ایمانیات اور عقائدِ اہلِ سنت و الجماعت: مکتوباتِ امام ربانی کی روشنی میں

حصہ اول - اشاعت اول: اتوار، 31 مئی 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

دین کے تین بنیادی حصے: ایمان، اسلام اور احسان۔

ایمان کی اہمیت، دل سے تصدیق اور اعمال کی قبولیت میں ایمان کا کردار۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوب کے حوالے سے اللہ کی نعمتوں اور صفات کا تذکرہ۔

انسان کی حقیقت (حضرت علیؓ کے قول کی روشنی میں) اور منعمِ حقیقی (اللہ) کا شکر۔

اللہ تعالیٰ کے بنیادی عقائد (وجودِ باری تعالیٰ، توحید، صفاتِ قدیمہ کا کمال)۔

یونانی فلاسفہ (حکماء) اور جدید Science (Physics, Chemistry, String theory) کے محدود نظریات کا تنقیدی جائزہ۔

جنت میں رویتِ باری تعالیٰ (دیدارِ الٰہی) کا عقیدہ۔

خلق اور کسب کا فرق: انسان کے افعال اور مسئلہ جبر و قدر (بندے کا اختیار اور اللہ کی قدرت)۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


آج اتوار ہے اور تھوڑی سی تاخیر کے ساتھ بات شروع کر رہے ہیں۔ اصل میں ہمارا جو دین ہے وہ بہت ہی صاف ستھرا اور پاک دین ہے اور اس میں ہماری پوری پوری رہنمائی کی گئی ہے۔ تو یہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے، دوسرا حصہ اعمال کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور تیسرا حصہ ان اعمال کی جان، یعنی احسان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یہ وہ تین سوال تھے جو آپ ﷺ سے کیے گئے تھے: مَا الْإِيمَانُ؟ مَا الْإِسْلَامُ؟ اور مَا الْإِحْسَانُ؟

اس وجہ سے سب سے پہلا نمبر جو ہے یہ ایمانیات کا ہے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہے۔ اس وجہ سے ایمان لانا اور ایمان پر قائم رہنا، یہ بہت ہی اہم اور ضروری ہے۔ ایک طرف اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر ایمان نہ ہو تو اعمال قبول نہ ہوں، اور دوسری طرف آسان اتنا ہے کہ اس کے لیے نہ زبان ہلانے کی مطلب ضرورت ہوتی ہے، نہ کچھ مسلسل عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل ایمان تو دل کا ہوتا ہے۔ جو زبان پر اس کا اظہار ہے وہ اصل میں لوگوں کے لیے ہوتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ پھر مسلمان جیسا معاملہ کر لیں۔ تو اس وجہ سے إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ، تو تَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ جو ہے نا یہ تو لازم ہے کیونکہ اگر زبان سے کہہ دیا اور دل نے تصدیق نہیں کی تو یہ منافقت ہے۔ تو یہ جو ایمان ہے، یہ بہت ہی اہم ہے، لیکن آسان اتنا ہے کہ اس کے لیے کچھ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بس اس کو دل سے تسلیم کرنا ہوتا ہے اور زبان سے اگر کہہ دے تو اس کے اپنے ثمرات ہیں۔


اب ذرا غور فرمائیے کہ ایک دفعہ اگر کوئی ایمان لایا، اس کے بعد اس نے اس کو بار بار کہنا نہیں ہے کہ میں ایمان لایا، میں ایمان لایا۔ نہیں، بس ایک دفعہ ایمان لانا کافی ہوا۔ اس کے خلاف کوئی کام نہ کرے۔ یعنی جو کام ایمانیات کے خلاف ہو، جس پر ایمان لایا ہے، وہ اگر کرے گا تو پھر ختم ہو جائے گا۔ پھر دوبارہ نئے سرے سے ایمان لانا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کیا، تو وہ ایمان موجود ہے، اس کے بعد پھر اس کی تجدید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تو یہی اصل میں جیسے نماز میں ہم نیت کرتے ہیں نماز کی، تو اب نیت جو ہے نا وہ وہی ایک ہی ہوتی ہے، اس کے بعد پھر اعمال کی باری ہوتی ہے۔ اعمال انسان کرتا رہتا ہے، اور وہ کیا ہے؟ کبھی رکوع ہے، کبھی سجدہ ہے، کبھی قیام ہے، کبھی... لیکن یہ کہ وہ نیت وہی پہلی والی ہوتی ہے، وہ چل رہی ہوتی ہے۔ تو اس طرح ایمان جو ہے یہ پہلی والی چل رہی ہوتی ہے اور اعمال اس کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہوتے ہیں اور اعمال کی قیمت موجود ہوتی ہے، لہٰذا اعمال کی قیمت کی وجہ سے یہ شخص بڑھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اعمال کے اندر اگر طاقت نہ ہو، تو ظاہر ہے پھر وہ اس کا صلہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو اس وجہ سے اس کی طاقت بھی بڑھانی پڑتی ہے۔ یا اس کے اندر جان جو ہے وہ ڈالنی پڑتی ہے، جس کو بعض حضرات نے "حال" کہا ہے۔ یعنی قال اور حال، اس قسم کی بات کی ہے، وہ اس کے اندر جان ڈالنے والی بات ہوتی ہے۔

تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مریدنی خاتون تھیں، ان کے نام دینی عقائد اور عبادات شرعیہ کی ترغیب میں ایک مکتوب صادر فرمایا تھا۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں میں یہ پیش کر لوں۔

مکتوب17

ایک اہل ارادت صالحہ خاتون کے نام صادر فرمایا۔۔۔ دینی عقائد اور عباداتِ شرعیہ کی ترغیب میں۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھَدنَااِلَی الْاِسْلَامِ وَجَعَلَنَا مِنْ اُمَّتِہ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْاَنَامِ عَلَیْہِ وَ عَلیٰ اٰلِہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَام (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہم پر انعام کیا اور ہم کو اسلام کی طرف ہدایت فرمائی اور ہم سیدالانام حضرت محمد علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام کی امت میں بنایا)۔

جاننا چاہئے کہ حضرتِ حق سبحانہ وتعالیٰ منعم علی الاطلاق (بغیر تخصیص ہر ایک پر انعام کرنے والا) ہے۔ اگروجود ہے تو وہ بھی اس تعالیٰ کے جناب قدس کی بخشش ہے۔ اور اگر بقا ہے تو وہ بھی حضرتِ جل سلطانہ کی عطا ہے۔ اور اگر صفاتِ کاملہ حاصل ہیں تو وہ بھی اس سبحانہ وتعالیٰ کی رحمتِ شاملہ سے ہیں۔ زندگی، دانائی، توانائی، بینائی، شنوائی اور گویائی سب حضرت جل شانہ ہی سے فیض یافتہ ہیں۔

یہ حضرت نے گویا کہ یہ ارشاد فرمایا کہ ہمیں جو بھی خیر ملتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے۔ اس وجہ سے ہم جو بھی مانگیں، اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور اللہ ہی دینے والا ہے، اللہ ہی دینے والا ہے۔

اور طرح طرح کی نعمتیں اور قسم قسم کی نوازشیں جو حدوشمار سے باہر ہیں وہ بھی جنابِ قدس ہی کے فیض سے ہیں۔ اور تنگی و سختی کو وہی دور فرماتا ہے۔ دعاؤں کو قبول اور مصیبت کو وہی سبحانہ دور کرتا ہے۔ وہ ایسا رزّاق ہے جو اپنی کمال مہربانی سے بندوں کا رزق ان کے گناہوں کے باجود بند نہیں کرتا۔ اور وہ ایسا ستّار (پردہ پوشی کرنے والا) ہے جو اپنی عفوودرگذر سے بندوں کے گناہوں کے مرتکب ہونے کے باوجود ان کی پردہ دری نہیں کرتا۔ وہ ایسا حلیم و بردبار ہے کہ (بندوں سے) مواخذہ کرنے میں اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ ایسا کریم ہے (سبحان اللہ) کہ اپنے عام کرم کو دوست اور دشمن سے باز نہیں رکھتا۔ ان تمام نعمتوں، عزتوں اور اکرام سے زیادہ اجل و اعظم نعمت ‘‘اسلام’’ کی دعوت ہے،

کیونکہ کچھ چیزیں دنیا میں ملتی ہیں جو کافر کو بھی ملتی ہیں۔ مثلاً کھانا کافر کو بھی ملتا ہے، لباس کافر کو بھی ملتا ہے، سرسری عزت کافر کو بھی مل سکتا ہے، سرسری عزت، سامنے والی جو عزت ہے۔ اصل عزت تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، رسول کے لیے ہے اور مومنین کے لیے ہے، لیکن بہرحال... تو یہ ہے کہ یہ کافر کو بھی مل سکتے ہیں۔تو اصل چیز جو ہے وہ اسلام ہے کیونکہ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ دنیا میں رہ کر اسلام پر رہنا آخرت کے لیے ہے۔

، اور دارالسلام (جنّت) کاراستہ دکھانا اور سیدالانام علیہ و علیٰ آلہ الصلوٰۃ و السلام کی متابعت کی طرف رہنمائی فرمانا ہے جو حیاتِ ابدی اور دائمی نعمتوں سے وابستہ ہے، اور رضائے مولیٰ اور اس سبحانہ کی لقا ان ہی سے متعلق ہیں۔۔۔ مختصر یہ کہ اس تعالیٰ کے انعام و اکرام اور احسان اظہر من الشمس (آفتاب سے زیادہ روشن) اور اجلیٰ من القمر (چاند سے زیادہ منور) ہیں دوسروں (لوگوں) کے انعامات اس ذات تعالیٰ کی قدرت دینے پر منحصر ہیں اور ان کا احسان مقروض سے قرض مانگنا اور محتاج سے سوال کرنا ہے۔ بےوقوف بھی عقلمندوں کی طرح اس معنی کا اقرار کرتے ہیں اور کند ذہن لوگ بھی ذہین لوگوں کی طرح اس بات کے معترف ہیں۔

اور اس میں شک نہیں کہ عقل بلاتامل منعم کے شکر کے وجوب کاحکم دیتی ہے اور اس کی تعظیم و توقیر کو لازم قرار دیتی ہے۔

مطلب جو بھی عقلمند ہوگا، تو جو شخص بھی اس پر انعام کرے گا، اس کا منعم ہوگا تو اس کا شکر وہ کرے گا، کیونکہ شکر کے ذریعے سے وہ مزید انعام دیتا ہے۔

پس حضرتِ حق سبحانہ وتعالیٰ جو کہ منعمِ حقیقی ہے اس سبحانہ کا بغیر تامل شکرادا کرنا عقلی طور پر بھی واجب ہو گیا اور اس تعالیٰ کی تعظیم و تکریم لازم ہو گئی ۔ اور چونکہ حضرتِ حق سبحانہ وتعالیٰ کمال درجہ تقدس و پاکیزہ ہےاور بندے نہایت درجے گندگی اور آلودگی کی حالت میں ہیں۔

اصل میں یہ باتیں لوگوں کو بڑی عجیب لگتی ہیں لیکن اصل میں یہ بات ہے۔ ہماری ہر چیز کے ساتھ گندگی شامل ہے۔ بے شک ہم اس کا احساس نہ کرتے ہوں۔

یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس کوئی شخص آیا، اس سے کوئی بات کی، تو اس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے میں کون ہوں؟ اس نے کہا جی بالکل پتہ ہے۔ آپ پہلے گندے قطرے تھے اور پھر اس کے بعد اب گندگی کے ڈول ہو، اور پھر گندگی کے ڈھیر ہو گے۔ تین حالتیں بیان کیں۔ ماضی، حال، مستقبل۔ ماضی میں گندا قطرہ کہا، وہی بالکل، گندے قطرے سے سارے لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ اور گندگی کا ڈول اس لیے کہا کہ آپ Skin کے نیچے جب بھی جائیں گے تو گندگی ہو گی۔ خون گندا ہے، تھوک گندا ہے، بلغم گندا ہے، بول و براز گندا ہے۔ کون سی چیز ہے جو گندی نہیں ہے؟ اور یہ سب کے اوپر اللہ پاک نے پردہ ڈالا ہوا ہے۔ ایک انسان جو کہ اپنے آپ کو بڑا محترم سمجھتا ہے، اس کے اندر اندر یہ ساری چیزیں گندگی ہیں۔ اس وجہ سے جس طرح اللہ پاک نے اس گند کو چھپایا ہوا ہے اور بظاہر اس کو ماشاءاللہ ایک حسین صورت دی ہے، اس طرح اللہ پاک ہماری باطنی گند کو جب چھپاتا ہے تو اس کے ذریعے سے ہی ہم چلتے ہیں ورنہ اگر نہ چھپائے تو گند ہی گند ہے۔ اس میں کوئی بات نہیں، ہماری بات کے اندر گند ہو گی، ہمارے چلنے کے اندر گند ہو گا، ہمارے پکڑنے کے اندر گند ہو گا، ہمارے دیکھنے کے اندر گند ہو گا، ہمارے سوچنے، ہمارے بولنے تمام چیزوں کے اندر گند ہی گند ہو گا اگر ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکی اور صفائی نہ ملے۔ یہ بات حضرت فرما رہے ہیں۔

لہٰذا اپنی کمال بے مناسبتی کی وجہ سے وہ کیا سمجھ سکتے ہیں کہ اس تعالیٰ کی تعظیم کس چیز میں ہے اور اس سبحانہ کی تکریم کس امر میں ہے۔۔۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ بعض امور کا اطلاق اس کی جنابِ قدس میں اچھا سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس تعالیٰ کے نزدیک بُرا ہوتا ہے، جس کو وہ تعظیم خیال کرتے ہیں وہ توہین ہوتی ہے اور جس کو وہ تکریم تصور کرتے ہیں وہ تحقیر ہوتی ہے، لہٰذا جبتک اس تعالیٰ کی تعظیم و تکریم اسی سبحانہ کی جنابِ قدس سے مستفاد (حاصل) نہ ہو اُس سبحانہ کے شکر کے لائق نہ ہوگی۔

مثلاً میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تعظیم ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن کیسے کروں؟ ظاہر ہے اس کے لیے اگر میری رہنمائی نہ کی جائے تو میں نہیں کر سکتا۔ مثال دیکھو ایک آدمی نماز پڑھتا ہے، اس نماز کے اندر ایک رکعت کے اندر تین سجدے کرتا ہے، چار سجدے کرتا ہے، تو بظاہر تو اس نے زیادہ تکریم کی، زیادہ تعظیم کی، لیکن اس کی نماز ہی گئی۔ کیوں؟ اس نے توہین کی۔ کس چیز کی توہین کی؟ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی توہین کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان کیا تھا؟ نماز آپ ﷺ کی طرح پڑھو۔ یعنی آپ ﷺ نے فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي. تو اس نے نبی کی جو بات کی توہین کی تو یہ اللہ تعالیٰ کی بات کی توہین کی۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ گویا کہ بظاہر تو میں نے تکریم کی بظاہر، لیکن حقیقت میں کیا کیا؟ حقیقت میں میں نے تحقیر کی۔ تو یہ بات حضرت فرما رہے ہیں۔اس وجہ سے ہمیں اس طرف دیکھنا ہو گا کہ وہ کیا فرماتے ہیں۔

کیونکہ وہ حمد (تعریف) جواِن (بندوں) کی طرف سے ہوگی ہو سکتا ہے کہ وہ مذمت ہو اور مدح قدح بن جائے ۔ اور اس کی تعظیم و توقیر او ر تکریم کا طریقہ جو اس ذاتِ عالی کی بارگاہ سے ہم کو حاصل ہوا ہے اس کی نسبت بھی آنحضرت علی مصدرہا الصلوٰۃ و السلام و التحیتہ کی شریعتِ حقّہ سے ہے۔۔۔ اگر تعظیم قلبی ہے تو وہ بھی شریعتِ حقہ میں بیان ہو چکی ہے اور اگر زبانی تعریف ہے تو اس کی دلیل بھی وہیں سے ملتی ہے۔اعمال و افعالِ جوارح (یعنی افعالِ ظاہرہ) کی تفصیل بھی صاحبِ شریعت نے بیان فرمائی ہے لہٰذا اس تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی کاانحصار بھی شریعت کی بجاآوری پر ہوا۔ قلباً و قالباً اعتقاداً و عملاً اور ہر قسم کی تعظیم اور عبادت جو اس سبحانہ کے لئے ہوتی ہے اگر شریعت کے علاوہ (طریقہ پر) ادا کی جائے تو وہ قابلِ اعتماد نہیں ، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ محصل اضداد (شریعت کے خلاف حاصل ہونا) ہوتی ہے اور حسنۂ متوہمہ (وہمی بھلائی) حقیقت میں برائی ہوتی ہے۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ یعنی اصل میں ظاہر اچھائی نظر آتی ہے لیکن اصل میں برائی ہوتی ہے۔

لہٰذا مذکورہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عقل کے نزدیک بھی شریعت پر عمل کرنا واجب ہوا اور منعم تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی بھی شریعت کی بجا آوری کے بغیر محال ہے۔۔۔ اور شریعت کے دو جزء ہیں، اعتقادی اور عملی ۔ اعتقادی (جزء) اصول دین سے متعلق ہے اور عملی فروعِ دین سے۔ بدعقیدہ آدمی نجات پانے والوں میں سے نہیں اور اس کے حق میں عذابِ آخرت سے خلاصی بھی متصور نہیں۔ البتہ فاقدِ عمل (بدعمل آدمی) کے لئے نجات کا احتمال ہے۔

جیسا کہ ابھی میں نے تھوڑی دیر پہلے عرض کر چکا ہوں۔

کہ اس کا معاملہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی مشیت کے سپرد ہے، اگر چاہے تو معاف فرمائے اور اگر چاہے تو گناہوں کے اندازے کے مطابق سزا دے۔ دوزخ میں ہمیشہ رہنا بدعقیدہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے اور ضروریات دین کے منکر کے لئے خاص ہے اور بدعمل شخص اگرچہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا لیکن اس کے حق میں دائمی داخلہ دوزخ مفقود ہے۔

