عید کا پیغام: آزادیٔ نفس نہیں، بلکہ بندگی کا احساس اور تزکیہِ نفس سے حقیقی شکر کا حصول

اشاعتِ اول: 12 اپریل 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

  • عید کی حقیقت: عید خوشی اور شکر کا موقع ہے، جسے آزادیٔ نفس کے غلط تصور کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔
    • بندگی سے آزادی کا تصور غلط فہمی: انسان جب تک زندہ ہے وہ اللہ کا پابند ہے اور شیطان کی طرح آزاد نہیں ہو سکتا، جیسا کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے واقعے سے واضح ہے۔
      • انسان کی اصل حقیقت: انسان کی پیدائش ایک ناپاک قطرے سے ہوئی ہے، لہٰذا تکبر کا کوئی جواز نہیں اور اس کی تمام نعمتیں اللہ کا فضل ہیں۔
        • شکر میں نفس کی رکاوٹ: نفسِ امارہ کا خود کو حقدار سمجھنا اور نیکیوں میں سست روی شکر گزاری میں حائل ہوتی ہے۔
          • نفس کی اقسام اور تزکیہ کی اہمیت: نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کی وضاحت، اور تزکیہ (نفس کی تربیت) کے ذریعے نفسِ مطمئنہ کا حصول لازم ہے۔
            • حقیقی شکر کا حصول: جب انسان اپنی بندگی کا اقرار کر لے اور اس کا نفس مطمئن ہو جائے، تب ہی وہ دل کی گہرائیوں سے شکر ادا کر سکتا ہے۔
              • تربیت کی فرضیت: تزکیہ نفس فرضِ عین ہے، کیونکہ اس کے بغیر انسان جہنم سے بچ نہیں سکتا اور اس کے بغیر شریعت پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔
                • کامل مشائخ کی پہچان: گمراہ کن لوگوں سے بچنے کے لیے صحیح عقیدہ، عمل، علم، نسبت، اجازت اور علماء کی تصدیق والے مشائخ کی صحبت ضروری ہے۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ أَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

                  وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔ وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ۔

                  صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

                  معزز خواتین و حضرات! عید کے دن گزر گئے، رمضان شریف بھی گزر گیا۔ رمضان شریف کی برکات سے خوش نصیب لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ اور عیدِ سعید اللہ جل شانہ نے ہم سب کو نصیب فرمائی۔ رمضان شریف میں روزہ ہوتا ہے، اور روزہ صبر ہے۔ اور عید الفطر میں افطار ہوتا ہے، اور اس پہ شکر ہے۔ اور صبر اور شکر پوری زندگی مسلمان کو کرنا پڑتا ہے، یہ ضروری ہے۔ صبر کے بارے میں بھی بڑے اونچے الفاظ مبارک میں اس کی تعریف کی گئی ہے: وَمَا أَصَابَكُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُولٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔ کہ جس وقت کوئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ جائے مسلمانوں کو تو کہتے ہیں: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ، اپنے رب کی طرف سے رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

                  تو صبر کے بارے میں بڑے اونچے کلمات میں رضامندی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ اور شکر کے بارے میں بھی اللہ جل شانہ نے یہ بشارت عطا فرمائی ہے کہ جب شکر کرو گے تو میں مزید دوں گا۔ یہ ابھی جو آیتِ کریمہ میں نے تلاوت کی ہے، اس میں یہی فرماتے ہیں: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے، اس کا انکار کرو گے، تو پھر میرا عذاب سخت ہے۔ اور موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اے لوگو! اگر تم سب اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب ناشکرے ہو جاؤ، تو بے شک اللہ بے پرواہ، خوبیوں والا ہے۔

                  تو یہ جو عید کا موقع ہے، یہ خوشی کا موقع ہے، اور شکر کا موقع ہے۔ شکر کسے کہتے ہیں؟ یہ واقعی ایک سوال ہے۔ اصل میں انسان اپنے آپ کو اگر کچھ سمجھتا ہے تو وہ شکر نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو نعمتوں کا مستحق سمجھتا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ کا مستحق سمجھتا ہے۔ لہٰذا وہ شکایت کرتا رہتا ہے کہ مجھے یہ نہیں ملا، مجھے یہ نہیں ملا، مجھے یہ نہیں ملا۔ اور جس وقت انسان اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا، اور اپنے گناہ اور اپنی خطائیں اس کے سامنے ہوتی ہیں، اور رب کی نعمتیں اور اس کی معافیاں، اور اس کا فضل اس کے سامنے ہوتا ہے، تو وہ زبان سے بے شک نہ کہے، لیکن اس کا دل شکر سے بھرا ہوتا ہے۔ کیونکہ پتا ہوتا ہے اس کو کہ میں تو اس قابل نہیں ہوں۔ تو وہ پھر یہی ہے کہ وہ شکر کرتا ہے۔

                  جیسے کہ زندگی میں اگر اچانک کسی کو کوئی چیز دے دے تو وہ بہت ہی مشکور ہوتا ہے، لیکن اگر ایسا ہو کہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ کا سمجھتا ہو اہل، تو پھر شکایت کرتا ہے کہ دیکھو مجھے فلاں چیز نہیں ملی، مجھے فلاں چیز نہیں ملی، مجھے فلاں چیز نہیں ملی۔ اس وجہ سے سب سے پہلے انسان اپنے آپ پر سوچے کہ میں کیا ہوں؟ تو اللہ جل شانہ نے ہمارا تعارف جو کیا، وہ یہ کیا کہ ہم پہلے گندے قطرے تھے۔ اور گندے قطرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اب کوئی بادشاہ ہے، وزیر ہے، پیر ہے، فقیر ہے، جو بھی ہے، وہ سب اسی میں ہیں، سب اسی گندے قطرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ تو کیسے ہم اپنے آپ کو پاک سمجھیں؟ ہاں، پاک اللہ پاک بنا دیتے ہیں اگر ہمارے اعمال صحیح ہو جائیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قبولیت پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو اس کے ذریعے سے پھر اللہ پاک، پاک فرما دیتے ہیں۔ یہ جو قرآن پاک میں ہے: وَيُزَكِّيهِمْ۔ وہ اصل میں یہی چیز ہے۔ کہ اللہ جل شانہ پھر پاک فرما دیتے ہیں، تزکیہ۔

                  یہ جو ہمارا نفس ہے نا نفس، یہ بڑا عجیب ہے۔ اس کی جو ابتدا ہے یہ بڑی خطرناک ہے۔ نفسِ امارہ... اور نفسِ امارہ جو ہے، یہ جیسے پانی ڈھلوان کی طرف جاتا ہے نا خود بخود، اس کے لیے کچھ اس کو دھکا نہیں لگانا پڑتا، خود بخود ڈھلوان کی طرف جاتا ہے۔ تو اس طرح جو ہمارا نفس ہے، شر کی طرف خود بخود جاتا ہے۔ اس کے لیے اس کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تھوڑا سا آپ سوچیں، یعنی بہت آسان بات ہے سمجھنے کے لحاظ سے۔ ادھر باہر کوئی ڈھولکی بجانا شروع کر لو، کتنے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے؟ تھوڑی دیر میں۔ کوئی کام نہیں ہوگا، لیکن بہت سارے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے۔ اور قرآن اور حدیث کی بات ہو رہی ہو گی جس پہ ہماری آخرت بن رہی ہے، اس کے لیے کتنے لوگ آتے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آ بھی جائے تو بار بار گھڑی کی طرف دیکھتا ہو گا بھئی زیادہ وقت تو نہیں ہو گیا۔ یہ کیا ہو گیا؟ اور وہاں پر گھڑی کو نہیں دیکھیں گے۔

                  ایک دفعہ باہر سے کوئی صحافی آیا ہوا تھا۔ تو کھڑا تھا تو یہ ریل پٹڑی تھی۔ اور پھاٹک تھا۔ پھاٹک بند ہو گیا تھا۔ ساری گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔ تو ایک شخص تھا، وہ سائیکل اس کو کندھے پہ اٹھا کے، وہ اس میں وہ جو چکر سا ہوتا ہے نا اس میں جو گھومتا ہے، اس میں سے سائیکل کو اپنے کندھے پہ اوپر لے جا کے وہ Cross کر گیا۔ تو وہ صحافی حیران ہو گیا کہ یہ کوئی بہت زیادہ punctual آدمی ہے، بہت زیادہ dutiful ہے، کوئی بہت زبردست ضروری کام ہو گا جس کے لیے اس نے سائیکل کو اٹھایا اور اتنی محنت کی اور یہ Cross کر گیا۔ تو اس کے دل میں اس کے لیے بڑے اچھے جذبات ابھر آئے۔ جب پھاٹک کھل گیا، اور سب گاڑیاں جانے لگیں اندر، تو دیکھا کہ وہاں پر ایک تماشہ لگا ہوا تھا، کوئی مداری تماشہ کر رہا تھا، تو یہ بھی ان میں کھڑا تھا۔ تو کہتے ہیں، کمال ہے! اس نے اتنا بڑا رسک اس کے لیے لیا! کہ Train کی پرواہ نہیں کی اور سائیکل کو کندھے پہ اٹھایا اور یہ اس مقصد کے لیے گیا! تو ایسا ہوتا ہے۔

                  مطلب جو نہ کرنے کی چیز ہوتی ہے، اس کے لیے ہمارا نفس بہت تیز ہے۔ اور جو کرنے کی چیز ہے اس میں بڑا سست۔ ساری رات موبائیل کے اوپر کھیلتا رہے گا، اس کو ٹائم کا احساس نہیں ہو گا کہ میں نے کتنا ٹائم لگا دیا۔ لیکن جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی بات شروع ہو گی، بس پھر جو ہے نا وہاں سے بھاگے گا۔ زبان سے نہیں کہے گا، لیکن بعض لوگ زبان سے بھی کہہ دیتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ زبان سے تو نہیں کہتے، لیکن وہاں سے بھاگ جانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

                  تو یہ ہمارے نفس کی حقیقت ہے۔ کہ جب تک نفس، نفسِ امارہ ہے، اس وقت تک خطرہ ہے۔ خطرہ ہے۔ بالکل ایسا ہی جیسے ایک بچہ ہوتا ہے نادان، اور آپ بیسویں منزل پر ہیں، اور بنیرا نہیں ہے۔ کوئی دیوار نہیں ہے مطلب چار دیواری۔ اس بچے کو آپ اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ آپ کو پتا ہے کہ یہ بچہ میرے ہاتھ سے گیا تو بس پتا نہیں کدھر گیا۔ تو اگر بیسویں منزل سے گرا تو پھر کیا ہو گا اس کا؟ تو اسی طریقے سے ہمارا جو نفس ہے، اس پہ بالکل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کسی وقت بھی آپ کو کسی بھی گڑھے میں گرا سکتا ہے۔ اور اس کو سمجھ ہی نہیں ہے، یہ اپنا ہی دشمن ہے۔

                  مطلب یہ ہے کہ حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ، بڑا مجاہدہ فرما رہے تھے۔ تو ان کی والدہ نے ان سے کہا، اویس! اپنے اوپر ذرا رحم کرو، اپنے نفس کے اوپر ذرا رحم کرو، یہ کیا کر رہے ہو؟ تھوڑا سا آرام بھی کر لیا کرو، اپنے نفس کے اوپر رحم کر لیا کرو۔ وہ تو ماں تھی، ظاہر ہے ماں تو یہی ان کے جذبات ہوتے ہیں۔ تو حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، اماں جان! میں اپنے نفس ہی کے لیے کر رہا ہوں۔ اگر یہ نہ کروں تو میرا نفس ہی جہنم میں جلے گا۔ اس کو جہنم سے بچانے کے لیے میں کر رہا ہوں۔

                  تو یہ بات ہے کہ نفس جو ہے نا اس کو آپ کھلا نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کھلا چھوڑیں گے تو یہ مصیبت بنائے گا آپ کے لیے، کوئی نہ کوئی شر آپ کے لیے پیدا کرے گا۔ تو اس کو بڑے Control میں رکھنا پڑتا ہے۔ یا پھر ایک اس کی تربیت کرو۔ جیسے بچے کی تربیت ہو جاتی ہے، سمجھدار ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے 'آپ بیتی' میں سارے واقعات لکھے ہوئے ہیں اپنے۔ کہ ان کے والد صاحب نے ان کی کیسے تربیت کی؟ ویسے تو بہت سارے واقعات حضرت نے لکھے ہیں۔ لیکن ایک واقعہ بہت عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ والد صاحب کو تکیہ چاہیے تھا۔ تو ان کو اپنا تکیہ مل نہیں رہا تھا۔ تو میری پھوپھی نے میرے لیے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا ہوا تھا، میں چھوٹا سا بچہ تھا۔ تو میری پھوپھی نے میرے لیے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا ہوا تھا۔ تو والد صاحب کو تکیہ کی تلاش میں دیکھ کر میں نے کہا، حضرت! میں اپنا تکیہ لے آؤں؟ تو ان کا سننا تھا، ایک زبردست تھپڑ اس کے منہ پہ مارا، کہ ابھی سے اپنے باپ کے مال کو اپنا کہتے ہو؟ شرم نہیں آتی تجھے! کون سی چیز آپ کی ہے؟ تو رو پڑا۔ اور ادھر جو عورتیں تھیں وہ بھی کافی کوسنے لگیں کہ دیکھو نا، یہ کیا ظالم ہے، مطلب یہ کہ بچے کے ساتھ بھی اس طرح کرتا ہے اور اس طرح اس طرح اس طرح۔ لیکن فرمایا کہ مجھے جو فائدہ ہوا وہ یہ فائدہ ہوا کہ پھر کبھی بھی اپنے مال کو اپنا کہنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اپنے مال کو اپنا کہنے کی جرات نہیں ہوئی۔

                  یہ بات ہے۔ تربیت اس کو کہتے ہیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ اس طرح سختیاں ان پر ہوتی رہیں۔ لیکن جس وقت حضرت مہذب ہو گئے، تو فرمایا، میرے ہاتھ سے ہی خط لکھوایا۔ میرے ہاتھ سے ہی خط لکھوایا، کہ زکریا کی بیڑیاں پہلے میرے پیروں میں تھیں، الحمدللہ اب وہ سدھر گیا ہے، لہٰذا میں اب ادھر ادھر جا سکتا ہوں۔ یعنی اس سے پہلے جا بھی نہیں سکتے تھے ادھر ادھر، بس وہ اپنے بچے کی تربیت میں سب لگے ہوئے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو نفس ہے، اس پہ اعتماد تو نہیں ہو سکتا۔

                  لیکن یہ بات ضرور ہے کہ تربیت اگر ہو جائے، تو تین Stages ہیں۔ پہلا Stage ہے نفسِ امارہ۔ دوسرا Stage ہے اس کا نفسِ لوامہ۔ نفسِ لوامہ میں انسان کا دل بیدار ہو جاتا ہے۔ یعنی سمجھدار ہو جاتا ہے۔ اس کو پتا چل جاتا ہے کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا ہے، سچ کیا ہے، جھوٹ کیا ہے۔ ان تمام چیزوں کا اس کو پتا چل جاتا ہے۔ لیکن نفس جو ہوتا ہے وہ تو نفس ہی ہوتا ہے۔ وہ کبھی کبھی اڑی بھی کرتا ہے، کبھی کبھی گناہ بھی کرتا ہے، کبھی کبھی مشکلات میں بھی لاتا ہے آدمی کو۔ تو اس کو اس کا احساس ہوتا ہے تو وہ روتا ہے، گڑگڑاتا ہے، توبہ کرتا ہے۔ اللہ اس کو معاف کر دیتا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ ہوتا ہے۔ تو یہ دوسرا Stage ہے۔ جس میں نفس جو ہوتا ہے وہ ایک قسم کا ملامت اپنے آپ کو کر رہا ہوتا ہے۔ اور اس میں انسان توبہ کرتا ہے، استغفار کرتا ہے، ہاں البتہ گناہ بھی اس سے ہو رہے ہوتے ہیں۔

                  جو تیسرا Stage ہے جو کہ اصل Stage ہے، وہ ہے نفسِ مطمئنہ۔ یہ وہ نفس ہوتا ہے جو فرمانبردار نفس بن جاتا ہے۔ اور سمجھدار تو پہلے ہی ہوتا ہے نفسِ لوامہ کی صورت میں۔ تو لہٰذا سمجھدار بھی ہوتا ہے، فرمانبردار بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا جو شریعت کا حکم ہوتا ہے اس کو بجا لاتا ہے، اور اس پر خوشی ہوتی ہے اس کو۔ یعنی اللہ جل شانہ کے احکامات پر عمل کرنے میں اس کو خوشی ہوتی ہے۔ یعنی گویا کہ اس کا نفس جو ہے نا وہ نیکی پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ ایسا نفس، اصل مطلوب نفس ہے۔ اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بشارتکے طور پہ اس آیت میں فرمایا: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ اے مطمئن نفس! لوٹ جا اپنے رب کی طرف، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے۔

                  سبحان اللہ! یہاں پر بھی Sequence کیا ہے؟ تو اس سے راضی ہے۔ پھر اللہ پاک کہے کہ وہ تجھ سے راضی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ تجھ سے راضی ہے، تو اس سے راضی ہے۔ نہیں، یہ نہیں فرمایا۔ کیا فرمایا؟ تو اس سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے۔ یعنی پہلے ہمیں راضی ہونا پڑے گا۔ پہلے ہمیں راضی ہونا پڑے گا، پھر اللہ تعالیٰ راضی ہوں گے۔

                  پہلے اپنے آپ کو بندہ تو منوا لو نا۔ کہ میں بندہ ہوں۔ کیونکہ اس کے بعد پھر کیا فرمایا اللہ پاک نے؟ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا، یعنی اس کے بعد بندگی کا Certificate اللہ پاک دیتا ہے۔ یہ میرا بندہ ہے۔ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ پھر انعام کی طرف فرمایا کہ اب بس، میری جنت میں داخل ہو جا۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو نفسِ مطمئنہ ہے۔ یہ فرمانبردار، سمجھدار، تابعدار نفس ہے۔ تو اس کا جو ہے، یعنی جس کو کہتے ہیں یعنی علامت اس کی، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ پاک سے راضی ہوتا ہے۔ ہر چیز میں اللہ پاک سے راضی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہوتا ہے۔ تو جو اللہ کا بندہ ہوتا ہے تو اس کو پتا ہوتا ہے کہ میرا کوئی حق نہیں۔ دیکھو! بندگی جو ہے، یہ غلامی سے بھی آگے کی چیز ہے۔ کیونکہ غلام کا حق ہوتا ہے، بندے کا حق نہیں ہوتا۔ غلام کا تو حق ہوتا ہے۔ آپ ﷺ جب دنیا سے تشریف لے جا رہے تھے، تو نصیحت کس چیز کی تھی؟ نماز کی نصیحت، اور غلاموں کے بارے میں نصیحت۔ کہ غلاموں کے حقوق۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غلاموں کے تو حقوق ہوتے ہیں۔ غلاموں کے ساتھ، مطلب یہ ہے ان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرنا، اس کے تمام چیزوں کا خیال رکھنا، کیونکہ وہ آپ کی خدمت کر رہا ہے۔ اس کا ہے۔ لیکن اس میں بندے کا کوئی حق نہیں۔ بندے کا کوئی حق نہیں۔ بس اللہ جل شانہ اس کے ساتھ جو کر لے۔

                  چاہے تخت پر بٹھائے، چاہے تختے پہ لٹکائے۔ اب دیکھو زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا۔ پیغمبر تھے۔ لیکن اف تک نہیں کر سکے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پتا تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو پیغمبر ہوتا ہے اور جو سمجھدار ہوتا ہے، وہ تو اس چیز کو جانتا ہے۔ لیکن ہم لوگوں کو اس تک پہنچنے کے لیے کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ اور کوشش یہ ہے کہ نفس، نفسِ مطمئنہ ہو جائے۔ تو جب نفس، نفسِ مطمئنہ ہو جائے اور اپنی بندگی کو جان لے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، پھر یہ شکر کر سکتا ہے۔ پھر یہ شکر کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے اس کا شکر کرنا بہت مشکل ہے۔ بہت مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ... جولاہے نے دو رکعت پڑھ لی اور وحی کا انتظار کرنے لگا، کہ اب میرے اوپر وحی آئے گی۔ تو مقصد یہ ہے کہ کیا ہے؟ مطلب انسان ہے۔ بھئی مثال کے طور پر تجھے ایک تنخواہ مل رہی ہے۔ ایک کام کی تنخواہ مل رہی ہے۔ اب اس کے بعد آپ کی Duty ہے۔ اب تنخواہ آپ کو مل رہی ہے، اور Duty آپ کر رہے ہیں، تو آپ کس پہ احسان کر رہے ہیں؟ تنخواہ آپ کو مل رہی ہے نا؟ تو Duty آپ کر رہے ہیں تو احسان کس پہ کر رہے ہیں؟ آپ کو تو آپ کا صلہ مل رہا ہے۔

                  تو اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ: ہم نے تمہاری جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلے میں خرید رکھا ہے۔ چلو، اب بتاؤ، ہمارے پاس کیا ہے؟ ہم کیا ہیں؟ ہماری ساری چیزیں پہلے سے بکی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ہمارا کیا حق ہے؟ جو ہمیں مل رہا ہے، اس سے زیادہ مل رہا ہے جتنا ہمیں ملنا تھا۔ تو پھر؟ پھر یہی ہے کہ انسان یہ سمجھ لے کہ میرا کوئی حق نہیں۔ میں جتنا بھی عبادت بے شک کر لوں، یہ اپنے اوپر احسان ہے، کسی اور کے اوپر احسان نہیں ہے۔ اپنے آپ کو نافرمانی سے بچانا ہے۔ ورنہ اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ابھی اس آیتِ کریمہ میں آیا ہے، اپنی قوم سے فرمایا کہ: تم، اور جتنے بھی لوگ ہیں وہ سارے کے سارے ناشکرے ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ تو غنی و حمید ہے۔ تعریف کا خود مستحق ہے، کسی کا محتاج نہیں ہے۔ پھر بتاؤ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا آپ کا... خوامخواہ اپنے آپ کو یعنی مصیبت میں ڈالنے والی بات ہے۔

                  تو اس وجہ سے یہ جو عید ہے نا، یہ اصل میں اس کا Symbol ہے۔ کہ یہ خوشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے، یہ ہمارے بس میں نہیں تھا۔ اور اس خوشی پہ ہم شکر کریں اللہ تعالیٰ کا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کریں۔ یہ مطلب عید کا جو ہے نا موقع ہے۔ باقی یہ ہے کہ اس خوشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں لینا چاہیے کہ اب ہم آزاد ہیں، جو کرنا چاہیں ہم کر سکتے ہیں۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ اس خوشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم آزاد ہیں، اب ہم جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ بس روزے میں پابند تھے، اب روزہ چلا گیا، لہٰذا اب ہم آزاد ہو گئے، شیطان آزاد ہو گیا۔ ہم تو آزاد نہیں ہوئے نا۔ شیطان بے شک آزاد ہو گیا ہو، ہم تو آزاد نہیں ہوئے۔ جب تک ہماری زندگی ہے، ہم پابند ہیں۔ جب تک ہماری زندگی ہے، ہم پابند ہیں۔

                  حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، ان کا واقعہ ہے۔ یہ وہ صاحب تھے، بہت بڑے امام تو تھے ہی۔ علم کا تو ان کا ظاہر ہے کیا کہیں گے امام تھے، امام امام ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اتنے بڑے عابد تھے۔ کہ سو رکعت نفل عام دنوں میں رات کو پڑھا کرتے تھے۔ عام دنوں میں! رمضان شریف کی بات نہیں ہے۔ عام دنوں میں سو رکعت نفل پڑھا کرتے تھے۔ تو یہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، ان کے چند واقعات ہیں جو بہت ہی زیادہ سمجھانے والے واقعات ہیں۔ سمجھانے والے واقعات ہیں۔ ان میں سے ایک، ان کا آخری وقت جب آیا۔ تو ان کے جو رشتہ دار تھے، بیٹے تھے، بیٹھے ہوئے تھے، تلقین کر رہے تھے لا الہ الا اللہ کی۔ اور حضرت بار بار فرما رہے ہیں: "ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں۔" یا اللہ! وہ پریشان ہو گئے، یا اللہ! یہ تو پوری عمر ذاکر شاکر کر رہے ہیں۔ یہ کیا ہوا کہ آخری وقت میں یہ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں۔

                  خیر، افاقہ ہو گیا۔ وہ آخری وقت نہیں تھا، صرف غشی طاری ہوئی تھی۔ افاقہ ہو گیا تو لوگوں نے پوچھا، حضرت! یہ آپ کیا فرما رہے تھے؟ ہم کلمہ پڑھ رہے تھے اور آپ فرماتے ہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں؟ یہ کیا مسئلہ تھا؟ حضرت نے فرمایا کہ: مجھے آپ کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ میں آپ کی آواز تو نہیں سن رہا تھا۔ میرے سامنے شیطان متمثل ہو گیا تھا۔ اور وہ سر پہ خاک ڈال رہا تھا۔ اور مجھے کہہ رہا تھا، اے احمد! افسوس تو مجھ سے بچ گیا۔ افسوس تو مجھ سے بچ کے چلا گیا۔ افسوس تو مجھ سے بچ کے چلا گیا۔ یعنی ایمان تو بچا کے لے جا رہا ہے۔ تو میں نے اسے کہا، میں اس سے کہتا تھا: "نہیں! ابھی نہیں، ابھی میں زندہ ہوں، ابھی میں زندہ ہوں، ابھی خطرہ باقی ہے، ابھی خطرہ باقی ہے۔" یہ بات ہے۔

                  جب تک ہم زندہ ہیں، ہم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ ہم لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کے قوانین کے پابند ہیں۔ اللہ جیسا چاہے گا، اس طرح کھانا۔ اللہ جیسا چاہے گا، اس طرح پینا۔ اللہ جیسا چاہے گا، اس طرح سونا۔ اللہ جیسا چاہے گا، اس طرح ملنا جلنا۔ اللہ جیسا چاہے گا، اس طرح کرنا۔ سارے کام ہمارے لگے بندھے ہیں شریعت کے مطابق۔ اس میں ذرہ بھر بھی ہم آگے پیچھے نہیں کر سکتے۔ لیکن اس پہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ پاک نے بشارت کے طور پہ فرمایا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينَاً۔ آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ سبحان اللہ! آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر لی۔ اور یہ فرمایا اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔

                  تو یہ جو بات ہے کہ ہمیں جو پابند کیا گیا، یہ تو ہماری سعادت ہے۔ یہ تو ہمارے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس سیڑھی سے جتنا کوئی اوپر جانا چاہے، تو چڑھ سکتا ہے۔ جتنا اللہ پاک کے کوئی قریب ہونا چاہے، تو ہو سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے ، اس پہ انسان کو تنگ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس پہ خوش ہونا چاہیے۔ اس لیے نفسِ مطمئنہ جب حاصل ہو جاتا ہے، تو اس پہ انسان خوش ہوتا ہے۔ اس پہ انسان تنگ نہیں ہوتا۔ نفسِ امارہ جو ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ وہ شر کی طرف خود جاتا ہے، خیر کی طرف اس کو لانا پڑتا ہے اور اس پر تنگ ہوتا ہے وہ۔ لیکن جس وقت نفسِ مطمئنہ حاصل ہو جاتا ہے، پھر اس کے بعد یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔

                  لہٰذا شکر کو حاصل کرنے کے لیے... ایک ہوتا ہے، دیکھیں اصل میں بات عرض کرتا ہوں۔ دین مکمل ہو چکا ہے۔ دین مکمل ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ وہ سب طے ہو چکا ہے۔ اور دین سب کے اوپر لاگو ہو چکا ہے۔ جیسے کوئی سرکاری چٹھیاں آ جاتی ہیں نا، سب کے لیے کہ اب یہ یہ کرنا ہوگا، اور سب نافذ۔ یہ نہیں ہوتا، یہ جو Roads بن جاتے ہیں اس کے اوپر Board لگ جاتے ہیں، کہ اس کے لیے اتنا Speed ہے، اس سے زیادہ پہ چالان کیا جائے گا۔ تو چھ مہینے تک تو ویسے ہی لگا ہوتا ہے۔ چالان نہیں کرتے، صرف سمجھانے کے لیے کہ لوگوں کو پتا چل جائے۔ لیکن جس وقت چھ مہینے گزر جائیں تو پھر لاگو ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی اس Speed کو Cross کرے گا تو اس کو چالان کیا جا سکتا ہے۔ تو اسی طریقے سے قانون لاگو ہے۔ ہم پر قانون لاگو ہے۔

                  صرف یہ والی بات ہے کہ اگر ہم لوگ اس قانون کی پرواہ کریں گے، اور اس کے مطابق چلیں گے، تو اس پر اللہ پاک انعام بھی دے گا۔ اور نوازے گا بھی۔ اور اگر نہیں کریں گے، تو اس پر سزا بھی دے گا۔ اوامر و نواہی اسی کو کہتے ہیں نا؟ یعنی جن چیزوں کا امر ہے، اس کو کرنا، اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، اس سے رکنا۔ یہ شریعت ہے۔ تو اس شریعت پر ہم سب کو چلنا پڑے گا۔ تو اب یہ جو کام ہے تو یہ تو پورا نافذ ہو چکا ہے نا! تو اب یہ کوئی کہتا ہے، جی میری تو ابھی تربیت نہیں ہوئی نا، لہٰذا مجھے تو معاف کیا جائے۔ ہو سکتا ہے نا ذہن میں سوال آ جائے نا بھئی اب تو میری تو تربیت نہیں ہوئی، میں تو اب اس قابل نہیں ہوں، تو مجھے تو معاف کرنا چاہیے۔ نہیں۔ یہ والی بات نہیں ہے۔

                  یہ تو اس طرح ہے کہ پوچھا تو اس وقت بھی جائے گا۔ اور جتنے گناہ کرو گے تمہارے کھاتے میں لکھے جائیں گے۔ اس پر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ الا ماشاءاللہ۔ البتہ یہ جو تربیت ہے، یہ سہولت کے لیے ہے۔ تاکہ آپ دین پر چلنا آسانی کے ساتھ کر سکیں۔ یہ نہیں کہ اگر آپ کی تربیت نہیں ہوئی تو آپ معاف ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ پتا چل جائے گا ادھر۔ یہاں پر تو یہ صرف علمی بات ہے نا، وہاں پر سامنے آ جائے گی بات۔ تو اس وقت کیا کریں ہم؟ تربیت نہیں ہوئی تو پھر کیا کریں؟

                  اپنی عقل کو استعمال کر لیں اور اپنی Will power کو استعمال کریں۔ یہ دو باتیں ہیں۔ عقل سے شریعت کو سمجھو، اللہ نے اس لیے دی ہے۔ اور Will power سے اپنے اوپر نافذ کرو۔ اس طرح کرو۔ تکلیف ہو گی، یقیناً تکلیف ہو گی کیونکہ تربیت نہیں ہوئی ہے۔ اگر تکلیف سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی تربیت کرواؤ۔ تاکہ بسہولت سارے کام ہونے لگیں۔ تربیت میں اور غیر تربیت میں یہی فرق ہے بس۔ یہ نہیں کہ اس کے لیے معاف ہے۔ معاف نہیں ہے، لیکن یہ بات ہے کہ جس وقت تک تربیت نہیں ہوئی، اس وقت اپنے Will power کے ذریعے سے، مشکل ہوتے ہوئے، اس کو کرنا پڑے گا۔ اب دیکھو، مثال کے طور پر یہ جو گولیاں چلتی ہیں۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا پڑتا ہے نا؟ اگر درمیان میں آپ ایسے علاقے میں چلے گئے، تو بچنا تو پڑتا ہے۔ اگر نہیں بچیں گے تو گیا بس۔

                  لیکن آرمی میں تربیت کس چیز کی دی جاتی ہے؟ گولیاں چلیں تو اپنے آپ کو کیسے بچاؤ گے؟ اور تم دوسروں پہ گولیاں کیسے چلاؤ گے؟ یہی Training ہوتی ہے نا؟ تو اس Training سے آپ کو سہولت مل گئی۔ یہ نہیں کہ وہ چیز گولی کام نہیں کرے گی۔ گولی تو اگر آپ کی Training نہیں ہوئی تب بھی کام کرے گی نا۔ آپ اپنے آپ کو بچا نہیں سکیں گے، یہی بات ہے نا۔ تو اسی طریقے سے یہ جو تربیت نہیں ہوئی ہو، تو شیطان کا تجھے آلہ کار بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہو گا۔ وہ بہت آسانی کے ساتھ تجھے شکار کر لے گا۔ اور اپنے کام سے ہٹا دے گا، اور اپنے کام پہ لگا دے گا۔ لیکن اگر تربیت ہوئی ہو، تو بہت آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو بچا سکیں گے۔ یہی بات ہے۔

