رضاعت کے شرعی احکام اور خاندانی تنازعات کا حل

درس نمبر 100، سورۃ البقرہ: آیت: 233- (اشاعتِ اول) 02 مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سورۃ البقرہ کی آیت 233 کے تحت بچے کو دودھ پلانے (رضاعت) کی مدت اور شرعی احکام۔

·      طلاق کی صورت میں مطلقہ ماں کے حقوق، عدت کا نفقہ اور رضاعت کی اجرت۔

·      ازدواجی زندگی میں 'قانونی حقوق' اور 'باہم مودت و محبت' کے درمیان واضح فرق اور توازن۔

·      بچے کی آڑ میں ماں یا باپ کا ایک دوسرے کو تکلیف دینے (اضرار) کی شرعی ممانعت۔

·      باپ کی عدم موجودگی یا وفات کی صورت میں بچے کے وارثوں پر رضاعت کی ذمہ داری۔

·      قرآنِ مجید کی آیات کے بین السطور  سے فقہی مسائل اخذ کرنے کا طریقہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

وَالْوَالِـدَاتُ يُـرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُوْدِ لَـهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِـدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۗ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَـرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِمَا ۗ وَاِنْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ تَسْتَـرْضِعُـوٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُـمْ مَّآ اٰتَيْتُـمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (233)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ یہ مدت ان کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں۔ اور جس باپ کا وہ بچہ ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ معروف طریقے پر ان ماؤں کے کھانے اور لباس کا خرچ اٹھائے۔ (233)

طلاق کے احکام کے درمیان بچے کو دودھ پلانے کا ذکر اس مناسبت سے آیا ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ ماں باپ کے درمیان جھگڑے کا سبب بن جاتا ہے۔ لیکن جو احکام یہاں بیان کئے گئے ہیں، وہ طلاق کی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام حالات کے لئے ہیں۔ پہلی بات تو اس میں یہ واضح کی گئی ہے کہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سال تک پلایا جا سکتا ہے، اس کے بعد ماں کا دودھ چھڑانا ہوگا۔

دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر ماں باپ بچے کی مصلحت سمجھیں تو پہلے بھی دودھ چھڑا سکتے ہیں، دو سال پورے کرنا شرعاً واجب نہیں ہے۔

تیسری بات یہ کہ دودھ پلانے والی ماں کا خرچ اس کے شوہر یعنی بچے کے باپ پر واجب ہے۔ اگر نکاح قائم ہو تو یہ خرچ نکاح کی وجہ سے واجب ہے، اور اگر طلاق ہو گئی ہو تو عدت کے دوران دودھ پلانا مطلقہ ماں پر واجب ہے، اور اس دوران اس کا نفقہ طلاق دینے والے شوہر پر ہے۔ عدت کے بعد نفقہ ختم ہو جائے گا، لیکن مطلقہ ماں عدت کے بعد دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

یہ اصل میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔ کچھ باتیں ہوتی ہیں قانونی، اور کچھ باتیں ہوتی ہیں باہم مودت اور محبت کی۔ اکثر یہ جو باتیں ہیں نا، علم پورا نہ ہو تو بعض دفعہ مسئلہ بن جاتا ہے نا۔ تو یہ جن عورتوں کو ذرا بعض دفعہ علم حاصل ہو جاتا ہے کتابیں پڑھ کر، تو ہوتی تو جذباتی ہیں، تو ایسی صورت میں وہ جو بات ان کے بظاہر فائدے میں جاتی ہے تو اس پر بڑی جم کے بولتی ہیں کہ دیکھو کتاب میں یہ لکھا ہے۔

کتاب میں تو بہت کچھ لکھا ہے لیکن وہ قانونی باتیں ہیں۔ قانونی باتوں سے مراد یہ ہے کہ اگر لڑائی ہو جائے، تو پھر فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا؟ یہ نہیں کہ آپ معمول کو اس طرح بنا دیں۔ اب مثال کے طور پر دیکھو، فرمایا گیا ہے کہ: هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ۔ وہ تمہارے لیے پردہ ہیں اور تم ان کے لیے پردہ ہو۔ اب یہ بات ہے کہ جو کچھ آپ کو اللہ نے دیا ہے، تو ٹھیک ہے آپ کی ملکیت ہے، لیکن مودت اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی بیوی کا بھی اس پر حق ہے، ایسا ہی ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ وہ کتنا کام کرتی ہے اور میں کتنا کام کرتا ہوں۔ یہ والی بات نہیں، محبت اور مودت میں یہ چیز نہیں آتی۔ وہ تو تجارت ہے۔ جب آپ حساب کتاب کرتے ہیں کہ وہ اتنا کام کرتی ہے، میں اتنا کام کرتا ہوں، وہ تو حساب کتاب ہے، یہ تو تجارت ہے۔ تو تجارت تو مودت اور محبت والی بات نہیں، وہ تو دو دو چار کی طرح بات کرتی ہے۔ تو اس میں ایثار اور محبت والی بات ہوتی ہے۔

