قرآنی احکامات میں تدریج اور صحابہ کرام کا جذبہِ اطاعت

پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیات 218 تا 220 اشاعت اول 24 فروری، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • قرآن پاک کا تقابلی اسلوب (مومن اور کافر کا تذکرہ)
    • شراب اور جوئے کی تدریجی حرمت اور اس کی حکمت
      • اصلاحِ نفس میں تدریج اور شیخ کا کردار
        • انفاق فی سبیل اللہ: ضرورت سے زائد مال اور اہل و عیال کے حقوق
          • یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور مالی معاملات میں اعتدال
            • صحابہ کرام کا جذبہِ اطاعت بمقابلہ دورِ حاضر کی اباحیت پسندی
              • احکامِ الہیٰ میں عزیمت اور رخصت کا توازن


                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ!

                فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


                إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أُولَٰئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَتَ اللہِ ۚ وَاللہُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ ۝۲۱۸ یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ۖ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا ۝۲۱۹

                وَيَسْأَلُونَکَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۗ قُلِ الْعَفْوَ ۗ کَذٰلِکَ يُبَيِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ ۝۲۱۹ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۗ وَيَسْأَلُونَکَ عَنِ الْيَتَامٰى ۖ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَيْرٌ ۖ وَإِن تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ ۗ وَاللّٰہُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللّٰہُ لَأَعْنَتَکُمْ ۗ إِنَّ اللّٰہَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۝۲۲۰(سورۃ البقرہ: 218 تا 220)

                صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

                (اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (218)

                یہ چونکہ طریقہ ہے قرآن پاک میں اللہ جل شانہ نے جو مطلب رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ ساتھ ساتھ ہی رکھتے ہیں۔ مطلب کافروں کے بارے میں بات ہو جائے تو ساتھ ہی مومنوں کے بارے میں بات آتی ہے، اور مومنوں کے بارے میں بات آ جائے تو ساتھ کافروں... تاکہ Balance مطلب رہے اور لوگ ایک طرف کے نہ ہوں۔ یہ ہمارے اور مطلب انسانوں اور اللہ جل شانہ کے بات میں بہت بڑا فرق ہے کہ انسان اپنے Mood میں ہوتا ہے، اگر خوشی کے Mood میں ہو تو ساری باتیں خوشی کی کرتے ہیں، غم کے Mood میں ہو تو ساری باتیں غم کی کرتے ہیں، کسی کے مخالف ہو جاتے ہیں تو اس کی مخالفت میں باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اللہ جل شانہ چونکہ جذبات سے بات نہیں فرماتے، ارادے سے بات فرماتے ہیں اپنے، تو اس وجہ سے اللہ پاک کی ہر بات میں بس وہ ایک بات ہو تو ساتھ دوسری بات۔ تو اس سے گزشتہ کافروں کے بارے میں بات گزری ہوئی تھی، تو اب مومنوں کے بارے میں بات آئی۔ اور مومنوں میں یہ بات ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی، اس وقت ہجرت فرض تھا، (اور) اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بے شک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

                اب لوگوں کے سوال کے بارے میں، لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ (219)

                مطلب یہ ہے کہ اس میں دنیاوی کچھ فائدے جن کو لوگ فائدے کہتے ہیں (اللہ جل شانہ تو لوگوں کے اس کے مطابق بات فرماتے ہیں نا کہ لوگ کیا سمجھتے ہیں)۔ تو لوگ جن چیزوں میں اپنا جیسے شراب میں کچھ فائدہ سمجھتے ہیں، مثلاً سردی میں پی لیتا ہے تو آدمی Heat up ہو جاتا ہے، سردی نہیں لگتی۔ اور اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ کچھ سرور سا محسوس ہوتا ہے، کچھ غم غلط ہو جاتا ہے، یہ اس کے اندر مطلب جس کے فائدے ہیں، گویا کہ اس سے متاثر ہو کر لوگ شراب کی طرف جاتے ہیں۔ مزہ تو پتا نہیں واللہ اعلم جو لوگ سمجھتے ہوں گے تو سمجھتے ہوں گے، لیکن ہم تو اللہ کا شکر ہے کہ اس کے سامنے سے گزرتے ہیں تو وہ جلدی گزرتے ہیں، اتنی بدبو ہوتی تھی۔ اور شرابی کے منہ سے بڑی بدبو آتی ہے، اس کے ساتھ انسان کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ مطلب وہ جو بات کرتا ہے تو وہ بھپکے باہر آتے ہیں۔ تو ٹھیک ہے مطلب ظاہر ہے جن لوگوں کو مزہ آتا ہوگا تو مزہ آتا ہوگا، لیکن یہ ہے کہ یہ چیزیں جو ہے نا یہ تو ان میں ہیں۔