(یعنی دوزخ میں)۔

اور چونکہ اعتقادات کا تعلق اصول ِدین اور ضروریاتِ اسلام سے ہے اس لئے ناچاران کو بیان کیا جاتا ہے اور عملیات فرع ہونے کے باوجود چونکہ ان میں تفصیل ہے اس لئے کتبِ فقہ کے حوالے سے ان میں سے بھی کچھ حصہ بعض ضروری عملیات کی ترغیب میں بیان کیا جائے گا۔

اصل میں عقائد تھوڑے ہیں کیونکہ بنیادی ہیں، اصولی ہیں۔ اصول کم ہی ہوتے ہیں، جیسے جڑ تھوڑی ہوتی ہے اور درخت اس کے پاس جو قائم ہوتی ہے وہ بہت وسیع اور عریض ہوتی ہے۔ تو اس طرح اصول جو ہوتے ہیں تھوڑے ہوتے ہیں لیکن اس کے اوپر ہی وہ تمام فروع قائم ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے فرماتے ہیں کہ اعتقادات کو میں بیان کرتا ہوں کیونکہ اسی پر تمام اعمال کا دارو مدار ہے، اور اعمال چونکہ بہت زیادہ ہیں اس وجہ سے اس میں سے کچھ حصہ بیان کیا جائے گا۔

اعتقادیات

عقیدہ(1) اللہ تعالیٰ بذاتِ اقدس خود موجود ہے ، اور اس تعالیٰ کی ہستی اپنی خودی سے خود ہے اور وہ تعالیٰ جیسا کہ ہمیشہ سے ہے اب بھی ویسا ہی ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا ۔ عدمِ سابق اور عدمِ لاحق کو اس تعالیٰ کی جنابِ قدس میں کوئی راہ نہیں ہے کیونکہ وجوبِ وجود اس مقدس درگاہ کا کمینہ خادم ہے اور سلبِ عدم اس بارگاہِ محترم کا کمینہ خاکروب ہے۔۔۔

یہ اصل میں حضرت نے ایک بہت اہم بات فرمائی ہے، لیکن آپ لوگوں کے لیے اس وجہ سے اتنا زیادہ سمجھ میں آنے والی نہیں ہو گی کیونکہ یہاں ہمارے ہاں اس پر ڈسکشن بہت زیادہ نہیں ہوتے۔ الحمد للہ اپنے بزرگوں اور علماء کی برکت سے پہلے سے ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں اس وجہ سے ہمیں کوئی اتنا زیادہ محسوس نہیں ہو رہا۔

ہمارے بہشتی زیور میں سب سے پہلا عقیدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ بھی نہیں تھا، اللہ پاک نے اپنے حکم سے سب کچھ پیدا فرما دیا۔ تو یہ کچھ بھی نہیں تھا، یہ عدم ہے۔ یہ عدم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے، اپنے حکم سے ساری چیزیں پیدا فرما دیں، یعنی اس کو استقرار بخشا۔ تو یہ گویا سلبِ عدم ہے۔ سلبِ عدم سے مراد یہ ہے کہ جو چیز کچھ نہیں تھا اس کو ختم کرنا اور وجود میں کوئی چیز لانا۔ تو اللہ تعالیٰ وجود میں سب کچھ لا چکے ہیں اور خود اس وجود کے ساتھ موجود نہیں ہے کیونکہ یہ تو مخلوق ہے۔ یہ تو مخلوق ہے، یہ وجود جو ہمیں نظر آتا ہے یہ تو مخلوق ہے۔ تو مخلوق کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ موجود نہیں ہو سکتے۔ مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا ہوا ہے۔ تو وہ خود اپنے آپ کے ساتھ موجود ہے یعنی بذاتِ اقدس خود موجود ہے۔ اس کے لیے کسی اور یعنی وجود کی ضرورت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کے وجوبِ وجودمیں، نہ اس کی الوہیت میں

یعنی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ واجب الوجود بھی کوئی نہیں ہے اور الہ بھی کوئی نہیں ہے۔

اور نہ استحقاقِ عبادت میں،

یعنی عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ،... یہ تینوں معنی اس میں ہیں، لَا إِلٰهَ میں۔ یعنی الوہیت میں بھی کوئی نہیں ہے، واجب الوجود بھی کوئی نہیں ہے، اور مستحقِ عبادت بھی کوئی نہیں ہے۔ نہیں کوئی مستحق عبادت کے، نہیں کوئی عبادت کے لائق، ہم بیان کرتے ہیں نا: نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، نہیں کوئی موجود مگر اللہ، اور نہیں کوئی الہ مگر اللہ۔ تو یہ والی بات،

کیونکہ شریک تو اس وقت درکار ہوتا ہے جب وہ تعالیٰ کافی نہ ہو اور مستقل نہ ہو، اور یہ نقص کی علامت ہے جو وجوب و الوہیت کے منافی ہے۔ اور جبکہ وہ کافی او رمستقل ہے تو اس کا شریک بیکارو عبث ہوگا

یعنی خود چونکہ وہ اپنے آپ میں مستقل ہے، اس کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے، تو پھر کسی شریک کی کیا ضرورت ہے؟ گاڑی جب چلا رہا ہوتا ہے تو انسان خود ہی چلا رہا ہوتا ہے، جب خراب ہو جائے تو پھر کیا کرتا ہے؟ باہر نکل کے راہگیروں کو ادھر ادھر دیکھتے ہیں، اگر کہتے نہیں بھی ہیں تو بنظرِ سوال لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ کوئی آئے اور میرے ساتھ مدد کر لے۔ تو میرے ساتھ گاڑی کو دھکا دے دے۔ کوئی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ زبان سے نہیں کہہ سکتے لیکن اپنے حال سے کہتے ہیں، کیونکہ لوگ کمزور ہیں، وہ نہیں کر سکتے سارے کام، خود سے سارے کام نہیں کر سکتے۔ لہٰذا لوگوں کی مجبوری ہے، لیکن اللہ کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اللہ کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام کاموں میں خود ہی سب چیزوں کے لیے کافی ہے۔

فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ۔ وہ جو فرماتے ہیں، ہمارے لیے اللہ پاک کافی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کے اندر کافی ہے، اس وجہ سے کسی شرک کی ضرورت نہیں ہے۔

(عقیدہ2) اور اس سبحانہ وتعالیٰ کی صفات کاملہ ہیں۔

کامل سے مراد اس کے اندر بھی کوئی نقص نہیں ہے۔ صفت میں بھی کوئی نقص نہیں۔ میری بینائی میں نقص ہو سکتا ہے، اللہ جل شانہ کا جو ہے دیکھنا، وہ کامل ہے۔ اتنا کامل ہے کہ اندھیروں میں، سو اندھیروں میں چیونٹی، سیاہ پتھر کے اوپر چل رہی ہو، تو اللہ پاک اس کو بھی دیکھتا ہے۔ اس کے لیے کسی Infrared کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ خود ہی سارا کچھ وہ کرتے ہیں۔

جیسے حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع ، بصر، کلام اور تکوین۔ اور ان صفاتِ ثمانیہ (آٹھ صفتوں) کو ‘‘صفاتِ حقیقیہ’’ کہتے ہیں جو کہ قدیم ہیں۔

یعنی یہ جو حیات ہے، اللہ پاک کی صفت ہے، قدیم ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کے ساتھ حیات چلی آ رہی ہے، قدیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بھی قدیم ہے، اللہ پاک کی قدرت بھی قدیم ہے، اللہ پاک کا ارادہ بھی قدیم ہے، اللہ پاک کا سمع بھی قدیم ہے، اللہ پاک کا بصر بھی قدیم ہے، اللہ پاک کا کلام بھی قدیم ہے، اللہ پاک کا تکوین بھی قدیم ہے۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدیم ہے، کیونکہ اللہ پاک قدیم ہے۔ اور یہ اللہ پاک کی صفاتِ حقیقیہ ہیں۔ لیکن یہ صفات اللہ نہیں ہیں۔ یہ صفات اللہ نہیں ہیں۔ یہ اللہ پاک کی صفات ہیں، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو اس وجہ سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ بالکل یعنی اس ذات کے ساتھ ملحق بھی نہیں ہے لیکن ذات کے ساتھ ہیں۔

اور حق تعالیٰ و تقدس کی ذات پر وجودِ زائد کے ساتھ خارج میں موجود ہیں۔

وجودِ زائد یعنی اپنے طور پر یہ موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ وجودِ زائد۔ مثلاً دیکھنے کو تو میں خدا نہیں کہہ سکتا نا، لیکن دیکھنا ہے اللہ پاک کا، اللہ پاک کا دیکھنا ہے۔ تو وجودِ زائد ہے لیکن بہرحال... اور خارج میں موجود ہیں لیکن یہ ہے کہ یہ اللہ پاک کے ساتھ ہے۔

جیسا کہ علمائے اہلِ حق شکراللہ تعالیٰ سعیہم کے نزدیک مقرر ہے۔ اور اہلِ سنت شکر اللہ تعالیٰ سیعہم کے علاوہ مخالف فرقوں میں سے کوئی بھی صفاتِ زائدہ کے وجود کا قائل نہیں، یہانتک کہ فرقہ ناجیہ کے صوفیائے متاخرین بھی ان صفات کو عینِ ذات کہتے ہیں۔

یعنی یہ اصل میں ایک باریک نکتہ ہے۔ کہ یہ عینِ ذات ہے یعنی بالکل اس کے ساتھ ہے۔ جیسے مثال کے طور پر میں انسان کے کسی بھی جگہ ہاتھ رکھ دوں، میں کہوں گا یہ فلاں ہے۔ تو مطلب اس کو ہم عینِ ذات کہیں گے۔ لیکن اللہ جل شانہ کی یہ صفات زائد صفات کے ساتھ خارج میں موجود ہیں، اپنے طور پر موجود ہیں، لیکن ہیں جو صفات اللہ کی، وہ اللہ ہی کی ہیں۔

اور مخالفوں کے ساتھ موافقت اختیار کر لی ہے اگرچہ وہ بھی نفئ صفات سے پرہیز کرتے ہیں لیکن ان کے اصول اور متبادر (فوراً ذہن میں آنے والی) عبارتوں سے صفات کی نفی لازم آتی ہے۔ مخالفوں نے کمال کو صفاتِ کاملہ کی نفی میں خیال کیا ہے۔

یعنی گویا کہ اللہ پاک کے کمال کو اس طرح کیا ہے کہ وہ خود سے ہی ساری چیزیں ہیں مطلب اس کو کسی صفت کی بھی ضرورت نہیں ہے، آپ یوں کہہ سکتے ہیں۔ تو انہوں نے اسے کمال کے طور پر وہ کیا ہے۔

اور اپنی عقل کے پیچھے لگ کر نصوصِ قرآنی سے الگ ہو گئے ہیں ۔ ھَدَاھُمُ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ سَوَاءَ الصِّرَاطِ (اللہ سبحانہ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت فرمائے)۔۔۔ اور دوسری صفات یا تو اعتباری ہیں یا سلبیہ،

اعتباری سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی اعتبار کے لحاظ سے اس کی صفت ہے۔

جیسے قِدَم و ازلیت اور وجوب والوہیت۔

یعنی وہ انہی صفات کے ذریعے سے ثابت کیے جا سکتے ہیں۔

اور جیسا کہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جسم و جسمانی نہیں ہے، عرض وجوہر بھی نہیں،

یعنی اللہ کا کوئی جسم نہیں ہے، اور اللہ پاک جسمانی نہیں ہے۔ عرض بھی نہیں ہے، جوہر بھی نہیں ہے۔

مکانی و زمانی بھی نہیں، حال و محل بھی نہیں، محدود و متناہی بھی نہیں۔ وہ جہت سے بے جہت اور نسبت سے بے نسبت ہے۔ کُفارت اور مثلیت اس تعالیٰ کی جانبِ قدس میں مسلوب ہے۔

یعنی کوئی چیز اس کی طرح نہیں ہے۔

اور اس جَلَّ سُلْطَانُهُ کی بارگاہ میں ضدیت، یعنی ضد ہونا اور ندیت ہمسر ہونا مفقود ہے۔ وہ مادر، پدر، زن، فرزند سے پاک و مبرا ہے۔

یہ جو عیسائیوں نے باپ بنا دیا اور اس کا بیٹا بنا دیا، یہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے وہ نہیں ہے نا، نقص ہے۔ کیونکہ یہ سب، اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔

کیونکہ یہ سب حادث ہونے کی علامات ہیں اور ان سے نقص لازم آتا ہے۔ اور تمام قسم کے کمالات خاص اس تعالیٰ کی جنابِ قدس کے لیے ثابت ہیں، اور تمام قسم کے نقائص حضرت جَلَّ سُلْطَانُهُ کی بارگاہ سے مسلوب ہیں۔ مختصر یہ کہ امکان و حدوث کے تمام صفات جو سراسر نقص و شرارت ہیں، سب اللہ تعالیٰ کی جنابِ قدس سے مسلوب ہیں۔ امکان و حدوث، یعنی جو بعد میں پیدا کیے گئے ہیں، یہ حدوث ہے۔ اور امکان جس کو اپنی قدرت سے بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب چیزیں اصل میں تو نہیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو وجود دیا تو ظاہر ہے نقص میں اس کے اندر خود بخود موجود، اور اللہ تعالیٰ کے ارادے سے اس میں خوبی آئی ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے زیبا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ خود اپنے طور پر کامل ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ چیزیں زیبا نہیں ہیں۔ جو انسانی چیزیں ہیں، یعنی جو انسان کا خاصہ ہے، وہ اللہ پاک کے لیے نہیں ہے۔

اور وہ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ کلیات و جزئیات کا عالم ہے، اور اسرار و پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ آسمان اور زمینوں میں ایک حقیر ترین ذرہ کی مانند بھی کوئی چیز اس سُبْحَانَهُ کے دائرہ علم سے باہر نہیں۔ ہاں، چونکہ وہ تمام اشیاء کا خالق ہے، لہٰذا وہ تمام چیزوں کا جاننے والا بھی ہوا۔ کیونکہ پیدا کرنے والے کو پیدا کی ہوئی چیز کا علم ہونا لازمی ہے۔ کس قدر بے نصیب ہیں وہ لوگ (یعنی یونان کے فلسفی اور ان کے متبعین) کہ حضرت سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ کو جزئیات کا عالم نہیں جانتے۔

یعنی وہ کہتے ہیں کہ کلیات کا علم ہے، جزئیات کا علم نہیں ہے۔ جزئیات کو وہ حادث جانتے ہیں نا، تو وہ کہتے ہیں یہ اس کا علم نہیں ہے۔

اس بات کو اپنے ناقص عقل کی وجہ سے کمال سمجھتے ہیں۔ اور اپنے کمالِ بیوقوفی سے واجب الوجود کو ایک چیز سے زیادہ صادر کرنے والے نہیں جانتے۔

یعنی وہ کہتے ہیں عقلِ اول کو اللہ نے بنا دیا اور بس پھر فارغ ہو گیا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ۔ پھر عقلِ اول نے پھر آگے عقلِ ثانی کو بنا دیا، آسمانِ اول کو بنا دیا۔ پھر اس کے بعد پھر اس کے بعد سلسلہ... ایک عجیب بیوقوفانہ ترکیب ہے جو چل رہی ہے اور ہوتا رہتا ہے۔

اصل میں اپنے عقل سے ساری چیزیں سمجھنا چاہتے ہیں، عقل تو محدود ہے۔ عقل تو محدود ہے۔ تو وہ کیسے اس چیز کو، جو چیز جس کا کوئی مثال نہیں اس کو آپ کیسے جان سکتے ہیں اپنی عقل سے؟ آپ تو اصل میں عقل سے اس چیز کو جان سکتے ہیں جس کی مثال موجود ہو۔ میں یہاں تک کہتا ہوں کہ گڑ اور شہد جن نے دونوں کھائے ہوں، ان کے ذائقے میں کتنا فرق ہے؟ گڑ اور شہد کے ذائقے میں فرق ہے نا؟ لیکن جس نے گڑ اور شہد نہ کھائی ہو، آپ ان کو الفاظ میں سمجھا دیں کہ اس میں کیا فرق ہے؟ کوشش کر کے دیکھیں۔ کتابیں اس پر لکھیں۔ نہیں سمجھا سکتے... حالانکہ بالکل واضح بات ہے، جس نے کھائے ہوں اس کو الفاظ کی ضرورت بھی نہیں۔ اس کو چٹا دے بس۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ گڑ ہے یا یہ شہد ہے۔ پتہ چل جائے گا۔ لیکن اگر کھایا نہیں ہو، پھر آپ ان کو الفاظ میں سمجھائیں نا۔ کہ گڑ اور شہد کے اندر مٹھاس کے اندر کیا فرق ہے؟ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میں نے دو سائنسدانوں (ایک Physicist اور ایک Chemist) کو اپنے سامنے بٹھایا تھا، Class fellow تھے میرے۔ میرے ساتھ آئے ہوئے تھے ملنے کے لیے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا کہ Physics اور Chemistry میں کیا فرق ہے؟ اب جو تعریف وہ بتاتے ہیں اس پر میں مزید سوال کرتا۔ تو پھر وہ Confuse ہو جاتے۔ پھر پھر وہ اپنے طور پہ مزید تعریف کرتے، پھر میں اس پہ سوال کرتا۔ Physics اور Chemistry جو کہ بالکل واضح بالکل علیحدہ علوم ہیں، اس کے اندر فرق نہیں بتا سکے کہ Physics اور Chemistry کے اندر کیا فرق ہے۔ تو اور کیا چیزیں بتائیں گے؟

یعنی سائنسدانوں کی بات کر رہا ہوں، مطلب یہ کہ عام لوگوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں باریکی میں جو جاتا ہے وہ Chemistry ہے، اچھا تو میں کہتا ہوں Nuclear physics پھر کیا چیز ہے؟ وہ بھی تو باریکی میں جاتا ہے۔ بس پھر پھنس گئے۔ مطلب یہ ہے کہ جو جو بات کرتے ہیں اس کے لیے میں کوئی نہ کوئی اس کے لیے لفظ بتاتا ہوں، میں نے کہا اچھا پھر یہ کیا چیز ہے؟ بس اس میں وہ پھنس جاتے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہوتی ہے یعنی Properties کے ساتھ جو Deal کرتا ہے۔ یہ دونوں ہی Deal کرتے ہیں۔ کون Deal نہیں کرتا Properties کے ساتھ؟ تو یہ ساری باتیں جو ہیں نا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھی الفاظ کی تنگی آ جاتی ہے۔ الفاظ کی تنگی آ جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ والی بات ہے کہ الفاظ کی تنگی ہے۔اس میں آپ اپنے عقل کے ذریعے سے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ آپ کو کسی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم آیا ہے اس کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہو گی۔ یعنی وحی کی ضرورت ہو گی۔

اور اس کو ایجاب و اضطرار کے ساتھ، نہ کہ اختیار کے ساتھ، اس بات کو بھی کمال خیال کرتے ہیں۔ عجب جاہل ہیں کہ جہل کو کمال تصور کرتے ہیں۔ اور اضطرار کو اختیار سے بہتر جانتے ہیں۔ اور وہ جہل میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دوسری چیزوں کو اس سُبْحَانَهُ کے علاوہ غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور عقلِ فعال کو اپنی طرف سے تراش کر محدثات کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

عقلِ فعال! عقلِ فعال ان کا آخیر میں ہوتا ہے نا اس میں کہ عقلِ فعال جو ہے اب وہ سب کام کرتا ہے۔ اور اتنا زیادہ اس کو مشہور کر دیا فلک کو... کہ اردو میں، Literature میں، عربی Literature میں، فارسی Literature میں اتنا عام ہے کہ لوگوں کی زبان پر عام ہے، آسمان نے یہ دیکھا، آسمان... بھئی آسمان کو کیا کہہ رہے ہو؟ آسمان تو ایک مخلوق ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں انہوں نے ایسی جو ہے نا وہ کر لی کہ وہ ہمارے Literature کے اندر آ گئیں اور ہمارے بزرگوں تک کی زبان سے وہ چیزیں جاری ہو گئیں۔ وہ سن سن کے نا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے تو اپنے مطلب میں لے لیا، لیکن وہ جاری ہو گئیں۔


جیسے مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار ہیں۔

فَلَک در عشقِ او شیدا

زمیں از حب او ساکن فلک در عشق او شیدا

زمین ساکن ہے اور فلک جو ہے نا وہ شیدا ہے مطلب وہ چل رہا ہے۔ تو یہ اس وقت کی سائنس تھی یا اس وقت کی زبان زدِ عام باتیں تھیں جس کو حضرت نے اپنے اشعار میں بیان کر دیا، تو حضرت تو اس میں معذور تھے، لیکن مطلب یہ ہے کہ حقیقت کے تو خلاف ہے۔ حقیقت کے تو خلاف ہے مطلب، حقیقت تو اس کے مطابق نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آسمان بھی اللہ کی مخلوق ہے، زمین بھی اللہ کی مخلوق ہے، زمین بھی ساکن نہیں ہے، اور دنیا میں کوئی چیز ساکن نہیں ہے۔ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ۔ قرآن پاک جو کہتا ہے، سب چیزیں اپنے اپنے مدار میں حرکت کر رہی ہیں۔ تو یہ جو ہے نا مطلب یہ والی بات ہے کہ... وہ مشہور اتنی زیادہ ہو گئی چیزیں زبان میں کہ بزرگوں نے بھی ان کو استعمال کیا، استعمال کیا تو اس سے مسائل پیدا ہو گئے۔ لوگوں نے اس کو دین سمجھ لیا۔ حالانکہ دین نہیں ہے، وہ محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ دین کے طور پر استعمال نہیں ہوا، محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ محاورے کے طور پر استعمال ہونا اور بات ہوتی ہے، دین کے طور پر استعمال ہونا اور بات ہوتی ہے۔ یہی تو بات ہے سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کل کے بیان میں جو میں عرض کر رہا تھا جو فرما رہے تھے کہ تناسخِ ارواح اور یہ چیزیں لوگوں کی زبان پر آ گئی ہیں، وہ کیا چیز تھی؟ وہ یہی تو بات تھی کہ لوگوں میں ایک زبان پہ چیزیں آ گئیں اور لوگوں نے اس کے بارے میں بات کرنی شروع کی، جن میں بزرگ بھی شامل ہو گئے۔ لیکن اس کا دین کے ساتھ تو کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس فقیر کے نزدیک اس گروہ سے زیادہ بیوقوف دنیا میں کوئی جماعت وجود میں نہیں آئی۔

(یعنی فلسفی اور وہ جو جن کو عقلاء کہتے ہیں)۔

سُبْحَانَ اللهِ! اہلِ اسلام میں سے ایک ایسی جماعت ہے جو ان پلید لوگوں کو اربابِ معقول تصور کرتی ہے، ان کی ان باتوں کو حکمت کی طرف منسوب کرتی ہے

(حکماء ان کو کہتے ہیں)۔

اور ان کے جھوٹے احکام کو نفس الامر کے مطابق خیال کرتے ہیں۔

یہ بات بالکل صحیح ہے، حتیٰ کہ مدارس میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان کے اندر یہ چیزیں ہیں یا نہیں ہیں؟ تو یہ مطلب ظاہر ہے یعنی بعض لوگ ان کو حکماء کہتے ہیں، بعض لوگ ان کو ہوشیار لوگ کہتے ہیں، بعض لوگ ان کو کیا کہتے ہیں؟ تو دیکھو حضرت کیا فرما رہے ہیں؟ اور یقین جانیے، صحیح بات ہے حضرت نے بالکل صحیح... حضرت نے یہی تو مجددانہ کارنامہ تھا کہ حضرت نے ان تمام چیزوں کی اصل بتا دی۔ یعنی یونان کے تمام لوگوں کو ذہین آپ سمجھیں، تو جو یہ کہہ دے کہ اللہ نے عقلِ اول بنا دیا اور پھر فارغ ہو گیا۔ اب اس سے بڑا بیوقوف کوئی ہو گا؟ ہم کیسے مانیں؟ تو بیوقوفی کی تو انتہا ہے۔ لیکن، لیکن، لیکن لوگ ان کو حکماء مانتے ہیں یا نہیں؟ لوگ ان کو ہوشیار مانتے ہیں یا نہیں؟ یہ ساری چیزیں تو ہیں۔ تو حضرت نے ان چیزوں کی جڑیں کاٹ دیں ہیں۔ اس وقت ہنگامہ تو بہت ہوا تھا، لیکن بہرحال حضرت کی بات پھر لوگوں کو سمجھ میں آ گئی۔

یہ باتیں تو ہیں جی۔ یہ باتیں تو ہیں۔ آج بھی ہم جب حضرت کی باتیں کرتے ہیں تو لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ہوں گے ناراض، حضرت سے بھی لوگ ناراض ہوئے تھے، تو کیا ہوا؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تو یہ بات ہے کہ حضرت نے دیکھو بالکل ایسی کھری کھری باتیں کی ہیں۔ تو لوگ ناراض نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟

سُبْحَانَ اللهِ! اہلِ اسلام میں سے ایک ایسی جماعت ہے جو ان پلید لوگوں کو اربابِ معقول تصور کرتی ہے، ان کی باتوں کو حکمت کی طرف منسوب کرتی ہے، ان کے جھوٹے احکام کو نفس الامر کی طرف خیال کرتے ہیں۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔

اور وہ اللہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ایک کلام کے ساتھ متکلم ہے۔

یہ دیکھو نا، یہ بات کی... یہ اصل میں حضرت گویا اس دور کے جتنے بھی فتنے تھے، ان فتنوں کی تردید کر رہے ہیں، بغیر ان فتنوں کے نام لیے۔ عقیدے درست کر رہے ہیں۔ فتنہ خلقِ قرآن، ایک فتنہ گزرا تھا جو قرآن کو مخلوق کہتے تھے۔ تو حضرت نے اس کے بارے میں فرمایا،

اور وہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ایک کلام کے ساتھ متکلم ہے۔ اگر امر ہے تو اسی ایک کلام سے، اور اگر نہی ہے تو وہ بھی اس ایک کلام سے، اور اسی طرح تمام اخبار و استخبار (خبر دینا یا خیر طلب کرنا) اسی ایک کلام سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر تورات و انجیل ہے، تو وہ بھی اس ایک کلام پر دلیل ہے، اور اگر زبور و فرقان ہے تو وہ بھی اسی کلام کی نشانی ہے۔ اس طرح باقی تمام صحیفے اور کتابیں جو انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالتَّسْلِيمَاتِ پر نازل ہوئی ہیں، اسی ایک کلام کی تفصیل ہیں۔ جب ازل و ابد اس وسعت اور درازی کے باوجود حق تعالیٰ کے نزدیک آنِ واحد ہے، بلکہ وہاں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ اس کا اطلاق بھی اس مقام میں تنگی عبارت کی وجہ سے ہے، لہٰذا وہ کلام جو اس آن میں صادر ہوگا، ایک کلمہ، بلکہ ایک حرف، بلکہ ایک نقطہ ہوگا۔ اور اس نقطہ کا اطلاق بھی اس جگہ آنِ واحد کے اطلاق کی مانند ہے جو تنگی عبارت کی وجہ سے واقع ہے، ورنہ نقطہ کی بھی اس میں گنجائش نہیں۔

