الحمد لله رب العالمين، الصلاة والسلام على خاتم النبيين، أما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔
اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْئًا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَـآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ ۖ فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللهِ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ (229) فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٗ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (230)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہئے۔ اس کے بعد (شوہر کے لئے دو ہی راستے ہیں) یا تو قاعدے کے مطابق (بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کر لے) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے)۔ اور (اے شوہرو!) تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم نے ان (بیویوں) کو جو کچھ دیا ہو (طلاق کے بدلے) اس سے واپس لو، الا یہ کہ دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ (نکاح باقی رہنے کی صورت میں) اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ (229)
طلاق کے مسئلے ابھی چل رہے ہیں۔
اس آیت نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ اگر طلاق دینی ہی پڑ جائے تو زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلقات بحال ہونے کا امکان رہتا ہے۔ چنانچہ عدت کے دوران شوہر کو طلاق سے رجوع کرنے کا حق رہتا ہے، اور عدت کے بعد دونوں کی باہمی رضامندی سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے، تین طلاقوں کے بعد دونوں راستے بند ہو جاتے ہیں اور تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا۔ دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ شوہر طلاق سے رجوع کا فیصلہ کرے یا علیحدگی کا، دونوں صورتوں میں معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے چاہئیں۔ عام حالات میں شوہر کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ طلاق کے بدلے مہر واپس کرنے یا معاف کرنے کا مطالبہ کرے۔ ہاں اگر طلاق کا مطالبہ عورت کی طرف سے ہو اور شوہر کی کسی زیادتی کے بغیر ہو، مثلاً بیوی شوہر کو پسند نہ کرتی ہو اور اس بنا پر دونوں کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ خوشگواری کے ساتھ نکاح کے حقوق ادا نہ کر سکیں گے، تو اس صورت میں یہ جائز قرار دیا گیا ہے کہ عورت مالی معاوضے کے طور پر مہر کا کچھ حصہ واپس کر دے یا اس وقت تک وصول نہ کیا ہو تو معاف کر دے۔
یہ ذرا تھوڑا سا اس میں ایک بات یہ بھی آتی ہے۔ کہ اگر شادی ہو جائے اور عورت مہر لے لے اور پھر طلاق کا مطالبہ کر لے۔ تو یہ تو اس طرح ایک قسم کا بن جائے گا کاروبار سا بننے کا بھی امکان ہے ناں کہ عورتیں اسی لیے شادی کریں کہ بھئی بڑی بڑی مہر رکھوا کر پھر طلاق کا مطالبہ کر لیں۔ تو یہ تو پھر عجیب بات ہو جائے گی۔ تو اس صورت میں اس وقت تو اختیار ہے کہ چونکہ اس میں مرد مظلوم بنتا ہے پھر۔ اگر ایسا کیا جائے تو مرد مظلوم بنتا ہے۔ تو اس صورت میں اس کو اختیار ہے کہ وہ اس سے مہر معاف کرا دے یا واپس کر دے۔ کیونکہ مطالبہ اس کی طرف سے ہے اور اگر اس کا کوئی جرم بھی نہیں۔
لیکن اگر ایسا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، مرد ہی طلاق دینا چاہتا ہے۔ تو پھر اس میں وہ کچھ اس میں وہ نہیں لے سکتا کیونکہ ظاہر ہے اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ تو یہ اصل میں ایک balance رکھنے کے لیے۔
اور دیکھیں ناں اس کے باوجود بھی لوگ کتنا گڑبڑ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے معاملات میں طلاق کے معاملات میں تو بہت ہی خطرناک قسم کی صورتحال سامنے آتی ہے۔ دونوں peak پر ہوتے ہیں ناں غصے کے. تو ایسی حالت میں No cooperation, No relaxation at all والی بات تقریباً آتی ہے۔
تو ایسی صورت میں شریعت نے احکامات جو دیے ہیں اگر اس پر عمل کیا جائے تو سارے کام خوش اسلوبی کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ زبردستی روکے رکھنے کا بھی فائدہ نہیں ہے کہ آئندہ فائدہ نہیں ہوگا۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کر سکیں گے۔ اور لڑائی کا سماں ہوگا۔ گھر مسئلہ بن جائے گا۔ اور یہ بات ہے کہ طلاق دینے سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اس کو ایک balance کرنے کے لیے طریقہ کار ایسا تھا کہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو کہ اس کو طلاق بھی نہ دے اور تنگ بھی کیا جائے۔ تو یہ اس کے لیے یہ طلاق... یہ تین طلاقیں جو ہے ناں اصل میں کیا بات تھی؟... یہ پتہ نہیں غیر مقلدوں نے اپنی طرف سے یہ بات جو نکالی ہے کہ تین طلاقیں ایک ہوتی ہی ایک وقت میں دی جائے تو۔ کیونکہ اس میں اصل میں یہ والی بات تھی کہ یہ اس وقت کے کلچر کے لحاظ سے مسئلہ تھا کہ لوگ طلاق دیتے تھے پھر روک لیتے تھے۔ پھر اس طرح لٹکائے رکھتے تھے۔ تو اس میں یہ کہا کہ نہیں، بس یہ ہو جائے گا۔ مطلب اس میں یہ نہیں تاکہ کم از کم اس کے اوپر یہ والے ظلم تو نہ ہو ناں کہ نہ ادھر کی نہ ادھر کی۔ تو بعض لوگ عمر گزاروا دیتے ہیں ناں شادی کی... یہ بھی تو مسئلہ ہوتا ہے ناں۔ بلکہ قصداً بھی کرتے ہیں اور کہہ بھی دیتے ہیں۔
تو یہ مسئلے تو ہیں۔ لوگوں کا جو اخلاقی behavior ہے، اس میں بڑا matter کرتا ہے۔ تو شریعت کے جو احکامات ہیں وہ اسی لیے دیے گئے ہوتے ہیں لوگ اس کو غلط مطلب لے لیتے ہیں کہ یہ ظلم ہے۔ بھئی ظلم نہیں، وہ تو ظلم سے بچنے کا نظام ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر اس قسم کا نہ ہو تو پھر تو ٹھیک ہے پھر تو مسئلہ کوئی نہیں تھا۔ لیکن یہ طلاق جو ہے ناں عام ماحول میں نہیں ہوتا۔ وہ بعض لوگ کہتے ہیں "جی ہم نے تو غصے میں طلاق دیا تھا تو وہ تو نہیں ہوتا"۔ تو بھئی طلاق تو غصے میں ہی دیا جاتا ہے، پیار و محبت میں تو طلاق کوئی نہیں دیتا۔
تو اس میں یہ ہے کہ جو اللہ پاک نے قانون بنایا ہے، اس قانون کے مطابق چلو تو کوئی مسئلہ نہیں، تو قانون کیا ہے؟ کہ طلاق دو اگر، تو طہر کی حالت میں دو یعنی پاکی کی حالت میں۔ اور پھر اس کے بعد ایک دے کر چھوڑ دو۔ تو اس میں عین ممکن ہے کہ اگر رجوع کا امکان ہو تو پھر رجوع ہو جائے گا۔ تو بس بات ختم، ایک ہو جائے گا۔
تو پھر یہ ہے کہ دوسرا میں اگر اس طرح چانس بن جائے مطلب یعنی کہ نقصان ہوتا رہا ہو، تو پھر اس کے بعد دوسرا بھی طہر کی حالت میں دو۔ اب تیسرا پھر اس کے بعد دے سکتے ہو۔ اس میں اصل میں یہ بات ہے کہ Time Gain کرنے والی بات ہے۔ کہ مرد کو سوچنے کا وقت دیا جائے۔ کہ اس کو وہ گرمی دور ہو جائے اور پھر اس کے بعد وہ ٹھنڈے دل سے سوچے کہ اس کے کیا consequences ہوں گے۔
اس وقت شیطان سوچنے نہیں دیتا۔ peak پہ غصہ دلا کے جو ہے نا اس کو... تو شریعت نے ایسا طریقہ مقرر کیا ہے کہ اس میں انسان کو سوچنے کا موقع مل جائے... اور واقعی اگر طلاق ناگزیر ہو تو پھر تو دے دی جائے۔ لیکن اگر اس سے بچت کی کچھ بھی گنجائش ہو تو اس کو خالی نہ چھوڑا جائے، اور وہ گنجائش دے دی جائے۔ تاکہ بلاوجہ اتنے... کیونکہ اس میں اولاد کے اوپر بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور بہت سارے مسائل ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اس کو پسند نہیں کیا گیا۔ صرف مجبوری کے تحت اگر ویسے نباہ ناممکن ہو تو پھر طلاق دے دی جائے۔ ورنہ اکثر بعد میں پشیمانی ہو جاتی ہے۔ آدمی پھر پھرتا رہتا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