اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کے دن ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ’’ہمعات‘‘ اس کی تعلیم ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے خوارق و کرامات کے بارے میں مضمون چل رہا تھا ۔
گذشتہ سے پیوستہ
خوارق اور کرامات کے اسباب میں سے ایک سبب برکت کا فیضان بھی ہے۔
برکت یہ ایک ایسا لفظ ہے جو جانتے سب ہیں لیکن کیسے ہوتا ہے اس کے بارے میں کسی کو پتا نہیں ہے، یہ بھی خوارق کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
اور برکت کی حقیقت یہ ہے کہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل ایک شخص پر اپنی رحمت کی نظر ڈالتے ہیں اور اس شخص کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی نظرِ رحمت اور دعاؤں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل میں سے ایک قوت اس شخص سے جا کر متصل ہوجاتی ہے اور اس کا احاطہ کرلیتی ہے اور اس شخص کے وجود میں گھل مل جاتی ہے۔ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کے اس فیضان کی وجہ سے اس شخص کے لیے طبعی اسباب میں "بسط" ہوتا ہے۔
طبعی اسباب یعنی اس کے جو جیسے دیکھنا ہے، سننا ہے تمام جتنے بھی حواس ہیں، ان میں بسط کی کیفیت ہوتی ہے، بسط یعنی کھلنے کو کہتے ہیں یعنی گویا کہ وہ بڑھ جاتی ہیں۔
یعنی ان اسباب میں اس کے لیے خلافِ معمول قوت و استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں اس شخص سے ایسے ایسے نفع مند کام اور آثارِ خیر ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کی کہیں نظیر نہیں مل سکتی۔
جیسے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا علم، ظاہر ہے ایک عجیب علم تھا کہ حضرت اکثر جب ویسے بولتے تھے تو ان کے بولنے میں لکنت نہیں تھی، لیکن جب تقریر کرتے تو اس میں لکنت پیدا ہوجاتی۔ تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ حضرت، ویسے تو لکنت والی نہیں ہے زبان آپ کی، لیکن جب تقریر کرتے ہیں تو لکنت پیدا ہو جاتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں کیا کرتا ہوں، جب میں کوئی ایک لفظ لینا چاہتا ہوں زبان سے تو میرے پاس تیرہ تیرہ، چودہ چودہ الفاظ اس کے سامنے آ جاتے ہیں، ان میں سے پھر چننا ہوتا ہے، تو اس کی وجہ سے لکنت ہو جاتی ہے۔ بات تو ایسے ہی ہے۔ کسی نے حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہاں سے پڑھا تھا؟ فرمایا: پڑھا تو ہم نے بھی ادھر ہی سے تھا جہاں سے انہوں نے پڑھا تھا، لیکن کسی کے لیے اللہ تعالیٰ سوئی کے ناکے کے برابر کھول دیتا ہے اور کسی کے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کے برابر کھول دیتے ہیں، تو یہ پھر اس کا کام ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ برکت، ان کے علم میں اللہ نے برکت عطا فرما دی۔ کسی کے مال میں اللہ پاک برکت عطا فرماتے ہیں، کسی کی اولاد میں اللہ پاک برکت عطا فرما دیتے ہیں، کسی کی کسی اور چیز میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرما دیتے ہیں، تو یہ برکت جن کے ساتھ ہو جاتی ہے تو یہ پھر عجیب و غریب کام ان سے وجود میں آتے ہیں۔
ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل سے اس فیضان برکت کی مثال یہ ہے کہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ جب وہ کسی مرض کے دفع کرنے میں مشغول ہو یا وہ ندامت اور خوف میں مبتلا ہو یا اسے کسی بات پر غیرت آگئی ہو تو اس حالت میں اسے بھوک کا بالکل احساس نہیں رہتا۔ اور جب تک اس کی یہ حالت رہتی ہے اس کے اجزائے بدن کی تحلیل کا فعل بھی رک جاتا ہے لیکن اس حالت میں بھوک کا یہ عدمِ احساس اور اجزائے بدن کا تحلیل نہ ہونا ایک خاص حد تک ہوتا ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ جب ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل سے اس شخص پر برکت کا فیضان ہوتا ہے اور اس شخص میں اور اس برکت میں پوری ہم آہنگی ہوجاتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص میں بھوک کے عدمِ احساس کی استعداد اور اجزاءِ بدن کی تحلیل نہ ہونے کی قوت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں وہ ایک عرصہ تک بغیر کھائے زندہ رہ سکتا ہے اور اس سے اس کے جسم کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔
بعض دفعہ ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کی برکتوں کے نزول کے لیے اسماءِ الٰہی میں صمد، قدوس اور سبّوح کا ذکر ایک ذریعہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی بزرگ کی توجہ بھی ایک شخص کو ان برکتوں کا حامل بنا دیتی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان جب حالت انبساط میں ہوتا ہے تو اس کی طبیعت میں قدرتی طور پر یہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ کام کرسکتا ہے، زیادہ عرصہ تک بیدار رہ سکتا ہے، چنانچہ اس حالت انبساط میں زیادہ کام کرنے اور زیادہ دیر تک جاگنے کی وجہ سے اس کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہی شخص جب انقباض کی حالت میں ہوتا ہے تو اس میں پہلے کے مقابلے میں نصف اور تہائی قوتِ عمل بھی نہیں رہتی۔ چنانچہ اگر وہ اس حالت میں اپنی طبیعت پر زبردستی کرکے زیادہ کام کرتا اور زیادہ عرصہ تک جاگتا ہے۔ تو اس سے اس کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ الغرض ایک شخص پر جب مَلکی برکتوں کا فیضان ہوتا ہے اور اس شخص میں اور ان برکتوں میں کلی مطابقت اور پوری ہم آہنگی ہوجاتی ہے تو حالتِ انبساط سے کہیں زیادہ اس شخص میں زیادہ کام کرنے کی اور زیادہ عرصہ تک جاگتے رہنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔
علاوہ ازیں فطرتِ انسانی کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ انسانوں میں سے جو ذکی ہوتے ہیں ان کا ذہن یا تو استدلالِ عقلی کے ذریعے ایک چیز سے دوسری چیز کا ادراک کرلیتا ہے یا وہ چونکہ ایک چیز کے بعد لازماً دوسری چیز کو ہوتے دیکھتے آتے ہیں، اس لیے وہ عادتاً ایک چیز سے دوسری چیز کو سمجھ لیتے ہیں اور یا وہ ایک شخص کی ظاہری شکل و صورت سے اس کے باطنی اخلاق کا پتا لگاتے ہیں یا جو کچھ کسی شخص کے دل میں خیالات و خطرات آتے ہیں وہ ان کا اندازہ اس شخص کے چہرے کی خاص ہیئت اور اس کی آنکھوں کی کیفیت اور اس طرح کے دوسرے آثار و قرائن سے جان لیتے ہیں۔ لیکن ایک شخص خواہ وہ کتنا بھی ذکی کیوں نہ ہو ان چیزوں کو اس طرح کے آثار و قرائن سے صرف ایک حد تک ہی معلوم کرسکتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اس ذکی شخص پر جب ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ سافل کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور یہ برکات اس کے نفس کا احاطہ کرلیتی ہیں تو ان کی وجہ سے اس شخص کی ذکاوت بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ اس حالت میں اس سے فراست و انتقالِ ذہن کے عجیب عجیب واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں اور اسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص میں "اشراف" اور "کشف" کی بعض استعدادیں پیدا ہوجاتی ہیں اور وہ ان کے ذریعے دوسروں کے دلی اسرار معلوم کرسکتا ہے۔
خوارق و کرامات کے ضمن میں فیضان برکات کی ایک اور شکل بھی ہوتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں ان میں سے ہر ایک کوئی نہ کوئی اعتقاد رکھتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس اعتقاد کی ہر شخص کے اندر ایک صورت مضمر ہوتی ہے، جب کبھی یہ شخص اپنے اس اعتقاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ توجہ اس کے اعتقاد کو متشکل طور پر اس کے سامنے لا حاضر کرتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اعتقاد کی یہ شکل اس شخص کی قوت متخیلہ کی طرف خود بڑھتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی قوت متخیلہ اعتقاد کی اس شکل کو طرح طرح کے اوضاع و اقطاع اور رنگوں کا لباس پہنا دیتی ہے۔ چنانچہ جب کسی شخص میں اپنے اعتقاد کو اس طرح متشکل دیکھنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے تو اسی حالت میں اس شخص پر ملاء اعلیٰ اور ملاء سافل کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے وہ عجیب عجیب تجلیات دیکھتا ہے اور خواب میں اسے رویائے صالحہ نظر آتے ہیں۔
