مومن پر مصائب اور صبر کی فضیلت

درس نمبر 63 - حدیث نمبر 49 - (اشاعتِ اول)، 6 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        مومن مرد اور عورت کی جان، مال اور اولاد کی آزمائش

•        مصائب پر صبر کرنے سے صغیرہ گناہوں کی معافی

•        شر اور خیر کے ذریعے اللہ کی طرف سے امتحان

•        اختیاری اور غیر اختیاری مجاہدے میں فرق

•        حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا غیر اختیاری مجاہدے پر فرمان

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.

مصائب گناہوں کا کفارہ ہیں

(49) ﴿وَ عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ مَالِهٖ حَتّٰى يَلْقَى اللهَ تَعَالَى وَ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ﴾ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کی جان، اولاد، مال پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔"

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی اولاد یا مال وغیرہ پر جو کمی زیادتی وغیرہ سے آزمائش آتی ہے اس پر وہ صبر کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اس پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے صبر کرنے پر یہ انعام مرحمت فرمائے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی مؤمن پر حالات آئیں یا اس کے مال و دولت میں کمی ہو جائے تو اس کو اس پر جزع فزع اور واویلا کرنے کے بجائے صبر کرنا چاہئے۔ اس کو من جانب اللہ امتحان سمجھنا چاہیے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا: ﴿وَ نَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ ہم تمہاری شر اور خیر کے ساتھ آزمائش کریں گے۔ (حوالہ: سورہ الانبیاء، آیت: 35)

﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ ہم نے تم کو پیدا کیا تاکہ امتحان لیں تم میں سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے۔ (حوالہ: سورہ الملک، آیت: 2)

وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں رہتا۔ علماء فرماتے ہیں کہ صبر کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، کبیرہ گناہ تو توبہ و استغفار سے معاف ہوں گے۔

تخریج حدیث: رواہ الترمذی فی کتاب الزہد (باب ما جاء فی الصبر علی البلاء) و اخرجہ امام مالک فی مؤطا 556 و احمد 9818/3، ترمذی، ابن حبان 2913 والحاکم 1281/1، والبیہقی۔

تو مصیبت اور تکالیف جو ہیں، یہ تو ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پر آسکتی ہیں۔ اور اس میں اللہ پاک کی بڑی حکمت ہوتی ہے۔ ایک ہوتا ہے اختیاری مجاہدہ اور ایک ہوتا ہے غیر اختیاری مجاہدہ۔ اختیاری مجاہدہ میں انسان خود مجاہدہ کرتا ہے تربیت کے لیے، تو اس سے تربیت ہوتی ہے، فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن غیر اختیاری مجاہدہ جو ہے، یہ چونکہ من جانب اللہ ہوتا ہے، اور اللہ پاک کی طرف سے یعنی یہ اس کو طے کیا جاتا ہے، تو اس پر اجر بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اور ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک وقت کا جو غیر اختیاری مجاہدہ ہے وہ برسوں کے اختیاری مجاہدات سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ من جانب اللہ ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی کیے پر جو صبر کرنا ہے، یہ بڑی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا تعلق نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.





مومن پر مصائب اور صبر کی فضیلت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور