قرآن کی روشنی میں طلاق کے شرعی احکام، جاہلانہ رسوم کا خاتمہ اور رجوع کی اہمیت

درس نمبر 99، سورۃ البقرہ: آیت:231 تا 232- (اشاعتِ اول) یکم مارچ، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      طلاق اور عدت سے متعلق سورۃ البقرہ کی آیات کی تفسیر۔

·      زمانۂ جاہلیت کی ظالمانہ رسم جس میں عورتوں کو لٹکا کر رکھا جاتا تھا۔

·      بیوی پر ظلم کرنے کو درحقیقت اپنی جان پر ظلم قرار دینا اور آخرت کی پکڑ۔

·      طلاق کے معاملات میں غصے اور شیطان کے کردار کی نشاندہی۔

·      طلاق کے بعد میاں بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کی اجازت اور میکے والوں کی بے جا رکاوٹوں کی ممانعت۔

·      جذبات کی رو میں آکر تین طلاقیں دینے کے نقصانات اور شرعی حدود (limit) کی پابندی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَاَمْسِكُـوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُـوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا اٰيَاتِ اللهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْـمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ ۚ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ (231) وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَـرَاضَوْا بَيْنَـهُـمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۗ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۗ وَاللهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (232)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی ہو، اور وہ اپنی عدت کے قریب پہنچ جائیں، تو یا تو ان کو بھلائی کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک رکھو، یا انہیں بھلائی کے ساتھ چھوڑ دو۔ اور انہیں ستانے کی خاطر اس لئے روک نہ رکھو کہ ان پر ظلم کر سکو۔

جاہلیت میں ایک ظالمانہ طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیتے اور جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی تو رجوع کر لیتے، تاکہ وہ دوسرا نکاح نہ کر سکے، پھر اس کے حقوق ادا کرنے کے بجائے کچھ عرصے کے بعد پھر طلاق دیتے، اور عدت گزرنے سے پہلے پھر رجوع کر لیتے، اور اس طرح وہ غریب بیچ میں لٹکی رہتی، نہ کسی اور سے نکاح کر سکتی، نہ اپنے شوہر سے اپنے حقوق حاصل کر سکتی۔ یہ آیت اس ظالمانہ طریقے کو حرام قرار دے رہی ہے۔

جاہلیت جو ہے نا یہ عجیب چیز ہے، مطلب اس میں sense نہیں ہوتا۔ اس میں صرف اپنا جو بھیڑیا پن ہے، وہ ہوتا ہے۔ مطلب اس میں انسان ظلم ہی کرتا ہے۔ آج کل بھی اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں، اللہ معاف فرمائے، بعض لوگ، یہ اپنی بیویوں کو ان کے حقوق بھی نہیں دیتے اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ طلاق بھی نہیں دیتے۔ بلکہ کہتے بھی ہیں کہ شادی کی عمر کی گزر جائیں تو پھر اس کے بعد ہی... گویا کہ مطلب صرف سزا دینے والی بات ہوتی ہے۔

تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔ ایک انسان وہ اس حد تک... اللہ تعالیٰ تو جانور کے اوپر بھی ظلم کرنے سے روکتا ہے۔ وہ جو کسی نے اپنی بلی کو جو ہے نا بہت مارا تھا نا، تو اس کو بڑی سزا ہوئی تھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بالکل ظالمانہ بات ہے کہ یہ اپنی بیوی کے حقوق بھی ادا نہ کرے اور اس کو طلاق بھی نہ دے۔ طلاق جو ہے اگرچہ اچھی بات نہیں ہے، لیکن اس سے اچھی بات ہے کہ اس کے حقوق ادا نہ کرے، اس کو لٹکائے رکھے۔ اس سے یہ اچھی بات ہے comparatively۔ تو لہٰذا اگر کوئی وہ نہیں کر سکتا تو پھر یہ کر لے۔ تو یہ بہت ظلم کی بات ہے کہ لوگ طلاق بھی نہ دیں اور ساتھ ساتھ حقوق بھی ادا نہ کریں۔

