اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق "مکتوبات شریف" کا درس ہوتا ہے۔ یہ چونکہ علوم کا ایک خزانہ ہے، لہذا اس کی طرف جتنی توجہ کی جائے گی اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بزرگوں کے فیوض و برکات عطا فرمائے جائیں گے۔
اللہ جل شانہ ہمیں توفیق عطا فرما دے کہ ان کو اچھی طرح سنیں، اچھی طرح سمجھیں اور پھر اس کے مطابق صحیح عمل بھی کر لیں۔
یہ اصل میں اس وقت جو مکتوبِ شریف چل رہا ہے، یہ بھی لمبا مکتوب ہے، مکتوب نمبر 266۔ یہ حضرت پیرزادگان خواجہ عبداللہ، خواجہ عبیداللہ کی طرف صادر فرمایا تھا جو حضرت کے شیخ، ان کے صاحبزادگان ہیں، خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے۔ تو چونکہ اس میں اب بہت اہم باتیں آ رہی ہیں عقائد کے لحاظ سے، لہذا ہمیں اس کو بہت توجہ کے ساتھ سننا چاہیے۔
عقیدہ نمبر 1 شروع ہے اور ابھی سلسلہ چل رہا ہے لیکن میرا خیال میں اگر Continuation کے لیے اس عقیدہ نمبر ایک کو بھی جلدی دہرایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ کچھ باتیں اگر سنی ہوں اور کچھ نہیں سنی ہوں تو اس سے مشکلات بن سکتی ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں:
عقیدہ نمبر1:
جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات مقدس کے ساتھ خود موجود ہے، اور تمام اشیاء اس تعالیٰ کی ایجاد سے موجود ہیں۔
اور حق تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یگانہ ہے۔ اور فی الحقیقت کسی امر میں بھی خواہ وجودی ہو یا غیر وجودی کوئی بھی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے (اس کی جناب میں) مشارکت اسمی اور مناسبت لفظی بحث سے خارج ہے ـــ اللہ سبحانہ کی صفات اور افعال اس کی ذات کی طرح بے چون اور بے چگونہ ہیں۔ اور ممکنات کی صفات اور افعال کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے، مثلاً صفت العلم اس سبحانہ کی ایک صفت قدیم اور بسیط حقیقی ہے جس میں "تعدد اور تکثر" کو ہرگز دخل نہیں ہے، اگرچہ وہ تکثر تعدد تعلقات کے اعتبار سے ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہاں ایک ہی بسیط انکشاف ہے کہ ازل و ابد کی معلومات اسی انکشاف سے منکشف ہوتی ہیں۔ اور (حق تعالیٰ) تمام اشیاء کو ان کے "متناسبہ و متضادہ" (موافق و مخالف) احوال کے ساتھ کلی و جزئی طور پر ہر ایک کے اوقات مخصوصہ کے ساتھ آن واحد میں بسیط جانتا ہے۔
اصل میں ہم لوگ اللہ کرے کہ سمجھ جائیں، لیکن یہ سمجھنا آسان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جو تجربہ ہے وہ مخلوق کے علم کے ساتھ ہے۔ مخلوق کا جو علم ہوتا ہے وہ حادث ہوتا ہے اور ایک ماضی کا علم ہوتا ہے، ایک حال کا علم ہوتا ہے، ایک مستقبل کا علم ہوتا ہے۔ ماضی کا علم جتنا یاد ہے، اور حال کا علم جو ہم دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، بول رہے ہیں، بس وہی حال کا علم ہوتا ہے۔ اور مستقبل کا تو آپ کو پتہ ہے کہ اگر کسی نے ہمیں کوئی خبر دی ہو تو مستقبل کا علم ہوگا ورنہ ہمیں کوئی مستقبل کا علم نہیں ہو سکتا۔ تو اس وجہ سے مخلوق کا جو علم ہے وہ حادث ہے اور متغیر ہے۔ آج ممکن ہے مجھے کسی چیز کا علم نہ ہو اور کل مجھے اس کا علم ہو۔ اور آج مجھے ممکن ہے اس کا علم ہو اور کل مجھے نہ ہو۔ یہ ممکن ہے تو اس وجہ سے متغیر ہے۔
