الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ ۗ وَاللهُ سَـمِيْعٌ عَلِيْـمٌ (224) لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۗ وَاللهُ غَفُوْرٌ حَلِيْـمٌ (225) لِّلَّـذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِـمْ تَـرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ۖ فَاِنْ فَـآءُوْا فَاِنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (226) وَاِنْ عَزَمُوا الطَّـلَاقَ فَاِنَّ اللهَ سَـمِيْـعٌ عَلِـيْمٌ (227) وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَـرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوٓءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَـهُنَّ اَنْ يَّكْـتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِـىٓ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِىْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوٓا اِصْلَاحًا ۚ وَلَـهُـنَّ مِثْلُ الَّـذِىْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللهُ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (228)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں میں اس غرض سے استعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقویٰ کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو۔
بعض مرتبہ انسان کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر کوئی قسم کھا لیتا ہے کہ میں فلاں کام نہیں کروں گا، حالانکہ وہ نیک کام ہوتا ہے، مثلاً ایک مرتبہ حضرت مسطح (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایک غلطی ہو گئی تھی تو حضرت صدیق اکبر نے یہ قسم کھا لی تھی کہ آئندہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے، یا جیسے روح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بہنوئی کے بارے میں قسم کھا لی تھی کہ وہ ان سے بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی بیوی سے ان کی صلح کرائیں گے۔ یہ آیت ایسی قسم کھانے سے منع کر رہی ہے، کیونکہ اس طرح اللہ کا نام ایک غلط مقصد میں استعمال ہوتا ہے۔ اور صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی نامناسب قسم کھا لے تو اسے توڑ دینا چاہئے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔
قسم اصل میں کئی چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔ مثلاً ایک تو اس لیے ہوتا ہے کہ اپنے کسی کام کے بارے میں کوئی کہہ دے، یقین دلانا چاہتا ہے کہ میں نے کیا ہے یا نہیں کیا ہے۔ تو اس کے لیے بھی قسم ہوتا ہے۔ اور ایک یہ ہوتا ہے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا نا مستقبل کے لیے۔ تو اس میں اگر کوئی غلط کام ہے، تو اس کا تو ٹھیک ہے۔ مثلاً ایک آدمی کہہ دے قسم ہے بس اب چوری نہیں کروں گا۔ تو وہ تو ویسے بھی اللہ پاک نے منع کیا ہوا ہے، تو یہ تو اس کے لیے اچھا ہے۔ لیکن ایسا ہے کہ مثال کے طور پر کوئی قسم کھائے کہ میں فلاں کو سلام نہیں کروں گا۔ حالانکہ سلام کرنا سنت ہے۔ تو پھر ظاہر ہے اس کو توڑنا چاہیے اور اس کا کفارہ بھی دینا چاہیے۔
کفارہ اس لیے دینا چاہیے کہ غلط قسم کھائی ہے، مناسب قسم نہیں کھائی۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کا حکم توڑا ہے کہ اب اللہ پاک نے ایسی چیزوں سے منع کیا ہے۔ ایک تو کہ اس طرح قسم کیوں کھائی ہے۔ البتہ یہ ہے کہ اس اچھے کام سے اس کی وجہ سے رکنا نہیں چاہیے۔ بعض دفعہ لوگ اس طرح قسمیں کھا لیتے ہیں لیکن ایسی قسموں کا انسان کو وہ نہیں رکھنا چاہیے، جاری۔
اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔ (224) اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کرے گا۔
لغو قسم سے مراد ایک تو وہ قسم ہے جو قسم کھانے کے ارادے سے نہیں، بلکہ تکیہ کلام کے طور پر زبان پر آ جائے، خاص طور پر عربوں میں اس کا بہت رواج تھا کہ بات بات میں وہ ”واللہ“ کہہ دیتے تھے۔
یہ ہمارے آفریدی قبائل ہیں نا، ان کی بھی عادت ہے۔ "واللہ"۔ اب فوراً جو ہے نا "واللہ" کہہ دیں گے۔ تو یہ ایک تکیہ کلام کا قسم ہے۔ تو اس میں چونکہ وہ نیت نہیں ہوتی، تو اس لیے
کہ بات بات میں واللہ کہہ دیتے تھے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان ماضی کے کسی واقعے پر ارادے ہی سے قسم کھاتا ہے، لیکن اس کے خیال کے مطابق وہ قسم صحیح ہوتی ہے، جھوٹ بولنے کا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو بات قسم کھا کر کہی تھی، وہ حقیقت میں صحیح نہیں تھی۔ ان دونوں طرح کی قسموں کو لغو کہا جاتا ہے۔ اس آیت نے بتایا کہ اس پر گناہ نہیں ہوتا۔ البتہ انسان کو چاہئے کہ وہ قسم کھانے میں احتیاط سے کام لے، اور ایسی قسم سے بھی پرہیز کرے۔
یہ واقعی دو قسم کا احتیاط ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ مثال کے طور پر کوئی زبان... معاشرے کے لحاظ سے گڑبڑ ہو جائے، اور گالیاں زبان پہ آنے لگے۔ ہوتے ہیں بعض لوگ، باتوں میں گالیاں دیتے ہیں، کچھ ایسے الفاظ ہوتے ہیں جو گالی ہوتی ہے، اور بات بات پر وہ منہ پہ آتی ہے۔ تو ظاہر ہے اپنی زبانوں کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، اور ایسی بات نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے انسان کا مرتبہ لوگوں کے نزدیک بھی کم ہوتا ہے، اور اللہ کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔ ایسی چیز نہیں کرنی چاہیے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ قسم کھانے میں احتیاط... کیونکہ قسم کا ایک حوالہ ہے۔ اس وجہ سے اگرچہ وہ لغو کیوں نہ ہو، لیکن لغو کام کیوں کیا جائے؟ لغو کام تو ویسے خود بھی چھوڑنا چاہیے۔ تو ایسے کام نہیں کرنا چاہیے۔
جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں (یعنی ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے ہیں) ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے۔
عربوں میں یہ ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ وہ یہ قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائیں گے۔ نتیجہ یہ کہ بیوی غیر معین مدت تک لٹکی رہتی تھی۔ نہ اسے بیوی جیسے حقوق ملتے تھے، اور نہ وہ کہیں اور شادی کر سکتی تھی۔ اسی قسم کو ”ایلاء“ کہا جاتا ہے۔ اس آیت نے یہ قانون بنا دیا کہ جو شخص ایلاء کرے، وہ یا تو چار مہینے کے اندر اندر اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دے اور اپنی بیوی سے معمول کے ازدواجی تعلقات بحال کر لے، ورنہ چار مہینے تک اگر اس نے قسم نہ توڑی تو بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ آیت میں جو کہا گیا ہے کہ ”اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو“، اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ چار مہینے قسم توڑے بغیر گزار دیں تو نکاح خود بخود ختم ہو جائے گا۔
بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے۔ تو جو لوگ اس طرح کرتے ہیں تو
ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے۔ چنانچہ اگر وہ (قسم توڑ کر) رجوع کر لیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے (226) اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو (تو بھی) اللہ سننے والے جانے والا ہے۔ (227)
یعنی اس کو پتہ ہے۔
اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو وہ تین مرتبہ حیض آنے تک (اپنے آپ کو) انتظار میں رکھیں۔
یہ مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے، یعنی طلاق کے بعد انہیں تین مرتبہ ایامِ ماہواری پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی جس کے بعد وہ کہیں اور نکاح کر سکیں گی۔ لیکن سورۂ احزاب (33:49) میں واضح کر دیا گیا ہے کہ عدت اسی وقت واجب ہے جب میاں بیوی کے درمیان خلوت ہو چکی ہو۔ اگر اس سے پہلے ہی طلاق ہو گئی تو عدت واجب نہیں۔ نیز سورۂ طلاق (65:4) میں بتایا گیا ہے کہ جن عورتوں کا حیض ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہو یا ابھی آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہو جائے گی۔
یہ فقہ (Fiqh) کے مسائل ہیں جو کہ ان آیات سے مستنبط ہوتے ہیں۔ تو اس میں ہمیں ایسے ہی عمل کرنا پڑے گا۔
