ایمان کی عظمت، شرک سے بیزاری اور موجودہ دور کے فتنے

درس نمبر 95، سورۃ البقرہ: آیت:221- (اشاعتِ اول) 25 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سورۃ البقرہ کی آیت 221 کی تفسیر اور مشرکین سے نکاح کی ممانعت۔

·       ایمان اور شرک کے درمیان بنیادی اور واضح فرق۔

·       ایک گناہ گار مسلمان کی اللہ کے نزدیک قدر و قیمت (value) اور کافر کے مقابلے میں اس کی برتری۔

·      موجودہ دور میں social media اور معلومات کے طوفان (information storm) کی وجہ سے ایمان کو لاحق خطرات۔

·      مشکوک اور غیر مستند کتابوں (جیسے انجیل برنباس) کے مطالعے سے گریز اور مستند علم کے حصول کی تاکید۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ ؕوَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ ۚوَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا ؕوَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ ؕ اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚۖوَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ (221)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقیناً ایک مؤمن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آ رہی ہو۔ اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقیناً ایک مؤمن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آ رہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (221)

ایمان اور شرک، یہ دو متضاد باتیں ہیں۔ ایمان جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان صرف اللہ وحدہ لا شریک اس کو یعنی اپنا خدا مانے۔ اور جو بات دوسرے اللہ پاک نے فرمائی، جیسے پیغمبروں پر، اور کتابوں پر، اور فرشتوں پر، اور تقدیر پر، اور روزِ جزا پر یقین رکھنا، اور سب کچھ اللہ کی طرف سے ہونا، یہ اس پر ایمان انسان رکھتا ہو۔

جبکہ مشرک جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرتے ہیں۔ چونکہ عرب میں یہ بات تھی کہ وہ ابراہیم عليه السلام کے وقت سے، مطلب ان کی اولاد چلی آ رہی تھی۔ تو ظاہر ہے اللہ کو تو مانتے تھے۔ اللہ کو تو مانتے تھے۔ لیکن اپنی طرف سے کچھ اوروں کو بھی شامل کیا تھا اور ان کی عبادت کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کچھ حصہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی دیا ہوا ہے، یعنی یہ بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ لہذا ہر چیز کے لیے اپنا اپنا ان کا بت ہوتا تھا اور ان سے مانگتے تھے۔

تو ظاہر ہے اللہ جل شانہٗ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے جو دعوت پہنچائی وہ تو خالص توحید کی دعوت تھی۔ اور اس پر وہ قوم مخالف بھی ہو گئی۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنی بات جاری رکھی۔ تو اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے جو نکاح کا بندھن ہے، اس کے بارے میں واضح طور پر حکم دے دیا کہ مشرک کے ساتھ نکاح نہیں ہونا چاہیے کسی مسلمان مومن عورت کی، اور مشرکہ، کسی مومن مرد کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔

اور یہ فرمایا کہ یہ جو دنیا کی اونچ نیچ ہے، یہ تو عارضی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تو، یعنی ٹھیک ہے، کفو والا معاملہ اپنی جگہ پر ہے، لیکن یہ بالکل وہ والی بات کہ ایک مشرک کے مقابلے میں مومن غلام، یہ بھی بہتر ہے، کیونکہ اس کے دل میں ایمان ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والی بات ہے۔ جبکہ اسی طرح مشرکہ جو ہے، یہ اس کے مقابلے میں باندی بہتر ہے۔ حالانکہ باندی اور غلام کا ان دنوں کوئی وقعت نہیں ہوتی تھی، مطلب کوئی بھی ان کی value معاشرے کے اندر نہیں ہوتی تھی۔ لیکن بہرحال ایمان والی بات یہ ایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں ساری باتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔

میں ایک دفعہ جرمنی میں تھا تو وہاں پر جو پاکستانی تھے۔ تو ترک بھی تھے اور پاکستانی بھی تھے۔ پاکستانیوں کے ساتھ اور ترکوں دونوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ تو ظاہر ہے کسی ترکی کے ساتھ ان بن ہو چکی ہوگی ہمارے پاکستانی بھائی کی، تو میں نے کسی طرح ترکوں کی تعریف کر لی۔ انہوں نے کہا نہیں ٹھیک ہے، تم نئے نئے آئے ہو، ابھی تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ کیسے ہیں۔ تو میں نے ان سے کہا، میں نے کہا زیادہ سے زیادہ گناہ گار ہوگا نا؟ اس سے زیادہ تو نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہاں گناہ گار ہے۔ تو میں نے کہا دیکھو، سارے کافر جرمنی کو ایک پلڑے میں ڈالو، اور ایک گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کو دوسرے پلڑے میں رکھو، تو اللہ کے نزدیک وہ گناہ گار مسلمان ان سے بھاری ہے۔ اور باقی کافروں کی کوئی value نہیں ہے۔