خوارق و کرامات کے ضمن میں جو کچھ ہم بیان کرآئے ہیں، اس ذیل میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ تصوف کے ہر طریقے میں بعد میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے گرمیِ بازار کے لیے اور خود اپنی کرامات اور خوارق کے اظہار کی خاطر ہمت و توجہ کی تاثیر دعوتِ اسماء اور اسی طرح کی عجیب عجیب چیزیں اپنی طرف منسوب کرلی ہیں اور اس کے علاوہ بعض لوگوں نے تو جو زبردستی شیخ طریقت بن بیٹھے ہیں، ان چیزوں کے ساتھ ساتھ طلسمات نیز نجوم اور رمل و جفر وغیرہ کا بھی اپنی طرف اضافہ کرلیا ہے۔ بہرحال یہ جان لینا چاہیے کہ یہ اور اس طرح کی اور چیزیں ہمارے اس موضوع سے جو خوارق و کرامات کے متعلق ہے، بالکل خارج ہیں۔
اس کو استدراج کہا جا سکتا ہے، ٹھیک ہے نا، مطلب یہ والی بات ہے۔
تو یہ ما شاء اللہ یہ chapter پورا ہو گیا اب۔
اب آتا ہے اگلا chapter۔ اگر پورا ہو سکتا تو کر لیتے ہیں، آخری chapter ہے، اور یا پھر یہ ہے کہ اس کو pending کر لیتے ہیں، کچھ اور حضرات بھی اس آخری اُس میں شامل ہو جائیں گے، کیونکہ ظاہر ہے ہماری ہر کتاب کے اخیر میں کچھ خاص برکتیں نازل ہوتی ہیں نا، تو مطلب یہ ہے کہ جو ساتھی اس میں شامل ہونا چاہیں تو ان کو موقع مل جائے گا۔ آج تو ساتھی کم ہیں، میرے خیال میں پھر یہ کر لیتے ہیں اگلے ہفتہ میں اس کو پورا کر لیتے ہیں ان شاء اللہ۔
یہ بھی تو اسباب میں سے ہے نا، یہ بھی اسباب میں سے ہے۔ الحمد للہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ہم نے کوئی کتاب ختم کی ہے یا شروع کی ہے تو اس پر بے حد انوارات کا نزول ہوتا ہے۔ تو جو حضرات موجود ہوتے ہیں اس سے مستفید ہوتے ہیں، ان کو فائدہ ہو جاتا ہے۔ تو یہ ہے کہ ہماری پوری کوشش ہمارے سلسلے کی برکات ہیں الحمد للہ کہ ایسی چیزوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمیں مناسبت ہے۔ اس وجہ سے جمعہ کے آخری وقت کی دعا، یہ بھی ہمارا معمول ہے، جمعہ کے جو آخری وقت والا، حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے یہ نسبت ما شاء اللہ موجود ہے۔ تراویح کا جو اہتمام حضرت کا تھا، اعتکاف کا طریقہ ہے یا اس طرح یہ ذرائع ہیں، یہ کتاب ختم ہوتی ہے یا کتاب شروع ہوتی ہے، تو اس کی جو برکات ہیں ابھی آپ نے سن لیا نا، ملاءِ اعلیٰ اور ملاءِ اسفل ان کی طرف سے جو خصوصی فیضان ہوتا ہے۔ تو اس طرح ان مواقع پر بھی یہ ہوتا ہے، یہ ختم بخاری میں لوگ کیوں شامل ہوتے ہیں، اتنے دور دور سے آتے ہیں، ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ رائیونڈ کے جو اجتماع کی دعا ہوتی ہے، اس میں دور دور سے لوگ آتے ہیں یا نہیں آتے؟ یہ ہمارے ختم قرآن کی جو دعا ہوتی ہے تراویح میں۔ تو یہ بھی ایک پورا نظام ہے، تو ان نظاموں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ جیسے ہے نا، آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم جنت کی چراگاہوں میں پہنچو تو وہاں خوب چرو، تو پوچھا گیا کہ جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟ فرمایا ذکر کے حلقے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ذکر کے حلقوں میں کچھ چیزیں ہیں جو جنت پہنچاتی ہیں، اس لیے جنت کی چراگاہیں ان کو کہا گیا۔ ذکر کے جو حلقے ہیں۔
تو یہ بہت سارے ما شاء اللہ ذرائع اللہ پاک نے دیے ہوتے ہیں۔ اب جن کی قسمت میں ہوتا ہے ان کا رخ اس طرف ہو جاتا ہے اور وہ اس سے مستفید ہو جاتے ہیں، ان کو فائدہ ہو جاتا ہے، اور جو محرومِ قسمت ہوتے ہیں وہ اعتراضات شروع کر لیتے ہیں، یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے، اس میں کیا ہے، اس میں کیا ہے، اس میں کیا ہے؟ تو بیچارے محروم رہ جاتے ہیں، ظاہر ہے وہ کسی اور کو تو نقصان نہیں پہنچاتے، اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں، وہ اپنے آپ کو محروم کر دیتے ہیں۔ تو ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں چونکہ غیرت بہت زیادہ تھی، غیرت حضرت کی ضرب المثل تھی، تو حضرت فرماتے تھے کہ
