الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً۔
آپ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے کہ بلاشبہ قیامت میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے۔
رواہ الترمذی وابن حبان فی صحیحہ کلاہما من روایۃ موسٰی بن یعقوب کذا فی الترغیب وبسط السخاوی فی القول البدیع الکلام علی تخریجہ۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے قول بدیع میں الدر المنظم سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ تم میں کثرت سے درود پڑھنے والا کل قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے بھی یہ ارشاد نقل کیا کہ قیامت میں ہر موقع پر مجھ سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھنے والا ہوگا۔
ایک دوسری حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن پل صراط کے اندھیرے میں نور ہے۔ اور جو یہ چاہے کہ اس کے اعمال بہت بڑی ترازو میں تلیں، اس کو چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرے۔
ایک اور حدیث میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے، سب سے زیادہ نجات والا قیامت کے دن اس کے ہولوں سے اور اس کے مقامات سے وہ شخص ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهٗ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهٗ فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ، وَمَنْ صَلّٰى عَلَيَّ مَرَّةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهٗ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ۔
رواہ احمد والنسائی واللفظ لہ وابن حبان فی صحیحہ کذا فی الترغیب۔
حضور اقدس ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ جس کے سامنے میرا تذکرہ آوے، اس کو چاہیے کہ مجھ پر درود بھیجے۔ اور جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا اللہ جل شانہ اس پر دس دفعہ درود بھیجے گا۔ اور اس کی دس خطائیں معاف کرے گا، اس کے دس درجے بلند کرے گا۔
علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ نے ترغیب میں حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سے بھی یہی مضمون نقل کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ یہ اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے بقدر ہوگا۔
طبرانی کی روایت سے حدیث نقل کیا ہے، جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اور جو مجھ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ اس پر سو دفعہ درود بھیجتا ہے، اور جو مجھ پر سو دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس کی پیشانی پر بَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ لکھ دیتے ہیں، نفاق سے بھی بری اور جہنم سے بھی بری، اور قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ اس کا حشر فرمائیں گے۔
تو یہ اصل میں اللہ جل شانہ کی مہربانی ہے کہ آپ ﷺ کے ہمارے اوپر جتنے احسانات ہیں اس کا بدلہ کیسے ہم دے سکتے ہیں؟ نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ پاک نے ہمیں ایک بہت آسان طریقہ عطا فرمایا، کہ ہم آپ ﷺ پر درود بھیجا کریں۔
اور یہ طریقہ اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں ہمیں عطا فرمایا۔ اور اس شان کے ساتھ عطا فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے اس عظیم الشان نبی پر درود بھیجا کرتے ہیں، یعنی مطلب ہے استمرار کا صیغہ ہے۔ تم بھی اے مومنو! ان پر درود و سلام اہتمام کے ساتھ بھیجا کرو۔ تو کسی اور عمل کے لیے اس طرح انداز نہیں فرمایا اللہ پاک نے کہ میں بھی کرتا ہوں، میرے فرشتے بھی کرتے ہیں، تم بھی کرو۔ یہ کسی اور عمل کے لیے نہیں ہے۔