تو ایمان کی جو value ہے نا، اصل میں لوگوں کے ذہن میں ہے نہیں۔ ایمان بہت بڑی بات ہے، ایمان بہت بڑی بات ہے۔ یہ ایمان جو ہے نا، ایسی چیز ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو آپ کی ساری نیکیاں برباد ہیں۔ کچھ بھی نہیں پاس۔ اور ایمان اگر ہو تو آپ کی نیکیاں محفوظ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو نیکی کی وہ ضائع نہیں ہوگی۔ لیکن جو ایمان نہیں رکھتا تو اس کی کوئی نیکی وہاں اس کو کام نہیں دے گی، یہاں اس کو فائدہ پہنچے گا، لیکن وہاں اس کو کوئی کام نہیں دے گی۔

تو لہذا ہمیں اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنی ہے اور آج کل ایمانوں کا مسئلہ ہے۔ آج کل بڑا مسئلہ جو ہے نا، ایمانوں کا ہے۔ تو ایمان کو جو ہے نا محفوظ رکھنا چاہیے۔ جیسے کہ فرمایا گیا ہے کہ آخری وقت میں یہ حال ہوگا کہ صبح کو مسلمان ہوگا، شام کو کافر۔ شام کو مسلمان ہوگا، صبح کو کافر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل یہ social media اور اس قسم کی چیزیں اتنی زیادہ پھیل گئی ہیں، اور اس میں جس کو کہتے ہیں نا معلومات کا پورا ایک طوفان ہے، information storm۔ تو یہ ان معلومات کے اندر، اگر کسی کی تحقیق کا taste نہ ہو، یا تحقیق والوں کے ساتھ ان کا تعلق نہ ہو، اور وہ یہ چیزیں پڑھتے جائیں، تو کسی وقت بھی اپنا ایمان ضائع کر سکتے ہیں۔

لہذا اپنے ایمانوں کو بچانے کے لیے، اول تو بغیر تحقیق کے کسی بات کو دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اپنا وقت کیوں انسان برباد کرے؟ جو مستقل باتیں ہیں، ان کو لے لو۔ جو تبدیل نہیں ہو رہیں اور جو حق ہیں، جن کا حق ہونے کا یقین ہے۔ ان کے پیچھے چلو۔

ایک صاحب میرے پاس آئے، لے آئے وہ انجیل برنباس۔ یہ بہت پرانی بات ہے، وہ تو صاحب فوت بھی ہو چکے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ تو وہ میرے پاس لائے، تو مجھے کہا کہ یہ بہت زبردست کتاب ہے، وہ تو بالکل ایسا ہے جیسے کسی صوفی نے لکھا ہو۔ تو آپ اس کو دیکھیں۔ میں نے کہا میں اس کو کیوں دیکھوں؟ عمر رضی الله عنہ والا واقعہ مجھے یاد ہے۔ کہ عمر رضی الله عنہ تورات پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر موسیٰ عليہ السلام بھی اس وقت آ جائیں تو وہ بھی میرے طریقے پر چلیں گے۔ اور عیسیٰ عليہ السلام جب تشریف لائیں گے تو وہ تو چلیں گے ہی چلیں گے، حضور ﷺ کے طریقے پر۔ تو میں اس میں تحریف ہوئی ہے، نہیں ہوئی ہے، مجھے نہیں معلوم۔ لیکن چونکہ اس کے بارے میں ہے کہ اس میں تحریف کا امکان ہے، تو ایسی صورت میں مجھے ایک ایک چیز پر بڑا غور کرنا پڑے گا۔ اور میں بہت alert رہوں گا، تو ٹینشن میں پڑوں گا۔

تو اس کے مقابلے میں میرے پاس ایسی چیزیں ہیں جس میں مجھے کوئی ٹینشن نہیں ہے، وہ بالکل صحیح ہیں۔ میں اس کو کیوں نہ پڑھوں؟ مطلب میں اس کو پڑھوں تو میرے علم میں اضافہ بھی ہو جائے گا، مجھے عمل میں بھی فائدہ ہو جائے گا۔ اس کو دیکھوں گا، میں ٹینشن میں رہوں گا۔ مطلب میں کہوں گا پتہ نہیں کون سی بات ان کی صحیح ہے، کون سی بات میں تحریف ہو چکی ہے۔ مجھے کیا علم؟ تو مجھے خواہ مخواہ کی باتوں میں، یعنی اپنے آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب سے راضی ہو جائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

ایمان کی عظمت، شرک سے بیزاری اور موجودہ دور کے فتنے - درسِ قرآن - دوسرا دور