با مدعی مگویید اسرار عشق و مستی
جو انکار کرنے والا ہے، اعتراض کرنے والا ہے، ان کے سامنے عشق و مستی کی باتیں نہ کیا کرو۔ ان کے لیے یہ سزا کافی ہے کہ وہ اس سے محروم ہیں، ان کے لیے یہ سزا کافی ہے کہ وہ اس سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محرومین میں سے نہ کرے۔
یہ انسان کی بس اپنی شامتِ اعمال بھی ہوتی ہے اور سمجھ کی کمی بھی ہوتی ہے کہ انسان اپنے راستہ کو خود ہی کاٹتا ہے، جس کو کہتے ہیں نا اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا، اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا یہی ہوتا ہے۔
با مدعی مگویید اسرار عشق و مستی
تا بے خبر بہ میرد در رنج خود پرستی
عاشق شو ار نا روزے کار جہاں سر آید
نا خواندہ نقش مقصود از کارگاہ ہستی
با ضعف و ناتوانی ہمچو نسیم خوش باش
بیمار اندری رہ خوش تر ز تندرستی
در گوشہ سلامت مستور چوں تواں بود
تا نرگس تو گوید با ما رموز مستی
بر آستان جاناں از آسماں میندیش
کز اوج سر بلندی افتی بہ خاک پستی
عشقت بدست طوفاں خواہد سپردن اے جاں
چوں برق ازیں کشاکش پنداشتی کہ جستی
خار ار چہ جاں بہ کاہد گل عذر آں بہ خواہد
سہلست تلخیٔ مے در جنبۂ ذوق مستی
صوفی پیالہ پیماں حافظؔ فرا بہ پرواز
اے کوتہ آستیناں تا کے دراز دستی
سبحان اللہ، تو یہ بات ہے کہ انسان کو قدر کرنی چاہیے ان نعمتوں کی، یہ نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے، ورنہ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ بظاہر تو ایک معمولی سا واقعہ ہوتا ہے، چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے، لیکن ہے۔ جیسے مثال کے طور پر ایک بچہ ہے اور وہ بِسْمِ اللّٰه پڑھ رہا ہے، اپنے استاد کے ساتھ قرآن پاک کی ابتدا کررہا ہے تو اس سے اس کے دادا کی قبر میں، قبر کا عذاب رک جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ چھوٹا سا واقعہ ہے سامنے، لیکن اس کے اثرات کہاں پہنچ گئے، اس کے اثرات کہاں پہنچ گئے۔ اس طرح صدقہ جاریہ ہے۔ وہ ایک واقعہ تھا کہ یہ کوئی صاحب تھے، بہت پریشان تھے، اس کے ساتھ کچھ کھانے پینے کا نہیں تھا، کافی دنوں سے فاقہ تھا۔ تو کسی بزرگ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ چلو چلتے ہیں، میرے پاس تو کچھ نہیں ہے لیکن چلو چلتے ہیں۔ تو وہاں کانٹا وغیرہ ساتھ لے لیا اور دریا پہ وہ پہنچ گئے۔ اس نے کہا کہ یہاں پر اللہ کا نام لے کے ڈال دو کانٹا، جو قسمت میں ہوگا آجائے گا۔ تو ایک بڑی سی مچھلی اس میں پھنس گئی۔ تو جب باہر لے آئے تو حضرت نے کہا کہ یہ لے جاؤ اور اس کو بیچ دو اور اس پہ کھانا لے کے وہ اپنے گھر لے جاؤ اپنے بیٹے اور اپنے گھر والوں کیلیے۔ انہوں نے کہا جی کچھ آپ بھی اس میں سے لیں۔ تو کہتے ہیں اگر میں یہ لیتا تو پھر یہ برکت کہاں آتی، یہ میں نے تو اللہ کے لیے کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ نعمت عطا فرما دی، اب جاکر تم یہ اس سے لے لو۔ تو خیر وہ لے گیا۔ جب وہ لے گیا تو اس پر راستہ میں وہ ایک بڑھیا تھی، اس کے ساتھ بھی ایک بچہ تھا اور کھانے کا کچھ نہیں تھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ تو اس نے کہا کہ میرا بیٹا بھی ہے بیوی بھی ہے تو یہ تو کس کو دوں، ادھر لے جاؤ یا ان کو دوں؟ تو اس پر اس سے رہا نہیں گیا، کہتا ہے کہ چلو ٹھیک ہے جی، ہم تو پھر بھی، ان کا کام ہوجائے۔ تو دو پراٹھے جو لیے تھے وہ ان کو دے دیئے۔ اب یہ پھر پریشان تھا کہ میں اب کیا کروں گا، دے تو دیے لیکن اب کیا کروں گا۔ تو آگے گئے تو ایک آدمی نے بھیڑ میں لوگوں کو بلایا کہ ہے کوئی فلاں جو مجھے فلاں سے ملا دے۔ وہ اس کا نام لے رہے تھے کہ مجھے فلاں سے ملا دے، کیونکہ اس کو جان رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہی تو ہے۔ کہتے ہیں کہ اچھا، ان سے باپ کا نام پوچھا، ساری تفصیلات معلوم کرلیں۔ کہتے ہیں آپ کے جو تھے والد، اس نے مجھے بیس ہزار روپے ایک وقت میں دیئے تھے تو وہ فوت ہوگئے تو اب میں آپ تک پہنچانا چاہتا تھا۔ تو مجھے کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا تو میں آپ کو ڈھونڈ رہا تھا، اچھا ہوا کہ آپ مل گئے تو یہ پیسے میں آپ کے لایا ہوں۔ یہ بیس ہزار روپے اس کو دے دیئے۔ اب بیس ہزار روپے جو اس کو مل گئے تو بس تو وہ بادشاہ بن گئے۔ وہ بیس ہزار روپے اس وقت کیا صورتحال تھی۔ تو خیر ایسا ہوا کہ تجارت شروع کرلی اور بہت ریل پیل ہوگئی۔ تو خیرات سے تو اس کا سلسلہ چلا تھا۔ تو لہٰذا خیرات بہت کرتے تھے اور سب کچھ ما شاء اللہ چل رہا تھا۔ تو ایک دن خواب دیکھ رہا ہے کہ حساب کتاب کا دن ہے تو میزان پہ فرشتہ کھڑا ہے۔ تو کہتے ہیں اب فلاں کا حساب شروع کرلو۔ اب اس کا حساب شروع کرلیا۔ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے تو بہت خیرات کی ہے، صدقہ جاریہ کیا ہے، کام بڑا آسان ہوجائے گا۔ وہ لوگوں کو حج کروانا اور مدرسوں کو چندہ دینا اور فلاں کرنا اور ڈال رہے ہیں، ڈال رہے ہیں، لیکن وہ بالکل کسی میں شہرت کا، کسی میں ریا کا، کسی میں کیا، کسی میں کیا۔ وہ چیزیں بڑی ہلکی ہلکی تھیں، وہ جو برائی کا پلڑا تھا اس کا بھاری تھا، اس کے سامنے کچھ بھی ٹھہر نہیں رہا تھا۔ تو یہ بڑا ڈر گیا کہ یا اللہ یہ کیا، مطلب میں تو مارا گیا۔ تو کہتے ہیں کہ فرشتے نے کہا کہ اس کا کچھ اور بھی ہے۔ کہتے ہیں ہاں، ایک دو پراٹھے اس نے عورت کو جو دیئے تھے وہ اس میں رکھ دو۔ وہ کافی وزنی تھے تو اس نے کچھ کافی پلڑا اس کا نیچے جھکا دیا۔ پھر بھی برائیوں والا پلڑا جھکا رہا، مطلب یہ ہے کہ پورا نہیں ہوا۔ تو پھر ڈر گیا کہ اب میرے پاس یہ چیز تھی، وہ بھی نہیں رہی۔ تو انہوں نے کہا اچھا وہ جو عورت کو جو خوشی ہوئی تھی، اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی، اس کا جو ہے ناں سارا اس میں ڈال دو۔ تو وہ ڈال دیا تو پھر کافی ما شاء اللہ اس کا وزن نیچے ہوگیا۔ پھر اس کے بعد کہتے ہیں اس بچے کی جو خوشی تھی اس کو دیکھ کر وہ اس میں ڈال دو۔ وہ اس میں ڈال دیا تو وہ بالکل ہی نیچے ہوگیا اور اس کو کہتے ہیں آواز آگئی کہ اب یہ چھوٹ گیا، یہ چھوٹ گیا۔ تو جب اٹھا تو انہوں نے کہا کہ میری باقی تمام چیزوں کی بنیاد کمزور تھی اور اس کی بنیاد مضبوط تھی۔ اس وقت میں نے صرف اللہ کے لیے کیا تھا، تو اب مجھے اس کا فائدہ مل گیا۔ تو یہ جو چیز ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان ہے کمزور ہے، لیکن مواقع ملتے ہیں تو ان میں سے بعض کوئی کام ایسا کرلیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا کام بن جاتا ہے۔ تو میں عرض کررہا تھا اصل میں آج ہمعات کا آخری chapter آگیا۔ جو کرامت و خوارق والا سلسلہ پورا ہوگیا آج۔ تو میں نے کہا کہ آخری chapter ہے تو اگر ابھی ختم کرلوں تو کافی سارے لوگ نہیں ہیں۔ اور ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ جب کتاب ختم ہوتی ہے تو اس پہ پورے انوارات کا سلسلہ ہوتا ہے، تو اس میں شریک ہوتے ہیں تو ان کو فائدہ ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے میں نے کہا کہ اب اس کا اعلان کرلیں گے تو جو جو حضرات شامل ہونا چاہیں گے تو وہ شامل ہوجائیں گے۔ اور ساتھ یہ ہے کہ اعلان ہوجائے گا پیام سحر پر بھی اور دوسرے گروپوں پر بھی تو وہ اپنی اپنی جگہوں پہ بھی سن لیں گے۔ تو اس طریقے سے پھر ہم نے آج آخری chapter کو pending کردیا کہ نہیں آخری chapter جو ہے ناں آج نہیں کرتے۔ تو یہ ہے کہ وہ ان شاء اللہ اگلے ہفتے۔ اور اس پر پھر میں بات چلا رہا تھا کہ ہمارے ہاں الحمد للہ یہ چیزیں کافی ہوتی ہیں کہ کتاب کے شروع میں اور کتاب کے اخیر میں الحمد للہ، اللہ کی خاص رحمتیں جب نازل ہوتی ہیں تو اس کو ہم ویسے ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ مطلب ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ ساتھی شامل ہوں اور اس سے سب کا فائدہ ہوجائے۔ یہ ہمارے سلسلہ کی الحمد للہ برکت ہے کہ اس میں ان چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ اپنے مریدوں کو کہیں کہ میرے لیے ایصال ثواب کریں، ایک عالم کے ذریعے سے۔ ایک عالم کے ذریعے سے۔ وہ ہوگیا تھا ناں، ما شاء اللہ جوڑ ہوگیا تھا تو اس کی برکت ما شاء اللہ تو ان کو کافی فائدہ ہوا اس عالم کو۔ تو ان کے ذریعے پیغام آگیا کہ میرا بتایا کہ شبیر کو کہہ دو کہ اپنے مریدوں کو کہہ دیں کہ میرے لیے ایصال ثواب کریں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ حضرت کا سلسلہ کچھ فیوض و برکات کا کھل رہا ہے، ما شاء اللہ کھل رہا ہے، الحمد للہ۔ تو اس سے ما شاء اللہ پھر اب امید ہے کہ اور یہ بھی فرمایا، یہ بھی فرمایا۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ، میں تو ناقل نہیں ہوں، ناقل تو وہی عالم ہیں، تو فرما رہے ہیں کہ میرا رحمکاریہ سلسلہ، رحمکاریہ سلسلہ، پھر کبھی ہم نے سنا نہیں تھا لیکن حضرت نے خود ہی فرمایا رحمکاریہ سلسلہ اور قادریہ سلسلہ، یہ کافی اونچی پرواز کے سلسلے ہیں۔ اونچی پرواز۔ تو مجھے فوراً یاد آگیا حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بات یاد آگئی کہ قادری سلسلہ بھی اویسی سلسلہ ہے ناں، ان کا فیض زیادہ تر اویسی ہوتا ہے۔ یہ لکھا ہے ناں ہمعات میں لکھا ہے۔ لکھا ہے کہ قادری سلسلے کا بھی زیادہ تر حصہ جو ہوتا ہے وہ اویسی ہے۔ اویسی سلسلہ میں یہی ہوتا ہے کہ ان کا اپنا سلسلہ تو ہوتا ہے، جو جس کے ذریعے سے فیض پہنچتا ہے لوگوں کو، لیکن اس کا بنیادی source اویسی ہوتا ہے۔ یعنی ان کے جو بڑے ہوتے ہیں ان کو اویسی نسبت حاصل ہوتی ہے۔ تو کاکا صاحب کا تو تھا ہی اویسی کیونکہ وہ عالم کہہ رہا ہے کہ میں نے پوچھا حضرت سے کہ آپ کا سلسلہ کون سا ہے؟ تو کہتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا کہ میں اپنے پیغمبر کا مرید ہوں۔ تو پتا چل گیا کہ اویسی ہیں، پیغمبر کا مرید ہونا مطلب کیا ہے، اویسی نسبت ہے۔ تو یہ کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت اویسی ہے اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی۔ میں جب بھی جاتا تھا ناں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حضرات کے پاس، یعنی کسی کی قبر پہ جاتا تھا تو بہت زیادہ ما شاء اللہ محبت اور اس کا جو۔ تو میں حیران تھا کہ یہ کیا بات ہے! کیونکہ میرے ساتھ براہ راست کوئی نسبی تعلق بھی نہیں ہے اور سلسلوں کا تو سب کا تعلق ہے، چاروں سلسلوں کا تعلق ہے، یعنی قادریہ بھی ہے، نقشبندیہ بھی ہے، چشتیہ بھی ہے، سہروردیہ بھی ہے۔ تو یہ کیا وجہ ہے؟ تو یہ اس کا بھی مل گیا جواب کہ آپس میں اس طریقے سے ملے ہوئے ہیں، یعنی قادری سلسلہ اور جو کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ والا سلسلہ، یہ دونوں سلسلے ما شاء اللہ اویسی نسبت میں جڑے ہوئے ہیں۔ تو یہ ہے کہ۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔
اب یہ چیزیں ساری اب دیکھیں ناں کیا ہوگیا، یعنی ہم نے کیا کیا ہے، ہم نے کچھ بھی نہیں کیا، کتنی ڈنڈیں پیلی ہیں۔ کیا ریاضتیں کی ہیں، کچھ بھی نہیں کیا، صرف کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب حلیم گل بابا کی پڑھی ہے، یہی مطلب کیا ہے ناں، اور کیا کیا ہے؟ اور الحمد للہ کچھ جوڑ کا بندوبست ہوا اور تمام چیزوں کا۔ اب الحمد للہ حضرت کا فیض متوجہ ہوگیا، یہی ہوتا ہے۔ سلسلے اسی طرح چلتے ہیں، فیض متوجہ ہوگیا، الحمد للہ۔ تو یہ خوش قسمتی والی بات ہوتی ہے، جو لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں ان کی ان چیزوں کی طرف رخ ہوجاتا ہے اور ان کے لیے راستے بن جاتے ہیں۔ اور جو معاندین ہوتے ہیں وہ اعتراض کرتے رہتے ہیں، مثلاً کوئی اعتراض کبھی، کبھی کوئی اعتراض، کبھی کوئی اعتراض، وہ کرتے رہتے ہیں اور بیچارے اپنے آپ کو محروم کرلیتے ہیں۔ آدمی کیا کہہ سکتا ہے، یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اکثر اس موقع پہ فرمایا کرتے تھے۔
با مدعی مگویید اسرار عشق و مستی
جو انکار کرنے والا ہے، اعتراض کرنے والا ہے، ان کو عشق و مستی کی چیزیں نہ بتاؤ، ان کے لیے یہ سزا کافی ہے کہ وہ محروم ہیں، یہ سزا ان کے لیے کافی ہے کہ وہ محروم ہیں۔ تو یہ بات بالکل ایسے ہی ہے کہ الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا کرم ہے، الحمد للہ! صحیح توحید بھی صحیح صوفی کو حاصل ہوتی ہے، صحیح توحید۔ کیسے؟ ایک ہوتی ہے اعتقادی توحید اور ایک ہوتی ہے حالی توحید۔ کیوں مفتی صاحب ایسا ہی ہے ناں؟ تو اعتقادی توحید سب کو حاصل ہے، بس جو بھی مومن ہوتا ہے سب کو حاصل ہوتی ہے، لیکن حالی توحید جو ہے وہ صوفی کو حاصل ہوتی ہے۔ درجہ حال میں جو توحید ہے یعنی جو تجلیات افعالیہ ہیں، وہ کس کو ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے یعنی صوفی کو ہوتے ہیں ناں، صوفی اس کی طرف جاتا ہے ناں۔ تو اب جو آدمی اپنے کسی کام کو بھی اپنا نہیں سمجھتا اس کو اللہ کا کام سمجھتا ہے، تو وہ موحد نہیں تو کون ہے؟
وہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے (وہ تو حضرت ما شاء اللہ بہت بڑے مقرر تھے) تو کسی نے سوال کیا کہ مردے کیا سنتے ہیں؟ کیا مردے سنتے ہیں؟ تو حضرت نے کہا کہ میرا تو زندہ بھی نہیں سنتے تو مردے کی کیا بات کررہے ہو، میرا تو زندہ بھی نہیں سنتے، آپ لوگ سنتے ہیں میری بات؟ تو انہوں نے اپنے آپ کو اس طریقے سے بچا لیا۔ تو یہ ہے کہ توحید جو ہے صحیح معنوں میں صوفی کو حاصل ہوتی ہے، جو صحیح صوفی ہوتا ہے اس کو توحید حاصل ہوتی ہے۔ اب دیکھو ناں حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات کہ جو آپ ﷺ کے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تک نہ پہنچیں تو اپنا عاشق ہے، حضور ﷺ کا عاشق نہیں ہے۔ اب اس توحید کو دیکھو ناں، اس توحید کو دیکھو یہ کون سی توحید ہے۔
آج ایک صاحب نے گروپ میں بات کی، پہلے بھی پتا نہیں مجھے لوگ اپنے اپنے گروپوں میں خود ہی شامل کرلیتے ہیں، مجھے پتا بھی نہیں ہوتا، کوئی کدھر سے شامل کردے، کوئی کدھر سے شامل کرتا ہے، اس طرح ایک گروپ میں مجھے شامل کیا گیا ہے، اس کا نام ہے World of life ہے، اچھا! یہ جو ہے ناں وہ اس میں انہوں نے ایک غزل لکھی کسی حکیم صاحب نے۔
زمانہ کو شاید بتانا پڑے گا
نیا رنگ اپنا دکھانا پڑے گا
قیادت، امامت، خلافت کی خاطر
جوانوں کو پھر سے جگانا پڑے گا
یہ تو ٹھیک ہے، یہاں تک اس کی بات صحیح تھی۔
جنہیں خانقاہوں کی لت لگ گئی ہے
انہیں پھر سے میداں میں لانا پڑے گا
یہاں سے اس کی اپنی خرابات شروع ہوگئیں۔
فقط تسبیحوں سے نہیں ملتی جنت
خدا کے لیے سر کٹانا پڑے گا
جو تاریکیوں کو مٹا دے جہاں سے
دیا کوئی ایسا جلانا پڑے گا
جہاں پر محبت کا ہو بول بالا
کوئی شہر ایسا بسانا پڑے گا
’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ‘‘
تمہیں خود کو اس پر چلانا پڑے گا
جو عاصی ’’مَغْضُوْب‘‘ ہیں، ’’ضَّآلِّیْنَ‘‘ ہیں
تمہیں خود کو اس سے بچانا پڑے گا
سبحان اللہ باقی چیزیں بالکل ٹھیک ہیں، درمیان کے دو شعر یہ ان کی اپنی خرابات میں سے ہیں۔ تو اس کا پھر میں نے جواب لکھا، جواب میں نے اسی کی بحر میں لکھا۔
جو خانقاہوں کے دم سے کچھ بھی بنے تھے
تو اب پھر سے خود کو بنانا پڑے گا
جو چھوٹے ہیں ان سے تو کیا حال ہے اپنا
بہرحال ان میں اب جانا پڑے گا
معین کی تھی برکت مسلمان ہوا ہے ہند
یعنی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ۔
معین کی تھی برکت مسلمان ہوا ہے ہند
مجدد کا حال بھی بتانا پڑے گا
کیونکہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی برکت سے اکثر ہندوستان مسلمان ہوا ہے۔ اور پھر جب دوبارہ مسئلہ آگیا اکبر کے دینِ الٰہی کا، تو اس کا مقابلہ کس نے کیا؟ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۔ دونوں صوفیاء تھے، تو گویا کہ دونوں موقع پہ ابتدا میں اور سب بالکل جو ختم ہونے والا تھا، وہاں پر دو صوفی کام آگئے۔
معین کی تھی برکت مسلمان ہوا ہے ہند
مجدد کا حال بھی بتانا پڑے گا
کیا ڈاکٹر صحیح ہوتے ہیں سب کے سب پھر
صحیح صوفی کو بھی اپنانا پڑے گا
جب سارے ڈاکٹر صحیح نہیں کرتے ہیں۔
محدث فقیہ واسطے علم کے ہیں
عمل کے لیے کچھ کرانا پڑے گا
اگر نفس کے شر سے بچیں نہ ہوں پھر تو
عمل واسطے اس کو دبانا پڑے گا
دبانا یہ نفس کا عمل خانقاہ کا
یہ خانقاہ میں خود کو کروانا پڑے گا
جہاں صرف باتیں ہی باتیں ہوں شبیرؔ
عمل پر انہیں اب تو لانا پڑے گا