اب ذرا اس پر بات کرتا ہوں۔ کائنات میں کتنی چیزیں موجود نظر آتی ہیں؟ بہت ساری چیزیں ہیں نا؟ بہت ساری چیزیں۔ یہ ساری چیزیں کن چیزوں سے بنی ہیں؟ Science کے مطابق بات کر رہا ہوں، مطلب میں اپنے طور پر بات نہیں کر رہا، Science کیا بتاتا ہے کہ کن چیزوں سے بنی ہیں؟ بنی کس چیز سے ہے؟ ہاں، Neutron, Proton, Electron... ان چیزوں سے بنی ہے۔ اچھا یہ کن چیزوں سے بنے ہیں؟ Atom کس چیز سے بنا ہے؟ Proton کس چیز سے بنا ہے؟ Neutron کس چیز سے بنا ہے؟ Electron کس چیز سے بنا ہے؟ تو سب ایک چیز سے ہوگی نا؟ سمجھ میں آ گئی نا مطلب؟ وہ سب ایک ہی چیز سے ہوگی، کوئی ایک چیز ہو گا جس طرح مطلب یہ ہے کہ اس سے وہ ساری چیزیں بنی ہوں گی۔ نہیں سمجھ آ رہی تو چلو Computer پہ آ جائیں۔ Computer پہ آپ کو بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ سب کن چیزوں سے بنی ہیں؟ Zero, One سے۔ Binary، Zero, One سے بنی ہے۔ اب اگر Computer engineer کہتا ہے بھئی سارا تو Zero, One ہے، تو لوگ کہیں گے یار یہ کیا کہہ رہا ہے؟ پتہ نہیں کیا کہہ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اس کو جانتا ہے کہ واقعی سارا Zero, One کی Combinations ہیں۔ اس سے اتنی وسیع و عریض مطلب چیزیں بن گئی ہیں، پتہ نہیں کیا کیا اس کے اندر ہیں۔

اور چلو Electron, Proton, Neutron کی تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی، اب ایک اور String theory سامنے آئی ہے۔ ابھی اس پر کام چل رہا ہے۔ String theory کہہ رہی ہے کہ یہ جو جتنی بھی چیزیں ہیں اس کو Minute level پر دیکھو، پھر دیکھو، پھر Minute، پھر Minute، پھر Minute، ہوتے ہوتے اخیر میں سارے Waves ہیں۔ Mass کا وجود ہی ختم۔ Waves ہیں، Energy۔ اب بتاؤ! تو یہ... یہ سائنسدانوں کی باتیں میں کر رہا ہوں، میں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کر رہا۔ یہ ان لوگوں کی بات ہے۔

تو یہ حضرت جو فرما رہے ہیں، یہ ویسے تو نہیں فرما رہے، مطلب یہ ہے کہ اصل میں اللہ جَلَّ شَأْنُهُ کی صفات چونکہ کامل ہیں، اور کامل میں آپ کو بتاؤں، ایک ہوشیار شخص دو گھنٹے کا بیان کو پانچ منٹ میں کر لے گا۔ اس سے بھی زیادہ ہوشیار، پانچ منٹ کے بیان کو ایک منٹ میں کر لے گا۔ اس سے بھی زیادہ ہوشیار شخص، ایک منٹ کا... پانچ Second میں کر لے گا۔ یعنی آپ اس کی ہوشیاری level کو بڑھاتے جائیں۔ تو جو سب سے ہوشیار ہو گا تو وہ کیا کرے گا؟


تو مطلب یہ ہے کہ وہ ایک کلام ہے، لیکن وہ ایک کلام سے ساری چیزیں چل پڑی ہیں۔ ماضی، حال، مستقبل سب اس کے اندر آ گیا۔ میں نے کوئی کتاب پڑھی تھی غالباً... کتاب ہے حضرت کی... حضرت عبد العزیز دباغ رحمۃ اللہ علیہ کی۔ کیا نام ہے اس کا؟ یاد ہے؟ وہ ایک کتاب ہے۔ اس کے اندر اصحابِ فتح کا بیان ہے، اصحابِ فتح کون ہیں؟ تو جو اصحابِ فتح ہوتے ہیں، وہ ان کے لیے پورا قرآن ایک نقطے میں ہوتا ہے۔ وہ سارا... اس وہ نقطہ کسی کو Transfer ہو گیا تو پورا قرآن Transfer ہو گیا۔ یہ بندوں کی بات کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندے پیدا کر چکے ہیں جو اصحابِ فتح ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں یہ شاید آپ لوگوں نے سنا بھی ہو حضرت علی کَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ کی طرف سے جو مروی ہے، کہ سارا قرآن جو تھا وہ سورۃ فاتحہ میں آ گیا۔ جو سورۃ فاتحہ میں تھا وہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں آ گیا۔ جو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں تھا وہ اس کے 'با' میں آ گیا۔ جو 'با' میں تھا وہ اس کے نقطہ میں آ گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ تو یہ ظاہر ہے مطلب اس قسم کی چیزیں ہیں۔ لیکن یہ چونکہ لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے، لہٰذا خاموشی۔

ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ ایک علم کا حصہ تو میں نے آپ لوگوں کو بتا دیا، آپ ﷺ سے میں نے دو حصے علم سیکھے تھے۔ ایک تو بتا دیا اور اگر ایک دوسرا بتا دیا تو یہ میرا سر تن پہ نہیں رہے گا۔ میرا سر تن پہ نہیں رہے گا۔ طریقت ہے۔ نہیں جان سکتے آپ۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں "نہ پوی، نہ گرم"۔ یعنی اگر سمجھ اس کو نہیں آ رہی تو معاف ہے۔ مطلب ظاہر ہے وہ... جس کو سمجھ نہیں ہے تو وہ معاف ہے۔ اب وہ کیا، بچہ جو شرارت کرتا ہے تو اس کو لوگ معاف کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ کہتے ہیں "نہ پوی دی"، یعنی مطلب یہ جانتا نہیں ہے، ظاہر ہے اس کو کیا ہم سزا دیں؟ یہ جان کے تھوڑا کر رہا ہے۔ اس کو تو پتہ نہیں ہے۔ تو یہ... یہ چیز جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جو جاننے والی بات ہوتی ہے، یہ ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتی۔ ہاں، جس پر اللہ پاک کھول دے، جیسے حضرت فرما رہے ہیں، اس پہ اللہ پاک نے کھولی ہوئی تھیں نا چیزیں، چونکہ جن چیزوں کا عقیدے کے ساتھ تعلق تھا وہ حضرت بیان فرما رہے ہیں۔ باقی نہیں بیان فرما رہے۔

کیونکہ اس کا اطلاق بھی اس مقام میں تنگی عبارت کی وجہ سے ہے، لہٰذا وہ کلام جو اس آن میں صادر ہو گا ایک کلمہ، بلکہ ایک حرف، بلکہ ایک نقطہ ہو گا، اور اس نقطہ کا اطلاق بھی اس جگہ آنِ واحد کے اطلاق کی مانند ہے جو تنگی عبارت کی وجہ سے واقع ہے ورنہ نقطہ کی بھی اس میں گنجائش نہیں ہے۔

کیونکہ نقطہ کی تعریف یہ ہے کہ یہ جگہ نہیں گھیرتی۔ پھر بتاؤں! یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ اتنا مختصر ہوتا ہے کہ وہ جگہ نہیں گھیرتا۔ مثلاً جسمانی روحانی بن جاتا ہے۔ مطلب یہ وہ بالکل ہی... ہاں، اس کا وہ ختم ہو جاتا ہے۔

عقیدہ نمبر پانچ: مومن کو بہشت میں بے چونی، بے چگونی کے طور پر سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ کا دیدار ہو گا۔ کیونکہ وہ رویت جو بے چون سے متعلق ہے، وہ بھی بے چون ہو گی۔ بلکہ دیکھنے والا بھی بے چونی کی وجہ سے حظِ وافر حاصل کرے گا تاکہ بے چون کو دیکھ سکے۔ لا یحمل عطایا الملک الا مطایاہ (بادشاہ کے عطیوں کو اس کی سواریاں اٹھا سکتی ہیں)۔ آج اس معمہ کو اس نے اخص الخواص اولیاء پر سہل کر دیا ہے اور منکشف ہو جائے کہ یہ مسئلہ ان بزرگوں کے نزدیک تحقیقی ہے اور دوسروں کے لیے تقلیدی ہے۔ اہلِ سنت کے علاوہ تمام مخالف گروہ، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر، اس مسئلہ کے قائل نہیں ہیں۔ اور حق جَلَّ سُلْطَانُهُ کی رویت کو ان اہلِ سنت بزرگوں کے علاوہ سب محال خیال کرتے ہیں اور مخالفین کی دلیل غائب کا شاہد پر قیاس ہے، جس کا فساد ظاہر ہے۔ سنتِ سنیہ عَلَى صَاحِبِهَا الصَّلَاةُ وَالتَّحِيَّةُ کی متابعت کے نور کے بغیر اس قسم کے دقیق مسئلہ کے متعلق ایمان و یقین کا حاصل ہونا دشوار ہے۔

