اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
غصہ کی ممانعت
(48) ﴿وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: لَا تَغْضَبْ، فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لَا تَغْضَبْ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا مجھے وصیت کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا غصہ چھوڑ دیجئے۔ آپ ﷺ نے بار بار دہرایا غصہ چھوڑ دیجئے۔“
معلوم ہوتا ہے جس صاحب نے وصیت کرنے کی درخواست کی وہ صاحب کچھ غیر معمولی قسم کے تیز مزاج اور مغلوب الغضب تھے۔ اس وجہ سے ان کے لئے مناسب ترین اور مفید ترین وصیت ہو سکتی تھی اور وہ یہی تھی کہ غصہ نہ کیا کرو۔ کیونکہ غصہ ایک مذموم عادت ہے اور غصہ کی حالت میں آدمی اللہ تعالیٰ کے حدود کا خیال نہیں رکھتا۔ شیطان کا تسلط غصہ والے پر ایسا چلتا ہے جیسا کسی دوسری حالت میں نہیں چلتا۔ غصہ مذموم وہ ہے جو دنیاوی معاملات اور نفسانیت کی وجہ سے ہو۔ اور اگر غصہ اللہ کے لئے اور حق کی بنیاد پر ہو اور اس میں حدود سے تجاوز نہ ہو تو یہ غصہ تو کمالِ ایمان کی نشانی اور جلال خداوندی کا عکس ہے۔ نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی میں جس چیز کی کمزوری ہو اسے اس بات کی بار بار نصیحت کرنا چاہئے تاکہ وہ مذموم عادت اس سے چھوٹ جائے۔
تخریج حدیث: رواہ البخاری فی الادب (باب الحذر من الغضب) رواہ امام احمد فی مسنده 8752/3 و رواہ البخاری فی الادب المفرد و ابن حبان۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو مذموم غصے سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.