ازدواجی تعلقات اور طہارت: قرآنی احکامات اور فطری تقاضے

درس نمبر 96، سورۃ البقرہ: آیت:222 تا 223- (اشاعتِ اول) 26 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      حیض کی طبی حیثیت اور یہ عورتوں کا ایک قدرتی (Physiological) نظام ہے۔

·      ناپاکی (حیض) کی حالت میں بیوی سے جسمانی قربت کی شرعی ممانعت۔

·      ظاہری اور باطنی گندگی کے نقصانات اور طہارت کی اہمیت۔

·      بیویوں کے لیے 'کھیتی' کی قرآنی مثال اور نسلِ انسانی کی بقا۔

·      قربت کے فطری اور شرعی راستے کا انتخاب اور غیر فطری عمل کی ممانعت۔

·      ازدواجی تعلقات میں عفت، پاکدامنی اور صحیح نیت کی فضیلت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ ؕ قُلْ هُوَ اَذًى ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ ۙوَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ ۚفَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(222) نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ ۪ فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ ؕوَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(223)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے، لہذا حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں، ان سے قربت (یعنی جماع) نہ کرو۔ ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس اسی طریقے سے جاؤ جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں، اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔ (222) تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں؛ لہذا اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو جاؤ، اور اپنے لئے (اچھے عمل) آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے جا کر ملنے والے ہو۔ اور مؤمنوں کو خوشخبری سنا دو۔ (223)

اللہ جل شانہ نے ہر چیز کا اپنا نظام بنایا ہوا ہے۔ اب جیسے انسان کھاتا ہے، پیتا ہے، تو جسم کے اندر جو گندے مادے ہوتے ہیں وہ پیشاب کے ذریعے سے خارج ہو جاتے ہیں، گردوں سے ہوتے ہوئے، مثانے میں پہنچ جاتے ہیں، پھر وہ پیشاب کے ذریعے سے نکل جاتے ہیں۔ اس طرح انسان جب کھاتا ہے تو اس کا جو Waste ہے، وہ ظاہر ہے پاخانے کے ذریعے سے نکل جاتا ہے۔ اب یہ System تو ضروری ہیں، یعنی پیشاب اگر بند ہو جائے تو انسان کی ناطقہ بند ہو جائے بالکل۔ لیکن کیا اس کی اہمیت کے لحاظ سے کوئی اس کو پاک سمجھ سکتا ہے؟ ظاہر ہے پاک تو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس کے ساتھ گندگی جا رہی ہے۔

اس طرح پاخانے کی بات بھی ہے، ضروری ہے، اگر انسان کا وہ پاخانہ سسٹم بند ہو جائے، قبض ہو جائے تو بڑی مصیبت ہوتی ہے، ام الامراض کہتے ہیں اس کو۔ تو اسی طریقے سے جو حیض ہے، یہ بھی ایک Medical وہ ہے، باقاعدہ ایک Physiology ہے اس کی، اور سارا جو ہے نا انتظام اللہ پاک نے اس میں کیا ہوا ہے جو خواتین کے لیے ضروری ہے۔ لیکن ہے تو گندگی۔

تو ایسی صورت میں، جو قربت ہے وہ نہ کی جائے کیونکہ ایک گندگی کے ساتھ جب کوئی قربت کرتا ہے تو ظاہر ہے وہ بھی گندا ہو جاتا ہے۔ تو ایک تو انسان کا Physical گندا ہونا ہے، وہ تو اس سے کم بات ہے، لیکن وہ جو باطنی گندگی ہو جاتی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ لہٰذا ایسے وقت میں ایسے قربت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ ہاں جب پاک ہو جائیں، تو پھر اللہ جل شانہ نے اجازت دی ہے کہ اپنی بیویوں سے ملو، ان کے پاس اچھے طریقے سے جاؤ، اسی طریقے سے جاؤ جس طرح اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔

تو اس میں یہ بات بھی آ گئی کہ تم جس راستے سے بھی جانا چاہو تو ٹھیک ہے، لیکن مقصد وہ ہو جس کے لیے یہ قربت ہے۔ یعنی اپنے شہوت کو پورا کرنا نہیں ہے، وہ تو اس کا ایک سائیڈ ایک چیز ہے۔ اصل میں جو، یعنی نسل والی بات ہے، وہ جو ہے نا وہ یہ ہے کہ تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ جیسے انسان، کوئی کھیت میں بوتا ہے، پھر اس کے بعد اس سے وہ فصل حاصل ہوتا ہے، تو اسی طرح ان کو کھیتیاں کہا گیا ہے۔ تو لہٰذا جو کھیتی کا راستہ ہے اسی راستے سے جانا چاہیے، کسی اور راستے سے نہیں جانا چاہیے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف کنایہ استعمال کر کے میاں بیوی کے خصوصی ملاپ کے بارے میں چند حقائق بیان فرمائے ہیں۔ پہلی بات تو یہ واضح فرمائی ہے کہ میاں بیوی کا ملاپ صرف لذت حاصل کرنے کے مقصد سے نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اسے انسانی نسل کی بڑھوتری کا ذریعہ سمجھنا چاہئے۔ جس طرح ایک کاشتکار اپنی کھیتی میں بیج ڈالتا ہے تو اس کا اصل مقصد پیداوار کا حصول ہوتا ہے، اسی طرح یہ عمل بھی دراصل انسانی نسل باقی رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ دوسری حقیقت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب اس عمل کا اصل مقصد یہ ہے تو یہ عمل نسوانی جسم کے اسی حصے میں ہونا چاہئے جو اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، پیچھے کا جو حصہ اس کام کے لئے نہیں بنایا گیا، اس کو فطرت کے خلاف جنسی لذت کے لئے استعمال کرنا حرام ہے۔ تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ نسوانی جسم کا جو الگ حصہ اس غرض کے لئے بنایا گیا ہے، اس تک پہنچنے کے لئے راستہ کوئی بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہودیوں کا خیال یہ تھا کہ اس حصے میں مباشرت کرنے کے لئے بس ایک ہی طریقہ جائز ہے، یعنی سامنے کی طرف سے۔ اگر مباشرت آگے ہی سے ہو، لیکن اس تک پہنچنے کے لئے راستہ پیچھے کا اختیار کیا جائے تو وہ کہتے تھے کہ اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے۔ اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کر دی۔

یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ بے شک پیچھے سے ہو، آگے سے ہو، لیکن جائے وہاں پر جو اس کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی یہ اس کا مراد ہے۔

تو انسان کو صحیح نیت کے ساتھ، اور صحیح نیت یہ ہے کہ انسان اپنی عفت کو حاصل کرے۔ اور عفت حاصل کرنا اس کو کہتے ہیں کہ جو، اس کے لیے اللہ پاک نے ایک نظام بنایا ہوا ہے، اسی نظام کو باقی رکھے، باقی کسی چیز کو نہ چھیڑے۔ مثال کے طور پر میاں بیوی ہیں، تو شریعت نے ان کو نکاح کے بندھن میں باندھا ہوا ہے، تو صرف اسی کے ساتھ یہ تعلق ہو کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔ مطلب ایک تو یہ بات ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اسی طریقے سے ہو جس طریقے سے اللہ نے بتایا ہے۔ اور اس وقت نہیں ہونا چاہیے جس وقت روکا گیا ہے، یعنی حیض کی حالت میں۔

پھر آگے اللہ پاک نے جو فرمایا وہ یہ ہے:

اور اپنے لئے (اچھے عمل) آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے جا کر ملنے والے ہو۔ اور مؤمنوں کو خوشخبری سنا دو۔ (223)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ کے لیے مومن بنا دے، اور جو طریقہ کار اللہ پاک نے ہمارے لیے پیدا فرمایا ہے، اس کے مطابق ہمیں اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے۔ ہمارے ہر کام کو اللہ پاک اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے، اور اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے، ایسا راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


ازدواجی تعلقات اور طہارت: قرآنی احکامات اور فطری تقاضے - درسِ قرآن - دوسرا دور