یعنی اللہ جَلَّ شَأْنُهُ کو قیامت میں واقعی سب لوگ دیکھیں گے اور کوئی بھی اس میں حائل نہیں ہو سکے گا، مطلب یہ رکاوٹ نہیں بنے گا۔ سب لوگ دیکھیں گے، جو جنتی ہوں گے۔ کیسے دیکھیں گے؟ یہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ لیکن بہرحال دیکھیں گے۔ اللہ پاک کی صفات کے بارے میں ہم یہی تو کہتے ہیں کہ اللہ کو پتہ ہے کہ وہ کیسے اس کی صفات... اللہ پاک کا دیکھنا کیسے ہے، اللہ پاک کا سننا کیسے ہے، یہ سب چیزوں کے بارے میں... تو اس طرح اللہ پاک کو ہم کیسے دیکھیں گے؟ یہ بھی تو بے چون و بے چگون ہے نا، اس کے بارے میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ کیسے دیکھیں گے۔ جیسے اللہ پاک دیکھتے ہیں اس کا ہمیں پتہ نہیں ہے، اس طرح ہم اللہ پاک کو کیسے دیکھیں گے اس کا بھی ہمیں پتہ نہیں ہے۔ bilateral والی بات ہے۔ کیونکہ بے چون و بے چگون ہے۔ اس کا کوئی مثال نہیں۔

تعجب ہے وہ لوگ جو رویتِ حق جَلَّ شَأْنُهُ کی دولت پر ایمان ہی نہیں رکھتے، وہ کس طرح اس سعادت کے حصول سے بہرہ ور ہوں گے؟ کیونکہ انکار کرنے والوں کے نصیب میں تو محرومی ہے اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ بہشت میں ہوں اور دیدار نہ ہو۔ کیونکہ شرعِ شریف سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اہلِ بہشت کو دیدار کی دولت نصیب ہو گی اور یہ کہیں بھی نہیں آیا کہ بعض اہلِ بہشت کو دیدار ہو گا، بعض کو نہیں ہو گا۔ اس کے حق میں وہی جواب ہے جو حضرت موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ نے فرعون کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ کا بیان کرتے ہوئے فرمایا: فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَىٰ * قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَابٍ ۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى * الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. فرعون نے کہا، پہلی نسلوں کا کیا حال ہے؟ موسیٰ عَلَيْهِ السَّلَامُ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے، میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا، تمہارے لیے چلنے کے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی اتارا۔

جاننا چاہیے کہ بہشت اور اہلِ بہشت کے علاوہ سب حضرت حق سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ کے نزدیک برابر ہیں۔ کیونکہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور سُبْحَانَهُ کسی چیز میں بھی حلول اور تمکن نہیں کیے ہوئے، لیکن بعض مخلوقات کو انوارِ واجبی سلطان کے ظہور کی قابلیت نہیں اور بعض کو ہے۔ جس طرح کہ آئینہ صورتوں کے ظہور کی قابلیت رکھتا ہے اور سنگ و کلوخ (پتھر) یہ قابلیت نہیں رکھتے۔ پس فرق جو کچھ ہے وہ اس طرف سے ہے ورنہ حضرت جَلَّ سُلْطَانُهُ کی نسبت سب کے ساتھ نسبت برابر ہے۔

مطلب یہ ہے جو اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے مختلف لوگوں کی صلاحیتیں مختلف بنائی ہیں، اس کے حساب سے ان کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔

دنیا میں رویت واقع نہیں ہو سکتی کیونکہ دنیا اس دولتِ رویت کے ظہور کی قابلیت نہیں رکھتی۔

یہاں پر یہ ممکن نہیں ہے۔

اور جو کوئی اس دنیا میں رویت کے واقع ہونے کا قائل ہوگا، وہ جھوٹا اور تہمت لگانے والا ہو گا۔ اس نے حق سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ کے غیر کو حق جان لیا ہے۔

یعنی جس کو دیکھ رہا ہے وہ حق، اللہ نہیں ہے۔ جیسے ہم بعض لوگ شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے چاند دیکھا ہے، لوگوں نے چاند نہیں دیکھا ہوتا۔ چاند ابھی پیدا بھی نہیں ہو چکا ہوتا، کہتے ہیں ہم نے دیکھ لیا۔ تو انہوں نے کوئی ٹہنی دیکھی ہو گی، کوئی بادل کا ٹکڑا دیکھا ہو گا، ان کو چاند جیسا نظر آیا ہو گا۔ ویسے بھی جو چاند سوچ سوچ کر دیکھتا ہے تو ممکن ہے کہ اس کا سوچ ہی چاند کی شکل بنا چکا ہو۔ تو ایسی چیزیں ہوتی ہیں، Illusion ہوتا ہے۔ مطلب اس قسم کی چیزیں Illusion ۔ ... 5% لوگوں کو Illusion تو Scientifically ثابت ہے۔ کہ سو میں اگر پانچ لوگوں کو ایسی چیزیں نظر آ سکتی ہیں جو ہو نہیں۔ تو اگر ہزار لوگ چاند کو دیکھ رہے ہوں تو پانچ فیصد اس کے کتنے بندے بن جاتے ہیں؟ پچاس بن جاتے ہیں نا؟ تو پچاس لوگ تو چاند دیکھ ہی لیں گے۔ تو وہ مطلب یہ ہے کہ یہ، یہ اس قسم کی... پھر ان کو غلطی سے نکالنا ہوتا ہے۔ ان کو غلطی سے نکالنا ہوتا ہے۔ تو اس طرح یہ ہے کہ وہ اللہ نہیں ہوتا لیکن یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے اللہ کو دیکھ لیا۔

اگر اس دنیا میں یہ دولت میسر ہو سکتی تو حضرت کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوات و التسلیمات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حقدار تھے، اور ہمارے حضرت پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام جو اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں تو اس کا وقوع بھی اس دنیا میں نہیں ہوا بلکہ بہشت میں تشریف لے گئے تو وہاں رویت سے مشرف ہوئے جو کہ عالمِ آخرت سے ہے۔ لہٰذا دنیا میں رویت نہیں ہوئی بلکہ جب دنیا میں دنیا سے نکل کر آخرت کے ساتھ ملحق ہو گئے تو( اللہ تعالیٰ کے ) دیدار سے مشرف ہوئے۔

(عقیدہ نمبر۶) حق تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے، پہاڑوں اور سمندروں کا خالق ہے درختوں اور پھلوں کا خالق ہے، کانوں اور نباتات (غرض ہر چیز کا) خالق ہے۔ چنانچہ آسمان کو ستاروں کے ساتھ زینت دی اور انسان کی پیدائش کے ساتھ زمین کومزیّن فرمایا۔ اگر (کوئی چیز) بسیط ہے تو اس تعالیٰ کی ایجاد ہی سے موجود ہوئی ہے، اور اگر مرکب ہے تو وہ بھی اسی کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئی ہے مختصر یہ کہ اسی نے تمام چیزوں کو عدم کے پردے سے وجود میں لاکر حادث بنایا ہے۔

Oxygen بسیط ہے، Hydrogen بسیط ہے اور پانی ان دونوں کا مرکب ہے۔ یہ تینوں اللہ نے بنائے ہوئے ہیں۔

حق سبحانہ کے علاوہ کسی کے لئے قِدم (ہمیشگی) نہیں ہے۔ اور اس سبحانہ کے علاوہ کوئی چیز قدیم نہیں ہوسکتی۔ تمام اہلِ ملّت و مذاہب اس سبحانہ کے علاوہ (ہر شے کے) حدوث پر اجماع رکھتے ہیں اور بالاتفاق اس سبحانہ کے علاوہ کسی کو قدیم نہیں جانتے۔ اور جو شخص بھی ان چیزوں کے قدیم ہونے کا قائل ہے اس کو گمراہ بلکہ اس کی تکفیر کا حکم کرتے ہیں۔۔۔ حجتہ الاسلام امام (غزالیؒ ) نے اپنے رسالہ’’ منقذعن الضلال‘‘ میں اس معنی کی تصریح کی ہے اور اس جماعت کو جو غیرِ حق کو بھی قدیم جانتے ہیں تکفیر کا حکم کیا ہے، اور وہ لوگ جو آسمانوں، ستاروں اور ان جیسی چیزوں کے قدیم ہونے کے قائل ہیں قرآن مجید نے بھی ان کی تکذیب فرمائی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے: اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ (سجدہ32 آیت4) (اللہ تعالیٰ ہی وہ (ذاتِ اقدس) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر جلوہ افروز ہوا) ۔۔۔ اور قرآن مجید میں اس قسم کی آیتیں بہت ہیں۔ وہ بہت ہی بے وقوف ہے جو اپنی عقلِ ناقص کی وجہ سے نصوصِ قرآنی کی خلاف ورزی کرتا ہے: وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ (نور24 آیت4) (اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کوئی نور نہ بنائے اس کے لئے کوئی نور نہیں)۔