اور اس مدت میں اگر ان کے شوہر حالات بہتر بنانا چاہیں تو ان کو حق ہے کہ وہ ان عورتوں کو (اپنی زوجیت میں) واپس لے لیں۔ اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے (مردوں کو) اُن پر حاصل ہیں۔ ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے۔
جاہلیت کے دور میں عورت کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ شوہر اور بیوی کے حقوق ایک دوسرے کے برابر ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ زندگی کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو امیر اور نگراں بنایا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم نے سورۂ نساء (4:34) میں واضح فرمایا ہے۔ اس لحاظ سے اس کو ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔
یہ بات ذرا سمجھنے کے لیے کہ اس کو فوقیت حاصل ہے، دو باتیں مدنظر رکھنی پڑیں گی۔ کیونکہ آج کل بے باک میڈیا چل رہا ہے، اور اس میں لوگوں کو اپنے الفاظ پر کوئی، احتیاط نہیں ہوتی، بالخصوص عورتیں جذباتی انداز میں بولتی ہیں، یا لکھتی ہیں، تو ایسی صورت میں بعض دفعہ ایمان سے انسان خارج ہو جاتا ہے اگر غلط الفاظ بولے۔ تو اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ اس میں بات ہے کیا۔ اول تو یہ بات ہے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیے۔ کیونکہ یہودیت میں اب بھی جو ان کا... عورتوں کے ساتھ تعلق ہے، وہ جو Orthodox Jews ہیں، وہ انسان کو پتہ چل جائے تو آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ پوری دنیا میں شور کیا مچا رہے ہیں اور خود کیا کر رہے ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ بہت زیادہ ظلم ہوتا تھا، عورت کو کچھ سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ تو اللہ جل شانہ نے عورتوں کے حقوق بیان فرمائے اسلام میں اور جو ہے نا مسلمانوں کو بہترین طریقے سے ان کا پتہ چل گیا اور مسلمانوں نے عورتوں کو کافی سہولتیں دیں۔ بات کرنے کی بھی، اور اس کے ان کے اور بھی حقوق۔ ایک تو یہ بات ہے کہ یہ جو اسلام نے کہا ہے کہ ان کو درجہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتوں کی مخالفت میں بات کی گئی ہے، یہ عورتوں کے تو حق میں بات کی گئی ہے۔ یعنی عورتوں کو تو Protection دیا گیا ہے، ان کے حقوق مقرر کر دیے گئے ہیں جس کی تفصیلات موجود ہیں بڑی بڑی کتابوں میں، الحمدللہ اگر کبھی موقع ملا تو عرض کر لیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی دو آدمی راستے پہ جا رہے ہوں تو ان میں ایک امیر ہونا چاہیے۔ تاکہ فیصلے کا اختیار کسی ایک کو حاصل ہو۔ تو پھر فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں کو بیک وقت حاصل ہو تو پھر کیا ہوگا؟ پھر تو ظاہر ہے کوئی چیز بھی نہیں طے ہو سکتی۔ تو ایک بات کرنے کے لیے ایک امیر ہو، دوسرا مامور ہو۔ اس طرح اگر تین ہوں تو ایک امیر ہو، باقی دو مامور ہوں۔ اس طریقے سے معاملہ چلتا ہے۔اب یہ بات ہے کہ گھر میں صرف ایک مرد ہے اور ایک عورت ہے۔ یعنی اولاد تو خیر ہے، لیکن میں نے کہا ایک مرد ہے اور ایک عورت ہے۔ اب اگر فیصلہ کرنا چاہیے عقل کی بنیاد پر کہ مرد کو امیر بنایا جائے یا عورت کو امیر بنایا جائے؟ تو انسان کیا سوچے؟ اول تو یہ بات ہے کہ مرد کا جو کام ہے وہ باہر کے ساتھ ہے اور عورت کا کام گھر کے اندر کا ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ مرد دونوں جگہ ہوتا ہے، باہر بھی ہوتا ہے اندر بھی ہوتا ہے۔ اور عورت اندر ہوتی ہے، باہر نہیں ہوتی، اگر وہ جاتی ہے تو ویسے ہی کسی کام سے باہر جائے لیکن فوراً آنا پڑتا ہے، یعنی ان کا باہر کی چیزوں کے ساتھ اتنا Relation نہیں ہے۔ ذمہ داری نہیں ہے۔ Relation والی بات ذرا تھوڑا سا لوگ کنفیوز کر لیں گے، ذمہ داری نہیں ہے۔ مرد کی ذمہ داری ہے باہر کی چیزیں۔
تو امیر اگر اس کو بنایا جائے جو صرف گھر کے ذمہ دار ہو، اور گھر ہی کے بارے میں جانتا ہو، باہر کے بارے میں نہیں جانتا ہو، تو جب کام ہوگا، تو جس کا تعلق دونوں کے ساتھ ہوگا، تو فیصلہ کیسے ہوگا؟ وہ تو رہ جائے گا۔ اور مرد کو اگر امیر بنا دیا جائے تو وہ باہر والے بھی چیزیں بھی جانتا ہے، اندر والی چیزیں بھی جانتا ہے، تو اس کا فیصلہ ایک reasonable فیصلہ ہوگا۔