تو ہم لوگ چونکہ اس کے علاوہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ کیسے ایک ایسا علم ہے جس میں ماضی، حال، مستقبل نہیں ہے، سارا بس ایک ہی ہے۔ کیسے اس کو سمجھنا؟ اس لیے کہتے ہیں "بے چوں و بے چگونہ" ہے۔ مطلب ظاہر ہے اس کی مثال بھی نہیں دی جا سکتی، اس کو سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔ بے چوں بے چگونہ مطلب اس میں جو ہے نا وہ کوئی وہ نہیں ہے، بس ہر چیز کو پہلے سے جانتا ہے، بعد میں بھی جانے گا، وہ بھی جانتا ہے، اور اس پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ اس وجہ سے قیامت کا کوئی واقعہ ہونے والا ہوگا اللہ پاک قرآن پاک میں "كَانَ" کے ساتھ یعنی "تھا" اس کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ چیز ہمارے سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا۔
یعنی اسی ایک آن میں "زید" کو موجود بھی جانتا ہے اور معدوم بھی اور جنین (ماں کے پیٹ میں بھی(، اور طفل، جوان اور بوڑھا بھی، زندہ اور مردہ بھی، کھڑا ہوا اور بیٹھا بھی، تکیہ لگائے ہوئے اور لیٹا ہوا بھی، ہنستا ہوا اور روتا ہوا بھی، لذت پانے والا اور تکلیف پانے والا بھی، عزت والا اور ذلیل بھی، برزخ میں بھی اور حشرات (عرصہ قیامت) میں بھی، جنت میں بھی اور اس کی لذات و نعمتوں میں بھی جانتا ہے، لہذا تعدد تعلق بھی اس مقام میں مفقود ہے۔
تعدد سے مراد یہ کہ مختلف چیزیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے سب ایک ہی ہے۔ کیونکہ آنِ واحد میں سب چیزوں کو جانتا ہے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ اب یہ ہے اور پھر یہ ہے۔ نہیں!
کیونکہ تعدد تعلقات، تعدد اوقات اور وقت کی کثرت چاہتا ہے۔ اور وہاں ازل سے ابد تک صرف ایک ہی آن واحد بسیط ہے جس میں کسی قسم کا تعدد نہیں ہے کیونکہ حق تعالیٰ پر نہ زمانہ جاری ہے اور نہ تقدم و تاخر کے احکام جاری ہو سکتے ہیں، لہذا اس تعالیٰ کے علم میں اگر ہم معلومات کے ساتھ تعلق کا اثبات کریں تو وہ صرف ایک تعلق ہو گا جو تمام معلومات کے ساتھ متعلق ہے اور وہ تعلق بھی مجہول الکیفیت ہے (یعنی اس تعلق کی کیفیت معلوم نہیں) اور صفت العلم کی طرح بے چون و بے چگونہ ہے۔
ہم اس تصور کے استبعاد (یعنی قیاس اور فہم سے دور اور بعید ہونے) کو ایک مثال کے ذریعے زائل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں ایک "کلمہ" کو اس کے "اقسام متبائنہ" (مختلف اقسام) اور "احوال متغائرہ" (متفرق احوال) اور "اعتبارات متضادہ" (مخالف اعتبارات) سے جانتا ہے، لہذا اسی ایک وقت میں اس "کلمہ" کو اسم بھی جانتا ہے اور فعل بھی، حرف بھی اور ثلاثی بھی، (یعنی تین حروف والا)، رباعی (چار حروف والا) بھی اور معرب بھی (یعنی جو تینوں حالتیں رفعی نصبی اور جری قبول کرے) مبنی بھی عوامل کے ذریعے تغیر و تبدل نہ پانا)، متمکن (ٹھہرنے والا بھی) اور غیر متمکن بھی، منصرف (وہ اسم جو تنوین قبول کرے) بھی اور غیر منصرف بھی، معرفہ خاص (پہنچانا ہوا) بھی اور نکرہ (عام جو نہ پہچانا جائے) بھی، ماضی بھی اور مستقل بھی، امر بھی اور نہی بھی جانتا ہے، بلکہ اس شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ کہے کہ میں "کلمہ" کے تمام اقسام اور اعتبارات کو کلمہ کے آئینے میں بیک وقت تفصیل کے ساتھ دیکھتا ہوں، جبکہ ممکن کے علم میں بلکہ ممکن کی دید میں اضداد کا جمع ہونا متصور ہے تو پھر اس واجب تعالیٰ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ (نحل 16 آیت 60) (اور اللہ تعالیٰ کی مثال سب سے اعلیٰ ہے) کے علم میں یہ بات کس طرح بعید معلوم ہوتی ہے۔
یعنی کسی چیز کا جو علم ہے، ادراک ہو کسی چیز کو مکمل، ہر چیز کا اس کے Aspects کا کسی بھی چیز کا ایک وقت میں۔
ایک دفعہ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی کو ذکر سکھا رہے تھے، تو حضرت نے فرمایا کہ یعنی یہ ذکر بھی کرو اور ساتھ یہ بھی سمجھو کہ مجھے اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں۔ اللہ اللہ کا ذکر سکھا رہے تھے۔ تو ساتھ فرمایا کہ دیکھو تم اس وقت یہ سمجھ رہے ہو نا کہ میں انسان ہوں، یہ بھی سمجھتے ہو کہ میں پشاور میں ہوں، یہ بھی سمجھتے ہو کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، یہ بھی سمجھتے ہو کہ میں یہ ہوں، اس نے کہا جی بالکل۔ انہوں نے کہا: ہاں اس طرح ساری چیزوں کو ایک وقت میں سمجھ سکتے ہو۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ یعنی کتنی ساری چیزیں ہم ایک ہی وقت میں اس وقت جانتے ہیں۔ پتہ اس وقت چلتا ہے جب ہم سے کوئی پوچھتا ہے، تو ہم اس کے ٹھیک ٹھیک جواب دیتے ہیں۔ تو ٹھیک ٹھیک جواب دینا اس وقت ممکن ہے جب ہم اس کو جانتے ہوں گے نا؟ تو ایک ہی وقت میں ہم کتنی چیزیں جانتے ہیں؟ تو اسی طریقے سے ایک انسان اگر اتنی ساری چیزوں کو ایک ہی وقت میں جان سکتا ہے تو اللہ جل شانہ جو کہ اس کے لیے نہ زمانے کا اجراء ہے نہ کسی اور کا، تو وہ کیوں نہیں کر سکتا؟
جاننا چاہئے کہ اس جگہ اگرچہ ظاہر صورت میں "جمع ضدین" ہے لیکن حقیقت میں ان کے درمیان ضدیت (تضاد) مفقود ہے کیونکہ اگرچہ (حق تعالیٰ) "زید" کو آن واحد میں موجود اور معدوم جانتا ہے
(یعنی معدوم اور موجود ضد ہے ایک دوسرے کا، یعنی ایک اگر ہے تو دوسرا نہیں)
لیکن اسی آن میں یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے وجود کا وقت مثلاً ہزار سال سنہ ہجری کے بعد ہے اور اس کے وجود سے "عدم سابق" کا وقت اس سال معین سے پہلے ہے، اور اس کے عدم لاحق کا وقت گیارہ سو سال کے بعد ہے۔
یعنی پیدا ہوگا پھر مرے گا، اب جب پیدا ہوگا تو اس سے پہلے جو تھا وہ بھی اللہ جانتا ہے، اور جتنا عرصہ یہ زندہ رہے گا جو جو کرے گا وہ بھی اللہ جانتا ہے، اور اس کے بعد جو مرے گا اس کے بعد کیا ہوگا اس کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے، تو ایک ہی وقت میں سارا جانتا ہے۔
لہذا حقیقت میں ان دونوں کے درمیان زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے کوئی تضاد نہیں ہے، اور باقی احوال کو بھی اسی پر قیاس کرسکتے ہیں، پس سمجھ لو۔
اس تحقیق سے واضح ہو گیا کہ حق تعالیٰ کا علم اگرچہ تغیر پانے والی جزئیات سے متعلق ہو لیکن اس کے علم میں تغیر کا شائبہ بھی راہ نہیں پاتا