                لیکن گناہ! اللہ کے حکم کی نافرمانی بہت بڑی بات ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے فرمایا کہ ان میں بڑا گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان دونوں کا گناہ... جو ہے نا اس سے بڑھا ہوا ہے۔

                چونکہ اہل عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا۔ پہلے سورۂ نحل میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے۔ پھر سورۂ بقرہ کی اس آیت میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو گناہ ہیں، اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں۔ پھر سورۂ نساء میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔ بالآخر سورۂ مائدہ میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔

                اللہ جل شانہ کے وہ احکامات کا جو تسلسل آ رہا تھا اس میں تدریج کو رکھا گیا تھا۔

                اب بھی تربیت میں تدریج رکھا جاتا ہے۔ فقہ میں جو تدریج ہوئی وہ گزر گئی۔ وہ گزر گئی، مطلب یہ ہے کہ وہ اب مستقل ہو گیا۔ اب اس کے بعد ایک نئی بات اگر کوئی آ جائے تو اس پہ اجتہادی باتیں ہوں گی، لیکن یہ ہے کہ جو چیزیں Settle ہو گئیں وہ Settle ہو گئیں۔ لیکن یہ جو تربیت ہے وہ ہر ایک شخص کی ابتدا سے ہی ہوتی ہے، تو اس وجہ سے اس میں تدریج رکھا جاتا ہے۔ اور تدریج کے ساتھ ۔۔۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ وہ ارشاد فرماتے تھے کہ اپنے عیوب لکھو۔ تو عیوب لکھوا لیتے تھے پھر ایک ایک عیب کا علاج کرواتے تھے۔ اب ظاہر ہے اس وقت جب اس سے ایک کا عیب کے علاج ہو رہا تھا، تو دوسرے عیب تو موجود ہوتے تھے نا، لیکن ان سے گویا کہ ایک مطلب ان کو مؤخر کر کے وہ صرف اس ایک عیب کا علاج باری باری مطلب اس طریقے سے کرواتے تھے کیونکہ یہ ایک Practical solution ہے۔ آپ سارے چیزوں کو ایک وقت میں نہیں کر سکتے، کریں گے تو مطلب ایک کو ٹھیک کریں گے دوسرا غلط، دوسرا ٹھیک کریں گے تیسرا غلط، مطلب اس قسم کی باتیں ہوتی جاتی ہیں، تو وہ ایک Impractical situation ہے۔ لیکن یہ جو تدریج والی بات، لیکن اس میں بس سب سے بڑی بات ہے کہ اس کا فیصلہ خود نہ کرے بلکہ شیخ پر چھوڑ دے۔ کیونکہ خود کرے گا تو ذمہ دار ہو جائے گا، تو شیخ تو اس کے فائدے کے لیے کر رہا ہے، مطلب ظاہر ہے اس کے۔ یہی تو اس تصوف کا بہت بہترین فائدہ ہے کہ اس میں یہ تدریج جو ہے، یعنی اس میں انسان مطلب اس کا فائدہ اٹھاتا ہے اور آخر میں الحمد للہ اصلاح ہو جاتی ہے جو اپنی اصلاح کروانا چاہتے ہیں۔

                تو یہ مطلب فرمایا گیا۔

                وَيَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَؕ اب جو ہے نا مطلب ہے کہ ان کے دوسرا سوال ہے۔ قُلِ الْعَفْوَؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ۔

                اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لئے) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ ”جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو۔“

                یہ اصل میں تدریج والی بات، بعض صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے صدقے کا ثواب سن کر اپنی ساری پونجی صدقہ کر دی یہاں تک کہ اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ نہ چھوڑا، اور گھر والے بھوکے رہ گئے۔ اس آیت نے بتلایا کہ صدقہ وہی درست ہے جو اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں اس پر زور دیا ہے کہ صدقہ اتنا ہونا چاہئے کہ گھر والے محتاج نہ ہو جائیں۔

