اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَظَمَ غَيْظًا، وَ هُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُنْفِذَهٗ دَعَاهُ اللّٰهُ سُبْحَانَهٗ وَ تَعَالٰی عَلٰی رُءُوْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حَتّٰی یُخَیِّرَهٗ مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ مَا شَآءَ
(رَوَاهُ اَبُوْ دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِیُّ وَ قَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ)
"حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص غصہ کو پی جاتا ہے حالانکہ وہ اس کو نافذ کرنے پر قادر تھا اللہ پاک اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلوا کر اختیار دیں گے کہ حورِ عین میں سے جس کو چاہے پسند کر لے۔"
اللہ اکبر! اللہ اکبر!
ایک دوسری روایت میں آتا ہے:
مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنْفَاذِهٖ مَلَأَهُ اللهُ تَعَالَى قَلْبَهٗ اَمْناً وَّ اِيْمَاناً۔
کہ جس شخص نے غصہ کو ضبط کر لیا باوجود یہ کہ وہ غصہ کو نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان و سکون سے بھر دے گا۔
عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُخَيِّرَهُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ مَا شَاءَ۔
تمام مخلوقات کے سامنے بلوا کر اس کو اختیار دیں گے کہ حورعین میں سے جس کو چاہے پسند کر لے۔
اس حدیثِ پاک میں غصہ کو پینے والوں کو ایک انعام دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے کہ آدمی غصہ میں بقول حکماء کے جنون ساعۃٍ۔ "غصہ وقتی دیوانگی ہے" تو اس وقتی دیوانگی میں بے قابو ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اپنے غصہ کے وقت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے تو اللہ کی طرف سے اس کو یہ انعام ملے گا کہ قیامت کے دن اس کے سامنے بہت سی حوروں کو کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ان میں جو تم کو زیادہ اچھی لگتی ہوں ان کو پسند کر لو۔
حُوْرُ الْعِيْنِ: حور کے لغوی معنی سَمِعَ سے ہے کہ آنکھ کی سفیدی کا بہت سفید ہونا اور سیاہی کا بہت زیادہ سیاہ ہونا۔ (۳) ایسی آنکھیں بہت خوب صورت ہوتی ہیں اور آنکھ ہی سے عورت کی خوب صورتی زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں حور یہ نصر سے ہے بمعنی حیرت میں ڈال دینا۔ (۴) مطلب یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کا حسن دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دے گا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو غصہ پینے کی توفیق عطا فرمائے۔
تخریج حدیث: رواہ ابوداؤد فی الادب (باب من کظم غیظاً) والترمذی فی ابواب صفة القيامة (باب فضل الرفق بالضعیف والوالدین والمملوک) و اخرج احمد فی مسنده ۱۵۶۳۷/۵، ابن ماجه
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ وَصَدَقَ رَسُولُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیمُ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ بِرَحْمَتِكَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