(عقید نمبر7) اور جس طرح بندے حق سبحانہ کی مخلوق ہیں اسی طرح بندوں کے افعال بھی حق تعالیٰ کی مخلوق ہیں، کیونکہ پیدا کرنا اس کے سوا کسی کو لائق نہیں ، اور ممکن سے ممکن کا موجود ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ بات قصور قدرت سے داغدار ہے اور نقص علم سے متصف ہے جو کہ ایجاد اور خَلق کے شایانِ نہیں ہے۔ اور بندہ جو کچھ اپنے افعالِ اختیاریہ میں دخل رکھتا ہے وہ اس کا کسب ہے۔

یعنی ایک خلق ہے اور ایک کسب ہے۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ خلق اللہ کا فعل ہے، کسب بندے کا... کسب بندے کا ہے۔

جو بندہ کی قدرت و ارادہ سے واقع ہوا ہے اور فعل کا پیدا ہونا حق سبحانہ کی طرف سے ہے اور فعل کا کسب بندہ کی طرف سے ہے۔ لہٰذا بندہ کا فعل اختیاری بندہ کے کسب اور حق جل و علا کی خلق (پیدائش) کے مجموعے سے واقع ہوتا ہے۔ اگر بندہ کے کسب اور اختیار کو فعل میں بالکل دخل نہ ہو تو وہ حکمِ مرتعش (رعشہ والے کا حکم) پیدا کرے گا

یعنی مطلب یہ ہے کہ جو بندے کا جو کسب ہے، بالکل یعنی وہ اس میں، اگر بندے کا فعل کا بالکل وہ دخل نہ ہو، مثال کے طور پر کوئی چیز میرے ہاتھ سے چھوٹ جائے اور میرا ہاتھ ہل رہا ہو ویسے، تو کوئی مجھے ایسے نہیں پکڑے گا کہ یہ تو اس کا فعل نہیں ہے۔ مطلب ایسے ہی ظاہر ہے اس کی تو بیماری ہے۔ ہاں البتہ میں اگر اس جگہ کے قریب کھڑا ہو گیا تو وہ میرا فعل ہو گا۔ مجھے اس پہ پکڑے گا، آپ اس کے قریب کیوں کھڑے ہوئے تھے؟ جب آپ کو پتہ ہے میرا ہاتھ ہل رہا ہے۔ تو اس پہ تو پکڑا جا سکتا ہے لیکن اس پر نہیں کہ... میں ادھر کھڑا ہوں اور کوئی چیز لا کر ادھر رکھ لے، وہ تو میرا فعل نہیں ہے۔ اگر میرے ہاتھ سے گیا تو... وہ مرتعش کا حکم ہوگا۔ یہ والی بات ہے۔

اور وہ محسوس وہ مشاہدہ کے خلاف ہے۔ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ رعشہ والے کا فعل اور طرح ہے اور مختار کا فعل اور طرح اور اسی قدر فرق بندہ کے فعل میں اس کے کسب کے دخل کے لئے کافی ہے۔ حق سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے اپنی خَلق (پیدا کرنے) کو بندہ کے فعل میں بندہ کے ارادہ کے تابع کر دیا ہے۔

یعنی گویا کہ اس بٹن کو جب ہم دباتے ہیں، تو اس کا جو Electrical circuit ہے، وہ یہ سمجھیں اس کے تابع ہے، لیکن کرتا وہی ہے۔ اگر وہ Electrical circuit درمیان میں سے ہٹا دی جائے تو پنکھا نہیں چلے گا۔ تو Electrical circuit بٹن کے تابع ہے۔ لیکن، لیکن، لیکن کرتا سب کچھ وہی ہے۔ بٹن تو صرف اس کو On, Off کرتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بتا رہے ہیں کہ


بندہ کے فعل میں بندہ کے ارادہ کے تابع کر دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ بندہ کے فعل میں اپنے فعل میں نہیں بندہ کے فعل میں بندہ کے ارادہ کے تابع کر دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ بندہ کے فعل میں (کسی کام کے) قصد کے بعد بندہ میں فعل کی ایجاد فرماتا ہے تو پھر بندہ (اچھے کام کی وجہ سے) مدح و تعریف کا اور (بُرے کام کی وجہ سے) ملامت کا مستحق بن جاتا ہے اور عذاب و ثواب کے لائق ہو جاتا ہے۔۔۔ اور قصدو اختیار جو حضرتِ حق سبحانہ وتعالیٰ نے بندہ کو دیا ہے وہ فعل اور ترکِ (فعل) دونوں جہت (اچھائی اور برائی) رکھتا ہے، اور (حق تعالیٰ نے) فعل اور ترکِ فعل کی اچھائی اور برائی کو تفصیل کے ساتھ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی زبانی بیان کر دیا ہے، باوجود اس کے کہ بندہ ایک جہت اختیار کرتا ہے اس کے علاوہ چارہ نہیں ہے کہ یا تو وہ ملامت کے لائق ہو یا تعریف کے قابل۔ اور اس میں بھی شک نہیں کہ حضرتِ حق سبحانہ نے بندہ کو اسقدر قدرت و اختیار عطا کیا ہے کہ وہ شرعی اوامرونواہی سے عہدہ برآ ہو سکے۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ بندہ کو قدرتِ کاملہ عطا کریں اور اختیارِ تام بخشدیں، غرض جسقدر مناسب تھا اس کو اختیار دیدیا۔

اور جس قدر اختیار دیا، اسی قدر اس کو مکلف کر دیا۔ اس سے زیادہ مکلف نہیں کیا: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔

اس بات کا منکر ظاہری طور پر اس سے متصادم ہے اور وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہے اور شریعت(کے احکام) کی بجاآوری میں عاجز و درماندہ ہے۔ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ (شوری 42 آیت 13) (مشرکین پر یہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو)۔۔۔ یہ مسئلہ علمِ کلام کے دقیق مسائل میں سے ہے۔ اور اس مسئلہ کی شرح و بیان کی انتہا یہی ہے جو اِن اوراق میں تحریر ہوئی ۔ وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ الْمُوَفِّقْ (اور اللہ سبحانہ ہی توفیق دینے والا ہے) (غرض کہ) جو کچھ علماء اہلِ حق نے فرمایا ہے اس پر ایمان لانا چاہئے اور بحث و تکرار میں پڑنا نہیں چاہئے۔

بیت: نہ ہر جائے مرکب تواں تاختن

کہ جا ہاسِپر بایدا نداختن


تو بہرحال یہ ہے کہ یہ آج کے لیے کافی ہے اور ان شاء اللہ اس کو مکمل کریں گے۔ کچھ حصہ آج ہو گیا ہے، کچھ حصہ ان شاء اللہ اگلی دفعہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اللہ جَلَّ شَأْنُهُ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


تجزیہ اور خلاصہ:


بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


سب سے جامع عنوان: ایمانیات اور عقائدِ اہلِ سنت و الجماعت: مکتوباتِ امام ربانی کی روشنی میں


متبادل عنوان: عقائدِ اسلام کی اہمیت، صفاتِ باری تعالیٰ اور فلاسفہ کی گمراہیاں


اہم موضوعات:


دین کے تین بنیادی حصے: ایمان، اسلام اور احسان۔


ایمان کی اہمیت، دل سے تصدیق اور اعمال کی قبولیت میں ایمان کا کردار۔


حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوب کے حوالے سے اللہ کی نعمتوں اور صفات کا تذکرہ۔


انسان کی حقیقت (حضرت علیؓ کے قول کی روشنی میں) اور منعمِ حقیقی (اللہ) کا شکر۔


اللہ تعالیٰ کے بنیادی عقائد (وجودِ باری تعالیٰ، توحید، صفاتِ قدیمہ کا کمال)۔


یونانی فلاسفہ (حکماء) اور جدید Science (Physics, Chemistry, String theory) کے محدود نظریات کا تنقیدی جائزہ۔


جنت میں رویتِ باری تعالیٰ (دیدارِ الٰہی) کا عقیدہ۔


خلق اور کسب کا فرق: انسان کے افعال اور مسئلہ جبر و قدر (بندے کا اختیار اور اللہ کی قدرت)۔


خلاصہ:

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے دین کے تین بنیادی حصوں (ایمان، اسلام اور احسان) کا ذکر کرتے ہوئے ایمانیات کی اہمیت پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مکتوب کی تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفاتِ کاملہ، اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا، نیز انسان کی ظاہری و باطنی حقیقت کو واضح کیا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے فلسفیوں، نام نہاد حکماء اور جدید سائنسی نظریات کی محدودیت کو مثالوں سے سمجھاتے ہوئے ثابت کیا کہ عقلِ ناقص سے اللہ کی ذات و صفات کا ادراک ممکن نہیں، اس کے لیے وحی اور شریعت کی اتباع ناگزیر ہے۔ آخر میں آپ نے رویتِ باری تعالیٰ، مسئلہ خلق و کسب، اور بندے کے ارادے و اختیار پر اہلِ سنت والجماعت کے مستند عقائد کو انتہائی سادہ مگر جامع انداز میں بیان فرمایا۔

ایمانیات اور عقائدِ اہلِ سنت و الجماعت: مکتوباتِ امام ربانی کی روشنی میں - خواتین کیلئے اصلاحی بیان