خود اس کے علم میں تو تغیر نہیں ہے نا، ان چیزوں میں تغیر ہے، اور اللہ پاک کے علم میں وہ سارا تغیر ہے۔ اللہ کے علم میں تغیر نہیں ہے، لیکن چیزوں کے تغیر اللہ کے علم میں ہیں۔اللہ کے علم میں تغیر نہیں ہے، لیکن چیزوں میں جو تغیر ہے وہ اللہ کے علم میں ہے۔
اور حدوث کا گمان اس کی صفت میں پیدا نہیں ہوتا، جیسا کہ فلاسفہ نے زعم (غلط دعوی) کیا ہے، کیونکہ تغیر اسی تقدیر پر متصور ہو سکتا ہے
تقدیر اندازے کو کہتے ہیں۔
جب کہ ایک کو دوسرے کے بعد جانا ہو۔
یعنی علم، میں نے یہ چیز ابھی جانا پھر اس کے بعد جانا۔ بھئی میں پہلے پرائمری میں تھا تو پرائمری کی چیزیں جانتا تھا، پھر مڈل میں ہو گیا تو مڈل کی چیزیں جانتا تھا، پھر میٹرک میں ہو گیا تو میٹرک کی چیزیں جانتا تھا، پھر کالج میں آ گیا تو کالج کی چیزیں جانتا تھا۔ تو یہی وقت کے بعد یہ چیزیں ہو رہی ہیں نا۔
اور جب سب کو آنِ واحد میں جان لے تو پھر تغیر و حدوث کی گنجائش نہیں ہے۔ پس اس کی کچھ حاجت نہیں ہے کہ ہم اس (تعالیٰ) کے لئے متعدد تعلقات کا اثبات کریں تاکہ تغیر و حدوث ان تعلقات کے ساتھ راجع ہو، نہ کہ صفت علم کی صرف، جیسا کہ بعض متکلمین نے فلاسفہ کے شبہ کو دور کرنے کے لئے کیا ہے۔ ہاں اگر معلومات کی جانب تعدد تعلقات کا اثبات کریں تو اس کی گنجائش ہے۔
اور اسی طرح ایک کلام بسیط ہے جو ازل سے ابد تک اسی ایک کلام کے ساتھ گویا (ناطق) ہے۔ اگر "امر" ہے تو وہ بھی وہیں سے پیدا ہوا ہے اور اگر "نہی" ہے تو وہ بھی وہیں سے ہے اور اگر اعلام (خبر) ہے تو بھی وہیں سے ماخوذ ہے اگر استفہام ہے تو وہ بھی وہیں سے، اگر تمنی یا ترجی ہے (آرزو کرنا۔ امید رکھنا) تو وہ بھی وہیں سے مستفاد ہے، تمام نازل شدہ کتابیں اور بھیجے ہوئے صحیفے اس "کلام بسیط" کا ایک ورق ہیں، اگر "توریت" ہے تو وہ بھی وہیں سے لکھی گئی ہے اور "انجیل" ہے تو اس نے بھی وہیں سے صورت لفظی حاصل کی ہے، اور اگر "زبور" ہے تو وہ بھی وہیں سے مسطور ہوئی ہے اور اگر "فرقان" ہے تو وہ بھی وہیں سے نازل ہوا ہے۔
واللہ کلام حق کہ علی الحق یکے ست و بس
(واللہ بس کلام خدا ہے کلام حق)
پس در نزول مختلف آثار آمدہ
(ہاں نزول میں مختلف آثار آئے ہیں)
اور اسی طرح ایک ہی فعل ہے اور اسی ایک فعل کے ذریعے اولین و آخرین کی مصنوعات وجود میں آ رہی ہیں (جیسا کہ ارشاد ہے) وَمَآ اَمْرُنَـآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْـحٍ بِالْبَصَرِ(سورہ قمر 54 آیت 50) (اور ہمارا حکم بس ایسا یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ جھپکانا)۔
ویسے ظاہری مثال تو اللہ پاک کے کاموں کی نہیں دی جا سکتی، البتہ اللہ جل شانہ نے جو چیزیں انسانوں کے اوپر ظاہر کر دیں اس میں کچھ کچھ تھوڑا سا اندازہ ہو جاتا ہے۔ جیسے ہم سکرین پر دیکھتے ہیں، وہ ساری چیزیں معاً ظاہر ہو جاتی ہیں۔ کوئی بات ہو نا ادھر سے، تو وہ علیحدہ ایک ایک بن بھی سکتا ہے، لیکن سکرین پر جس وقت آتی ہے تو ایک دم سارا۔۔۔ بلڈنگیں ہیں، دریا ہیں، جو بھی ہے، وہ سارے کے سارے ایک دم ظاہر ہو جاتی ہیں۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حضرت نے "کلمح بالبصر" تو یہ بھی ایک چیز ہے جو ذرا سمجھانے کے لیے ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو سکرین پر جو چیزیں ہوتی ہیں یہ بھی سمجھانے کے لیے ہیں ورنہ وہ بھی اس کی حقیقت نہیں ہے، وہاں تک وہ بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن صرف سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں کہ بس ایسے ہی ہے جیسے فوراً جس کو ہم کہتے ہیں، فوراً۔ فوراً کہنے سے پہلے، یعنی فوراً ابھی ختم نہیں ہو چکا ہوتا کہ وہ ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ فوراً اتنا جلدی نہیں کہہ سکتے جتنا وہ سب کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ بلکہ میرے خیال میں آپ کی آنکھوں کی توجہ کے لیے کچھ وقت چاہیے ہوگا، اس کے لیے نہیں۔ آپ دیکھتے وقت کچھ وقت لے لیں گے اور ادھر نہیں، وہ بالکل "آنِ واحد" جس کو ہم کہتے ہیں۔
(اور ہمارا حکم بس ایسا یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ جھپکانا)۔
اس آیت کریمہ میں (اس حقیقت مذکورہ کی طرف) اشارہ ہے کہ اگر زندہ کرنا یا مارنا ہے تو وہ اسی ایک فعل سے مربوط ہے۔ اور اگر ایلام (تکلیف) ہے یا انعام ہے تو وہ بھی ایک فعل سے (منوط) ملا ہوا ہے، اگر ایجاد ہے یا اعدام (مٹا دینا) ہے تو وہ بھی اسی فعل سے پیدا ہوا ہے، لہذا حق سبحانہ و تعالیٰ کے فعل میں بھی تعدد تعلقات ثابت نہیں ہے
یعنی جیسے علم میں تعدد نہیں ہے، اس طرح فعل میں بھی نہیں ہے۔ "کُن فَیَکُونُ"۔ یہ نہیں کہ پھر یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا، پھر یہ ہوگا۔ نہیں۔ اگر اللہ چاہے تو۔ ہاں اللہ پاک اس کو ایک ترتیب سے پیدا کرنا چاہے تو پھر وہ تو اللہ تعالیٰ خود اس کو ترتیب دے گا۔ جیسے آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ یا جیسے ہماری body بنتی ہے اور پھر تبدیلیاں اس میں رُونما ہو رہی ہوتی ہیں۔ تو اللہ پاک کا ایک نظامِ تخلیق ہے، لیکن نظامِ امر کے لیے تو یہ باتیں نہیں ہیں۔ "إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ"۔
بلکہ ایک ہی تعلق سے مخلوقات اولین و آخرین اپنے وجود کے اوقات مخصوصہ میں وجود پذیر ہو رہی ہیں اور یہ تعلق بھی حق تعالیٰ کے فعل کے مانند بے چون و بے چگونہ ہے کیونکہ چون کو بے چون کے ساتھ کوئی راہ نہیں ہے لاَیَحْمِلُ عَطَایَا المَلِکِ اِلَّا مَطَایَاہُ (بادشاہوں کی بخششیں ان کے اونٹ ہی اٹھا سکتے ہیں)۔
اشعری چونکہ حق جل سلطانہ کے فعل کی حقیقت سے واقف نہ تھے اس لئے تکوین کو حادث کہہ دیا اور اس سبحانہ کے افعال کو بھی حادث جان لیا اور انہوں نے یہ نہیں جانا کہ یہ سب حق سبحانہ کے فعلِ ازلی کے آثار ہیں نہ کہ اس تعالیٰ کے افعال، اور اسی قبیل سے یہ ہے کہ بعض صوفیہ جنہوں نے تجلی افعال کا اثبات کیا ہے اور اس مقام میں ممکنات کے افعال کے آئینے میں سوائے فعل واحد جل سلطانہ کے کچھ نہیں دیکھا، وہ تجلی حقیقت میں حق سبحانہ کے فعل کے آثار کی ایک تجلی ہے نہ کہ اس تعالیٰ کے فعل کی تجلی، کیونکہ اس تعالیٰ کے فعل کو جو بے چون و بے چگونہ ہے اور قدیم ہے اور اس تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہے جس کو "تکوین" کہتے ہیں، محدثات کے آئینے میں اس کی گنجائش نہیں اور ممکنات کے مظاہر میں اس کا کوئی ظہور نہیں۔
در تنگنائے صورت معنی چگونہ گنجد
در کلبہ گدایاں سلطان چہ کار دارد
صورت کے تنگ گھر میں معنی کہاں سے آئے