اس وجہ سے درود پاک ہر حالت میں مفید ہے انسان کے لیے۔ ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان سے کسی شخص نے جو باہر جا رہا تھا، کسی ملک میں، پوچھا کہ حضرت میں اللہ اللہ کر لیا کروں؟ تو حضرت نے فرمایا ہاں کر لیا کرو۔
جب وہ باہر چلا گیا، تھوڑی دور گیا ہوگا تو حضرت نے اس کے پیچھے آدمی دوڑا دیا کہ اس کو بلاؤ۔ جب واپس آیا تو فرمایا درود شریف پڑھا کرو، درود شریف پڑھا کرو۔ پھر بعد میں اس کے جانے کے بعد حضرت نے فرمایا اصل میں بعض لوگ ذکر صحیح طریقے سے نہ کرنے کی وجہ سے کبھی ان کے دماغ پر اثر ہو جاتا ہے۔ تو گویا کہ اس کے لیے طریقہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے بعض دفعہ۔ تو درود پاک میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مطلب ہے درود پاک جتنا زیادہ کوئی پڑھنا چاہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ اللہ کا جو لفظ ہے نا، اس میں ایک Rhythm ہے۔ اور ہر شخص کی اپنی ایک Resonance ہوتا ہے۔ تو اگر کسی کے ساتھ Resonate کر گیا تو Effect اس کے برداشت سے زیادہ ہو تو پھر ممکن ہے کہ اس کو Physical damage ہو جائے۔
مجھے خوب یاد ہے ایک عجیب بات ہوئی۔ میرے سامنے ایک جگہ پہ دو ڈرائیور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی معلومات Share کر رہے تھے۔ تو ایک ڈرائیور دوسرے سے پوچھتا ہے کہ اگر اترائی میں بریک فیل ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟ تو اس نے کہا کہ میں گیئر بدلوں گا۔ یعنی پہلے Third گیئر لگاؤں گا۔ پھر کچھ دیر بعد سیکنڈ لگاؤں گا۔ پھر فرسٹ لگاؤں گا اور پھر کسی کے ساتھ بڑھا دوں گا نقصان تو ہو گا لیکن کم ہو جائے گا۔ کیونکہ جتنا بریک مطلب ہائی ہوتا ہے تو اس وقت سپیڈ کم ہو جاتی ہے، طاقت بڑھ جاتی ہے۔ تو خیر یہ باتیں میرے سامنے عام طور پر ہوتی رہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کام بھی آئیں گی۔
یہاں مغل آباد میں ہماری ذکر کی مجلس ہوا کرتی تھی تو اس میں ایک بوڑھا آدمی بھی اس میں شامل ہوا کرتا تھا۔ اب بوڑھے آدمی جو ہوتا ہے اس کی برداشت کی قوت کم ہوتی ہے۔ ہم ذکر کر رہے تھے، غالباً اللہ اللہ کا ذکر ہم کر رہے تھے اس وقت۔ آؤٹ ہو گئے۔ جب آؤٹ ہو گئے تو مجھے پتا چل گیا، کیونکہ وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر کسی پہ حال طاری ہو جائے تو اس کو فوراً نہیں روکنا چاہیے۔ کیونکہ فوراً روکنے سے ان کو انتہائی شدید قبض ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے بعض دفعہ اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔
تو مجھے اس کا بھی خطرہ تھا کہ اگر میں روک دوں گا تو ممکن ہے اس کو قبض نہ ہو جائے۔ تو روکنا بھی نہیں تھا اور نکالنا بھی تھا، مجھے وہ ڈرائیوروں کی بات یاد آ گئی۔ تو پھر میں نے Tone چینج کر دیا۔ ذکر جاری رکھا لیکن ٹون چینج کر دیا۔ وہ Slow tone، اس سے کم Slow، تو اس سے اس کا بھی ٹون چینج ہو گیا۔ اس کے بعد تھوڑی دیر کے بعد پھر اور ٹون چینج کر لیا کچھ اور Slow کر دیا۔ پھر اس کے بعد کچھ اور چینج کر دیا، ہوتے ہوتے اتنے میں ذکر مکمل ہو گیا اور بس آرام سے Landing ہو گئی۔ ورنہ وہ تو اوپر چلا گیا تھا۔
