اتباعِ قرآن اور نفسانی غصے پر قابو: حضرت عمر فاروق ؓ کا عظیم اسوہ اور ہماری ذمہ داریاں

درس نمبر 64- حدیث نمبر 50- (اشاعتِ اول)، 7 ستمبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        حکمرانوں کی مجلسِ شوریٰ: مشیروں کے انتخاب میں عمر کے بجائے علم، فہمِ دین اور تقویٰ کو بنیادی معیار بنانا۔

•        قرآنی اصولِ اخلاق: سورۃ الاعراف (آیت 199) کی روشنی میں عفو و درگزر، نیکی کی تلقین اور جاہلوں سے اعراض کی تعلیم۔

•        غصے کی حقیقت (رحمانی یا نفسانی): قرآن سن کر غصہ ختم ہو جانا حق کی علامت ہے، جبکہ ضد برقرار رہنا نفس پرستی ہے۔

•        قبولِ حق اور طبیعت کی سلامتی: اپنی ذاتی رائے اور انا کو ترک کر کے قرآن و حدیث کے احکامات کو فوراً تسلیم کر لینا۔

•         

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اتباعِ قرآن

(50) ﴿وَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ، وَ كَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَ مُشَاوَرَتِهِ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَا ابْنَ أَخِي لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ عُمَرُ، فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: هِيَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَ اللهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ وَ لَا تَحْكُمُ فِينَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ. فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ، وَ إِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، وَاللهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا، وَ كَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عیینہ بن حصن اپنے بھتیجے حر بن قیس کے پاس آئے اور حر بن قیس ان لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا قریبی سمجھتے تھے اور قرآء لوگ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں بیٹھتے اور ان کے مشیر تھے جن میں کچھ ادھیڑ عمر والے اور کچھ نوجوان تھے۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے حر بن قیس سے کہا حضرت امیر المومنین کے ہاں تیرا مقام ہے میرے لئے وہاں جانے کی اجازت طلب کیجئے۔ چنانچہ انہوں نے اجازت مانگی اجازت مل گئی۔ جب وہ مجلس میں آئے تو عیینہ نے کہا کہ اے ابن الخطاب! رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا کی قسم نہ تو ہمیں زیادہ مال عطا کرتا ہے اور نہ ہی تو ہم میں عدل و انصاف کر رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی بات سن کر ناراض ہوگئے، قریب تھا کہ اس پر دست درازی شروع کردیتے۔ یہ حالت دیکھ کر حر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 199) ”معافی اختیار کرو نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے رو گردانی کرو اور یہ جاہلوں میں سے ہے۔“ اللہ کی قسم اس آیت کی تلاوت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ حرکت نہ کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتاب اللہ کے مطابق بہت زیادہ عمل کرتے تھے۔“

اہل قرآء سے مراد علم والے ہیں جو قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم، ناسخ و منسوخ، حلال و حرام کے علوم سے آگاہ ہوں۔ خلفاء راشدین کے مشیر اور ہم نشین اہل علم وغیرہ ہی تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران کو بھی اپنا مشیر دین کے علم اور شعور والوں کو ہی بنانا چاہئے، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ادھیڑ عمر کے ہوں یا جوان ہوں بشرطیکہ ان میں علم اور تقویٰ کی دولت ہو۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ غضبناک ہوئے، حتیٰ کہ انہوں نے ان کو مارنے کا ارادہ بھی کیا۔

جب عیینہ بن حصن نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام لگایا کہ آپ ہمارے ساتھ عدل وانصاف نہیں کرتے تو اس الزام کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غصہ کیا مگر جب عیینہ بن حصن کے بھتیجے نے قرآن کی آیت ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 199) پڑھی تو فوراً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جتنا بڑا ہو اتنا اس میں صبر وتحمل بھی ہونا چاہئے نیز قبول حق کے لئے کسی تامل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے فوراً قبول کرلینا چاہئے۔

حضرت امام جعفر صادقؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو برگزیدہ اخلاق اختیار کرنے کا حکم دیا ہے قرآن مجید میں کوئی اور آیت اس آیت سے بڑھ کر مکارم اخلاق کی جامع نہیں ہے۔

علماء نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب بھی غصہ آتا اور کوئی قرآن کی آیت ان کے سامنے پڑھ دیتا تو فوراً ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔

تخریج حدیث: رواه البخاری فى كتاب التفسير تفسير سورة الاعراف (باب خذ العفو وأمر بالعرف) باب اقتداء النبى صلى الله عليه وسلم.

اللہ اکبر! الحمدللہ آج کل بھی بعض لوگ ایسے ہیں جب ان کے سامنے قرآن کی آیت پڑھی جائے یا حدیثِ شریف تلاوت کی جائے اور اس میں ان کی جو رائے ہوتی ہے اس کے مطابق نہ ہو تو اپنی رائے وہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اور ایسے لوگ بڑے مبارک ہیں۔ عربوں میں یہ زیادہ پائے جاتے ہیں، ہمارے ہاں یہ کم پائے جاتے ہیں۔ یہ اصل میں گویا کہ طبیعت کی سلامتی کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان کی طبیعت میں سلامتی ہو تو اصل بات یہ ہے کہ انسان غصہ بھی کرتا ہے حق کے لیے اور ظاہر ہے باطل سے بچنے کے لیے۔

اب انسان اپنی سمجھ کے مطابق اگر حق کے لیے غصہ کر رہا ہو، تو اگر اس کو قرآن کی آیت ایسی مل جائے یا سن لے جس میں اس کو پتہ چل جائے کہ میں اس وقت حق پہ نہیں ہوں اور فوراً اس کو چھوڑ دے، تو یقیناً اس کا غصہ حق کے لیے تھا۔ کیونکہ اس کو پتہ چل گیا کہ میں جب حق میں نہیں ہوں تو چھوڑ دیا۔ اور اگر اس کا غصہ ختم نہیں ہوا اور اس نے اس سے بھی آگے بڑھ کر پھر بھی بات کی، تو پتہ چلا کہ اس کا غصہ نفس کے لیے تھا۔ اور نفس کے لیے غصہ جو ہونا وہ تو ظاہر ہے تباہی ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ ایک دفعہ ایک کافر کو گرا کے اس کے سینے پہ چڑھ کے اس کو مارنے والے تھے۔ تو اس نے نیچے سے نفرت سے تھوک دیا چہرے پہ۔ تو بجائے علی رضی اللہ عنہ کے اس کو مزید اس کو سختی سے مارنے کے، فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، اس کو چھوڑ دیا۔ تو اس کافر نے نیچے سے کہا کہ کیا بات ہے؟ تو نے تو مجھے بڑی مشکل سے گرایا تھا، تو مجھے کیوں چھوڑا؟ تو اس نے کہا: پہلے میں تجھے اللہ کے لیے مارنا چاہتا تھا۔ اب جو تو نے میرے چہرے پہ تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا اور یہ غصہ چونکہ میرے نفس کے لیے تھا، تو میں ڈر گیا کہ کہیں میں تجھے ماروں تو اس میں میرا اپنے نفس کے لیے غصہ شامل نہ ہو۔ اس لیے میں نے تجھے چھوڑ دیا۔ یقیناً یہ بہت بڑی بات ہے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو یہ نصیب فرما دے تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑا فضل فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا کر دے کہ قرآن کی آیت جب سن لیں تو اپنا ارادہ اس کے مطابق کر لیں۔ حدیثِ شریف ہم سن لیں تو اپنا ارادہ اس کے مطابق کر لیں اور جو ہمارے نفس کے لیے کوئی ارادہ ہو اس کو ہم اس وقت چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس میں کامیاب فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔




اتباعِ قرآن اور نفسانی غصے پر قابو: حضرت عمر فاروق ؓ کا عظیم اسوہ اور ہماری ذمہ داریاں - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور