الحمد للہ رب العلمین والصلوة والسلام علی خاتم النبیین امابعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
آج جمعرات ہے یعنی جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی سیرت النبی سے تعلیم ہوتی ہے۔ اس تعلیم میں حضرت نے آپ ﷺ کی سیرت کو بیان کرتے کرتے بہت ساری فقہی باتوں کی بھی تشریحات فرمائی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ سیرت سے ہی مستنبط ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں جب تک ان پہ چلو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ایک قرآن اور دوسرے میری سنت۔
تو ظاہر ہے سنت جو ہے اس کا تعلق سیرت کے ساتھ یقینا ہے تو سنت کا پتہ بھی سیرت سے ہی چلتا ہے۔ تو یہاں پر ایسے مضامین سارے بیان ہو جاتے ہیں جس کا تعلق فقہ کے ساتھ بھی ہے۔ تو سب سے پہلے عبادات آتے ہیں فقہ میں اور عبادات میں سب سے پہلے نماز آتا ہے۔ تو نماز میں جو بھی شرائط ہیں اور جو بھی فرائض ہیں جو واجبات ہیں ان کے بارے میں بات ہوتی ہے تو ابھی ایک اور شرط اس کے بارے میں بات شروع ہو رہی ہے وہ ہے قبلہ کی طرف رخ کرنا۔
قبلہ:
انسان کا کوئی کام جس طرح زمانہ سے خالی نہیں ہوسکتا جس کی بنا پر اوقاتِ نماز کی تعیین کی گئی ہے اسی طرح مکان سے بھی خالی نہیں ہوسکتا۔
زمان اور مکان۔ یعنی ہر چیز کے لیے کوئی زمان ہوتا ہے کوئی مکان ہوتا ہے۔
جب انسان کوئی کام کرے گا تو ظاہر ہے کہ اس کا منہ کسی نہ کسی سمت ہوگا۔ اگر نماز میں کسی خاص سمت کا تعیین نہ ہوتا اور یہ عام اجازت دے دی جاتی کہ جس کا جدھر جی چاہے منہ کرکے نماز ادا کرے تو جماعت کی یکسانی کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا اور نمازیوں کی وحدتِ صوری قائم نہ رہتی بلکہ اگر ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں کوئی پورب، کوئی پچھم، کوئی اتر اور کوئی دکھن رخ کرکے کھڑا ہوتا تو یہ وحدتِ نظام کے خلاف ہونے کے علاوہ اچھا خاصہ مضحکہ انگیز تماشا بن جاتا، اس لئے ہر مذہب میں عبادت کے لئے کوئی نہ کوئی سمت خاص کر لی گئی ہے۔ صائبی (ستارہ پرست) قطبِ شمالی کی طرف منہ کرتے تھے، کہ ستاروں میں وہی ہے جو نظر آنے کے باوجود اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا بلکہ برقرار رہتا ہے۔ آفتاب پرست سورج کی طرف منہ کرتے ہیں، آتش پرست آگ کو سامنے رکھتے ہیں، اور بت پرست کوئی نہ کوئی بت آگے رکھ لیتے ہیں۔ اکثر شامی قومیں مشرق کی طرف رخ کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ یہودیوں کے ایک فرقہ الیسینی نے آفتاب کے مطلع کو قبلہ بنا لیا تھا۔ شامی عیسائی بھی اسی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ بنی اسرائیل میں بھی قبلہ ضروری تھا، تورات سے حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کا یہ دستور معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاں عبادت کرنا چاہتے تھے اس کو چند پتھروں سے گھیر کر "خدا کا گھر" "بیت ایل" بنا لیتے تھے قرآن مجید میں ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں تھے تو حضرت موسیٰؑ کے ذریعہ سے ان کو حکم ہوا تھا کہ گھروں کو قبلہ رخ بنائیں اور نماز ادا کریں۔
﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ (سورہ یونس: 87)
اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ کرلو اور نماز کھڑی کرو۔
بیت المقدس کے قبلہ ہونے کا ذکر عہدِ قدیم کے مجموعہ صحف میں متعدد موقعوں پر آیا ہے۔ حضرت داؤدؑ کے زبور میں ہے۔
"لیکن میں جو ہوں سو تیری رحمت کی کثرت سے تیرے گھر میں آؤں گا اور تجھ سے ڈر کر تیری مقدس ہیکل کی طرف تجھے سجدہ کروں گا۔" (5-7)
سلاطینِ اوّل میں ہے۔
"جب تیرا گروہ لڑائی کے لئے اپنے دشمن کے برخلاف نکلے جہاں کہیں تو انہیں بھیج دے اور خداوند کے آگے دعا مانگے اس شہر کی طرف جس کو تو نے پسند کیا اور اس گھر کی طرف جسے میں نے تیرے نام کے لئے بنایا" (8-44)
اسی صحیفہ میں آگے چل کر ہے۔
اور اس زمین کی طرف جس کو تو نے ان کے باپ دادوں کو دی اور اس شہر کی طرف جسے تو نے چن لیا اور اس گھر کی طرف جو میں نے تیرے نام کے لئے بنایا تجھ سے دعا مانگیں" (48)
اہلِ عرب میں کعبہ کو وہی حیثیت حاصل تھی جو بنی اسرائیل میں بیت المقدس کو تھی اس لئے اہلِ عرب کا قبلہ کعبہ تھا اس تمام تفصیل سے قرآن مجید کی اس آیت کی تشریح ہوتی ہے۔
﴿وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (سورہ البقرہ: 148)
اور ہر ایک امت کا ایک قبلہ ہے جدھر وہ منہ پھیرتی ہے تو اے مسلمانو! نیکیوں کی طرف دوڑو۔
اوپر کے بیان سے واضح ہوا ہوگا کہ دنیا کے تین مذاہب میں تین قسم کے قبلے تھے ستارہ پرست یا ستارہ پرستی سے متاثر پرستش کے لئے کسی ستارہ کو قبلہ بناتے تھے مثلاً آفتاب پرست آفتاب کے طلوع کے رخ یعنی مشرق کو اور صائبی (ستارہ پرست) قطبِ شمالی کو، عناصر پرست یا بت پرست اپنی پرستش کے عنصر یعنی آگ یا کسی دریا یا کسی بت کو قبلہ قرار دیتے تھے موحدین اپنی مرکزی مسجد کو قبلہ سمجھتے تھے۔
ابراہیمی قوموں میں اسی قسم کی مرکزی مسجدیں دو تھیں، مسجدِ اقصی (بیت المقدس) اور مسجدِ حرام (خانہ کعبہ)۔ پہلی مسجد کی تولیت حضرت اسحاقؑ اور ان کی اولاد کے سپرد ہوئی تھی، اس لئے وہ ان کا قبلہ تھی۔ دوسری مسجد کے متولی حضرت اسمٰعیلؑ اور ان کے بیٹے تھے جنہوں نے اس کو قبلہ بنایا تھا۔ آنحضرت ﷺ جب تک مکہ معظمہ میں رہے، خانہ کعبہ کی طرف اس طرح منہ کرکے کھڑے ہوتے تھے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے پڑ جاتے تھے لیکن جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ صورت ممکن نہ تھی، کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے شمال اور خانہ کعبہ جنوب کی طرف واقع تھا، تاہم کعبہ کے قبلہ ہونے کی اب تک چونکہ اجازت نازل نہیں ہوئی تھی آپ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے کہ وہی انبیائے بنی اسرائیل کا قبلہ گاہ تھا، لیکن آپ ﷺ کی طبعی خواہش یہ تھی کہ اس تازہ ملتِ ابراہیمی کے لئے وہی ابراہیمی مسجد (خانہ کعبہ) قبلہ قرار پائے جس کی تولیت اس کے بانی (حضرت ابراہیمؑ) کی طرف سے بنی اسمٰعیل کے سپرد ہوئی تھی چنانچہ سورہ بقرہ کے وسط میں اس کے متعلق احکام نازل ہوئے جن میں سب سے پہلے بتایا گیا کہ خدا کو کسی جہت اور سمت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ بے سمت ہے اور سب سمتیں اسی کی ہیں۔
﴿وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ (سورہ البقرہ: 115)
اور خدا ہی کے لئے ہے پورب اور پچھم تو جدھر رخ کرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے بیشک اللہ بڑی گنجائش اور وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔
اس کی گنجائش اور وسعت میں ہر سمت داخل ہے اور ہر جہت کی اس کو خبر ہے یہ آیت کریمہ قبلہ کے تعیین کی کسی ایسی تشریح کو جس سے شرک کا شائبہ پیدا ہوسکے قطعاً غلط قرار دیتی ہے اور دوسری آیت میں بھی یہی مضمون ادا ہوا ہے۔
﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ (سورہ البقرہ: 142)
بے وقوف لوگ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے اس قبلہ سے کس نے ہٹا دیا جس پر وہ تھے، کہہ دے کہ پورب اور پچھم دونوں خدا کے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
یہود جن کو سب سے زیادہ اعتراض یہ تھا کہ مشرقی مسجد یعنی بیت المقدس کو چھوڑ کر مغربی مسجد یعنی خانہ کعبہ کو کیوں قبلہ قرار دیا گیا ان کو خطاب کرکے فرمایا۔
﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾ (سورہ البقرہ: 177)
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو البتہ نیکی یہ ہے کہ خدا، قیامت، فرشتوں، کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اپنی دولت کو اس کی محبت کے باوجود (یا خدا کی محبت پر) رشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، مسافروں سائلوں اور غلاموں کو (آزاد کرانے میں) دے اور نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے اور (نیکی یہ ہے) جو اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہیں اور سختی اور تکلیف اور جنگ میں صبر کرتے ہیں، یہی وہ ہیں جو سچے ہوئے اور یہی پرہیزگار ہیں۔
اس تصریح سے یہ اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام میں قبلہ کی کیا حیثیت ہے قبلہ یعنی وہ سمت یا جگہ جس کا رخ کیا جائے عبادت کے لئے کوئی ضروری چیز نہیں ہے لیکن چونکہ نمازوں میں امت کے نظامِ وحدت کو قائم رکھنے کے لئے کسی ایک رخ کی تخصیص کی حاجت تھی اسی لئے 1 ھجری میں خانہ کعبہ بنانے کا حکم ہوا۔
﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ (سورہ البقرہ: 144)
پس تو اپنا منہ مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر اور تم لوگ جہاں بھی ہو اسی کی طرف اپنے منہ پھیرو۔
اسلام نے قبلہ کے لئے کسی خاص سمت کا نہیں بلکہ ایک مرکزی مسجد کا انتخاب کیا، جس کے چاروں طرف چاروں سمتوں سے نماز پڑھی جاسکے اس طرح مشرق، مغرب، جنوب، شمال سب بہ یک وقت مسلمانانِ عالم کا قبلہ ہیں۔ جس سے ایک لطیف رمزیہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے خدا کی طرح ان کا قبلہ بھی بے جہت ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سمت کے تعین سے اس سمت کی مرکزی چیز (مثلاً آفتاب یا قطب شمالی وغیرہ) کی مسجودیت اور معبودیت کا جو تخیل پیدا ہوتا تھا اور جس سے بت پرستی اور ستارہ پرستی کا رواج ہوگیا تھا اس کا کلیتہً خاتمہ ہوگیا۔
لیکن یہ مرکزی مسجد بیت المقدس کی بجائے مسجدِ حرام (کعبہ) قرار دی گئی جس میں بہت سی مصلحتیں تھیں۔
(1)۔ یہ ضرورت تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی طرف ہر شخص ہر جگہ سے ہر ملک میں منہ پھیر سکے ایسی چیز یا تو کوئی مصنوعی شے ہوسکتی تھی مثلاً چراغ، کوئی مومی شمع، کوئی تصویر، کوئی مجسمہ، کوئی کتاب جیسا کہ اوپر گذرا بعض اہلِ مذاہب ان چیزوں کو سامنے رکھتے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے مثلاً بت، مجسمہ، آگ، پانی، آفتاب وغیرہ اشیاء وعناصر و کواکب، ظاہر ہے کہ اسلام اگر ایسا کرتا تو وہ بھی کھلی ہوئی بت پرستی میں گرفتار ہوجاتا، دوسری صورت یہ تھی کہ اشیاء کو نہیں بلکہ سمت کو خاص کیا جاتا مثلاً شمال یا مشرق کہ پہلی سمت میں جگہ سے نہ ٹلنے والا قطب تھا اور دوسری چہرہ خورشید کا مطلع اور بياضِ سحر کا دیباچہ تھی ۔ دینِ توحید کیلئے یہ بالکل ناممکن تھا کہ ستارہ پرستی کے ابطال کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے علامات اور امتیازات کو قائم رکھے۔
(2) یہ کہنا ممکن ہے کہ شمال اور مشرق کو چھوڑ کر جن کی طرف منہ کرنا ستارہ پرستی ہوتی کسی اور سمت کا انتخاب کیا جاسکتا تھا مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ چار سمتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کسی نہ کسی مرجح سبب ہی کی بنا پر ہوسکتا ہے ورنہ خدا کے لحاظ سے تو ہر سمت برابر تھی۔ اب جو بھی سمت اختیار کی جاتی اس کے لئے ضروری تھا کہ اس کی تخصیص کی کوئی مناسب وجہ بھی ہوتی، سمت کی تعیین آفتاب یا دوسرے ممتاز ستاروں کا طلوع و غروب کا لحاظ کئے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ ہر سمت میں کوئی نہ کوئی مشہور ستارہ ہے جس کی سیدھ سے وہ سمت متعین کی گئی ہے اس لئے جو سمت بھی اختیار کی جاتی اس سے اس سمت کا خاص ستارہ کے متعلق وجہ ترجیح کا پیدا کرنا ضروری تھا اور اس ترجیح سے دین توحید کا دینِ شرک بن جانا لازمی تھا۔
(3) اسی لئے ملتِ ابراہیمی نے ان صورتوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کسی قربان گاہ یا مسجد کو اپنا قبلہ بنایا تا کہ شرک کے ہر قسم کے شائبہ سے اس کی نماز محفوظ رہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی مسجدوں میں ان کی نسل نے دو مرکزی مسجدوں کو محفوظ رکھا تھا، ایک بیت المقدس جس کو حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے اپنے زمانوں میں بڑے اہتمام سے تیار کرایا اور یہ بنی اسرائیل کا قبلہ بنی دوسری مسجد کعبہ جو بنی اسماعیل کا مذہبی مرکز تھی۔
(4) اسلام کا دعویٰ ہے کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے پہلے بنا تھا وہ دنیا میں پہلا گھر تھا جو خدا کی عبادت کے لئے تعمیر ہوا اور اس کے معمار خود حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ تھے۔
﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ (سورہ آل عمران: 96)
بے شک سب سے پہلا مبارک گھر جو انسانوں کے لئے (خدا کا) بنا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔
﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ﴾ (سورہ البقرہ: 127)
اور جبکہ ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کے کھمبے اٹھا رہے تھے۔
خانہ کعبہ کا قبلہ ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار عہدِ اسلام کے یہود کو بھی نہ تھا چنانچہ قرآن پاک میں ہے
﴿وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ﴾ (سورہ البقرہ: 144)
اور جن کو کتاب دی گئی وہ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کا قبلہ ہونا حق ہے (اور وہ) ان کے پروردگار کی طرف سے (ہے۔)
پولوس (پال) ایک خط میں جو گلتیوں کے نام ہے لکھتا ہے۔
کہ یہ لکھا ہے ابراہیم (حضرت ابراہیمؑ) کے دو بیٹے تھے ایک لونڈی (ہاجرہ) سے دوسرا آزاد (سارہ) سے پر وہ جو لونڈی سے تھا (اسماعیلؑ) جسم کے طور پر پیدا ہوا اور جو آزاد سے تھا (اسحاقؑ) سو وعدہ کے طور پر یہ باتیں تمثیلی بھی مانی جاتی ہیں اس لئے کہ یہ عورتیں وہ عہد ہیں ایک تو سینا پہاڑ (حضرت ہاجرہ مصر کی تھیں اور سینا مصر کے راستہ میں ہے) پر سے جو ہوا وہ نرے غلام جنتی ہیں یہ ہاجرہ ہے کیونکہ ہاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے اور اب کے یروشلم (بیت المقدس) کا جواب ہے اور یہ بھی اپنے لڑکوں کے ساتھ غلامی میں ہے پر اوپر کا یروشلم آزاد ہے (گلتیوں کے نام 22-26 باب 4)