اس طرح بیوی جو ہے نا، یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ نہیں نہیں، میرے ذمے تو آپ کے لیے چائے پکانا تو نہیں ہے، میرے ذمے آپ کے لیے کھانا پکانا تو نہیں ہے۔ میں تو ایسی ہوں، میں تو ایسی ہوں۔ تو پھر اگر حساب کتاب تم کرتی ہو، پھر تمہارے ساتھ بھی حساب کتاب کیا جائے گا۔ پھر حساب کتاب ہوگا نا جیسے مطلب ہے۔ تو یہ عموماً جانبین میں مسئلہ ہوتا ہے۔

تو ایسا ہے کہ جرمنی میں ہمارے colleague تھے، ساتھی تھے۔ تو ان کی بیوی جو تھیں نا، وہ پڑھی لکھی تھی، عرب تھے۔ تو ان سے کہتی تھیں کہ تمہارے لیے چائے پکانا میرے ذمے نہیں ہے۔ تو اس نے مجھے کہا کہ وہ تو اس طرح کہتی ہے۔ میں نے کہا اس طرح کہو کہ پھر تو میں بھی حساب کتاب کروں گا۔ میرے ذمے جو شرعی واجب بنتا ہے آپ کا، تو میں آپ کو ادا کروں گا، باقی نہیں، جیسے دوائیوں کا خرچ میں نہیں کروں گا، اور چیزیں میں نہیں کروں گا، وہ تم پر مجھ پر لازم نہیں ہے پھر۔

تو جب اس نے اس پہ بات کی، تو ان کو پتہ چل گیا کہ اب اس کو کوئی انفارمیشن ملنی شروع ہو گئی ہے، تو معاملہ ٹھیک ہو گیا۔ مقصد یہ ہے کہ یہ محبت کی باتوں میں آپ حساب کتاب نہ لائیں۔ ورنہ دوسرے شخص کو بھی حساب کتاب کا پھر حق ہوگا۔ تو پھر مسئلہ یہ ہوگا کہ بگڑ جائے گا۔ تو یہاں پر بھی جو حساب کتاب والی جو بات ہو رہی ہے نا، یہ قانونی باتیں ہیں۔ یہ قانونی باتیں ہیں کہ اگر لڑائی ہو جائے، اختلاف ہو جائے، تو جج کیسے فیصلہ کرے گا؟ جج فیصلہ اس بنیاد پر کرے گا کہ شریعت میں یہ ہے، قانون یہ ہے۔

تو یہاں پر دیکھو قانون کیا ہے:

مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ یہ مدت ان کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنی چاہیں۔

یعنی اگر دونوں مل کے یہ فیصلہ کر دیں کہ نہیں، کم پہ ہو جائے گا۔

اور جس باپ کا بچہ ہے اس پر واجب ہے کہ وہ معروف طریقے پر ان ماؤں کے کھانے اور لباس کا خرچ اٹھائے۔

یعنی اپنے سٹیٹس کے مطابق۔ معروف کا مطلب کیا ہے؟ اپنے سٹیٹس کے مطابق جو اس کا سٹیٹس ہے یعنی شوہر کا، اس کے حساب سے۔ اب اگر وہ غریب ہے تو غریب ہی کے طریقے سے ہوگی وہ، اور اگر وہ مالدار ہے تو مالداری کے طریقے سے ہوگی۔ یہ نہیں اگر وہ مالدار ہے تو آپ کہتے ہیں نہیں نہیں نہیں، بھئی یہ جو یہ لنڈا بازار والی چیز وہ آپ ان کو دے دیں کہ یہ بھی تو کپڑے تو ہیں نا! تو کپڑے تو ہیں لیکن سٹیٹس کے مطابق نہیں ہیں۔ کپڑے تو ہیں! اس طریقے سے کھانا بھی، اب آپ جو ہے نا خود تو پلاؤ کھائیں، اس کو مسور کی دال پہ لگائیں۔ یہ کوئی ٹھیک نہیں، جو تم کھاؤ، وہ تمہارے ساتھ وہ کھائے۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ تو

وہ معروف طریقے پر ماؤں کے کھانے اور لباس کا خرچ اٹھائے

یہ دونوں باتیں ہیں۔

اب ایک قانون، جنرل قانون ہے جو قرآن شریف میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے:

لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا۔

کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔

دوسرا قانون:

لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهٖ۔

نہ تو ماں کو اپنے بچے کی وجہ سے ستایا جائے، اور نہ باپ کو اپنے بچے کی وجہ سے (ستایا جائے)۔

مطلب ہے کہ ماں بھی بچے کا بہانہ بنا کر اس کو نہ ستائے، اور باپ بھی یہ کہہ کر کہ "میرا بچہ ہے تم اس کو یہ نہیں کرو، یہ..." اس کی وجہ سے والدہ کو نہ ستائے۔ یہ قانونی باتیں ہیں۔ یعنی یہاں محبت والی بات تو ستانے میں محبت میں تو نہیں ہوتا نا! تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اختلاف ہے۔ جب اختلاف ہے تو پھر نہ ستائے، یہ قانونی بات ہے۔

اور اسی طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے۔

یعنی اگر ماں کسی معقول عذر کی وجہ سے دودھ نہ پلائے، تو اسے مجبور نہ کیا جائے، دوسری طرف اگر بچہ ماں کے سوا کسی اور کا دودھ نہ لیتا ہو تو ماں کے لئے انکار جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں یہ انکار باپ کو بلاوجہ ستانے کے مترادف ہے۔

یعنی یہ میں آپ کو کیا بتاؤں، اس وقت جانورہ پن ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، مخالفت میں، اختلاف میں معاملہ بہت آگے چلا جاتا ہے۔ یعنی میں جانتا ہوں کہ ایک اختلاف تھا اس طرح، تو ماں نے اپنے نو مولود بچہ، یعنی دو تین دن کا بچہ، وہ باپ کے گھر بھیج دیا کہ تم اس کو سنبھالو۔ یہ میرے سامنے کی بات ہے۔ پتا نہیں کتنے گھنٹے وہ بغیر دودھ کے رہا وہ بچہ۔ ٹرانسپورٹیشن اور یہ تمام چیزیں وہ… اندازہ کر لیں ارینجمنٹ میں ٹائم تو لگتا ہے نا بالکل۔ اب اتنی سنگدل ماں جو اپنے نومولود بچے پر بھی رحم نہ کرے صرف باپ کو ستانے کے لیے! تو یہ قانون یہاں پر دیکھو نا ضروری ہے یا نہیں ہے؟

یعنی اگر کسی بچے کا باپ زندہ نہ ہو تو دودھ پلانے کے سلسلے میں جو ذمہ داری باپ کی ہے، وہ بچے کے وارثوں پر عائد ہوگی۔ یعنی جو لوگ بچے کے مرنے کی صورت میں اس کے ترکے کے حق دار ہوں گے، انہیں پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اس بچے کو دودھ پلانے اور اس کا خرچ برداشت کرنے کی ذمہ داری اٹھائیں۔

مطلب یہ ایک رستہ اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔ تو اس طرح ہم لوگ اس کو حل کرنا چاہیں گے۔

پھر اگر وہ دونوں (یعنی والدین) آپس کی رضامندی اور باہمی مشورے سے (دو سال گزرنے سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اگر تم یہ چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی انا سے دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، جبکہ تم نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ (دودھ پلانے والی انا کو) بھلے طریقے سے دے دو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سارے کاموں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ (233)

اصل میں بہت ساری باتیں ان کے اندر بین السطور میں ہوتی ہیں۔ مطلب یعنی اصول اگر معلوم ہو جائیں، تو بہت ساری details اس کے ذریعے سے انسان اپنی عقل و فکر کے ذریعے سے سمجھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے فقہ میں یہ باتیں پھر آتی ہیں۔ اب دیکھو، فقہاہت جو ہے وہ ہر ایک کو توحاصل نہیں ہوتی ہے نا۔ تو جن کو فقاہت حاصل ہوتی ہے، وہ ایک ایک آیت سے کتنے کتنے مسائل نکال لیتے ہیں۔

تو یہ پھر details وہ فقہ... اب دیکھو قران میں تو اتنا ہے نا، لیکن فقہ کی کتابوں میں اس پر پڑھو نا پھر! بہت details ہوں گی۔ تو یہ details انہی سے نکلی ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ عقل و فکر کے ذریعے سے سوچتے ہیں کہ اگر یہ بات ہے تو پھر یہ ہے، اگر یہ بات ہے تو پھر یہ ہے۔

ایک کتاب ہے مولانا عبد الحلیم اثر صاحب کی، جو "روحانی رابطہ" کے نام سے پشتو میں لکھی گئی ہے۔ تو وہ جو مؤرخ ہیں، وہ بڑے analytical mind کے تھے۔ تو وہ بڑے مشہور واقعات کو بھی ایسے analysis کے ذریعے سے، کہ دیکھو، اگر یہ لکھا ہے، اگر یہ لکھا ہے، اگر یہ لکھا ہے، تو پھر تو یہ نہیں ہو سکتا۔ اور ایسا ہو سکتا تھا۔ تو وہ پھر کہتے ہیں کہ نہیں یہ واقعہ جس نے بیان کیا ہے اس میں تحریف ہے، غلط لکھا ہے، اور یہ جو نا بالکل صحیح ہے۔ بالکل analytical انداز سے... آپ کو بھی سمجھ آتی جائے گی۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی باتیں بین السطور میں جو ہوتی ہیں، ان کا نکالنا، یہ فقہاء کا کام ہے۔ اور فقہاء اس معاملے میں... تقویٰ...دیکھو

وَاتَّقُوا اللهَ

اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔

وَاعْلَمُوٓا

اور جان لو

اَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ(233)

کہ اللہ تمہارے سارے کاموں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

تو اس کے ذریعے سے ماشاءاللہ بہت سارے مسئلے اس سے نکال لیتے ہیں اور وہ ہمارے سامنے فقہ کی کتابوں میں موجود ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔




رضاعت کے شرعی احکام اور خاندانی تنازعات کا حل - درسِ قرآن - دوسرا دور