تو اس وجہ سے اس میں ذرا۔۔۔ اس لیے کہتے ہیں جو اجتماعی ذکر ہے نا یہ ایک شیخ کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ مطلب اگر اس قسم کے حالات ہو جائیں تو پھر کم از کم سنبھالنے والا کوئی ہو۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ کہیں پر درود شریف کی مجلس تھی ہماری، ہمارے دفتر کی مسجد ہے اس میں۔ تو ہم چھت پہ یعنی جو Corridor تھا نا اس کی چھت پہ ہم مجلس کر رہے تھے۔ نیچے صحن میں دو سکیورٹی گارڈز تھے وہ ذکر کر رہے تھے۔ ان کو ذکر کرنے کا طریقہ نہیں آتا تھا، ظاہر ہے کسی سے سیکھ کے نہیں کر رہے تھے، اپنی طرف سے کر رہے تھے یا کسی اناڑی سے سیکھا ہوگا۔ تو غلط طریقے سے کر رہے تھے۔ تو میں نے ان ساتھیوں سے کہا میں نے کہا ان کے پاس جا کے، ان سے کہو یا تو ذکر سیکھ کے کرو یا پھر نہ کرو یہ۔ یہ کوئی آپ کے اوپر لازمی تو نہیں ہے۔ کرنا ہے تو سیکھ کے کرنا چاہیے۔
ایسا ہوا کہ وہ ذکر کر رہے تھے وہ ان کا ضرب گردن پہ لگ رہا تھا۔ ضرب تو دل پہ لگنا چاہیے۔ دل عجیب جگہ ہے۔ 72 pulses per minute یہ عمر بھر چلتا ہے۔ کسی وقت رک نہیں سکتا۔ آپ کسی انگلی کو اتنا چلائیں نا پتہ چل جائے گا۔ پیر کو چلائیں، سر کو چلائیں۔ کچھ دیر کے بعد ہلا بھی نہیں سکو گے۔ لیکن دل ہے کہ چل رہا ہے جی۔ نظام اللہ پاک کا ہے۔ تو دل میں برداشت کی قوت زیادہ ہے۔ تو جب ضرب دل پہ لگتی ہے تو اس میں مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن کسی اور جگہ ضرب لگے، تو چونکہ وہ جگہ اس کے لیے بنی ہی نہیں ہے، تو لہذا نقصان ہو سکتا ہے۔
بالخصوص گردن پہ اگر ضرب لگے، تو اس سے جو Nervous system ہے وہ Disturb ہو سکتا ہے۔ کیوں ڈاکٹر صاحب؟ گردن میں Nerves کا وہ ہے نا۔ تو اس کو عموماً ہماری زبان میں عام طور پر خشکی کہا جاتا ہے کہ خشکی چڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ Nervous system جب Disturb ہو جائے تو انسان بیلنس نہیں رہتا۔
تو یہ بات وہ کر رہے تھے تو مجھے خطرہ تھا کہ ان کے ساتھ ایسا نہ ہو جائے۔ خیابان میں ہم تھے، وہ لوگ جو کہ ہمارے خلاف ہیں مطلب ہمیں اچھا نہیں سمجھتے۔ ان میں سے ایک صاحب ہمارے گھر کے پاس ان کا یہ لوہار کا دکان تھا، ویلڈنگ وغیرہ کا کام تھا۔ تو ایک دن گیارہ بجے رات کو آئے جی، دروازہ کھٹکھٹایا، باہر آ گیا جی، جی میرے بیٹے کو بہت بڑا مسئلہ ہے آپ ذرا تھوڑا سا اس کو دیکھیں۔
اب سردیوں کی راتیں تھیں، گیارہ بجے کا ٹائم، کافی رات اندھیرا۔ مجھے خطرہ بھی تھا کہ کہیں کوئی پلاننگ اس نے نہ بنائی ہو کیونکہ ہمارے خلاف لوگ ہیں۔ لیکن پڑوسی ہونے کی وجہ سے ان کا حق بھی بنتا تھا۔ کیا کریں؟ تو گھر والوں کو میں نے کہا، میں نے احتیاطاً بتا دیا کہ میں فلاں کے ساتھ جا رہا ہوں۔ تاکہ مطلب کوئی انفارمیشن ہو۔ لیکن اس کے ساتھ چلا گیا۔
وہ ایک مسجد ہے آپ لوگوں کے گھر کے جو قریب، وہ ایک مسجد ہے۔ اس کے مولوی صاحب کے پوتے تھے وہ۔ بیچارہ نوجوان لڑکا تھا کچھ اٹھارہ بیس سال کا۔ تو اس کو جھٹکے لگ رہے تھے، جھٹکے لگ رہے تھے۔ میں گیا تو مولوی صاحب بھی موجود تھے اور یہ بھی، باپ بھی اس کا تھا اور پریشان تھے بہت۔ تو میں نے دیکھ لیا میں نے کہا کہ یہ تو کچھ لگ رہا ہے کہ صحیح طریقے سے اس نے ذکر نہیں کیا۔
میں نے اس سے کہا یہ کس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے؟ تو کہا کہ یہ نہیں ہوتے سبز پگڑیوں والے؟ ان کے ساتھ۔ میں نے کہا اگر وعدہ کرو کہ آئندہ ان کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیں گے پھر تو میں علاج کرتا ہوں۔ اور اگر یہ وعدہ نہیں کر سکتے پھر میں خوامخواہ اس پہ ٹائم نہیں لگاتا۔ پھر آپ کی مرضی ہے جہاں جہاں لے جاؤ۔