                  تو یہ تربیت جو ہے یہ فرضِ عین ہے۔ یہ میں نہیں کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا۔ اور اس میں بڑے بڑے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ وہ ایک عالم تھے کشمیر میں۔ مجھ سے فرمانے لگے، شبیر صاحب! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ یہ قَدْ أَفْلَحَ تو بہت ساری آیات میں آیا ہوا ہے۔ تو آپ کہتے ہیں یہ فرضِ عین ہے؟ تو باقی چیزوں کا تو فرضِ عین نہیں ہوتا۔ یہ کیا آپ کہہ رہے ہیں؟ یہ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا سے آپ اس کو فرضِ عین قرار دے رہے ہیں؟ میں نے کہا میں نہیں قرار دے رہا نا! قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا سے، میں تو وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا کو دیکھتا ہوں۔ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا کا مطلب کیا ہے؟ کہ تباہ و برباد ہو گیا، اللہ پاک فرماتے ہیں، خائب و خاسر ہو گیا، تباہ و برباد ہو گیا، جس نے اپنے نفس کو میلا کر دیا۔ یعنی خاک میں ملا دیا۔ اب بتاؤ تباہی اور بربادی سے بچنا فرضِ عین ہے یا نہیں ہے؟ تباہی اور بربادی سے بچنا اللہ پاک کے اس کے مطابق! ہماری تو کوئی حیثیت نہیں، ہم کسی کے اوپر کیا ں حکم لگا سکتے ہیں؟ ہم پر تو خود حکم لگایا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہم کسی پر حکم نہیں لگاتے، اللہ پاک نے فرمایا ہے، اگر ایسا نہیں کرو گے تو پھر کیا ہو گا؟ تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو اپنی تربیت کروانا ہے۔

                  دیکھو بیمار ہو گئے آپ، آپ بیمار ہو گئے۔ تو آپ کیا کرتے ہیں پھر اس وقت جب بیمار ہو جاتے ہیں؟ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں نا؟ تو ڈاکٹر کے پاس آپ نہ جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ کیا ہو جائے گا؟ بھئی کون ناراض ہو جائے گا آپ سے؟ اگر ڈاکٹر کے پاس نہ جائیں۔ آپ کا اپنا نقصان ہے! بیماری بڑھ جائے گی، نقصان زیادہ ہو جائے گا۔ اس وقت تو آپ لوگوں سے پوچھ پوچھ کے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ کہ کون سا ڈاکٹر اچھا ہے، یہ ہے، وہ ہے، سارا۔ مطلب بہت... بلکہ میں تو اکثر کہا کرتا ہوں یہ Hepatitis، اللہ بچائے ہر ایک کو، بیماری بہت زیادہ عام ہو گئی تھی نا۔ تو میں کہتا ہوں کہ اگر Hepatitis کسی کو ہو نا، تو کوئی آدمی دو آپس میں بات کر رہے ہوں اور اس میں Test کا لفظ آ جائے تو اس کے کان کھڑے ہو جائیں گے کہ یہ اس کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ میں بھی سن لوں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ اس کو پتا ہوتا ہے کہ بھئی اس اس سے بچنے کے لیے میں کیا کر سکتا ہوں۔ ٹھیک ہے نا!

                  تو یہ چیز جو ہے، مطلب انسان کو اپنی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔ تو جس طرح ہمیں اپنی صحت کا احساس ہے، کہ بیماری سے بچیں، تو بیماری آپ کو زیادہ سے زیادہ قبر میں پہنچا سکتی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ لیکن خدانخواستہ، اگر اصلاح نہیں ہوئی ہے تو یہ تمہیں جہنم میں لے جا سکتی ہے۔ پھر کیا کرو گے؟ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ پھر کیا کرو گے؟ اس وجہ سے، اپنی اصلاح لازم ہے۔ اللہ کا شکر کر کے، اللہ پہ کوئی احسان نہ کرنا۔ اللہ پہ کوئی احسان نہیں ہے۔ اللہ پاک غنی و حمید ہے، ابھی ابھی آیتِ کریمہ میں گزر گیا، اللہ پاک غنی و حمید ہے۔ اس کو تمہارے شکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ جیسے ڈاکٹر کو کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کو پیسے تو ملیں گے، لیکن میں نے کہا کہ اگر کوئی اور ڈاکٹر ہو جس کو پیسے نہیں ملتے، تو اس کا کیا فائدہ ہے؟ اگر آپ ٹھیک ہو جاؤ گے۔ فائدہ تو آپ کا ہے۔

                  تو اس کے لیے تو آپ ان کو پیسے دیتے ہیں۔ اور چلو ان کے لیے پیسے جائز بھی ہیں۔ لیکن مجھے بتاؤ جو صحیح مشائخ ہیں، وہ آپ سے لوگوں سے پیسے لیتے ہیں؟ صحیح مشائخ کی بات کر رہا ہوں، ادھر ادھر کی نہیں بات کر رہا ہوں، دکاندار فقیروں کی، اس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں جو صحیح مشائخ ہیں، جیسے ہمارے شیخ تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، وہ کسی سے پیسے مانگتے تھے؟ نہیں مانگتے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ اگر ان کے پاس جاتے تھے، تو آپ کی پوری اصلاح کرتے تھے۔ یعنی جتنی آپ کو ضرورت ہوتی تھی وہ آپ کو بتاتے رہتے تھے۔ اور اس پہ خوش ہوتے تھے۔ اس پہ خوش ہوتے تھے۔ یعنی فائدہ بھی آپ کا، اور وہ خوش بھی ہو رہے ہیں۔ تو اصل بات یہ ہے کہ کیوں؟ یہ معاملہ اللہ کے لیے ہے۔ یہ معاملہ اللہ کے لیے ہے۔

                  اللہ جل شانہ نے اگر کسی کو اس منصب پر بٹھایا ہوا ہے، اگر اس منصب پر بٹھایا ہوا ہے، تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ان چیزوں کو کھولے۔ اور اگر کوئی ان کے پاس آئے تو ان کی خدمت کرے۔ وہ، مطلب اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کی کام دیا ہی اس لیے گیا ہے۔ وہ ایک بہت بڑے نفسیاتی ڈاکٹر تھے، ڈاکٹر یونس ادھر اسلام آباد میں بیٹھتے تھے، بریگیڈیئر ریٹائر تھے۔ ان سے میری کسی نے ملاقات کرائی۔ کسی زعم میں، واللہ اعلم۔ خیر ملاقات کرائی تو، وہ پہلے تو مجھے اپنا ہم عصر سمجھنے لگا نا، کہ جیسے وہ ہوتے ہیں نا، مطلب دم کرنے والوں کو ڈاکٹر لوگ ناپسند کرتے ہیں۔ کہ بھئی یہ تو ہماری دکانداری ختم ہو رہی ہے اس سے۔ یعنی خوامخواہ یہ مفت میں لوگ، ٹھیک ہو رہے ہوں گے تو اب کیا مسئلہ ہے، یہ تو... تو وہ پہلے مجھے وہ سمجھ رہےتھے۔ جب میں نے ان کو یہ باتیں سمجھائیں کہ اس طرح نہیں ہے، تو پھر اس نے مجھے کہا اچھا، اچھا شاہ صاحب! آپ کا Clinic کدھر ہے؟ میں نے کہا ہمارا تو Clinic نہیں ہوتا۔ کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہماری تو مجالس ہوتی ہیں، اس میں لوگ آتے ہیں۔ اچھا؟ تو آپ کا فیس کتنا ہے؟ میں نے کہا ہم تو فیس لینے کی نیت بھی کر لیں تو سب کچھ ختم ہو جائے۔ کہتے کیوں؟ میں نے کہا اس لیے کہ ہم نے اس کے لیے محنت نہیں کی ہے۔ نہ اس کے لیے پیسے لگائے ہیں، نہ اس کے لیے محنت کی ہے۔ ہم نے تو اللہ کو راضی کرنے کے لیے محنت کی ہے۔ اللہ کا شکر ہے، الحمدللہ۔ اور یہ چیز اللہ پاک کی طرف سے عنایت کردہ ہے، تو اس میں تو ہم فیس لینے کی نیت بھی نہیں کر سکتے۔ ہاں، آپ لے سکتے ہیں۔ جب آپ نے اس کے لیے محنت کی ہے، آپ نے اس کے لیے ٹائم استعمال کیا ہے، آپ کو جائز ہے، آپ کے لیے جائز ہے۔ میرے لیے تو جائز نہیں ہے۔ حیران ہو گئے۔

                  پھر کہتا ہے اچھا شاہ صاحب! میں خود تو Patient ہوں Heart کا، میں خود تو حاضر نہیں ہو سکوں گا، البتہ Patients آپ کے پاس بھیجوں گا۔ تو میں نے کہا اصل بات یہی ہے۔ یعنی وہ آپ ڈاکٹروں کو دیکھ لیں اور مشائخ کو دیکھ لیں۔ صحیح مشائخ کی بات کر رہا ہوں، کیونکہ یہ بھی ایک dilemma ہے، مسئلہ ہے۔ میں حیدرآباد میں گیا تھا تو وہاں پر ساتھی مجھے ملا رہے تھے، مطلب مختلف جگہوں پہ لے جا رہے تھے۔ تو ایک محلہ بہت شاندار تھا۔ تو میں نے کہا یہ کس کا محلہ ہے؟ کہتے یہ قصائیوں کا۔ میں نے کہا اچھا، قصائی یہاں پر اتنے مالدار ہیں؟ کہتے نہیں، ڈاکٹروں کا۔ وہ ڈاکٹروں کو قصائی کہہ رہا تھا۔ ذرا غصہ تھا بیچارہ۔ اچھا! ڈاکٹر لوگ ناراض نہ ہوں، ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اچھا، تو بہرحال یہ کہ وہ ناراض ہو گا۔ تو خیر، وہ ایسا ہوا کہ... میں نے کہا کہ پھر آپ کیا کرتے ہیں جب بیمار ہو جاتے ہیں؟ کہتے ہیں انہی کے پاس آتے ہیں۔ تو میں نے کہا، پھر تو ان کو قصائی کہتے ہو؟ کہتے ہیں ان میں اچھوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ تو میں نے کہا، اگر ہم یہ بات کریں، کہ اپنی اصلاح کے لیے آپ ان مشائخ میں جن میں سے کچھ لوگ خراب ہوں گے جن کی وجہ سے آپ کو ذرا پریشانی ہے اور آپ نہیں جاتے ان کے پاس، ان میں اچھوں کو ڈھونڈ لو نا! کیا اس کے لیے اچھے نہیں ڈھونڈ سکتے؟ نشانیاں میں بتا دیتا ہوں! نشانیاں میں بتا دیتا ہوں، آپ اچھوں کو ڈھونڈ لیں، اور اس ان کے پاس پہنچ جائیں۔ تو چپ ہو گیا۔ مطلب میرا یہ ہے کہ یہ ہمارا یہ ہے، شیطان ہمیں سکھاتا ہے۔ اصل میں سارا کام شیطان کا ہے، کیونکہ شیطان اس چیز کا سخت مخالف ہے۔ سخت مخالف ہے۔ تو اس وجہ سے شیطان ہمیں اس مسئلے میں تھوڑی تھوڑی باتوں سے بھی Misguide کرتا رہتا ہے۔

                  اور مثال کے طور پر، ایک پیر غلط مشہور ہوا۔ تو اس کو پورے دنیا میں اس کا جو ہے نا وہ Propaganda کریں گے کہ دیکھو نا پیر ایسے ہوتے ہیں، پیر ایسے ہوتے ہیں، پیر ایسے ہوتے ہیں، بھئی ٹھیک ہے جی مان لیا۔ ہم لوگ، جو صحیح مشائخ کے پیروکار ہیں، ہمیں تو اس پر زیادہ ناراضگی ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ تو ہمارے School of thought کو اس سے گمراہ کرنے والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ تو ہمیں اس پر زیادہ غصہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ بس تو ہمارا نہیں چلتا، ہم اس کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟ لوگوں کو خود سمجھنا چاہیے کہ صحیح لوگ کون سے ہیں اور غلط لوگ کون سے ہیں؟ خود سمجھ جانا چاہیے۔

