ہیں۔
خداوند جل و علا کے لیے دریا کی تمثیل کیا حقیقت رکھتی ہے۔ وہ خالق اور یہ مخلوق، اور مخلوق خالق کی محتاج ہے۔ ذیل میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں جن سے ثابت ہو گا کہ تمام مخلوق خالق کی محتاج ہے اور مخلوق کی ہر ایک خوبی خالق کی خوبیوں کا پر تو ہے۔
8
صفت دریا کی، جو عطا کی ہے
یعنی جو عطا کرتا ہے صفت دریا کی، مطلب دریا سے مچھلیاں اور تمام چیزیں برآمد ہوتی ہیں نا تو جو عطا کی ہے۔
در حقیقت یہ صفت اللہ کی ہے
اللہ تعالیٰ دینے والے ہیں۔ یعنی دریا نہیں دے سکتا۔ یعنی
اس کی بخشش کے کئی مینہ (دریا پر) برسے یہاں تک کہ ان (بارشوں) سے وہ دریا موتی بکھیرنے لگا۔
دریا کو در افشانی کی صفت جب حاصل ہوئی کہ اس پر عطائے الٰہی کی بارش ہوئی۔ پس دریا کی صفتِ عطا اللہ تعالیٰ کی صفتِ عطا کا فیض ہے۔
یعنی اصل بات یہ ہے کہ دریا اپنی طرف سے کچھ نہیں دے سکتا۔ اگر دریا پر یہ پانی نہ برستا اللہ تعالیٰ کے فضل سے، تو دریا کیا کرتا؟ دریا تو خشک کا خشک رہتا۔ یہ بات ہے۔
9
چند خورشیدِ کرم جب طلوع ہوئے
دیکھو نا ساری مثالیں آ گئیں۔
9
چند خورشیدِ کرم جب طلوع ہوئےتو بادل اور دریا پھر فیض رو ہوئے
یعنی جس وقت اس کی بخشش کے کئی سورج جب طلوع ہوئے اس کے اوپر تو سورج کی تپش کی وجہ سے پانی بخارات بن گیا سمندر کا۔ سمندر کا پانی بخارات ہو گیا، تو بادل بن گئے۔ بادل بن گئے تو بادل چلا مختلف سمتوں میں۔ تو جہاں برسنے کا حکم ہوا، وہاں برسا، تو دریا میں بھی آ گیا وہ سارا پانی، ادھر ادھر کے جتنا بھی تھا، وہ دریا میں اکٹھا ہو گیا۔ تو گویا کہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں، سورج کو جس کام پہ لگایا تھا، اس نے جب وہ کام کیا، ہوا کو جس کام پہ لگایا تھا، اس نے جب وہ کام کیا، اور پھر ماشاءاللہ چشموں کے ذمے جو کام تھا، وہ جب اس پہ لگا دیا، اس طرح ہوتے ہوتے وہ دریا بن گیا۔ تو اصل میں تو دریا کی جو عطا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہی ہے۔
آفتاب کی حرارت سے پانی بخار بن کر صعود کرتا ہے اور وہ بخارات اوپر جا کر بادل بن جاتے ہیں اور پھر بادل برستے ہیں اور بارشوں سے دریا بنتے ہیں۔ بادلوں اور دریاؤں سے زمین کو جو فیض پہنچتا ہے عیاں ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سلسلہ فیضِ آفتاب کی تابش سے بندھا ہوا ہے۔ نہیں نہیں در حقیقت خداوند تعالیٰ کے آفتابِ کرم کی تابش کا فیض ہے۔ اسی کی بدولت آسمانی آفتاب نے اپنا عمل کیا اور اسی سے ابر نے جود اور دریا نے فیض سیکھا۔
10
اُس خورشیدِ کرم کی فیض رسانی ہےاِس خورشید کی فلک پر جولانی ہے
یعنی جو خورشیدِ کرم ہے، اس کی بخشش سے کئی سورج درخشاں ہوتے ہیں، تو اس پر جو جولانی ہے آسمان کے اوپر، وہ اصل میں اسی کی طرف سے ہی ہے۔
11
ما و طین پر پرتوِ ذاتش پڑیتب زمین دانہ کو قبول کر سکی
ما (پانی) اور طین (مٹی) پر پرتوِ ذاتش، یعنی اس کی ذات کی پرتو پڑ گئی۔ تب زمین میں استعداد پیدا ہو گئی کہ وہ دانہ قبول کر لے۔
خلقِ اشیاء تو ذاتِ خداوند کا فعل ہے۔ پھر زمین جو دانہ کو قبول کر کے پودے اور درخت اُگاتی ہے چنانچہ لوگ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ پیداوار زمین نے اُگائی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ذاتِ خدا کا اس پر پرتَو پڑ گیا ہے۔ اس لیے اُگانے کی صفت اس پر صادق آنے لگی۔ "وَ لَوْ مَجَازًا"۔
یعنی مجازاً ہے لیکن بہرحال آیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
12
تب زمین پھر بن گئی امانت دارپائے اس سے جو کہ بوئے کاشتکار
مطلب یہ ہے کہ زمین پھر امانت دار بن گئی، اس نے تخم کو اپنے ساتھ رکھ لیا، اور پانی اس کے ساتھ مل کر ماشاءاللہ اس سے فصل پھوٹ پڑی، اور اس کو پھر بعد میں کاشتکار اس کو استعمال کرنے لگا۔ یعنی
زمین اس قدر امانت دار ہے کہ اس میں جو کچھ بویا جائے۔ اس میں ہرگز تفاوت نہیں آتا۔ یہ امانت داری اس نے کہاں سے سیکھی؟ اس کا جواب اگلا شعر ہے:
13
یہ امانت بھی عنایت اس کی ہےوہ بھی جو کہ دھوپ حرارت کی ہے
مطلب یہ ہے کہ یہ امانت جو ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ نے اسے عنایت کیا ہے۔ اور جو دھوپ میں حرارت ہے، وہ بھی ظاہر ہے اسی کی وجہ سے آیا ہے۔ یعنی
اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت عدل بھی ہے جس کے لیے امانت لازم ہے کیونکہ عادل کے لیے ضروری ہے کہ وہ حق دار کو اس کا حق پہنچائے اور یہی امانت کا معنٰی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے آفتابِ عدل نے زمین پر اپنا پرتو ڈالا تو وہ امانت کی صفت سے موصوف ہو گئی۔
14
حکم پائے نہ تو پھر بہار بھی
ہاں، اگر اللہ کی طرف سے حکم نہ ہو، تو پھر بہار بھی
مخفی اشیاء کو نکال سکتے نہیں
فصل یا موسم گویا اپنے عہد کا حاکم ہوتا ہے جو خاص خاص قسم کے درختوں اور پودوں، اناجوں، پھلوں اور پھولوں پر تصرف کرتا ہے اور اس کے تصرف کے ماتحت درخت اور پودے زمین سے سر نکالتے ہیں، پھل پھول ٹہنیوں سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر اس کا حکم جب نافذ ہوتا ہے کہ موسم خود احکم الحاکمین کی درگاہ سے حکم پاتا ہے۔ پھر اس کے حکم کے مطابق عمل کرتی ہے۔ لہٰذا سبزہ زار و چمنستان کی تمام سرسبزی و رونق خداوند تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے۔
15
پھول و پھل تب خوب اگائے یہ جمادبھیج دے اپنا پیغامات اس کو جب جواد
مطلب یہ جو پھول و پھل ہے، یہ جو زمین ہے جو جماد ہے، اس سے وہ خوب اگیں جس وقت جواد یعنی دینے والا جو ہے سخی، وہ اس کو پیغام بھیج دے۔
(اور حق تعالیٰ) وہ بڑا کریم (ہے) جس نے ٹھوس زمین کو یہ (پھول پھل اگانے کے) پیغامات (بھیجے)
پیغامات کیا ہے وہ بتاتا ہوں میرے خیال میں یہاں اس کا ذکر نہیں ہوا۔ اصل میں ہمارا عقیدہ ہے، یہ ہمارے عقائد کی بحث ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا ہر چیز کو ہر وقت حکم آتا رہتا ہے۔ Instantly... یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو۔ تو اس وجہ سے جو چیزیں چل رہی ہیں وہ مسلسل ایک جیسے روشنی مسلسل آ رہی ہے سورج سے، فوٹانز (Photons) آ رہے ہیں۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات آ رہے ہیں۔ ان احکامات کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ لہٰذا اگر وہ پیغامات آنا بند ہو جائے تو کام نہ ہو... مثال کے طور پر آگ کا کام ہے جلانا، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ، جلاؤ۔ ایک جگہ کہتے ہیں نہ جلاؤ۔ اس وقت نہیں جلا سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیز جو ہے نا احکامات مسلسل Continuously آ رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح نہیں جیسے الفاظ، الفاظ کی صورت میں نہیں۔ وہ ایک Communication کا اپنا سسٹم ہے، اللہ تعالیٰ کے احکاماتِ تکوینی، وہ جو ہے نا وہ چل رہا ہوتا ہے مسلسل۔ تو اگر کوئی اس کا حکم کا تبدیلی آ جائے تو پھر وہ چیز وہ نہیں ہوتی۔