تو ان کے دادا نے، مولوی صاحب تھے، اس نے وعدہ کیا کہتے ہیں آئندہ ان کے ساتھ نہیں جائے گا۔ میں نے کہا پھر ٹھیک ہے، میں نے کہا ان شاءاللہ دو تین دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر ان کو میں نے طریقہ بتا دیا، اللہ کا شکر ہے بس دو تین دن میں اللہ نے ٹھیک کر دیا۔ پھر الحمدللہ بعد میں بیعت بھی ہو گیا۔
مقصد میرا یہ ہے کہ طریقہ ہوتا ہے نا ہر چیز کا۔ تو ذکر میں یہ مسائل ہوتے ہیں۔ فائدہ بہت ہوتا ہے لیکن علاجی بھی اس سے... علاج بھی اس سے۔ اب دوائی آپ غلط دیں ڈاکٹر صاحب! تو کیا ہوگا؟ نقصان ہوگا۔ اسی طریقے سے مطلب ہے کہ جو علاجی ذکر ہے وہ اگر غلط طریقے سے کرے گا تو کیا ہوگا؟ نقصان ہوگا۔ اس لیے تو ہم کہتے ہیں جتنا بتایا جاتا ہے اتنا کرو، اور جیسے بتایا جائے اس طرح کرو۔ ہمارے مردان میں ایک بزرگ تھے قادری سلسلے کے، ان کی بات مجھے بڑی پسند تھی کہ اپنے مریدوں کو کہتا تھا، میں نے جو ذکر دیا نا، اس سے کم کرو گے نا اس سے زیادہ کرو گے۔ اگر کم کیا، زیادہ کیا، تو جو کچھ ہوگا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ وہ صاف صاف بتاتا تھا۔ تو خیر مطلب میرا یہ ہے کہ ذکر میں تو یہ مسائل ہیں یعنی ذکرِ علاجی۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ پورا کلمہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، جتنا مرضی پڑھو۔ لیکن اگر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ صرف پڑھتے ہیں تو Under observation پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ اس میں ایک Rhythm بن جاتا ہے۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ یعنی گویا کہ اللہ اللہ اس سے بھی زیادہ Sensitive ہے۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ اس میں تو طریقہ ہوتا ہے، لیکن درود شریف چونکہ پورا پڑھنا پڑتا ہے، جیسے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ہے۔ اس وجہ سے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جتنا مرضی پڑھو، تھک جاؤ گے، بے شک تھکاوٹ الگ چیز ہے، لیکن وہ مسئلہ نہیں ہوگا جو مسائل مطلب اس سے ہوتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ درود شریف کثرت کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہے۔ اور برکات اس کے اتنے زیادہ ہیں جیسے ابھی آپ نے سنے۔ تو پھر کیوں نہ پڑھیں؟ ہاں جی، بہت پڑھنا چاہیے۔ اللہ پاک نے ہمیں اتنی بڑی چیز عطا فرمائی ہے۔
اور آپ ﷺ سُبْحَانَ اللّٰهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ۔ کتنا ہم پر مہربان ہیں۔ یہ آپ ﷺ کی مہربانی ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دو باتیں ایسی فرمائی ہیں جو آپ ﷺ کی ذات سے متعلق ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے اس وجہ سے کہ میری ذات سے متعلق ہے، یعنی اس کے بارے میں رکے نہیں، یہ آپ ﷺ کی مہربانی ہے۔ ایک جو یہ فرمایا کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھ سے... والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرو۔ حضرت عمر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْه سے فرمایا کہ اپنے آپ سے بھی زیادہ۔ تو ایک تو یہ بات فرمائی ہے۔ اور ایک درود شریف کے بارے میں جو فضائل بتائے۔ تو ہمیں پھر اس کی قدر کرنی چاہیے، اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرما دے۔ وَمَا عَلَیْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