اس اقتباس سے یہ واضح ہوگا کہ عیسائیت کا بانی بھی اس بھید سے آگاہ تھا کہ یروشلم اور بیت اللہ (یا عرب کا کوہ سینا) ایک دوسرے کا جواب ہیں "اب کے یروشلم" سے ظاہر ہوتا ہے کہ یروشلم نیا ہے اور بیت اللہ پرانا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں عورتیں دو عہد تھیں یعنی ان کی اولاد کے متعلق حضرت ابراہیمؑ سے خدا نے دو عہد کئے تھے ہاجرہ کا وعدہ کوہ سینا پر ہوا تھا جب وہ حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ مصر سے آرہی تھیں اور راستہ میں سینا پڑتا تھا اس وعدہ کے مطابق ہاجرہ کی غلام اولاد نے عرب میں عبادت کا ایک مرکزی گھر تعمیر کیا تھا اور یہ غلام اس پرانے مرکزی گھر کے متولی ہوگئے۔ یہ گھر بعد کو بنی اسرائیل کے نزدیک ان کے نئے مرکزی عبادت گاہ بیت المقدس کا پورا جواب تھا۔ سارہ کے وعدہ کا یہاں ذکر نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے کہ بیت المقدس کی تولیت بنی اسرائیل کو عطا ہوئی تھی گویا حضور انور ﷺ کے بیشتر تک خدا کا عہد بیت المقدس اور بنی اسرائیل کے ساتھ تھا چونکہ بنی اسرائیل نے اپنی بغاوت، تمرد، سرکشی اور قساوت کے سبب سے اس عہد کو توڑ دیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد خدا نے ان کو متنبہ کیا جس کا ذکر سورہ اسراء کی آیتوں میں ہے اور جب بنی اسرائیل پر اس تنبیہ کا کچھ اثر نہ ہوا تو خدا نے ان سے اپنا عہد توڑ کر اسماعیلؑ کا وہ عہد شروع کیا جو سینا پر ہاجرہ کے متعلق باندھا گیا تھا۔
معراج میں آنحضرت ﷺ کا بیت المقدس (مسجدِ اقصی) میں نماز ادا کرنا اور اس سے چند سال بعد خانہ کعبہ کا قبلہ بن جانا گویا بنی اسرائیل کے عہد کی شکست اور بنو اسماعیل کے عہد کی ابتداء کا اعلان تھا جیسا کہ اس کتاب کی تیسری جلد میں بسلسلہ معراج
﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ (سورہ بنی اسرائیل: 1)
پاک ہے وہ خدا جو اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے اس مسجدِ اقصی (بیت المقدس) تک لے گیا جس کے چاروں طرف ہم نے برکت دی ہے۔
کی تفسیر میں لکھا گیا ہے۔
اس تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ بیت المقدس جو عہدِ اسرائیل کا نشان تھا اسلام کے بعد اس میں قبلہ ہونے کی شان باقی نہیں رہی بلکہ حضرت ابراہیمؑ کی وہ مسجد قبلہ بنائی گئی جس کا تعلق عہدِ اسماعیل سے تھا (یعنی خانہ کعبہ) وہ عہد کیا تھا؟ اس کی تفصیل یہ ہے۔
﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (سورہ البقرہ: 124-125)
اور جب خدا نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمؑ کو آزمایا تو اس نے ان باتوں کو پورا کیا، خدا نے کہا میں تجھ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں (ابراہیم نے) کہا اور میری نسل میں سے (خدا نے) فرمایا میرا عہد ظالموں کو شامل نہ ہوگا اور جب ہم نے گھر (کعبہ) کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن بنایا اور تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ سے عہد کیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