تو یہ میں نے پھر ان سے کہا، ان سے معذرت۔ تو پھر ایک اور صاحب کی طرف سے آیا کہ انسان اور انسانیت میں فرق واضح کرنا انسان ہی کے لیے انسانیت کا مدار ہے، لہٰذا اس تک باسہولت پہنچنے اور سکھی زندگی پیدا کرنے میں افکار مختلف ہیں۔ وجہ واضح ہے کہ انسان تین چیزوں کا مجموعہ ہے: body یعنی جسم، نفس ناطقہ، اور روح (ذہن soul)۔ اب ہر ایک کی حقیقت پرکھنے سے انسانیت رونما ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ علم کے ذرائع بھی تین ہیں: حواس سے، عقل سے، اور وحی سے۔ چلیے! اب ہمارے دوست اس پر اپنے علم کی روشنی میں بات کریں۔
تو میں نے پھر جواب دیا کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق انسان میں تین نظاموں کا سمجھنا، ان کے باہمی تعامل میں اعتدال پیدا کرنا، اور اس کی صلاحیتوں کے مثبت استعمال کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور اس کو سمجھنے کے لیے شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ "عبقات" میں علم کی تین قسمیں بتاتے ہیں: وحی، عقل، اور کشف۔ تفصیلات بعد میں بتائی جاسکتی ہیں۔ بہرحال الحمد للہ ابھی اس پر آگئے ہیں۔
اچھا! کوئی صاحب جس نے مطلب کیا ہے شروع، تو کہتے ہیں حضرت قبلہ بندہ کی پوسٹ کا خطاب آپ بالکل نہیں تھے، کیونکہ آپ ما شاء اللہ خلیفۂ مرشد ہیں۔ اگرچہ آپ کی سطور پر نور سے بہت دوست مستفید ہوسکتے ہیں، آپ کا شاگرد و مرید ۔
مطلب وہ جو ہے ناں، اس نے اس میں کیا ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ وَاللهُ اعلم۔ درمیان میں دو شعر انہوں نے کیسے لائے، اس سے لوگ کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ یہی کہ خانقاہیں غلط کام کررہی ہیں، یہی تھا ناں؟ تو اس کا جواب دینا تو ضروری تھا۔
اب میں اس میں ہوں یا نہیں ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل میں تو خانقاہ کے اوپر چوٹ لگانا یہ بذاتِ خود پورا ایک نظام کو چیلنج کرنے والی بات ہے ناں۔ تو ساری خانقاہیں تو غلط نہیں ہیں۔ جیسے۔۔۔۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں، جو لوگ خانقاہ کے خلاف بات کرتے ہیں تو میں کہتا ہوں: بات سنو، عالم سے تو آپ انکار نہیں کرسکتے کیونکہ ﴿قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ قرآن پاک میں ہے۔ تو عالم کے لیے باقاعدہ حدیث شریف میں لفظ موجود ہے: علماء حق، علماء سوء۔ علماء سوء کا لفظ موجود ہے۔ یہ فرمایا کہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ برے علماء سوء ہیں جو دنیا کے لیے آخرت کو بیچیں گے۔ اب عالم کا اتنا اونچا مقام ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرما دیا کہ اگر وہ اپنے مقام کو نہ پہچانے تو سب سے زیادہ خطرناک وہ بن جاتا ہے۔ تو آپ کیا علماءِ سوء کے لیے علماءِ حق کو چھوڑ سکتے ہیں؟
اگر علماء سوء کے لیے آپ علماء حق کو نہیں چھوڑ سکتے تو صوفیاء سوء کے لیے صوفیاء حق کیسے چھوڑ رہے ہیں؟ حالانکہ صوفیاء سوء کا نام تو حدیث شریف میں نہیں ہے، صوفیاء سوء کا نام تو حدیث شریف میں نہیں ہے، علماء سوء کا لفظ ہے حدیث شریف میں، صوفیاء سوء کا لفظ تو نہیں ہے۔ لیکن اگر صوفیاء سوء ہیں، اور ہیں ہم مانتے ہیں، تو صوفیاء سوء کے لیے آپ صوفیاء حق کو کیسے چھوڑ رہے ہیں؟ یہ ظلم ہے۔ اس کا جواب دینا چاہیے۔
اہلِ حق جو بھی ہیں، چاہے علماء حق ہیں، چاہے صوفیاء حق ہیں، چاہے سیاست میں ہیں اور حق پر ہیں، چاہے جہاد میں ہیں اور حق پر ہیں، چاہے تبلیغ میں ہیں اور حق پر ہیں، چاہے کتابیں تصنیف کررہے ہیں اور حق پر ہیں، وہ سب ہمارے لیے محترم ہیں۔
ان کے مقابلہ میں جو باطل ہیں، چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہیں، ان کا مقابلہ ضروری ہے۔ ظاہر ہے اگر آپ کو حق بچانا ہے تو باطل کا مقابلہ ضروری ہے، چاہے وہ جس بھی شعبے میں ہوں ان کا مقابلہ ضروری ہے۔ آپ یہ نہیں کہ کسی ایک شعبے کے پیچھے پڑ جائیں اور کہہ دیں کہ ان کے باطل تو باطل ہیں، باقیوں کے باطل باطل نہیں ہیں۔ تو یہ امتیازی سلوک ہوجائے گا، اور امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے لیے انسان کو کرنا پڑے گا کچھ ۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