اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
ہر حال میں صبر کرنا
(52) ﴿وَ عَنْ أَبِي يَحْيَى أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتّٰى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾
ترجمہ: ”حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے عامل بنا دیجئے جیسا کہ آپ ﷺ نے فلاں انسان کو عامل بنایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے پس تمہیں صبر کرنا ہو گا یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری میرے ساتھ ملاقات ہو۔“
تشریح: بغیر طلب کے عہدہ ملنے پر فرشتوں کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے”أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا“ مجھے عامل بنا دیجئے جیسا کہ آپ ﷺ نے فلاں انسان کو عامل بنایا ہے۔ عام وقتوں میں آپ ﷺ نے عہدے کے طلب کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے جو خود طلب کرتا ہے تو فرشتوں کی مدد اس سے اٹھالی جاتی ہے اور اگر بغیر طلب کئے ہوئے اس کو عہدہ دے دیا جائے تو فرشتوں کی مدد اس کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہے۔
حکمراں کی طرف سے زیادتی ہو تو صبر کروفَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ بس صبر کرنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے مل لو۔آپ ﷺ کا حکیمانہ مزاج مبارک یہ ہے کہ جب دو طرفہ حقوق ہوتے ہیں وہاں ہر جانب کو اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اپنے حقوق کی وصولیابی میں درگزر سے کام لے۔ تو اس حدیث میں بھی عوام کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ تم جائز امور میں امراء کی مکمل اطاعت کرنا اگر ناگوار حالت پیش آجائے تو صبر و تحمل سے کام لو اور دوسری بعض روایات میں امراء و سلاطین کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ تم عوام کے حقوق کا پورا لحاظ رکھو۔ اگر عوام کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو حلم اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی قوموں نے اس سنہرے اصول کو سامنے رکھا قوموں میں خوشحالیاں پیدا ہوئیں اور جب بھی ان اصولوں کو چھوڑا تو اس قوم میں بدامنی اور شر و فساد ہی ہوا۔
تخریج حدیث: رواه البخاری فى الفتن باب قول النبى ﷺ (سترون بعدى امورا تنكرونها) والجنائز والخمس والمناقب والمغازى والرقاق۔ رواه مسلم فى الامارة (باب الامر بالصبر عند الولاة واستئشارهم)۔ و اخرجه احمد 18606/6۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو جس موقع پر جس چیز کا حکم ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور سنت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی بھی...
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: متبادل عنوان:
اہم موضوعات:
•
•
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ایک حدیثِ مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے عہدہ اور امارت طلب کرنے کی ممانعت بیان فرمائی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ جو شخص خود عہدہ مانگتا ہے، اس سے آسمانی مدد چھین لی جاتی ہے، جبکہ بغیر طلب کے ملنے والے عہدے میں فرشتوں کی نصرت شامل ہوتی ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکمران ناانصافی یا ترجیحی سلوک کریں تو عوام کو صبر سے کام لینا چاہیے اور اپنے حقوق کے مطالبے میں انتشار پھیلانے کے بجائے حوضِ کوثر پر نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی امید رکھنی چاہیے۔ بیان کے آخر میں آپ نے حکمرانوں اور عوام کے دو طرفہ حقوق کی ادائیگی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہی نبوی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے ہی معاشرے میں حقیقی امن اور خوشحالی قائم ہو سکتی ہے۔