اور یہ بات کتاب و سنت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴾ (بنی اسرائیل: 44) "اور جتنی چیزیں ہیں سب اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہیں، مگر تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے"۔
16
لطف سے اس کے جماد میں آئے جانزمہریر اس کے قہر کا ہو پنہاں
وہی ٹھوس (زمین اس کے) لطف سے مثل جان (دار) بن جاتی ہے (اور) کڑکڑاتا جاڑا جو اس کے قہر سے ہے ناپید ہو جاتا ہے۔
فصلِ بہار اللہ تعالیٰ کی صفتِ لطف کی مظہر ہے جب کہ زمین میں قوتِ نامیہ کی ایک جان سی پڑ جاتی ہے اور اس کے اندر سے بے انتہا نباتی مخلوق پیدا ہو کر سطحِ ارض کو تختۂ گلزار بنا دیتی ہے۔ اور موسمِ سرما جس کا دوسرا نام خزاں ہے اس کی صفتِ قہر کا مظہر ہے، جس کے اثر سے سارے شاداب چمن اور ہرے بھرے گلزار چند روز میں خاک میں مل جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس خداوندِ لطیف کا یہ فیضِ لطف ہے کہ زمین فرماں پذیری و امانت داری میں ایک ذی روح کی طرح عمل کرنے لگی اور موسمِ خزاں جو اس قہار کی صفتِ قہر کا مظہر تھی روپوش ہو گئی۔
مطلب یہ ہے کہ خزاں کا معاملہ اور تھا۔ اس میں اللہ کا حکم اور تھا۔ اور جیسے ہی بہار آ گیا، تو اللہ تعالیٰ کا حکم بدل گیا، اور وہ جو خزاں والا حکم تھا وہ روپوش ہو گیا۔
17
وہ جماد اس کے فضل سے ہو لطیفکُلُّ شَیْ ءٍ مِّنْ ظَرِیْفٍ ھُوَ ظَرِیْف
وہ ٹھوس زمین اس کے فضل سے لطیف ہو گئی۔ جو چیز اچھی شے سے ہو وہ اچھی ہوتی ہے۔
18
فضل اس کا کردے ہر جماد خبیرعاقلوں کو کردے قہر اس کا ضریر
اس کا (دریائے) فضل (جب جوش میں آتا ہے تو) ہر بے حس اور ٹھوس چیز کو باخبر بنا دیتا ہے اس کی برقِ قہر (جب گرتی ہے) تو اچھے اچھے عقلمندوں کی چشمِ خرد کو اندھا کر دیتی ہے۔
یعنی صفات اللہ پاک نے عطا کی ہیں۔ جس کو بھی جو صفات عطا کیے ہیں۔ لہٰذا اللہ پاک جب صفت اس کو عطا کر دیتے ہیں حس والا، تو تمام حسیں کام کرنے لگتی ہیں۔ اور جس وقت حس کو اٹھانے کا حکم دیتا ہے، تو سارے حسیں بیکار ہو جاتی ہیں۔
19
جان و دل میں طاقتِ ایں جوش نہیںسن سکے اس کو تو ایسا گوش نہیں
جان و دل کو اس جوش (کے برداشت کرنے) کی طاقت نہیں (جو اس کی قدرت کو دیکھ کر اٹھتا ہے) کس سے بیان کروں۔ دنیا بھر میں کوئی نہیں (جو اس کو سُنے)۔
یعنی حضرت فرماتے ہیں کہ جو جوش میرے اندر آ رہا ہے، وہ میں کیسے بیان کروں؟ کیونکہ کوئی سننے والا اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو میں کس طرح بیان کروں؟
قدرت کے آثار بیان کرتے ہوئے دل میں جوش پیدا ہوا۔ جس سے تابِ ضبط نہ رہی۔
اس لیے چاہا کہ مزید اسرارِ الٰہیہ بیان کرتے چلے جائیں۔ مگر پھر یہ دیکھ کر کہ کوئی گوش شنوا اور کوئی قلب قابل نہیں ہے۔ خاموشی مناسب سمجھی۔
کیونکہ کوئی اس کا وہ نہیں ہے۔