اور جو شخص ایسا کرے گا وہ خود اپنی جان پر ظلم کرے گا۔

یہ اکثر قرآن پاک میں آتا ہے، اور احادیث شریف میں بھی۔ اپنی جان پر ظلم کا مطلب کیا ہے؟ اب دیکھیں نا ایک ہے مختصر زندگی جو دنیا کی ہے اور ایک ہے لمبی زندگی، نہ ختم ہونے والی جو آخرت کی ہے۔ اب اگر کوئی یہاں اس مختصر زندگی میں ظلم کرتا ہے کسی پر، تو یہ ظلم نظر آتا ہے اس پر، یہ ظلم نظر آتا ہے اس پر۔ لیکن اس کی جو consequences ہیں، جو اس کے انجام ہیں، وہ یہ ہے کہ آخرت میں اس کو اس کی سزا دی جائے گی۔ اور آخرت کی سزا بہت سخت ہے، اور بہت ہی لمبی زندگی ہے۔ تو ایسی صورت میں، یعنی اس نے یہاں ظلم کر کے اپنے اوپر وہاں ظلم کر لیا۔ اور چونکہ وہاں کی بات کا اعتبار ہے، لہٰذا اس کو فرمایا گیا کہ اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ بہت سارے لوگ اس چیز کو چونکہ نہیں جانتے تو اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ تو یہ بات ہمیں سمجھنی چاہیے کہ کسی پر بھی ظلم کرنا، یہ اپنے اوپر ظلم ہے۔


اور اللہ کی آیتوں کو مذاق مت بناؤ اور اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے، اور تم پر جو کتاب اور حکمت کی باتیں تمہیں نصیحت کرنے کے لئے نازل کی ہیں انہیں یاد رکھو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ (231)

اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں، تو (اے میکے والو!) انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے (دوبارہ) نکاح کریں، بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہو گئے ہوں۔

بعض مرتبہ طلاق اور اس کی عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی کو سبق مل جاتا ہے اور وہ ازسرِ نو زندگی شروع کرنے کے لئے آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے تھے، چونکہ طلاقیں تین نہیں ہوئی تھیں، اس لئے شرعاً یہ نکاح جائز بھی تھا اور عورت بھی اس پر راضی ہوتی تھی، لیکن عورت کے میکے والے خود ساختہ غیرت کی بنا پر اسے اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنے سے روکتے تھے۔ یہ آیت اس غلط رسم کو نا جائز قرار دے رہی ہے۔

یعنی یہ بات تو یقینی بات ہے کہ یہ ایک شیطان کا ہی ایک... یعنی جس کو کہتے ہیں نا چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے والی بات ہے۔ وہ اس طرح ہوتا ہے کہ جو میاں بیوی کے درمیان جو لڑائی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ انتہائی درجے کی، پونچھ قسم کی بات ہوتی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اور اس پر بات اتنی زیادہ لمبی ہو جاتی ہے کہ طلاق تک نوبت آ جاتی ہے۔ تو یہ کون کرتا ہے؟ یہ کرتا ہے شیطان۔ شیطان پیچھے لگے ہوتا ہے۔ طلاق دے دو، طلاق دے دو، طلاق دے دو، طلاق دے دو۔ اور بیوی جو ہے نا وہ کہتی ہے مجھے طلاق دو، مجھے طلاق دو، مجھے طلاق دو۔ یعنی آسمان تک بات پہنچ جاتی ہے، اتنا شور مطلب جو ہے نا وہ لڑائی جھگڑے۔ لیکن جو جہاندیدہ لوگ ہوتے ہیں، ان کو بھی نظر آتا ہے، وہ ان کو سمجھاتے ہیں کہ تم لوگ یہ جذباتی نہ بنو، بعد میں جو زندگی ہے اس کے بارے میں ابھی سوچو۔ مثال کے طور پر دیکھیں نا اگر کسی کے بچے ہیں اور وہ طلاق دے رہا ہے، اب ان بچوں کا کیا ہوگا؟ رلتے رہیں گے، مسئلہ ہوگا، مشکلات ہوں گی۔ اور اس طریقے سے پھر اور مطلب بہت ساری باتیں ہوتی ہیں انسان کے لیے، کہ جو برداشت نہیں کر سکتا، وہ چیزیں سامنے آتی ہیں۔ تو ایسی حالت میں دونوں طرف یہ مسئلہ چلتا ہے۔

لیکن... اس وقت سمجھ نہیں آتا۔ جب تک وہ چیز ہو نہ چکی ہو۔ جب وہ چیز ہو جاتی ہے، پھر اس کے بعد سب باتیں کھل جاتی ہیں۔ اب میرے پاس ایک دفعہ چھپر والی مسجد میں میں بیان کیا، تھوڑی دیر کے بعد دو لڑکے آ گئے جی۔ ہمیں جی آپ سے مسئلہ پوچھنا ہے۔ میں نے کہا میں مفتی نہیں ہوں۔ کہتے ہیں نہیں بس وہ صرف آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ میں نے کہا چلو کیا بات ہے؟ کہتے ہیں میرے ساتھی نے جو ہے نا غصے میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ تو اس کا کیا ہے؟ میں نے کہا ہو چکی۔ اس میں اب دوسری بات کیا ہے؟ کہتے ہیں غصے میں دیا ہے۔ میں نے کہا طلاق کوئی پیار میں دیتا ہے؟ بھئی اگر آپ نے طلاق بھی دینا ہے تو پوچھ لیتے، اس وقت پوچھنے کی بات تھی کہ کیسے طلاق دوں؟ شرعی طریقہ کیا ہے؟ تو شرعی طریقہ ہم بتا دیتے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ آپ کے پاس چانس بھی ہوتا اور سبق بھی مل جاتا۔

تو میں نے کہا اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہو سکتا؟ میں نے کہا نہیں ہو سکتا۔ اب جب آپ نے... مثال کے طور پر ایک آدمی ہے، وہ دوسرے کو کہتا ہے بھئی گولی نہ مارو، گولی نہ مارو، گولی نہ مارو، گولی نہ مارو۔ اس وقت وہ غصے میں ہوتا ہے اور پھر گولی چلا دیتا ہے وہ آدمی مر جاتا ہے۔ اور پھر وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کہ اس کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا؟ پھر ڈاکٹر کیا کر سکتا ہے بھئی جب آدمی مر جائے پھر اس کے بعد کیا کر سکتا ہے؟ تو مطلب یہ ہے کہ limit ہوتی ہے، ہر چیز کی limit ہوتی ہے۔ تو یہ تو انسان چاہتا نہیں ہے، لیکن وہ چیزیں پھر ہو جاتی ہیں اور وہ چیزیں برداشت بھی نہیں ہوتیں، تو مسائل پھر پیدا ہو جاتے ہیں بہت زیادہ۔


تو اس میں یہی والی بات تھی کہ اگر کوئی دوبارہ نکاح کرنا چاہے اور دوبارہ نکاح کرنے کے سامان ہوں یعنی ایک طلاق دی ہو یا دو طلاقیں دی ہوں۔ تو وہ پھر دوبارہ نکاح کر لے تو اس کو روکا نہ جائے۔ اگر وہ اس ان کو سبق مل گیا ہو تو ان کے لیے بہترین جگہ پرانا شوہر ہی ہے۔ یا...

ان باتوں کی نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جا رہی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہی تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ طریقہ ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (232)

بے شک۔

مطلب یہ ہے کہ چونکہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا ہو تو وہ تو اس نصیحت کو قبول نہیں کریں گے۔ اور آخرت سے ڈرانے والی بات ہے، آخرت میں اس کا نقصان ہوگا۔ تو اگر کوئی آخرت پر یقین نہیں کرتا تو ظاہر ہے اس کے لیے تو یہ بات پھر نہیں ہو سکتی۔ تو اس وجہ سے فرمایا،

ان لوگوں کے لیے کی جا رہی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ بے شک۔






قرآن کی روشنی میں طلاق کے شرعی احکام، جاہلانہ رسوم کا خاتمہ اور رجوع کی اہمیت - درسِ قرآن - دوسرا دور