تو یہ جو مرد کو جو امیر بنایا گیا ہے، یا امیر کے مقام پہ رکھا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ذمہ داریاں ایسی ہی۔ یہ نہیں کہ اللہ کے نزدیک اس کو فوقیت حاصل ہے۔ وہ عین ممکن ہے کہ عورت اس سے زیادہ بڑی ولیہ ہو۔ لیکن اس کو ولایت اس کے ذریعے سے ملے۔ اور مرد کو انصاف کے ذریعے سے ولایت ملے گی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جب انصاف کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا اور سارے حقوق ادا کرے گا تو اس کو اس پر ولایت ملے گی۔ یعنی تقویٰ سے... چونکہ تقویٰ یہی ہے۔
اور عورت کو ولایت جو ملے گی وہ خاوند کی اطاعت پر ملے گی۔ مطلب یعنی کہ ان کے ساتھ چلنے پہ ملے گی، تو اب یہ جو چیز ہے کہ جو قبولیت ہے اور ولایت ہے، یہ تو اس پر نہیں ہے کہ کون مرد ہے، کون عورت ہے۔ لیکن دنیا کی ذمہ داریاں وہ چونکہ مرد کو دی گئی ہیں زیادہ، بالخصوص باہر کی، تو اس وجہ سے اس کو امیر بنایا گیا ہے۔ تو یہ ایک انتظامی امر ہے۔ ایک انتظامی امر ہے۔ ہم دفتروں میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ کسی چیز کا ذمہ دار بنایا جاتا ہے، تو اس میں اس کی اس کو نہیں دیکھا جاتا، اتنا جتنا کہ اس کے تجربے کو اور مہارت کو ان تمام چیزوں کو دیکھا جاتا ہے تاکہ جو ہے نا وہ اپنے کام کو صحیح طور سے کر سکے۔
اب مثلاً ایک متقی آدمی ہے۔ وہ سٹور کا کام نہیں جانتا۔ دوسرا آدمی سٹور کا کام جانتا ہے۔ تو آپ کس کو سٹور کیپر بنائیں گے؟ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کو بنائیں گے جو سٹور کا کام جانتا ہے۔ ہاں، اس کو متقی بنانے کی پھر کوشش کریں گے۔ یعنی آپ ان کو اللہ سے ڈرائیں گے اور ان کو سمجھائیں گے، لیکن کام تو وہی کر سکے گا، چونکہ وہ اس کام کو جانتا ہے۔
تو اس طریقے سے ڈاکٹری کو لے لو۔ اب کوئی ڈاکٹر نہیں ہے اور متقی ہے، تو آپ اس کے پاس علاج کے لیے جائیں گے؟ ظاہر ہے اس کے پاس نہیں جائیں گے کیونکہ ظاہر ہے وہ اس کا Field ہی نہیں۔ ہاں، البتہ ڈاکٹر ہو کر آپ اس کو متقی بنانے کی کوشش کریں گے۔ تو وہ صحیح معنوں میں وہ اپنی ڈاکٹری کرے۔
تو یہ صرف ایک غلط فہمی ہو سکتی تھی، اس وجہ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: قرآن کی روشنی میں قسم، ایلاء، عدت اور عائلی حقوق
متبادل عنوان: اسلام میں عورتوں کے حقوق، عدت کے مسائل اور مرد کی قوامیت کا حقیقی مفہوم
اہم موضوعات:
• قسم کھانے کے شرعی احکام، لغو قسم کی حقیقت اور نامناسب قسم کا کفارہ
• زمانۂ جاہلیت کی ظالمانہ رسمِ ایلاء (Ilaa) کا خاتمہ اور اس کے شرعی احکام
• طلاق کے بعد مطلقہ عورتوں کی عدت اور اس سے جڑے فقہی (Fiqh) مسائل
• اسلام میں عورتوں کے حقوق، ان کا تحفظ (Protection) اور دیگر مذاہب سے موازنہ
• گھر کے انتظامی معاملات میں مرد کو امیر (نگران) بنائے جانے کی منطق اور عملی حکمت
• اللہ کے ہاں مقبولیت اور ولایت کا معیار (عورت اور مرد کے مابین روحانی مساوات)
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ البقرہ کی آیات 224 تا 228 کی روشنی میں قسم اور خاندانی و معاشرتی معاملات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے قسم کے احکام بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ نیکی کے کاموں سے بچنے کے لیے قسم نہیں کھانی چاہیے اور لغو قسموں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے زمانۂ جاہلیت کی ظالمانہ رسم 'ایلاء' کی منسوخی اور مطلقہ عورتوں کی عدت کے مختلف شرعی مسائل پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے جدید میڈیا (Media) پر ہونے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے ثابت کیا کہ اسلام نے عورت کو بہترین حقوق اور تحفظ فراہم کیا ہے۔ گھر کے معاملات احسن طریقے سے چلانے کے لیے مرد کو محض ایک امیر اور منتظم کا درجہ دیا گیا ہے کیونکہ اس کی بیرونی اور اندرونی ذمہ داریاں متوازن ہوتی ہیں، جبکہ اللہ کے ہاں روحانی درجات، ولایت اور مقبولیت کا معیار صرف تقویٰ ہے، جس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں۔