                  اب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ ایسے بھی پیر ہوتے ہیں، یعنی دور نہیں، نیلور قریب ہے نا ادھر، دور تو نہیں ہے نیلور۔ نیلور میں ایک پیر آیا تھا لالہ موسیٰ سے۔ وہ کہتے تھے، کہ کوئی میرے ساتھ بیٹھے اور پھر نماز پڑھ کر دکھائے۔ کوئی میرے پاس بیٹھے اور پھر نماز پڑھ کر دکھائے۔یہ باقاعدہ کہتے تھے۔ اور واقعتاً ان کے ساتھ جو بیٹھے، نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے ایک ساتھی غلطی سے ان کے ساتھ بیٹھنے لگے، تو کافی دنوں کے بعد آئے پریشان کہ حضرت! مجھ سے تہجد چھوٹ گیا، بالکل نہیں پڑھ سکتا۔ اب سلسلے کی برکت سے نماز تو بچ گئی، لیکن تہجد چھوٹ گیا، تہجد نہیں پڑھی جا رہی۔ کہتے بہت عرصہ میں کوشش کر رہا ہوں لیکن تہجد نہیں پڑھی جا رہی۔ تہجد۔ تو بہرحال پھر اللہ کا شکر ہے کہ آنا شروع کیا تو اللہ پاک نے پھر اس کو دوبارہ اللہ پاک نے توفیق عطا فرمائی۔ اور ایک صاحب جو ہمارے سلسلے کا نہیں تھا، وہ ان کے ساتھ بیٹھتا تھا تو وہ فرض نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ تو ان کو لایا گیا ہمارے خانقاہ میں لایا گیا۔ اس نے مجھے صاف کہا کہ شاہ صاحب! میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔ میں نے کہا کیوں؟ اس نے مجھے وہی بتایا کہ اس کے ساتھ... میں نے کہا اچھا مغرب کی نماز کا وقت ہے، میں نے کہا چلو مغرب کی نماز کے لیے۔ پاس ظاہر ہے مسجد ہے ہماری، اس کو میں اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ تو خیر فرض نماز تو تین رکعت تو میرے ساتھ پڑھ لی۔ جماعت کے ساتھ۔ پھر سنتیں؟ میں نے کہا سنت پڑھیں۔ تو پھر اس نے سنت پڑھ لی۔ اب میں اوابین پڑھتا تھا۔ تو میں نے کہا اچھا صلاۃ التوبہ پڑھیں، اور میں نے نیت کی صلاۃ الاوابین کی۔ اچھا دو رکعت صلاۃ التوبہ، پھر میں نے کہا صلاۃ الشکر پڑھیں۔ صلاۃ الشکر پڑھیں۔ اچھا پھر صلاۃ الحاجت پڑھیں۔ یعنی تین دفعہ میں نے اس کو یہ بھی پڑھوایا۔ الحمدللہ! وہ تالا کھل گیا۔ مطلب یہ سمجھ میں آ گئی نا بات؟

                  یہ ایسے لوگ ہیں! تو ایسے لوگوں کے پاس کیوں بیٹھتے ہو؟ تمہیں کس نے کہا ہے ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے کے لیے؟ کیا تمہارے دماغ کے اندر بھس بھرا ہوا ہے؟ کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں آتی کہ ایسے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟ ان کے پاس کیوں بیٹھتے ہو؟ کوئی دنیاوی مسئلہ ہو گا نا، کوئی دنیا کی چیز چاہتے ہوں گے نا، اس کے لیے بیٹھتے ہوں گے نا اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تو یہ سب غلطی لوگوں کی ہوتی ہے جو ایسے لوگ چڑھ جاتے ہیں ان کے اوپر۔ اگر انسان سمجھدار ہو، اس کو پتا ہو بھئی ایسا آدمی کیسے پیر ہو سکتا ہے جو اس قسم کی حرکت کرتا ہے؟ جو بٹیروں کو لڑاتا ہو، جو کتوں کو لڑاتا ہو، جو رنڈیوں کو نچاتا ہو، وہ پیر کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ لوگ خود سمجھ لیں نا۔ کیا عقل نہیں ہے، اللہ پاک نے عقل نہیں دیا ہے؟ اور ایک شخص جو خود شریعت پر پابند نہیں ہے، وہ تمہیں شریعت پر کیسے لا سکتا ہے؟

                  یہ ساری باتیں سمجھ کی ہیں نا، ان کو سمجھ لو۔ ہاں میں بتاتا ہوں کہ آخر نشانیاں کیا ہیں؟ صحیح نشانیاں کیا ہیں؟ پہلی نشانی یہ ہے کہ اس کا عقیدہ صحیح ہو۔ عقیدہ اہل سنت والجماعت۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ بھی میں بتاتا ہوں کہ ہے کیا، ایسا نہ ہو کہ کسی اور چکر میں پڑ جاؤ۔ اہل سنت والجماعت اس کو کہتے ہیں جو آپ ﷺ کی سنت پر، اور آپ ﷺ کے صحابہ کے طریقے پہ چل رہے ہوں، یہ ہے اہل سنت والجماعت۔ تو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہو۔ دوسری بات، فرضِ عین درجے کا علم اس کے پاس ہو کم از کم۔ پھر اس علم پر عمل کرتا ہو، نظر آتا ہو کہ عمل کرتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تین باتیں ہو گئیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ان کے صحبت کا سلسلہ آپ ﷺ تک پہنچتا ہو۔ چوتھی بات ہو گئی کیونکہ برکت تو اسی سے آئے گی۔ پانچویں بات، کسی صاحبِ سلسلہ، صاحبِ نسبت نے ان کو اجازت دی ہو، یعنی اس کو ذمہ دار بنایا ہو۔ پانچویں بات ہو گئی۔ چھٹی بات یہ ہے کہ اپنے وقت کے علماء مشائخ کے ہاں وہ Certified ہو، لوگ ان کو اچھا سمجھتے ہوں۔ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوں کہ یہ اچھا ہے، یہ چھٹی بات ہوگئی۔ ساتویں بات، مروت نہ کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔ اور آٹھویں بات یہ ہے، ان کی صحبت میں بیٹھ کر اللہ یاد آتا ہو۔ ان کی صحبت میں بیٹھ کر دنیا کی محبت کم ہوتی ہو۔

                  اگر یہ آٹھ نشانیاں کسی میں ہیں، میں لکھ کے دیتا ہوں، آپ ان کے پاس بیٹھنا شروع کر دیں۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ہاں، آپ دیکھیں اگر آپ کو ان کے ساتھ مناسبت ہے، ان سے بیعت ہو جائیں۔ کام کرنا شروع کر دو! زندگی برباد ویسے کیوں کر رہے ہو؟ کام شروع کر لو! جتنا جلدی کام شروع کرو گے، اتنا جلدی فائدہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ بس یہی بات ہے۔

                  تو موٹی موٹی باتیں ہیں، کوئی اتنی پیچیدہ باتیں نہیں ہیں۔ بس صرف یہ بات ہے کہ ہم لوگ بعض دفعہ سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور سمجھ بھی آ جاتی ہے، لیکن پھر کہتے ہیں اچھا نا، ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ موت کا کیا پتا؟ آپ ابھی نہیں ابھی نہیں کرتے جائیں گے اور ویسا سارا کچھ ختم ہو چکا ہو گا۔ تو لہٰذا موت کو یاد کرتے ہوئے کہ پتا نہیں کسی وقت بھی آ سکتا ہے، ہم لوگ اپنی حفاظت کا سامان کر لیں۔

                  اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔ وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔




                  عید کا پیغام: آزادیٔ نفس نہیں، بلکہ بندگی کا احساس اور تزکیہِ نفس سے حقیقی شکر کا حصول - جمعہ بیان