الحمد لله رب العالمين، والصلوة والسلام على خاتم النبيين، أما بعد۔فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔
حکمرانوں کے ظلم پر صبر کی تلقین
(51) ﴿وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَ أُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَ تَسْأَلُونَ اللهَ الَّذِي لَكُمْ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾
وَالْأَثَرَةُ: الْاِنْفِرَادُ بِالشَّيْءِ عَمَّنْ لَّهٗ فِيهِ حَقٌّ۔
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایک دوسرے پر ترجیح کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور کچھ ایسے امور جن کو تم ناپسند کرو گے، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں کیا حکم ہے؟ فرمایا جو حقوق تم پر ہیں تم ان کو ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے سوال کرتے رہو۔“
یعنی جس میں دوسروں کا بھی حق ہو اس کا اکیلے حق دار بن جانا، یہ ترجیح ہے۔ اثرۃ ہے۔
اور سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ، میرے بعد ایک دوسرے پر ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ میرے دنیا سے جانے کے بعد اگر ایسے حکمران ہوں جو تمہارا جائز حق بھی ادا نہ کریں اور تم پر اپنے اقرباء وغیرہ کو ترجیح دینے لگیں تو اس وقت میں صبر سے کام لینا۔
ایک دوسری روایت میں فرمایا گیا:إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَ أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَاسْئَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ۔
ترجمہ: یقیناً تم میرے بعد اپنے ترجیحی سلوک اور بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھو گے جس کو تم برا سمجھو گے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر آپ ﷺ ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم ان حاکموں کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔
محدثین فرماتے ہیں کہ جب امیر کی امارت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ اس پر امام نوویؒ نے اجماع نقل کیا ہے۔ اور اگر ناجائز بات کا حاکم حکم دے تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی مگر اس صورت میں اس کی امارت سے بغاوت یا منازعت جائز نہیں البتہ اگر اس کی طرف سے کفر بواح (بالکل کھلم کھلا کفر) سامنے آجائے تو اب اس کے خلاف بغاوت بھی ہوگی اور منازعت بھی۔ حاکم کی طرف خلاف شرع حرکات سرزد ہوں تو دل سے برا سمجھنا ضروری ہے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کی تدابیر بھی سوچتے رہنا چاہئے۔ جو شخص قلباً و عملاً اس کی ان حرکات میں شریک ہوگا اس سے بھی عنداللہ مواخذہ ہوگا۔
تخریج حدیث: رواه البخاری فى كتاب الانتباه (باب علامات النبوة فى الاسلام) و فى الفتن (باب قول النبي ﷺ سترون بعدي امورا تنكرونها) رواه مسلم فى كتاب الامارة (باب وجوب الوفاء ببيعة الخلفاء الاول فالاول) و اخرجه امام احمد فی مسنده 3640 ابن حبان 4587، والبيهقى 157/8۔
اللہ اکبر! مطلب یہ ہے کہ ایک تو ہے اجتماعی مسائل کا حل اور ایک ہے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا۔ تو ظاہر ہے اللہ پاک کا حکم تو کسی کے لیے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس وقت کرنا کیا چاہیے؟ تو ایسے طریقے سے کام کرنا چاہیے کہ اجتماعی مسائل میں خلل نہ پڑے۔ مطلب اس قسم کی بات ہو۔ مثلاً تدبیریں سوچنا، اس کے لیے تو جائز ہے۔ اور اس کے لیے مختلف طریقوں سے تدبیریں اس طرح سوچنا کہ وہ چیز صحیح ہو جائے، جیسے حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کرتے رہے۔ یا جو ہمارے دوسرے لوگوں کے وقت میں ہمارے بزرگ کرتے رہے ہیں۔
لیکن یہ جو بات ہے کہ ان کے لیے حق کو چھوڑا جائے، وہ بات نہیں ہے۔ یعنی اگر وہ پوچھ لے تو حق بیان کر لیا جائے کیونکہ جابر حاکم کے سامنے کلمۂ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ وہ جو سب کو اکٹھا کرنا، ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنا، اس میں ذرا تفصیلات ہیں۔ کیونکہ اس وقت اگر ایسا ہو جائے تو اگر طاقت کم ہو، تو بالکل جو حق کی ذرا سی امکان، کوشش کی ہو سکتی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔
تو ایسی صورت میں اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کی بات ہو کہ باہر سے حملہ ہو جائے، تو پھر تو ظاہر ہے مقابلے کی صورت ہے جیسے کہ افغانستان میں ہوا۔ یا دوسری جگہوں پر۔ لیکن اگر ایسی بات ہے کہ اپنے ملک میں جو حاکم ہے، وہ شریعت کے مطابق کام نہیں کر رہا، تو ظاہر ہے مطلب ان کی اس غلط بات کو غلط ہی سمجھا جائے گا۔ اگر بیان کیا جا سکے تو بھی بہتر ہے، ضرور اچھا ہے۔ لیکن اگر بیان نہ کر سکے تو دل سے تو کم از کم برا سمجھے۔
البتہ ہاتھ سے روکنے کا اختیار اس وقت ہے جب انسان اس کی طاقت رکھتا ہو۔ یعنی طاقت رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یا تو حاکم ہو، تو روک دے۔ یا پھر یہ بات ہے کہ اس حاکم کو روکنے کی طاقت ہو۔ یعنی اس میں کوئی فتنہ وغیرہ کھڑا نہ ہوتا ہو، بلکہ اس کا روک کر سکتے ہو۔ اتنی طاقت اگر ہو تو پھر تو ٹھیک ہے۔ لیکن اپنی طاقت کا غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ یہ اس میں بہت ساری باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح حکمت سمجھا دے اور اس کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