منگتے کی جھونپڑی میں کیوں بادشاہ جائے
اس فقیر کے نزدیک افعال و صفات کی تجلی ذات تعالیٰ و تقدس کی تجلی کے بغیر متصور نہیں ہے کیونکہ افعال و صفات، حضرت ذات تعالیٰ و تقدس سے جدا نہیں ہیں تاکہ ان کی تجلی ذات کی تجلی کے بغیر متصور ہو سکے اور جو کچھ ذات تعالیٰ و تقدس سے جدا ہے وہ اس سبحانہ کی صفات و افعال کے ظلال ہیں۔
یعنی ایک ظل ہے اور ایک اس کی حقیقت ہے، اصل ہے۔ تو اصل جو ہے نا وہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور جو ظلال ہے وہ اس کی تنزلات ہیں۔ تنزلات ہیں۔
لہذا ان کی تجلی افعال و صفات کے ظلال کی تجلی ہوئی نہ کہ افعال و صفات کی تجلی۔ لیکن ہر شخص کی سمجھ اس کمال تک نہیں پہنچ سکتی ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (جمعہ 62 آیت 4) (یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے)۔
پہلا عقیدہ بھی کافی۔ اس پہ ان شاءاللہ مذاکرہ بھی کریں گے کیونکہ یہ چیزیں ایک وقت میں شاید ہی کلیئر ہو جائیں، لیکن بہرحال ابتداء میں تو سننا ہوتا ہے نا۔ سمجھنا بھی بعد میں ہوتا ہے لیکن یہ کہ کم از کم معلوم تو ہو جائے کہ ہم کیا سمجھنا چاہتے ہیں۔
عقیدہ نمبر 2
اب ہم اصل بات کی طرف رجوع ہوتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی چیز اس میں حلول کر سکتی ہے لیکن وہ تعالیٰ "محیط اشیاء" ہے (یعنی تمام اشیا کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے) اور ان کے ساتھ قرب و معیت رکھتا ہے، اور وہ احاطہ قرب و معیت ایسا نہیں ہے جو ہماری فہم قاصر میں آسکے کیونکہ یہ (بات) اس تعالیٰ کی جناب قدس کے شایان شان نہیں ہے ـــ اور (صوفیہ) جو کچھ کشف و شہود سے معلوم کرتے ہیں وہ تعالیٰ اس سے بھی منزہ ہے۔ کیونکہ ممکن (بشر وغیرہ) کو حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال کی حقیقت سے سوائے جہل و نادانی اور حیرت کے کچھ نصیب نہیں ہے۔ غیب پر ایمان لانا چاہئے اور جو کچھ مکشوف و مشہود ہو اس کو لا کی نفی کے تحت لانا چاہئے
عنقا شکار کس نشود دام باز چیں
کایں جا ہمیشہ باد بدست است دام را
(اٹھا لے جال، شکار عنقا محال
بس یہاں جال کا یہی ہے مآل)
حضرت ایشاں (خواجہ باقی باللہؒ) کی مثنوی کا ایک بیت اس مقام کے مناسب ہے۔
ہنوز ایوان استغنا بلند است
مرا فکر رسیدن نا پسند است
قصر استغنا تو اونچا ہے ہنوز
سخت مشکل واں پہنچنا ہے ہنوز
اس شعر کا ترجمہ صحیح نہیں ہوا میرے خیال میں۔
ہنوز ایوانِ استغنا بلند است
جو مجھے ابھی تک پتہ چلا، تو اس سے ایوانِ استغنا اور اونچا ہے۔ مطلب جو اللہ جل شانہ کی شان ہے استغنا کا یعنی صمدیت کا، وہ بہت اونچا ہے مطلب ہم لوگ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔
مرا فکرِ رسیدن ناپسند است
اور میں یہ جو سمجھتا ہوں کہ میں قریب پہنچ رہا ہوں، یہ ناپسند ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا، یہ نہیں ہو سکتا۔ اور واقعتاً ایسا ہی ہے، کیونکہ ہم اگر کہتے ہیں کہ ہم پہنچ گئے یا ہم پہنچ سکتے ہیں تو ہم اس چیز کو اس کی value سے کم کر دیتے ہیں۔ اپنے خیال میں اپنے آپ کو بڑھا رہے ہیں، لیکن اس کو چونکہ وہاں تو اس کو ہم اپنے ذہن میں کم کر رہے ہیں۔ تو یہ تو ناپسند ہو گا۔ تو اللہ جل شانہ کی شان بہت اونچی ہے، ہم لوگ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔
پس ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ تعالیٰ "محیط اشیاء" (یعنی تمام اشیاء کو محیط ہے) اور ان سے قریب ہے، اور ان کے ساتھ ہے لیکن اس احاطہ اور قرب و معیت کے معنی (و حقیقت) اس تعالیٰ کے ساتھ کیا ہیں وہ ہم نہیں جانتے۔ اس کو احاطہ اور قرب علمی کہنا بھی تاویلات کے متشابہ سے ہے اور ہم اس تاویل کے قائل نہیں ہیں۔
آج حضرت نے ایک بات اور بھی سمجھائی ہے سبحان اللہ:
إِنَّ اللهَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ
تو اللہ جل شانہ ساری چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کیسے۔ کیوں؟ ظاہر ہے جیسے ہم اللہ پاک کی ذات کو نہیں جانتے، تو اللہ تعالیٰ کے ذاتی صفات کو بھی نہیں جانتے، جیسے علم کے بارے میں بات ہوئی۔ تو احاطہ کیسے کیا، یہ بھی نہیں جان سکتے۔ فرمایا: جن لوگوں نے کہا "احاطہ علمی" کہا ہے، یعنی علماً ساری چیزیں جانتا ہے، فرمایا یہ بھی ایک تاویل ہے جو ہمارے نزدیک ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بعض لوگ کہتے ہیں نا ذرا اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ میں آپ کو کیا کہوں؟ انسان بہت کمزور ہے۔
معجزات، معجزات جو ہیں یہ کیا ہے؟ اس میں اللہ جل شانہ انسان کو اس کے علم اور سمجھ کے لحاظ سے عاجز کرتا ہے۔ یعنی وہ مان لیتا ہے کہ میں نہیں جانتا، اس کو معجزہ کہتے ہیں۔ یعنی اسبابِ عادیہ کے مطابق وہ چیزیں ممکن نہیں ہوتیں۔ اسبابِ عادیہ کا اگر آپ آج کل ترجمہ کر سکتے ہیں تو سائنسی طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسبابِ عادیہ کا مطلب یہی ہے۔ اب جیسے مثال کے طور پر چائے کا کپ رکھا ہوا ہے گرم، اس سے بھاپ نکل رہی ہے، تھوڑی دیر کے بعد چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ عام طور پر لوگ بس اتنا سمجھتے ہیں کہ چائے ٹھنڈی ہو گئی، اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ لیکن سائنسدان اس کے پیچھے پڑ جائے، وہ کہے کہ چائے کیوں ٹھنڈی ہوئی؟ اس کے لیے وہ ٹوہ لگائے گا، تو پہنچ جائے گا کہ بھئی جو حرارت ہے اس کے تین طریقے ہیں: radiation ہے، conduction ہے، convection ہے۔ تو اس طریقے سے یہاں سے بھی تینوں قسم کی اور convection بھی ہو رہی ہے، conduction بھی ہو رہی ہے، radiation ۔ radiation کیسے ہو رہی ہے؟ چائے سے ریڈی ایشن کیسے ہوئی؟ ہاں heat اس میں نکل رہی ہے، تو تینوں چیزیں ہو رہی ہیں، کنڈکشن سے بھی نکل رہی ہے، کنویکشن سے بھی نکل رہی ہے، لیکن ریڈی ایشن والا کیسے ہوتا ہے؟ اس سے۔ ٹھیک ہے نا؟ اصل میں وہ ریڈی ایشن کا آپ اگر دیکھیں نا تو وہ shape factor وغیرہ ساری چیزیں اگر آپ جانتے ہوں تو مطلب ظاہر ہے اس کا آ جاتا ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ surface conduction کے ذریعے سے hot ہو گیا surface وہ جو پیالے کا۔ لیکن اس سے جو حرارت جا رہی ہے تو دو طریقوں سے جا رہی ہے کیونکہ آگے تو surface کے آگے کچھ نہیں ہے نا؟ ایک convection کے ذریعے سے جو current of air آ رہا ہے تو اس کو remove کر رہا ہے تو وہ کنویکشن ہے۔ اور ایک براہ راست۔ جیسے وہ آپ کو پتہ ہے جس وقت انسان کسی گرمی میں آ جاتا ہے تو اس کا چہرہ سرخ ہوتا ہے۔ تو ویسے بالکل جیسے شعلے بکھیر رہا ہوتا ہے اس طرح محسوس ہوتا ہے تو وہ ریڈی ایشن ہے نا۔ تو یہ چیزیں تینوں اس میں ہوتی ہیں چائے میں۔ خیر میں یہاں سائنس پڑھانے کیلیے نہیں بیٹھا ہوں۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ scientific phenomenon یہ ہے لیکن معجزہ جو ہوتا ہے وہ scientific phenomenon نہیں ہوتا، وہ اللہ پاک کے "کُن" کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا گیا کہ اپنے عصا کو پانی پہ مارو، تو پانی پہ جیسے مارا تو اس سے بارہ راستے بن گئے۔ کیا خیال ہے scientifically اس کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اور بارہ راستے بن گئے اور ہر ایک کے لیے اپنا اپنا راستہ، ہر قبیلے کے لیے۔ بھئی عصا کتنا بڑا ہو گا؟ اول تو اس عصا کو مارنے سے پانی اچھلا ہوگا نا ادھر ادھر، اور کیا ہو گا؟ اس سے راستے تھوڑے بن جاتے ہیں۔ راستے تو ویسے نہیں بنتے لیکن بہرحال یہ ہے کہ اس سے بن گئے کیونکہ اللہ کا حکم تو صرف ایک symbolic اشارہ تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں اس وقت ایک تجلی تھی اس کے ساتھ اللہ پاک کے حکمِ کُن کی، ایک تجلی تھی جو اس عصا کے ساتھ associate ہو گئی۔ اور اس کے مارنے سے گویا کہ اللہ پاک کا حکم نافذ کرنے کا حکم ہو گیا اور اس کے بعد بارہ راستے۔ اب بعض لوگوں نے جن کو تاویلیں کرنی ہوتی ہیں، apologizing Islam جس کو میں کہتا ہوں، وہ اس کی تاویلیں کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کو convince نہیں کر سکتے تو وہ کہتے ہیں یہ کچھ نہ کہو۔ پشتو میں کہتے ہیں : "د کونډې زویه، څه خو بویا" (کچھ تو کہو) تو وہ بہت بڑے عالم ہیں، میں نام نہیں لیتا، اس کی بے ادبی ہو جائے گی، بہت بڑے عالم ہیں۔ تو اس نے کہا کہ یہ اصل میں ہوا یہ ہے کہ مد و جزر تھا۔ تو سمندر میں جیسے مد و جزر ہوتا ہے تو یہ مد و جزر ہو گیا تھا اس وجہ سے بارہ راستے بن گئے۔ بھئی مد و جزر سے کبھی راستے بنتے ہیں؟ اگر آپ کے مد و جزر کے ساتھ ہی راستے بن رہے ہیں تو بذاتِ خود معجزہ ہے پھر۔ وہ مد و جزر ہی معجزہ ہے کہ اس کے ساتھ راستے، ورنہ مد و جزر کے ساتھ تو راستے ٹوٹ سکتے ہیں۔ تو یہ کیسے آپ کا scientific؟ آسان جواب یہ ہے کہ یہاں سائنس فیل ہے۔ یہاں سائنس act ہی نہیں کر سکتا، یہاں سائنس کو گزرنے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اللہ کا حکم "کُن" آ گیا، بس اس کے بعد تو پھر سائنس کدھر گئی؟ وہ تو گیا۔ پھر سائنس کا کوئی رول نہیں ہے اس میں۔ یہ اللہ پاک صرف ایک چیز دکھانا چاہتا ہے اس مسئلے میں معجزات کے ذریعے سے کہ ساری چیزوں کا مسبب الاسباب میں ہوں، کرنے والا میں ہوں، یہ اسباب تو میرے صرف قوانین جو میں نے بنائے احکامات کے لحاظ سے وہ یہ میرے ہیں، جس وقت میں روک دوں تو پھر یہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ والی بات ہے۔
تو یہاں پر بھی جو حضرات ہیں اس میں محیطِ اشیاء والی بات، اس میں انہوں نے کہا کہ "احاطہ علمی" ہے، تو حضرت نے فرمایا "تاویل" ہے، اور ہم اس تاویل کے قائل نہیں ہیں۔
جاری ہے ان شاءاللہ