                اب اس میں ایک Question ہے، وہ یہ ہے کہ دیکھیں اگر محتاجوں میں دیکھا جائے تو سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ کون سے محتاج کا؟ جو سب سے زیادہ قریب ہے۔ اب اگر آپ سب سے زیادہ قریب کو محتاج کر کے دوسروں کو دے دیں؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو وہ تو طریقہ نہیں ہوا نا۔ ٹھیک ہے وہ آپ کے سب سے قریب والے آپ کی بات شاید مان بھی لیں گے، برداشت بھی کر لیں گے، لیکن طریقہ کار کیا ہے؟ اگر وہ خود محتاج ہو جائیں پھر کیا کریں گے؟ تو اس طرح مطلب ہے کہ یہ والی بات کہ ہم جو ہے نا دوسروں کو تب دیں جب ان کی محتاجی نہ ہو۔ تو ان کی محتاجی کو ختم کر کے پھر اس کے بعد باقیوں کو دے دیں کیونکہ ترتیب تو یہ ہے نا۔ تو یہ اللہ نے فرمایا کہ اپنے لوگوں کو محتاج نہ کیا جائے اور پھر اس سے جو باقی رہ جائے اس میں آپ خرچ کریں۔

                كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِؕ وَيَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰىؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌؕ وَاِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔

                اللہ اسی طرح اپنے احکام تمہارے لئے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر سے کام لو (219) دنیا کے بارے میں بھی اور آخرت کے بارے میں بھی۔ اور لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان کی بھلائی چاہنا نیک کام ہے، اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو (کچھ حرج نہیں کیونکہ) وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون معاملات بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا۔

                یہ بات۔

                جب قرآنِ کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے، اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو سڑ جاتا تھا۔ اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی۔ اس آیت نے واضح کر دیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے۔ لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے۔ پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو معاف ہے۔ ہاں جان بوجھ کر ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ رہی یہ بات کہ کون انصاف اور اصلاح سے کام لے رہا ہے اور کس کی نیت خراب ہے، اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔


                چونکہ ان میں تقویٰ اتنا زیادہ تھا صحابہ کرام میں اور خوف کہ وہ کسی بھی حکم کے آنے کے وقت فوراً اس پہ عمل کرتے تھے، "سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا" والی بات، تو فوراً جو ہے نا اس طرح عمل کرتے تھے کہ اس میں Extreme تک چلے جاتے تھے۔ تو پھر اللہ پاک کی طرف سے بات آتی کہ اس طرح نہیں اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے، تو اس کو Balance کر دیتے تھے۔ ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ معاف فرمائے معاملہ الٹ ہے، مطلب یہ ہے کہ حکم آیا ہوا ہے لیکن ہم اس میں گنجائشیں طلب کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہاں تو اب تو احکامات پورے آ گئے ہیں، اب تو مطلب ہے کہ اس میں تدریج والی بات نہیں ہے کیونکہ سب کے بعد ساری چیزیں صاف ہو چکی ہیں۔ تو اب اس میں ہم کیسے گنجائش طلب کرتے ہیں؟ یہ اباحیت والے جو لوگ ہوتے ہیں نا، وہ دوسرے طرف کے Factors کو بیان کر کر کے کر کر کے وہ جو صحیح بات ہے اس کو درمیان میں ہضم کر لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں یہ بھی جائز ہے۔ تو یہ جو ہے نا یہ اپنے آپ کو خراب کرنے والی بات ہے۔ لیکن یہ جو صحابہ کرام کا طرز ہے دیکھیں نا، صحابہ کرام عمل کرتے تھے تو پھر اللہ کی طرف سے نرمی آتی تھی، اور فرماتے تھے کہ اس طرح نہ کرو اس طرح کر لو، ان چیزوں کا بھی خیال رکھو۔ تو یہی اصل طریقہ ہے کہ عزیمت کا جو پہلو ہے وہ اختیار کیا جائے اور جہاں اللہ پاک نے گنجائشیں دی ہیں، اگر ضرورت پڑے تو ان گنجائشوں کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مطلب یہ طریقہ کار ہمیں اپنانا چاہیے۔

                وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